سوویت روس میں منصوبہ بند معیشت کے تحت تعلیمی انقلاب

تحریر: آصف رشید

1917 کے انقلاب سے قبل روس ایک پسماندہ زرعی ملک تھا، جس کی آبادی کی اکثریت ناخواندہ تھی۔ سوویت یونین کو ایک عظیم صنعتی ریاست میں بدلنے کا زیادہ انحصار اس بات پر تھا کہ لوگوں کو فوری طور پر تعلیم دی جائے۔ سوویت حکومت کے قیام کے چار دن بعد ہی بالشویکوں نے ایک جامع تعلیمی منصوبہ (سوویت کمیونزم) شائع کیا۔ اس منصوبے کا عمومی خاکہ کچھ اسطرح ہے: بچوں اور نوجوانوں سمیت تمام عمر کے افراد کے لیے ایک آفاقی اور غیر طبقاتی نظام تعلیم، جو مکمل طور پر عملی تربیت اور روشن خیالی پر مبنی ہو۔ مسلمہ طور پر نصاب سے تمام تر فرسودہ اور دقیانوسی روایات کا خاتمہ کرتے ہوئے نظام تعلیم کوجدید سائنسی بنیادوں پراستوارکیا جائے۔ ہر قسم کی توہم پرستی سے پاک نظام، جس میں ہر فرد کی زندگی کا حتمی مقصد معاشرے کی خدمت کرنا ہو۔ اصولی طور پر سارے کا سارا نظام مفت، لازمی اور سیکولر ہو گا۔
یہ خاکہ ہمیں سوویت یونین کے نظام تعلیم کے بارے میں حقیقی معلومات فراہم کرتا ہے اور ایک منصوبہ مند معیشت کے طریقہ کا ر اور مقاصد پر مزید مطالعہ کی بنیاد مہیا کرتا ہے۔ اس سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ تعلیم کسی معاشرے کی زندگی میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے۔

چند عمومی حقائق
سوویت یونین کے آئین میں ہر سطح پر مفت تعلیم اور 15 سال کی عمر تک اس کا حصول ہر فرد کے لیے لازمی قرار دیا گیا۔ آئین کے آرٹیکل 121 کے مطابق تعلیم کا حصول سوویت باشندوں کا بنیادی حق ہے۔ بنیادی تعلیم کا حصول لازمی اور اعلیٰ تعلیم سمیت ہر سطح پر تعلیم کی مفت فراہمی کا بندوبست کیا گیا۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی وسیع اکثریت کے لیے حکومتی وظائف کا نظام متعارف کروایا گیا۔ اس آرٹیکل کے مطابق سکولوں میں تعلیم مقامی زبان میں دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ فیکٹریوں، ریاستی اور اجتماعی فارمز، مشین اور ٹریکٹر اسٹیشنوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو عملی تکنیکی اور زرعی تربیت دینے کے لیے تنظیمیں بنائی گئیں۔
سوویت یونین کی تمام جمہوریاؤں (Republics) میں تعلیم مقامی زبان میں دی جاتی ا ور مخلوط نظام تعلیم رائج کیا گیا۔ 15 سال کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے بہت قلیل فیس رکھی گئی وہ طلبہ جو ایک مخصوص معیار تک پہنچ جاتے انکو حکومتی وظیفہ دیا جاتا جو پڑھائی کے دوران انکی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہوتا تھا۔ اس حوالے سے ایک لطیفہ زبان زدعام ہوگیا کہ سوویت طلبہ بیرون ممالک سے آنے والے طلبہ سے پوچھتے کہ آپ کی حکومت تعلیم حاصل کرنے کے لیے آپکو کتنے پیسے دیتی ہے۔ نوجوانوں کے لیے تعلیم صرف کمرہ جماعت تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ مفت صنعتی تربیت بھی دی جاتی تھی۔ وسیع اکثریت کے لیے تعلیم زندگی کا لازمی جزو تھی، ایک رہنما اصول تھا کہ تعلیم صرف کتابیں رٹنا نہیں بلکہ یہ حقیقی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ بچوں کو ایسے تربیت دی جاتی کے وہ اپنی عملی زندگی اور مجموعی طور پر معاشرے کے لیے ایک مفید کارکن کے طور پر تیار ہو سکیں اورتعلیم انکو مستقبل میں زندگی اور سماج کے تمام پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد دے سکے۔

