کشمیر: آزادی چاہیے، مگر ووٹ دیں گے!

[تحریر: یاسر ارشاد]
بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہونیوالے حالیہ ریاستی انتخابات میں کسی بھی سیاسی جماعت کو واضح اکثریت نہ مل سکنے کی وجہ سے حکومت سازی کے بحران نے ریاست کو گورنر راج کے نفاذ کی جانب دھکیل دیا ہے۔ کل 87 نشستوں پر 25 نومبر سے شروع ہو کر پولنگ کے چھ مرحلوں کے ذریعے 20 دسمبر کو مکمل ہونیوالے انتخابات کے نتائج کچھ یوں ہیں:
28 نشستوں کے ساتھ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (PDP) سرفہرست ہے۔ بھارتیہ جتنا پارٹی (BJP) نے 25 نشستیں حاصل کی ہیں۔ نیشنل کانفرنس 15 اور انڈین نیشنل کانگریس 12 اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) (CPI (M نے ایک نشست حاصل کی جبکہ باقی چھ نشستوں پر آزاد امیدواروں یا مقامی جماعتوں کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ کسی بھی جماعت کو حکومت سازی کیلئے 44 اسمبلی ممبران کی حمایت درکار ہے۔ 2002ء اور 2008ء کے بعد 2014ء کے انتخابات میں مسلسل تیسری بار کسی بھی سیاسی جماعت کو واضح اکثریت نہیں مل پائی۔ عام طور پر انتخابی نتائج اگرچہ کسی بھی سماج میں نشوونما پانیوالے سیاسی رحجانات اور عوامی مزاج کے ارتقاء اور تبدیلی کے مختلف مدارج کی درست اور مکمل عکاسی کبھی نہیں کرتے۔ مگر بورژوا انتخابی جعلسازی محکوم خطوں میں غاصب طاقتوں کے حکمران طبقات کی سامراجی سنیگنوں کو نام نہاد جمہوریت کے چیتھڑوں تلے ڈھانپنے کی سب سے ناکام اور مضحکہ خیز کوشش کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ پھر بھی مقبوضہ کشمیر کے حالیہ انتخابات کو نتائج کی سکرین سے ہٹ کر دیکھا جائے تو چند بنیادی اور انتہائی اہمیت کی حامل تبدیلیوں کے آغاز کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔

تنگ نظر قومی پرستی اور بائیکاٹ کی شکست
بھارتی مقبوضہ کشمیر سیاسی حوالے سے عمومی طور پر تین حصوں وادی، جموں اور لداخ پر مشتمل ہے۔ ان تینوں حصوں میں بھارتی قبضے کے حوالے سے رد عمل کی نوعیت بھی مختلف ہے اور انتخابی سیاست میں حمایت یا مخالفت کی وجوہات بھی مختلف ہوتی ہیں۔ بھارتی سامراجی غلبے کیخلاف سب سے زیادہ نفرت وادی میں پائی جاتی جو مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ جموں ہندو اکثریتی علاقہ ہے جہاں بھارتی تسلط کیخلاف نفرت کبھی بھی کھل کر علیحدگی یا آزادی کی تحریک کی صورت میں اپنا اظہار نہیں کر پائی، اگرچہ جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی صورتحال وادی سے ملتی جلتی ہے۔ لداخ اور کارگل نسبتاً کم آبادی والے اور زیادہ پسماندہ علاقے ہیں وہاں سیاسی رحجانات مقامی قبائلی حدود کے اندر ہی مقید ہیں۔ حالیہ انتخابات میں سب سے بڑی تبدیلی یہ دیکھنے میں آئی کہ بڑی تعداد میں لوگوں نے انتخابی عمل میں سرگرمی سے حصہ لیا اور ووٹ ڈالے۔ تمام تنگ نظر قوم پرست جماعتوں کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ کے اعلان کے باوجود عام لوگوں اور نوجوانوں نے یہ کہتے ہوئے ووٹ ڈالے کہ ’’ ہمیں آزادی چاہیے مگر ووٹ بھی ڈالیں گے۔‘‘ 2014ء میں بھارتی لوک سبھا کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 26 فیصد تھی۔ کشمیر کے کئی ایسے علاقے تھے جہاں نوجوانوں (سنگ بازوں) کے مظاہروں اور احتجاج کی وجہ سے انتخابی جلسے ملتوی ہوئے لیکن اس کے بالکل برعکس ریاستی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح مجموعی طور پر 66 فیصد رہی۔ اسی وجہ سے ہندوستان کے حکمران طبقے کے بعض رجعتی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ کشمیر، خاص کر وادی کے لوگوں کا ریاستی انتخابات میں بڑے پیمانے پر حصہ لینے کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے کشمیر پر ہندوستان کے غلبے کو قبول کر لیا ہے۔ ’’تہلکہ‘‘ جریدے کے نمائندے ریاض وائیں کی رپورٹ کے مطابق ’’گاندربل ضلع کے ایک قصبے سیلورہ میں، جو 90ء کی دہائی میں حزب المجاہدین کا گڑھ تھا، 2008ء کے انتخابات تک وہاں کسی سیاسی جماعت کے انتخابی جلسے کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا تھا اور یہاں تک کہ 2014ء میں ہی ہونیوالے لوک سبھا کے انتخابات کیخلاف بھی شدید مزاحمت موجود تھی۔ لیکن اب کی بار وہاں ووٹ ڈالنے والوں کی طویل قطاریں اور جوش و خروش اپنی مثال آپ تھا۔ سیلورہ کے رہائشی امین شیخ نے تہلکہ کو بتایا کہ علیحدگی پسندوں کی سیاست کی اپنی اہمیت ہے مگر بیروزگاری، سڑکوں کی پختگی، بجلی و پانی جیسے بے شمار بنیادی مسائل کو کون حل کرے گا؟
یہ داستان صرف سیلورہ کی نہیں بلکہ سینکڑوں دیہاتوں اور قصبوں کی یہی صورتحال ہے جہاں بنیادی مسائل کے حل کے پیش نظر لوگوں نے ووٹ ڈالے۔ بارہ مولا، سوپور، اننت ناگ، سوناوری اور بانڈی پورہ کے علاقوں میں سینکڑوں سنگ باز نوجوانوں نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر یہ بتایا کہ وہ 2010ء کی سنگ بازوں کی تحریک کا حصہ تھے اور جن مسائل کے حل کیلئے انہوں نے وہ تحریک چلائی تھی انہیں کے حل کی امید میں وہ ووٹ ڈال رہے ہیں لیکن ووٹ دینے کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اپنی آزادی کی جدوجہد سے دستبردار ہو رہے ہیں بلکہ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے بنیادی مسائل کے حل کی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔ بائیکاٹ کی سیاست کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے اکثریتی نوجوانوں کا یہ کہنا تھا کہ ان پارٹیوں کا آزادی کے حصول کا طریقہ کار درست نہیں اسی لیے ان کا ایسی پارٹیوں کی اس قسم کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ درست ہے کہ ان انتخابات سے قبل کشمیر میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے لوگوں کے روز مرہ زندگی کے بنیادی مسائل کو ان کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا ہے۔ لیکن یہ کہنا سراسر غلط ہو گا کہ صرف سیلاب کی تباہ کاریاں ہی اس تبدیلی کی وجہ ہیں۔ قومی بنیادوں پر آزادی کے حصول کی تحریک کی ناکامی کے ساتھ ہی 90ء کی دہائی اواخر اور اس صدی کے آغاز سے ہی کشمیر میں طبقاتی مسائل کے حل کی سوچ اور جدوجہد کا آغاز ہو چکا تھا جسے 2008ء کے عالمی مالیاتی زوال نے زیادہ پختہ کرتے ہوئے 2010ء کی سنگ بازوں کی تحریک پر منتج کیا تھا۔ گزشتہ سال کے سیلاب نے اس عمل کو محض تیز تر کیا ہے۔ اسی لیے ہمیں حالیہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے والوں کی شرح میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی نظر آئی ہے۔ وادی میں ووٹ ڈالنے کی شرح میں بے پناہ اضافے کی دوسری اہم وجہ BJP کی جارحانہ انتخابی مہم تھی۔ وادی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں ہندو بنیاد پرستی کا راستہ روکنے کیلئے اور BJP کے +44 منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے نوجوانوں اور محنت کش عوام نے انتخابی مہم میں سرگرمی سے حصہ لیتے ہوئے BJP کو شرمناک شکست سے دو چار کیا۔ دوسری جانب بائیکاٹ کی سیاست کی شرمناک ناکامی کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ لوگوں نے ہندوستانی غاصبانہ قبضے کو اپنی تقدیر سمجھ کر قبول کر لیا ہے اور اب اس سامراجی تسلط کیخلاف کوئی جدوجہد نہیں ہو گی بلکہ اس کے برعکس حالیہ انتخابات کشمیر کی تحریک آزادی کے ایک عبوری مرحلے کی تمام خوش فہمیوں اور غلط فہمیوں کے ملفوبے کا اظہار ہیں۔ بوژوا قومی آزادی کے طریقہ کار کی ناکامی کے تجربے سے اسباق اخذ کرتے ہوئے لوگ اور خاص کر نوجوان کشمیر کی جدوجہد آزدای کو اپنے جبلی اور تجرباتی شعور کے ذریعے طبقاتی بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں انتخابات میں ووٹ کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی کاوش بھی شامل ہے۔ لیکن سرمایہ داری کے عالمی زوال اور گراوٹ کے پیش نظر ہندوستانی سرمایہ داری کی سماج کے نچلے اور استحصال زدہ طبقات کے مسائل کو حل کرنے کی نا اہلی میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے جو آنے والے دنوں میں کشمیر کے نوجوانوں، محنت کشوں اور عام عوام کے سامنے عملاً عیاں ہو گی اور جس کے بعد ان مسائل کے حل کی جدوجہد نئی تحریکوں اور احتجاجوں کو جنم دے گی۔ کشمیری محنت کش عوام اور نوجوانوں کو اس انتخابی تجربے سے گزر کر یہ سیکھنا ہو گا کہ ان کے مسائل کا حل سرمایہ داری کے مکمل خاتمے کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ نہ ہی بورژوا قوم پرستی اور نہ ہی نام نہاد بورژوا جمہوریت کے ذریعے بیروزگاری، ہندوستانی فوج کے جبر یا اور کسی مسئلے کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