تعلیم، افراد اور ریاست
سوویت یونین کا تعلیمی نظام مختلف یونینوں کے کمیساروں اور خود مختار جمہوریاؤں کے اشتراک سے مرکزی سطح پر تیار کیا جاتا تھا۔ بعض مخصوص حالات کے پیش نظر اس میں ترامیم کی مناسب گنجائش موجود ہوتی تھی۔ مرکزی پلاننگ کمیشن، جو کہ سارے سوویت یونین کی معاشی منصوبہ بندی کا ذمہ دار تھا، کاعمومی تعلیمی منصوبے کی تشکیل میں ایک ثقافتی حصہ تھا جو اس بات کا تعین کرتا تھا کہ کتنے نئے سکول بنائے جائیں، یہ سکول کس قسم کے ہوں گے، نئے اساتذہ کی تعداد کتنی ہونی چاہیے، کتنی نئی لائبریریاں بنائی جائیں وغیرہ وغیرہ۔ مثلاً تیسرے 5 سالہ منصوبے میں 20 ہزار نئے سکول بنانے اور 5 لاکھ نئے اساتذہ کی تربیت کا پلان بنایا گیا۔ پلاننگ کمیشن اس بات کا فیصلہ کرتا کہ ہر کام کے لیے کتنی رقم مختص کی جائے۔ مرکزی بجٹ میں تعلیم کے لیے رقم رکھی جاتی اور جمہوریاؤں میں تعلیم کے کمیسار عمومی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ بجٹ کے اخرجات اور تعلیم کے نظم ونسق کی ذ مہ داری ادا کرتے تھے۔
مرکزاور جمہوریہ کے درمیان تعلیمی معمولات کو چلانے کے لیے تقسیم کار موجود تھی، جس کا مقصد کمیساروں کا مرکزی تعلیمی کمیٹی کے ساتھ ملکر بنیادی اصولوں کا تعین کرنا اور ہدایات جاری کرنا تھا، تاکہ مختلف جمہوریاؤں کے کمیسار ان اصولوں کو لاگو کروانے کے لیے مزید تفصیلی ہدایات جاری کر سکیں۔ جیسے ٹائم ٹیبل کی بہتر تقسیم وغیرہ۔ والدین پر مشتمل اجلاس، مقامی سوویتوں کا تعلیمی کمیشن، ٹریڈ یونینز اور دوسری اہم تنظیمیں تعلیم کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی تھیں۔ اس طریقہ کار کے ذریعے تعلیمی اخراجات میں تیزی سے اضافہ کیا جانے لگا۔ 1931ء سے 1941ء کے دوران ہر فرد کی تعلیم پر اخراجات میں 8 گنااضافہ ہواجو اس وقت کی داخلی پیداوار کا 12 فیصد بنتا تھا۔

تاریخی پس منظر
روس میں سوویت حکومت کے قیام سے قبل کوئی وفاقی نظام تعلیم موجود نہیں تھا۔ لاکھوں بچے سکول نہیں جاتے تھے۔ کسان آبادی کی اکثریت پسماندہ، ناخواندہ اور توہم پرستی کا شکار تھی۔ اقلیتوں کی صورتحال بدترین تھی۔ اسکی وجہ انقلاب سے قبل زار حکومت کی پالیسی تھی کہ قومیتوں کی ثقافت کو برباد کر دیا جائے۔ جیسے یوکرائن اور جارجیا والوں کو اخبارات، کتابوں اور عدالتوں میں اپنی زبان استعمال کرنے کی ممانعت تھی۔ ان اقلیتی اقوام میں جو لوگ سکول جاتے بھی تھے انہیں روسی زبان میں ہی پڑھنا پڑتا تھا۔ تعلیم کی طرف حکومت کا رویہ شسکوؤو، جو زار حکومت میں وزیر اطلاعات تھا، کے اس بیان سے ظاہر ہے کہ علم تب ہی مفید ہے جب اسکو کھانے میں نمک کی طرح محدود پیمانے پر لوگوں کے حالات اور ضروریات کے مطابق استعمال کیا جائے، عوام کی وسیع اکثریت کو تعلیم دینا فائدے سے زیادہ نقصان کا باعث بنتا ہے۔ اسی حکومت کے ایک اور ممتاز نمائندے کا کہنا تھا کہ تعلیم کا تناسب تعلیم یافتہ افراد کی خوشحالی کے حساب سے ہونا چایئے۔ جو سکول و کالج موجود تھے وہ بھی بورژوا طبقے کے بچوں کے لیے ہی تھے۔ بے جا سختی اور پابندیوں نے ان تعلیمی اداروں سے تمام ثقافتی اقدار کا خاتمہ کر دیا تھا۔ حالات اتنے خراب تھے کہ بچوں میں خود کشی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔ ہبس پیل اپنی کتاب ’یوتھ آف روس ‘میں لکھتی ہیں کہ یہ بات بہت تشویشناک ہے کہ مواصلات کی وزارت کو بچوں میں خود کشی کی وجوہات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن تشکیل دینا پڑا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بالغ آبادی کا 73 فیصد ناخواندہ تھا۔ جبکہ اقلیتوں میں خواندگی کی شرح 5 فیصد سے بھی کم تھی۔ قازقستان میں 2 فیصد، ازبکستان میں 1 فیصداورتاجکستان میں یہ شرح 5 فیصد تھی۔ روس میں 175 قومیتوں میں سے 124 کا اپنا رسم الخط موجود نہیں تھا۔ اس دگرگوں صورتحال میں 1917ء کے انقلاب کے بعد سوویت یونین کا تعلیمی نظام مصنوعی طریقے سے تیز رفتار ترقی نہیں کر سکتا تھا۔ یہ صورتحال 1921ء کے بد ترین قحط کے بعد مزید خراب ہو گئی۔ قحط اور جنگ نے بڑی تعداد میں نوجوان نسل کو بے گھر، یتیم، لاوارث اور محروم کر دیا۔ یہ نوجوان غنڈہ گردی، قانون شکنی اور جرائم کا شکار ہو کر ملک کے طول و عرض میں دہشت کا باعث بن گئے۔ گوداموں اور گندی جگہوں پر رہنے کی وجہ سے نوجوان بہت سی مہلک ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہوگئے۔ ایسے بچوں کو اخلاقی اور تعلیمی حوصلہ افزائی کی اشد ضرورت تھی۔ اتنے گہرے اور شدید نوعیت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے تعمیری کوششوں پر مشتمل کئی سال درکار تھے۔ تعلیم کی تیز ترین بڑھوتری کے لیے دستیاب وسائل بہت محدود تھے۔ روس میں عمارتوں، کتابوں، اساتذہ اور دیگر ضروری سازوسامان کی شدید قلت تھی۔ کئی سال تک گنجان آباد علاقوں بالخصوص ماسکو میں دوہری شفٹیں چلانی پڑتی تھیں۔ جہالت اور توہم پرستی پر قابو پانے کی اشد ضرورت تھی۔ دور دراز علاقوں میں بسنے والے پسے ہوئے قدیم قبائل اساتذہ کی شدید مخالفت کرتے تھے۔

نئی تعلیمی پالیسی
8 سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے نگہداشت کے مراکز، کنڈرگارٹنز، کھیل کے مراکز اور نرسری سکول بنائے گئے۔ یہ سب آپشنل تھے۔ والدین اپنی مرضی سے ان میں سے کسی کا بھی انتخاب کر سکتے تھے۔
8 سے 15 سال کی عمر کے تمام بچوں کے لیے سات سالہ سکولنگ کانظام ترتیب دیا گیا۔ 10 سالہ سکولنگ جنگ سے قبل قصبوں اور دیہاتوں میں لازمی قرار دی گئی۔ لازمی تعلیم 15 سال کی عمر میں ختم ہو جاتی تھی۔ صنعتی سکول فیکٹری اور تجارتی سکولوں پر مشتمل تھے۔ پیشہ ورانہ تعلیم کے لیے پیشہ ورانہ سکول اور اکیڈمیاں موجود تھیں۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے یونیورسٹیاں اور مخصوص ادارے بنائے گئے۔ تعلیم بالغاں کے لیے کلب، معاون کورسز، فلمیں اور تھیٹر وغیرہ بنائے گئے۔
1913ء میں پرائمری اور سیکنڈری سکولوں میں بچوں کی تعداد 78 لاکھ تھی جو کہ 1940ء میں بڑھ کر3 کروڑ 50 لاکھ ہو گئی۔ جبکہ اسی عرصے میں تکنیکی سکولوں کی تعداد 35 ہزار 8 سو سے بڑھ کر 9 لاکھ 51 ہزار 9 سو ہو گئی تھی۔ یونیورسٹیوں کی تعداد 71 سے بڑھ کر 718 ہو گئی جبکہ یونیورسٹی میں ہر سال طلباکی تعداد 1 لاکھ 12 ہزار سے بڑھ کر 6 لاکھ 50 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔

پری سکول تعلیم
سوویت حکومت نے 8 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے ایک آپشنل پری سکول ایجوکیشن سسٹم متعارف کروایا۔ اس سے قبل بچوں کی نگہداشت کے لیے صرف 550 مراکز موجود تھے۔ ان مراکز کی تعداد 1932ء میں 6 لاکھ جبکہ 1937ء میں 30 لاکھ ہوگئی، جس میں مسلسل اضافہ جاری رہا۔ یہ مراکز فیکٹری، اجتماعی فارموں، فلیٹس اور کام کی جگہوں کے ساتھ بنائے جاتے تھے۔ فیکٹریوں کی ٹریڈ یونینز، عوامی کمیٹیاں، والدین، انتظامی کمیٹیاں اور صحت کے کمیسار ان مراکز کو چلانے میں تعاون کرتے تھے۔ نگہداشت کے مراکز کام کی جگہوں کے ساتھ اس لیے بنائے گئے کیونکہ مائیں شیر خوار بچوں کو دودھ پلانے کے لیے کم وقت میں وہاں پہنچ سکتی تھیں۔ مرکز چلانے والی ’مس بیٹرس کنگ‘ بیان کرتی ہیں کہ ’’ان مراکز میں کمرے بہت بڑے، کشادہ، روشن اور شاندار ہیں۔ ہر کمرے کے ساتھ ملحقہ برآمدہ ہے جہاں بچے گرمیوں اور سردیوں میں سو سکتے ہیں۔ ایک بڑا کچن ہے جہاں باورچی اجتماعی کھانا تیار کرتے ہیں۔ ان مراکز میں لانڈری، باغات اور کھیل کی جگہیں بھی موجود ہیں۔ ہر 12 سے 15 بچوں کے گروپ کے لیے ایک تربیت یافتہ شخص مامور ہے، جسکی مدد کے لیے ایک غیر تربیت یافتہ معاون بھی موجود ہے۔‘‘
یہ مراکز والدین کی تربیت کے لیے بہت ہی طاقتور ادارے تھے۔ بہت چھوٹے بچوں کے سکول بھی نگہداشت کے مراکز کے طور پر کام کرتے تھے جہاں داخلہ رضاکارانہ بنیاد پر ہوتا تھا۔ ان مراکز میں آنے والے بچوں کی تعداد 1940ء میں 8 لاکھ سے بڑھ کر 35 لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔ والدین اور اساتذہ کے درمیان سٹاف کونسل اور والدین کی کونسل کی ماہانہ میٹنگز کے ذریعے باہمی تعاون موجود تھا۔ والدین کی سکولوں میں اور اساتذہ کی بچوں کے گھروں میں آمد کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔ بچوں کے نصاب میں عمر کے حساب سے چند اسباق کے علاوہ زیادہ تر کھیلنا، کھانا پینا اور سونا شامل ہوتا تھا۔ رسمی تعلیم 6 سال کی عمر سے شروع ہوتی۔ تمام بڑے ریلوے اسٹیشنوں پر بھی بچوں کے لیے مخصوص کمرے اور کھیل کی جگہیں موجود تھیں۔
نگہداشت کے مراکز اور نرسری سکولوں کے ذریعے بچوں کی نہ صرف دیکھ بھال کی جاتی بلکہ صحت و صفائی کے اصول بھی سکھائے جاتے۔ ڈاکٹر ہر سکول کے عملے کا حصہ ہوتا۔ کھیل سمیت ہر سرگرمی کا تعین اس طرح کیا جاتا کہ معاشرتی اقدار، خود انحصاری اور احساس ذمہ داری کو پروان چڑھایا جاسکے۔ مثلاً بچوں کا رنگین اینٹوں کا ایک کھلونا تھا، ان اینٹوں کا مخصوص وزن اور جسامت ہوتی تھی، یہ اینٹیں اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاناایک اکیلے بچے کے لیے مشکل ہوتا تھا۔ بچوں کو ان اینٹوں سے کھیلنے کے لیے دوسرے بچے سے مدد کی درخواست کرنی پڑتی تھی۔ چھوٹے بچوں کی ماؤں کے لیے کام پر جانے اور سماجی سرگرمی میں حصہ لینے کے لیے ایک نظام بنایا گیاتاکہ گھر میں جکڑے رہنے کے بر عکس عورت اور مرد کے درمیان حقیقی عملی اور نظریاتی برابری قائم ہو سکے۔ اگر والدین چاہتے تو انفرادی طور پر نگہداشت کے مراکز اور سکولوں سے بچوں کی پرورش کے بہتر طریقے سیکھ سکتے تھے۔