ہندو بنیاد پرستی کا اُبھار
کشمیر کے انتخابی نتائج کا بظاہر یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ کشمیر کے ہندو اکثریتی علاقوں خاص کر جموں میں BJP ایک مضبوط جماعت بن کر اُبھری ہے۔ اگر گزشتہ انتخابات اور حالیہ انتخابات کے نتائج کا موازنہ کیا جائے تو جس پارٹی کو پچھلے انتخابات کی نسبت سب سے زیادہ نشستیں ملی ہیں وہ BJP ہی ہے۔ BJP کو 2008ء کے انتخابات میں 11 نشستیں ملی تھیں جبکہ حالیہ انتخابات میں جموں کی کل 39میں سے 25نشستیں ملی ہیں۔ حالیہ انتخابی نتائج نے بظاہر ہندو اور مسلم اکثریتی علاقوں کے مابین تقسیم کو بھی ظاہری طور پر وسیع کر دیا ہے۔ جموں کے ہندو اکثریتی علاقوں سے BJP کی بھاری فتح جہاں کسی حد تک نریندرا مودی اور دیگر BJP کے قائدین کی جانب سے مذہبی فرقہ پرستی کے سیاسی استعمال کے باعث ہے وہیں لوک سبھا کے انتخابات میں نریندرا مودی کے ترقی کے ہیرو کے طور پر بنایا جانیوالا کارپوریٹ میڈیا کے اس تاثر کا کمال بھی ہے جس کے باعث عام لوگ اپنے بنیادی مسائل کے حل کیلئے نریندا مودی کو ایک نجات دہندہ سمجھنا شروع ہو گئے ہیں۔ مثلاً جموں میں مودی کے جلسوں میں ہزاروں ایسے لوگ شریک ہوتے تھے جو BJP کے صرف ایک لیڈر کو جانتے تھے، مودی کو ! یہاں تک کہ وہ اپنے حلقے سے انتخاب لڑنے والے BJP کے نمائندے کا نام تک نہیں جانتے تھے۔ مگر محض ذرائع ابلاغ کے ذریعے مودی کے اس دیوہیکل تاثر سے مغلوب تھے کہ وہ ملک کو ترقی دے کر ان کے مسائل حل کرے گا۔ وفاقی حکومت کے بے پناہ وسائل کو استعمال کرتے ہوئے BJP نے کشمیر کی تاریخ کی سب سے مہنگی انتخابی مہم چلائی۔ مودی نے پانچ دن میں کشمیر کے نو دورے کیے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ’’2013ء سے لیکر اب تک جموں میں ہونیوالے BJP کے جلسوں میں ہر 10 میں سے 7 لوگ جموں کے مختلف دیہاتوں اور چھوٹے قصبوں سے آئے ہوتے ہیں۔ BJP کی انتخابی فتح نہ تو BJPکی ریاستی قیادت ہے اور نہ ہی ان کی جانب سے کیے جانیوالے انتخابی وعدے بلکہ اس فتح کی واحد وجہ مودی کی شخصیت کا ذرائع ابلاغ کے ذریعے بنایا جانیوالا تاثر ہے۔‘‘ جموں کے برعکس وادی میں BJP کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑ ا۔ جموں کے جلسوں میں بی جے پی نے مذہبی منافرت کو اُبھارنے کے ساتھ ساتھ آرٹیکل 370 (جو کشمیر کی مخصوص حیثیت کا ضامن ہے) کو ختم کرنے کی بھی پر جوش بڑہک بازی کی اور اس کے ساتھ مسلح جدوجہد کے دوران وادی سے ہجرت کرنیوالے کشمیری پنڈتوں کی دوبارہ آباد کاری کے بھی وعدے کئے لیکن سرینگر کے جلسے میں مودی نے پنڈتوں کی دوبارہ آبادکاری کا ذکر تک نہیں کیا جس کے باعث وادی میں بسنے والے پنڈتوں کی بڑی اکثریت کو مودی کے وعدوں کی جعلسازی پر بے حد مایوسی ہوئی۔ وادی کے 9638 رجسٹرڈ پنڈتوں کے ووٹوں میں سے محض پانچ ہزار پنڈتوں نے ووٹ دیئے۔ کے پی ایس ایس کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکونے بی بی سی کے نمائندے کو بتایا کہ ’’بی جے پی کی قیادت جب جموں سے سرینگر آتی ہے تو تمام بنیادی مسائل پر اپنا موقف تبدیل کر دیتی ہے۔ ہمیں واضح طور پر لگتا ہے کہ وہ بھی محض ووٹ لینے کیلئے جھوٹے وعدے اور منافقانہ بڑہک بازی کرتی ہے جیسے دوسری سیاسی پارٹیاں کرتی ہیں تو ووٹ دینے کا کیا فائدہ ؟‘‘
اگر ہم جموں کے انتخابی نتائج کا 2008ء کے انتخابی نتائج سے موازانہ کریں تو صورتحال مزید واضح ہو جاتی ہے۔ 2008ء کے انتخابات میں کانگریس کی 13، نیشنل کانفرنس کی 6 جبکہ آزاد یا علاقائی جماعتوں کی 5 نشستیں تھیں۔ کانگریس اور نیشنل کانفرنس کی مخلوط حکومت کی ناکامی کیخلاف رد عمل ویسا ہی ہے جسے لوک سبھا کے انتخابات میں ہوا تھا کہ زیادہ تر لوگوں نے بی جے پی کو ووٹ دیئے۔ اسی طرح کشمیر کے حالیہ انتخابات میں کانگریس کو13 کی بجائے محض 5، نیشنل کانفرنس کو 6 کی بجائے 3 اور آزاد یا چھوٹی جماعتوں کو 5 کی بجائے صرف 1نشست پر کامیابی حاصل ہوئی۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جموں میں بی جے پی کی فتح ہندو بنیاد پرستی کے اُبھار کی بجائے بوژوا جمہوریت کے اس عمومی گھن چکر کی عکاس ہے جس میں سیاسی اُفق پر حاوی ایک پارٹی سے مایوسی لوگوں کو کسی حقیقی متبادل کی عدم موجودگی میں حکمران طبقے کے دوسرے دھڑے کی پارٹیوں کو آزمانے پر مجبور کرتی ہے۔ اسی طرح وادی میں نیشنل کانفرنس کو 2008ء میں 20 کی نسبت حالیہ انتخابات میں محض 12نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔ عمر عبداللہ، جو 6 سال وزیر اعلیٰ رہا، کو بھی دو میں سے ایک نشست پر شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