پرائمری اور سیکنڈری سکول
سوویت منصوبہ بند معیشت کے تحت تعلیم کے شعبے میں بے پناہ ترقی ہوئی۔ پرائمری اور ثانوی سکولوں میں 1913ء میں بچوں کی تعداد 78 لاکھ تھی جو کہ 1942ء میں بڑھ کر 4 کروڑ تک پہنچ گئی تھی۔ سارے سوویت یونین میں لازمی تعلیم مرحلہ وار 8 سے 15 سال تک ترتیب دی گئی۔ اب یہ کہا جا سکتا تھاکہ ہر گاؤں کا اپنا سکول ہے۔ دوسرے 5 سالہ منصوبے میں 20 ہزارنئے سکول تعمیر کیے گئے اور پھر تیسرے 5 سالہ منصوبے میں مزید 20 ہزار سکول تعمیر کیے گئے، جن میں سے 16 ہزار دیہی علاقوں اور 4 ہزار قصبوں میں بنائے گئے۔ سوویت یونین کے زیادہ پسماندہ حصوں کو حکومت کی طرف سے اضافی امداد دی جاتی تاکہ وہ پورے ملک کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر سکیں۔ حتمی مقصد تمام بچوں کے لیے دس سالہ تعلیم کے نظام کوتشکیل دیناتھا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے تیسرے5 سالہ منصوبے میں شہروں میں 18 سال کی عمر تک لازمی تعلیم کا منصوبہ بنایا گیا۔ یہ منصوبہ بہت کامیاب رہا اور ملک میں دس سالہ تعلیم کے سکولوں میں بچوں کی تعداد میں دیو ہیکل اضافہ ہوا۔ ستمبر 1940ء میں عالمی صورتحال نے یہ ضروری کر دیا کہ اس سلسلے کو روکا جائے۔ اس لیے قصبوں میں8 سے 15 سال کی عمر تک ہی تعلیم لازمی قرار دی گئی، جس طرح سے باقی پورے ملک میں تھی۔ اس ضمن میں دس سالہ تعلیم کو رضاکارانہ بنا دیا گیا (یعنی جو چاہے وہ پڑھ سکتا ہے)۔ ایک مختصر حکم نامہ جاری کیا گیا جس میں نوجوانوں کو فیکٹریوں میں اور تجارتی سکولوں میں تربیت دینے کا آغاز ہوا۔

طریقہ کار
تعلیم سے متعلق مختلف طریقوں پر تجربات کرنے کے بعد سوویت یونین نے تعلیم کا منظم نظام ترتیب دیا۔ بہت زیادہ اہمیت اس بات کو دی گئی کہ تعلیم سے منسلک ہر چیز کو حقیقی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ نہ صرف کتابیں پڑھی جائیں بلکہ ہر ممکن حد تک ا س بات کو یقینی بنایا گیا کہ اسباق کو عملی سرگرمی کے ساتھ جوڑا جائے۔ فیکٹریوں اور فارمز کے ساتھ ملحقہ تھیٹر، عجائب گھر اور تفریخی مقامات بنائے گئے۔ ہر سکول میں سینمابنائے گئے تاکہ تعلیم دینے اور سیکھانے کے لیے فلم کا استعمال کیا جائے۔ فیکٹری اور اجتماعی فارمز کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے ذریعے سکول کی زندگی اورمعاشرتی زندگی میں ربط قائم کیاگیا۔ سر برناڈ پیرس روس پر اپنی کتاب ’ایم ایس پینگوئن‘ میں لکھتا ہے کہ سوویت تعلیم کا ایک اہم جزو یہ تھا کہ ہر محنت کش کو ہر کام آنا چاہیے، اسے پوری سمجھ بوجھ ہونی چاہیے۔ وہ صرف ایک کا م تک محدود نہ ہو۔ اس مقصد کے حصول کے لیے کھیل کے دوران بھی اسکو سیکھنا چاہیے۔ سکول کے نصاب میں فطرت، فن، موسیقی، جسمانی اور سماجی سائنس کے متعلق علوم شامل تھے۔ ستمبر 1940ء کے ایک حکم نامے کے مطابق 12 سال کی عمر کے بعد ہر طالبعلم کے لیے ایک غیر ملکی زبان مثلاً انگریزی، جرمن یا فرانسیسی سیکھنا لازمی قرار دیا گیا۔ ایسے سکول جہاں روسی زبان کے علاوہ کسی اورزبان میں تعلیم دی جاتی وہاں روسی زبان بھی سکھائی جاتی۔ عملی مضامین پر زور دینے کے ساتھ ساتھ موسیقی، فن اور ادبی علوم کی تعلیمات کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاتا تھا۔ 1939ء میں ’ڈاکٹر مورلی ڈیوس‘ اپنے سوویت یونین کے دورے کے بارے میں لکھتا ہے کہ میں نے ماسکو کے ایک سکول کی لائبریری میں ہینز اینڈرسن، ڈکنزاور کارونٹس کی کتابوں کے ترجمہ دیکھے۔ اس کے علاوہ روس کے ترقی پسند مصنفین ٹالسٹائی، شیکوؤے، گورکی، شولوکوف وغیرہ کو بھی بڑے پیمانے پر پڑھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ڈیوس ایک سکول کے دورے کا ذکر کرتا ہے کہ پانچویں جماعت کے بچے سروے سے متعلق آلات اور برقی تار کے نمونوں کا استعمال کر رہے تھے۔ وہ کسر کی جمع اور کیوبک سینٹی میٹر کا استعمال کر کے پیمائش کا عملی مظاہرہ کر رہے تھے۔ وہاں رسمی جیو میٹری محض ساتویں جماعت سے شروع ہو جاتی ہے اور ایسا لگتا ہے یہ بھی تاخیر سے شروع ہوتی ہے۔ سکول کے نصاب میں ایک بڑی اور حیران کن بات کسی بھی قسم کی مذہبی تعلیمات کی عدم موجودگی ہے۔ در حقیقت بنیادی تعلیم میں ہی ایک مادی تاثر شامل کر لیا گیا۔

نظم و ضبط
بہت سے تجربات کے بعدسوویت سکولوں نے نظم و ضبط کا ایک نظام مرتب کیا۔ سکول کا پرنسپل اور اساتذہ نظم و ضبط کے ذمہ دار تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ والدین، بچوں اوراساتذہ کے باہمی اشتراک سے سکول کے نظم و نسق کا ایک معیار قائم کیا جاتا تھا۔ 12 سال کی عمر کے طلبہ کمیٹیاں بنا کر کلاس کے نظم و ضبط کی ذمہ داری ادا کرتے تھے۔ سکول کے فارغ اوقات میں سکول کی ملکیت کی دیکھ بھال اور پسماندہ طلبہ کی مدد کے لیے یہ کمیٹیاں اہم امور سر انجام دیتی تھیں۔ جسمانی سزا ایک جرم تصور کیا جاتا تھا۔ بہت گھمبیر صورتحال میں سکول سے نکال دینے کی سزا استعمال ہو سکتی تھی۔

جسمانی تعلیم و تربیت
جسمانی تعلیم کے لیے روزانہ ایک کلاس لی جاتی تھی۔ جبکہ جسمانی اعتبار سے کمزور بچوں کو اس سے استثنا حاصل ہوتا۔ کالجوں سے تربیت یافتہ انسٹرکٹرز کے ذریعے 15 سال تک کے بچوں کو یہ تربیت دی جاتی تھی۔ ہر بالغ ہوتے ہوئے بچے کا طبی معائنہ کیا جاتا۔ جو جسمانی اعتبار سے کمزور ہوتے یا جن کو طاقت کی ضرورت ہوتی ان کو گھر یا کسی صحت افزا مقام پر آرام کے لیے بھیج دیا جاتا۔ سکول کے بچوں کے لیے ضلعی اور قومی سطح پر کھیل کے تہواروں کا سالانہ انعقاد کیا جاتا جن میں وسیع اقسام کے کھیل کھیلے جاتے۔ ہزاروں کی تعداد میں بچے ہر سال دفاعی اور فوجی خدمات کے لیے امتحانات دیتے۔ نشانہ بازی کا کھیل بہت مشہور تھا، بہت سے بچے بہترین نشانہ باز تھے۔ 1940ء میں تعلیم سے متعلق کمیساروں کی طرف سے سکولوں میں جسمانی تعلیم کو مزید بہتر بنانے کے احکامات جاری کیے گئے کہ ہر سکول میں ایتھلیٹکس کا شعبہ لازمی ہونا چاہیے، تاکہ نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل کود کو بھی زیادہ وقت دیا جا سکے۔ 32 ایسے علاقائی مرکز بنائے گئے جہاں سکول کے بچوں کو کھیل کی تربیت دینے والے معاونین تیار کیے جا سکیں۔