حکومت سازی کا بحران اور طبقاتی یکجہتی
انتخابات میں سب سے زیادہ 28 نشستیں پی ڈی پی کو ملیں۔ پی ڈی پی کی بنیاد 1999ء میں رکھی گئی تھی جب محبوبہ مفتی کے باپ مفتی محمد سعید نے کانگریس سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنی علیحدہ پارٹی بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ در حقیقت پی ڈی پی کانگریس کا ہی تسلسل ہے مگر کشمیر خاص کر مسلم اکثریتی علاقوں میں ہندوستان اور ہند نواز پارٹیوں کیخلاف پائے جانیوالے رد عمل اور نفرت کے پیش نظر کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے اعتدال پسندانہ (سافٹ، یعنی منافقانہ) پروگرام کے لبادے میں مفتی محمد سعید کو 1989ء میں وی پی سنگھ کی مخلوط حکومت (جس میں کانگریس کو بی جی پی اور بائیں بازو کی پارٹیوں کی حمایت حاصل تھی) کے دوران ہندوستان کے پہلے مسلمان وزیر داخلہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اس پس منظر کو سامنے رکھا جائے تو پی ڈی پی کیلئے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کوئی نئی بات نہیں لیکن اس اتحاد میں رکاوٹ بی جے پی کا آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے حوالے سے سخت گیر موقف اور دوسری جانب پی ڈی پی کا اپنا حلقہ انتخاب ہے جس میں پی ڈی پی کو بی جے پی کے اسی سخت گیر موقف کو عملی جامعہ پہنانے سے روکنے کیلئے ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ پی ڈی پی کو وادی سے بڑے پیمانے پرکامیابی ملنے کی وجہ جہاں بی جے پی کا راستہ روکنا تھا وہیں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی مخلوط حکومت کیخلاف نفرت کا عنصر بھی کارفرما تھا۔ اس لیے پی ڈی پی کی قیادت سب سے زیادہ سیٹیں لینے کے باوجود شدید مشکلات سے دو چار ہے۔ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے حوالے سے پی ڈی پی کے ممبران اسمبلی کا ایک مضبوط دھڑا سر گرم ہے لیکن ٹائمز آف انڈیا اخبار کی رپورٹ کے مطابق 6 سے 10 ارکان اسمبلی بی جے پی کے ساتھ حکومتی اتحاد کے سخت خلاف ہیں اور پارٹی کے اندر ایک بڑی پھوٹ کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ پارٹی قیادت اس پھوٹ کو روکنے اور اپنے حلقہ انتخاب کو مطمئن کرنے کیلئے یہ بیانات دے رہی ہے کہ بی جے پی کی قیادت سے فوج کے سپیشل پاور ایکٹ کے خاتمے، پاکستان سے مذاکراتی عمل کی بحالی اور آرٹیکل 370 کی حفاظت کی ضمانت کے بعد ہی بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا جائے گا۔
کانگریس اور نیشنل کانفرنس کیخلاف اسی حلقہ انتخاب میں شدید نفرت کے باعث پی ڈی پی ان پارٹیوں کے ساتھ بھی اتحاد کرنے سے قاصر ہے۔ لیکن ان پارٹیوں کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کی بڑی وجہ وفاق میں بی جے پی کی حکومت ہے۔ پی ڈی پی کے زیادہ تجربہ کار اور گھاگ قائدین کا یہ موقف ہے کہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد مرکز سے مالی وسائل کی مسلسل فراہمی کی مضبوط ضمانت لیکن محبوبہ مفتی اور مفتی محمد سعید کو پارٹی کے دوسرے دھڑے کو اس پر آمادہ کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ اگر بی جے پی سے اتحاد کی مخالفت کرنے والے ممبران کو راضی کر بھی لیا گیا تو یہ مخلوط حکومت وادی میں پی ڈی پی کی بنیادوں کا صفایا کر دے گی کیونکہ بڑے پیمانے پر ووٹ ڈالنے کی شرح کی ایک بڑی وجہ وادی میں بی جے پی کے فروغ کو روکنا بھی تھا۔ اسی لیے اتحاد مخالف ممبران اس اتحاد کو پی ڈی پی کیلئے خود کشی قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب کانگریس کی قیادت بی جے پی کو ریاستی اقتدار سے باہر رکھنے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف ہیں لیکن 11نشستوں پر کامیابی کے ساتھ حکومت سازی کی حسابی مساوات میں ان کی قدر و قیمت نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی طرح نیشنل کانفرنس کی قیادت شرمناک شکست کے بعد اپنی سیاسی ساکھ کو بحال کرنے کیلئے انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ بی جے پی کی مرکزی قیادت ریاستی انتخابات میں +44 یعنی 44 سے زیادہ نشستیں جیتنے کے مشن میں بری طرح ناکامی کے بعد اب وفاقی حکومت کے اختیارات کے زور پر حکومت کا حصہ بننے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ BJP کی قیادت کو جموں سے ملنے والی کامیابیوں کی مصنوعی اور عارضی بنیادوں کا پورا احساس ہے، اسی لیے وہ ہر حال میں حکومت کا حصہ بننا چاہتے ہیں تا کہ حکومتی طاقت، اختیارات اور وسائل کے زور پر اس مصنوعی کامیابی کو مستحکم کیا جائے۔ حکومت سے باہر رہنے کی صورت میں BJP کے اسی عارضی اُبھار کے بلبلے سے تیزی سے ہوا نکل سکتی ہے چونکہ جموں میں BJP ،R.S.S یا سنگ پریوار جیسے کسی انتہا پسند گروپوں کی نہ تو وسیع عوامی بنیادیں ہیں اور نہ ہی کوئی تنظیمی ڈھانچے۔ بی جے پی کی قیادت آرٹیکل 370 کے خاتمے کے موقف پر قائم رہتے ہوئے پی ڈی پی کے ساتھ مخلوط حکومت بنانا چاہتی ہے۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد نہ صرف کشمیر کی زمین اور وسائل مختلف سامراجی کمپنیوں کو لوٹ مار کیلئے دیئے جا سکتے ہیں بلکہ کشمیر کی مسلم اکثریتی علاقے کی حیثیت کو بھی ہندوؤں کی آباد کاری کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔ انتہا پسند ہندو بنیاد پرستی کا یہ منصوبہ فلسطین میں یہودی آباد کاری ہی کی طرح ایک گھناؤنا جرم ہے جس پر عملدرآمد کی کوئی بھی کوشش محض مذہبی تعصب، فرقہ پرستی اور جنونی خونریزی کو ہی جنم دے گی جس کیخلاف قومی یا مذہبی کی بجائے صرف طبقاتی بنیادوں پر لڑا جا سکتا ہے۔ کشمیر پر ہندوستانی غاصبانہ قبضے کی موجودگی اور ہندوستانی ریاستی جبر کے ذریعے کشمیری پنڈتوں کی از سر نو آباد کاری کا عمل بھی نئی خونریزی اور تعصبات کو بڑھانے کا موجب بنے گا۔
اس مذہبی تعصب کے یلغار کی ان ظاہری وجوہات کے علاوہ ایک اور زیادہ خطرناک اور بظاہر نہ نظر آنے والی وجہ بھی ہے جو طویل مدت حکمت عملی کے نقطہ نظر سے سب سے بنیادی وجہ بن جاتی ہے۔ قومی بنیادوں پر نفرت اور تعصب پر مبنی آزادی کی تحریک کی موجودگی حکمران طبقات کے طبقاتی استحصال اور لوٹ مار کو ایک قسم کا تحفظ فراہم کرتی تھی۔ انفرادی دہشتگردی کے عنصر کی موجودگی بھارتی ریاست کی ننگی جارحیت کو بھی جواز مہیا کرتی تھی۔ انہی خامیوں اور کمزوریوں کے باعث آزادکشمیر کی تحریک کبھی بھی بڑے پیمانے پر جموں کے ہندو اکثریتی علاقوں میں حمایت حاصل نہیں کر پائی تھی۔ لیکن اس تحریک کے زوال اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والی سنگ بازوں کی تحریک کشمیر کے اندر بڑھتی ہوئی طبقاتی خلیج اور اس کے نتیجے میں نشوو نما پانے والے جس طبقاتی شعور کی نمائندگی کر رہی تھی وہ برصغیر اور خاص کر ہندوستانی حکمران طبقات کیلئے موت کا ایک پیغام تھا۔ سنگ بازوں کی تحریک میں اور اس کے بعد ہونے والے تمام احتجاجی مظاہروں میں جن بنیادی مسائل کو اٹھایا گیا ان کے گردنہ صرف جموں کے ہندو اکثریتی علاقوں میں ان مظاہروں اور تحریکوں کیلئے ہمدردی کے جذبات میں اضافہ ہو رہا تھا بلکہ پورے ہندوستان کے محنت کش طبقات میں ان تحریکوں کی حمایت میں اضافہ ہو رہا تھا۔ اسی لیے بی جے پی انتہائی جارحانہ مذہبی فرقہ واریت اور تعصب کو فروغ دے کر اس طبقاتی شعور اور کشمکش کو دوبارہ زائل کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب کی بار طبقاتی شعور کو یوٹوپیائی قومیت کی بجائے مذہبی منافرتوں اور تعصب میں لتھڑے ہوئے دیو مالائی زہر سے آلودہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے ریاستی جنرل سیکریٹری محمد یوسف تاریگامی حالیہ انتخابات میں چوتھی بار کامیاب ہوئے