سکول کے باہر کے اوقات
سکولوں میں پڑھائی زیادہ ترصبح کے وقت عمر کے حساب سے4 سے 6 گھنٹے کے لیے ہوتی تھی۔ سکول کے بعد ان عمارتوں کو بچوں کے سرکلز کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ان سرکلز کو منظم کرنے میں بچوں کی مدد اور حوصلہ افزائی کی جاتی۔ ان سرکلز میں ادب، ڈرامہ، پینٹنگ، سیاحت، فوٹوگرافی اور دیگر کئی مضامین شامل تھے۔ اس کے علاوہ ہر سکول کا اپنا میوزکل بینڈ اور آرکسٹرا بھی ہوتا تھا۔ ان سرگرمیوں کا مقصد بچوں میں مختلف تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا تھا۔ تعلیم کو ہر لحاظ سے مزید بہتر بنانے کے لیے بچوں کے تھیٹر، کلب، سینما، تکنیکی اسٹیشن اور سب سے بڑھ کر ’Palaces of Poineers‘ کو استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ پیلس تقریباً تمام بڑے قصبوں میں موجود تھے۔ یہ شاندار آلات سے مزین عمارتیں تھیں جن میں انجینئرنگ ورکشاپس، ہوابازی سے متعلق ماڈل جہاز، مشینیں، لائبریریاں، کھیل کی جگہیں اور ورزش گاہیں موجود ہوتی تھیں۔ ماسکو کے ایک پیلس میں ایک چھوٹا اوپن ائیر تھیٹر اور ڈرائیونگ کورس تھا جہاں بچے چھوٹی کاریں چلاتے اور ٹریفک کے قوانین پر عمل کرنے کے بارے میں سیکھتے۔
18 سال سے کم عمر کے تمام بچے ان جگہوں پر رضاکارانہ نظم و ضبط قائم رکھتے۔ سرکلز کے زیادہ تر ممبران اپنی دلچسپی کی سرگرمی کو جاری رکھنے کے لیے سرکلز میں شامل رہتے۔ 90 فیصد بچے جو ان سرکلز کے ممبران تھے ان کو Poineers کہا جاتا تھا لیکن جو ممبر نہیں بھی ہوتے ان پر بھی ان جگہوں پر جانے کی کوئی پابندی نہیں تھی۔ (Poineers 10 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کی ریاستی تنظیم تھی۔ 8 سے 11 سال کی عمر کے بچوں کی تنظیم کا نام Octobrists تھا۔ اور 14 سے 23 سال والوں کی تنظیم Young Communist League تھی)
14 نومبر 1940 کو ’House of Pioneers‘ کی افتتاحی تقریب کے بارے میں کمیونسٹ یوتھ پیپر میں ایک مضمون شائع کیا گیا۔ اس ہاؤس میں ملٹری، مجسمہ سازی، فن، میوزک، کنٹرول بورڈ سمیت ہوائی جہاز کے انجن اور دیگر مشینوں کے لیے کمرے موجود تھے۔ لیکن اسکو گھر کہا گیا کیونکہ یہ پیلس کہلانے کے لیے ابھی ادھورا اور نامکمل تھا۔ پارکوں میں بچوں کی براہ راست تعلیم اور تفریح کے لیے مخصوص شعبے مختص کیے جاتے تھے۔ چھٹیوں میں بڑی تعداد میں بچے سمر کیمپس میں جاتے تھے۔ بچوں کو دی جانے والی یہ تمام مراعات باہر سے آنے والوں کو بہت متوجہ کرتی تھیں۔ سر برناڈ پیرس لکھتا ہے ’’کمیونزم نے اور کچھ کیا یا نہیں لیکن اس نے روس میں بچپن کی نئی تخلیق کی ہے۔‘‘

صنعتی تعلیم
صنعتی تربیتی سکولوں کا ایک نظام جو براہ راست فیکٹریوں سے منسلک تھا بہت سالوں تک سوویت یونین میں کا م کرتا رہا۔ اسکی بہت زیادہ اہمیت اس لیے تھی کہ روس میں انقلاب سے پہلے بہت تھوڑی تعداد میں ہنر مند مزدور موجود تھے۔ ٹرانسپورٹ اور صنعت کی تمام شاخوں کے لیے ہنر مند مزدورں کو مفت تر بیت دی جاتی تھی۔ تربیت کے دوران طلبہ کو حکومت کی طرف سے معاوضہ بھی دیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ تعلیم میں عام علوم، روسی زبان اور ادب بھی پڑھایا جاتا تھا۔
اکتوبر1940ء میں صنعت میں ہنر مند نوجوان مزدوروں کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے فیکٹری تربیت اور تجارتی سکولوں کا آغاز کیا گیا۔ 14 سے 15 سال کی عمر کے نوجوانوں کو ان سکولوں میں داخل کیا گیا۔ فیکٹری سکولوں میں اس تربیت کے علاوہ 6 ماہ کا کورس بھی کروایا جاتا تھا جبکہ تجارتی سکول کا کورس دو سال پر محیط ہوتا تھا۔ صنعتی تربیت عموماً 15 سال کی عمر سے شروع ہوتی لیکن جب دس سالہ سکول کا آغاز ہو ا تو عمر کی یہ حد بڑھا کر 18 سال کر دی گئی۔
اس کے علاوہ بچوں اور بڑوں کو مختلف قسم کے ٹیکنیکل کورس کروانے کے لیے بہت سے ادارے اور تنظیمیں بھی موجود تھیں۔ بعض کمیسار مخصوص کالج اور سکول بھی منظم کرتے تھے۔ تقریباً ہر فیکٹری کا اپنا ایک ٹیکنیکل گروپ اور ٹیکنیکل کورسز ہوتے تھے۔ 1936ء میں تقریباً 5 لاکھ ریل کے مزدور کسی نہ کسی ٹیکنیکل کور س اور سٹڈی سرکل کا حصہ تھے۔ یہ مفت تربیتی سہولیات ہر مزدور کو اس قابل بناتی تھیں کہ وہ اپنے کام میں خلل کے بغیر ضروری تکنیکی علوم حاصل کر سکے۔ ہر صنعت میں یہ نظام کام کر رہا تھا۔ جسکی وجہ سے زیادہ قابل مزدور اس اہل تھے کے وہ مخصوص صنعتی اور تحقیقی اداروں میں بہتر تعلیم حاصل کر سکیں۔ صنعتی اکیڈمیاں 3 سے 5 سالہ کورس کرواتیں۔ ان میں سے جو بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتا اسکو کمیسار بنا کر انتظامی عہدوں پر رکھا جاتا تھا۔ ایک غیر ہنر مند مزدور بھی اگر یہ کور س کرتا تووہ بھی ایک بہترین ہنر مند مزدور بن سکتا تھا۔
ٹیکنیکل تعلیم کے کورس میں نہ صرف پیداوار کی مکمل تنظیم اور ٹیکنالوجی کا عمومی جائزہ بلکہ عام تعلیم کے ساتھ ساتھ پورے ملک کی قومی معاشی منصوبہ بندی پر بھی لیکچر شامل ہوتے تھے۔

اعلیٰ تعلیم
1917ء سے پہلے یونیورسٹی تعلیم نام نہادمہذب اور پیشہ ور طبقے تک محدود تھی۔ 91 یونیورسٹیاں تھیں جن میں 1 لاکھ 12 ہزار طلبہ زیرتعلیم تھے۔ 1940ء میں 700 یونیورسٹیاں تھیں جن میں طلبہ کی تعداد 6 لاکھ 50 ہزار تھی۔ USSR کی زیادہ پسماندہ اقوام میں یہ اضافہ زیادہ تیزی سے ہوا تھا۔ بوسنیا ‘ جہاں پہلے ایک بھی یونیورسٹی نہیں تھی اب وہاں 22 یونیورسٹیاں تھیں، آذربائیجان میں13 اور ازبکستان میں 30۔ ان دونوں ملکوں کا تعلق ایشائی روس سے تھا۔ طالبات کی تعداد کل تعداد کا 47 فیصد ہو چکی تھی۔ سوویت یونین میں چار قسم کی بڑی یونیورسٹیاں تھیں۔
بڑے شہروں میں 30 یونیورسٹیاں تھیں جن میں سے ہر یونیورسٹی میں بے شمار علوم پڑھائے جاتے تھے۔
اعلیٰ تعلیمی ادارے جو کہ یونیورسٹی معیار کی تعلیم ایک ہی قسم کے شعبے میں دیتے تھے۔
سپیشل صنعتی درسگاہیں جو صنعتی مزدوروں کو یونیورسٹی معیار کی نظریاتی تعلیم اور عملی تربیت دیتی تھیں۔
دیگر سپیشل ادارے جو کہ اساتذہ، زرعی ماہرین، وکلا، گلوکاروں، فنکاروں، ادیبوں، اداکاروں، ہدایتکاروں اور فیزیکل ایجوکیشن والوں کو تربیت دیتے تھے۔
یونیورسٹی میں داخلہ قابلیت کی بنیاد پر ملتا تھا۔ قابل طلبہ کو وظائف دیئے جاتے تھے جو کہ تعلیم کے دوران ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہوتے تھے۔ وظائف حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے یونیورسٹی میں تعلیم مفت تھی۔ دیگر بہت سی مفت اور سستی سہولیات کے ذریعے بھی طلبہ کی مالی معاونت کی جاتی تھی۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں طلبہ کو سفر کے دوران ریلوے کے کرایوں میں بھی بہت چھوٹ دی جاتی تھی۔ بہت سے شہروں میں یونیورسٹی ٹاؤن موجود تھے جو تمام طلبہ کی تعلیمی اور ذاتی ضروریات پوری کرتے جہاں لائبریریاں، ریستوران اور مفت لانڈری کی سہولتیں موجود تھیں۔
طلبہ کو شادی کرنے کی ممانعت نہیں تھی۔ بہت سے طلبہ شادی شدہ تھے اور انکے بچے بھی تھے۔ یونیورسٹی میں طلبہ کے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے فیکٹریوں کی طرح نرسریاں موجود تھیں۔ ہر یونیورسٹی کا اپنا طبی عملہ، معالج خانہ اور آرام گھرہوتا۔ یونیورسٹی ہاسٹلوں میں سنگل کواٹر کے ساتھ ساتھ شادی شدہ جوڑے کے لیے بھی کواٹر موجود تھے۔ مختلف قسم کے کلب یونیورسٹی میں ہی بنائے جاتے اور کھیلوں کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔
سوویت یونین میں یونیورسٹی تعلیم کا مقصد بھی All Round اورحقیقی زندگی سے بہت قریبی تھا۔ سپیشل کورسزکے طلبہ کو بھی تاریخ، معاشیات اور سیاسی نظریات پر لیکچر دئیے جاتے۔ آدھے سے بھی کم وقت لیکچر کے لیے مختص ہوتا جبکہ زیادہ وقت بحث ومباحث کے لیے وقف کیاجاتا، جسے نصابی کورس کے متوازی چلایا جاتا تھا۔ عام نصاب پانچ سال تک جاری رہتا، انفرادی مطالعہ اور عملی کام کے لیے زیادہ وقت اور اس پر زیادہ زور بھی دیاجاتا تھا۔ سوویت یونین کے کسی بھی سکول یا کالج میں کسی قسم کی مذہبی تعلیم نہیں دی جاتی تھی اور نہ ہی کسی قسم کی مذہبی عبادت کی جاتی تھیں جیسے کہ سکولوں میں صبح کی دعا ہوتی ہے۔ تمام مضامین مادی اور سائنسی نقطہ نظر سے پڑھائے جاتے تھے۔
سوویت طلبہ کو یونیورسٹی سے فارغ ہونے سے چھ ماہ پہلے ہی اس بات کا یقین ہوتا تھا کہ ان کو ملازمت مل جائے گی۔ پورے ملک کی اقتصادی و معاشی زندگی میں ہونے والے پھیلاؤ کی وجہ سے تربیت یافتہ ٹیکنیکل ماہرین اور اساتذہ کی طلب بہت زیادہ تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ عمومی ثقافتی ضروریات ایسی تھیں کہ فن، ادب اور اداکاری کے طلبہ کے لیے بھی یقینی مواقع موجود ہوتے۔ اس کے علاوہ ریگولر یونیورسٹی تعلیم کے ساتھ ساتھ ہر سال 2 لاکھ سے زیادہ لوگ خط و کتابت کے نظام کے ذریعے اعلیٰ تعلیم سے وابستہ تھے جو کہ یونیورسٹی تعلیم کے مساوی تھی۔ کئی ہزار طلبہ شام کے اوقات میں چلنے والے تعلیمی اداروں میں حصہ لیتے تھے۔ خط وکتابت کے ذریعے تعلیم کے علاوہ تقریباً تمام یونیورسٹیاں پارٹ ٹائم پڑھنے والوں کے لیے بھی کورسز کرواتیں۔