بی جے پی کی ان پالیسیوں کے خلاف ایک منظم جدوجہد کی ضرورت ہے، جو صرف تمام مذاہب اور قومیتوں کے محنت کشوں کی طبقاتی یکجہتی اور جڑت کو فروغ دیتے ہوئے سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ آنے والے دنوں میں کشمیر میں کسی بھی قسم کی حکومت تشکیل پائے، وہ کشمیر کے محنت کشوں اور نوجوانوں کے مسائل حل نہیں کر پائے گی۔ سرمایہ دارانہ نظام کے بڑھتے ہوئے زوال کے پیش نظر حکمران ایک جانب سامراجی لوٹ مار میں اضافے کی پالیسیوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے محنت کشوں کے استحصال کو شدید تر کریں گے تو دوسری جانب اس استحصال کیخلاف استحصال زدہ مظلوم و محکوم محنت کشوں کی انقلابی تحریکوں کو اُبھرنے سے روکنے کیلئے ہر قسم کے مذہبی، لسانی، قومی، علاقائی اور رنگ و نسل کے تعصبات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور کرینگے۔ محکوم کشمیری محنت کش عوام کو سرمایہ داری کے جبر کی موجودگی میں کبھی بھی حقیقی حق خود ارادیت نہیں مل سکتا۔ نہ تو اقوام متحدہ یا یورپی یونین جیسے سامراج کے دلال اداروں کے ذریعے اور نہ ہی پاکستان و ہندوستان کے درندے حکمران طبقات کے باہمی مذاکرات کے ذریعے۔ کشمیری محنت کشوں اور نوجوانوں کو آزادی کشمیر کی جدوجہد کو طبقاتی بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے سرمایہ داری کے خاتمے کے ساتھ اس کو وابستہ کرنا ہو گا۔ گلے سڑے سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی ہر جدوجہد پورے برصغیر کے محنت کشوں کی جدوجہد ہے اور انقلابیوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ ان محنت کشوں کی اس جدوجہد میں شعوری شمولیت کو یقینی بنائیں۔ برصغیر کے کسی بھی کونے سے سرمایہ داری کا خاتمہ پورے برصغیر میں انقلابی تحریکوں کو جنم دے گا۔ حالیہ انتخابات میں کمیونسٹ پارٹی (مارکسسٹ) کی مسلسل چوتھی بار فتح، محدود پیمانے پر ہی سہی لیکن کشمیر میں سوشلزم کے فروغ کے بے پناہ امکانات کی عکاسی کرتی ہے۔ اگر کشمیری نوجوان انقلابی مارکسزم کے نظریات کو سیکھتے اور پھیلاتے ہوئے ہمالیہ کی فلک بوس بلندیوں سے سوشلسٹ انقلاب کے پرچم کو لہراتے ہیں تو نہ صرف برصغیر بلکہ پورے دنیا کے محنت کش اس پرچم کو تھامنے کیلئے ہماری توقعات سے زیادہ تیزی سے پیش قدمی کرینگے۔

متعلقہ:

کشمیر کے انتخابات میں امید کی کرن

کشمیر کی توہین

کشمیر، جسے سرمایہ داری نے تاراج کر ڈالا!

مسئلہ کشمیر کا مسئلہ!

کشمیر: خاموشی کی کوکھ میں پلتے طوفان

One Comment

  1. Pingback: ’’جمہوریت‘‘ کی آڑ میں کشمیر سے غداری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*