تعلیم بالغاں
سوویت یونین کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ طلبہ کی قوم ہے۔ بالغ آبادی میں سے ناخواندگی کے خاتمے کے لیے نئی نسل کی تعلیم کے ذریعے ایک مہم کا آغاز کیا گیا۔ وسیع پیمانے پر بالغ آبادی کی تعلیم کو فیکٹریوں اور بحث ومباحث، سٹڈی سرکل، وائرلیس، پریس، سینما، تھیٹر اور پوسٹروں کے ذریعے ممکن بنایا گیا۔ جو لوگ باقاعدہ تعلیم کی خواہش رکھتے تھے وہ خط وکتابت کے ذریعے یا شام کے وقت چلنے والے سکولوں میں جا سکتے تھے۔ وہ عمومی ثقافتی مضامین، مشاغل یا اپنے کام سے متعلق دوسرے ٹیکنیکل کورسز کر سکتے تھے۔
کلبوں کی بہت بڑی تعدادتعلیم اور تخلیقی کا م کے مراکزکے طور پر تمام بڑے قصبوں میں موجودتھیں جنہیں ’Palaces of Culture‘ کہا جاتا۔ ان کلبوں میں تھیٹر، سینما، لائبریری، میوزک، سٹڈی اور ورزش وغیرہ کی تمام سہولتیں موجود تھیں۔ اسی طرح کی سہولتوں سے مزین مشہور ثقافتی پارک اور آرام گاہیں تھیں جہاں اوپن ایئر تھیٹراور سٹیج ڈرامے ہوتے تھے۔ سوویت تھیٹر میں اوپرا اور بیلٹ، کلاسیکی روس اور بیرون ممالک کی پینٹنگز اور بہت ہی مشہور جدید فنکاروں کے اعلیٰ فن پارے موجود ہوتے تھے۔ غیر روسی جمہوریائیں جو انقلاب سے پہلے بہت ہی پسماندہ تھیں ان میں ثقافت کی نئی تجدید بہت متاثر کن تھی۔ 1917ء کے انقلاب کے بعد ثقافتی ترقی پر بہت توجہ دی گئی۔ 1913ء میں تھیٹروں کی تعداد 153 تھی جو بڑھ کر 1940ء میں 825 ہو گی۔ اسی طرح اس عرصے میں کلبوں کی تعداد 222 سے بڑھ کر 1 لاکھ تک پہنچ گئی اور لائبریریوں کی تعدا 12 ہزار 6 سو سے بڑھ کر 70 ہزار ہو گئی تھی۔
بالغاں کی تعلیم نے ایک قسم کی اتوار یونیورسٹی کی شکل اختیار کر لی جہاں لوگ فارغ دنوں میں پڑھتے اور لیکچر لیتے تھے۔ اس کے علاوہ والدین کو بچوں کی دیکھ بھال کی بھی تعلیم دی جاتی تھی۔
ثقافتی تعلیم کے لیے سینما ایک بہت مفید ذریعے کے طور پر استعمال ہوتاتھا۔ فلمی صنعت نے 1917ء کے بعد سے بہت ترقی کی۔ سوویت ہدایت کا ر’ آئیسن سٹین ‘دنیا بھر میں مشہورہوئے۔ سفری سینما کے استعمال سے فلم کو سائبیریا کے کھیتوں، جنگلوں اورشمال میں قازقستان جہاں قدیم کسان ابھی تک اپنا کام کتوں اور رینڈیروں کے ذریعے کرتے تھے، تک لے جایاگیا۔ بہت سے سٹوڈیو صرف بچوں اور نوجوانوں کے لیے فلمیں بنانے کی مہارت رکھتے تھے۔
بالغان کی تعلیم کا ایک اور بہت طاقت ور مرکز سرخ فوج تھی۔ ہر صحت مند نوجوان کم از کم دو سال فوج میں اپنی خدمات سر انجام دیتا تھا۔ امن کے ادوار میں ہر فوجی آدھے سے زیادہ وقت پڑھائی میں صرف کرتا تھا۔ ان کو نہ صر ف ملٹری سے متعلق بلکہ فن، میوزک، ڈرامہ، ادب اور سائنس کی تعلیم دی جاتی تھی۔ سرخ فوج ویسی ہی سہولیات مہیا کرتی تھی جیسی کلبوں یا پیلس میں مہیا کی جاتی تھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*