امریکی سامراج اور ’اُمہ‘ کا اتحاد

اداریہ جدوجہد

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں دولت کی بے ہودہ نمائش سے اٹے ایوان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا ’’مسلم امہ‘‘ کے حکمرانوں کو دیا جانے والا خطبہ اُس کے معمول کے انداز سے قدرے دھیما تھا۔ مسلمان ممالک کے یہ خود ساختہ رہنما سعودی حکمرانوں کے سامنے کیسے مسکین بنے بیٹھے تھے، سعودی میزبان کیسے ٹرمپ کے سامنے بچھے چلے جا رہے تھے اور ’’جمہوریت‘‘ و ’’انسانی حقوق‘‘ کی ٹھیکیداری کرنے والے یہ سامراجی کیسے اِس میزبانی پر پھولے نہیں سما رہے تھے۔ ٹرمپ کی جانب سے فرقہ واریت اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے یکجا ہونے کا درس درحقیقت فرقہ واریت میں اضافے اور دہشت گردی کے فروغ کا ہی پیش خیمہ ہے۔ ایران کے ملاں حکمرانوں، شام کے صدر بشارالاسد اور حزب اللہ وغیرہ کو دہشت گرد قرار دئیے جانے سے مسلکوں کی دشمنی اور فرقہ وارانہ خونریزی مزید بھڑکے گی۔ جس تقریر میں یکجہتی کی بات کی جارہی تھی وہ مزید انتشار اور تضادات کا ہی پیغام دے رہی تھی۔ اس اجلاس میں بیٹھے بادشاہوں، آمروں اور سرمائے کے پروردہ جمہوری حکمرانوں کی خود اِسی امریکی سامراج کی چھتری تلے بنیاد پرستی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کو ابھارنے اور اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنے کی پوری تاریخ ہے۔ اس دورے اور تقریر سے دہشت گردی نے مزید تقویت پکڑی اور دوسرے ہی دن ٹرمپ کومانچسٹر میں اپنا جواب دے دیا۔ اس مذہبی جنون کے پھیلاؤ میں وہی خلیجی بادشاہتیں ملوث ہیں جنہوں نے اس کانفرنس میں سرکردہ کردار ادا کیا۔ سعودی بادشاہت نے اپنی تحلیل ہوتی ہوئی دولت کی پرواہ کیے بغیر ہی ’’مسلم‘‘ سربراہان مملکت کو ایسے ہی بلوایا جیسے کرائے پر پاکستان کے سیٹھ سیاسی جلسوں میں ’’عوام‘‘ کو منگواتے ہیں اور چینلوں پر مزید مال لگا کر یہ جلسے بڑے کرکے دکھلاتے ہیں۔ لیکن یہاں ’اُمہ‘ کے قائدین اُمہ کی یکجہتی پیدا کرنے نہیں بلکہ اسی اُمہ کے کچھ ممالک کے حکمرانوں کے خلاف اکٹھے ہوئے تھے۔ ویسے اگر ’’ایک اُمہ‘‘ ہے تو پھر یہ سرحدوں، ویزوں اور ریاستوں کی کیا ضرورت ہے؟ اسی اُمہ کے پاکستانی اور دوسرے غریب ممالک کے مسلمان مزدوروں کے ساتھ یہ عرب حکمران قدیم زمانے کے غلاموں سے بھی بدترین سلوک کرتے ہیں اور پھر امت کے نام پر یکجہتی کے بے ہودہ ناٹک بھی رچاتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ تو ویسے بھی ایک پیشہ ور جواری، سٹے باز اور بیوپاری ہے۔ کیسی ہاتھ کی سفائی دکھائی کہ امن و آشتی کا سبق دیتے دیتے 350 ارب ڈالر کا اسلحہ بیچ گیا، وہ بھی آسمان چھوتی قیمتوں پر۔ اِس سودے سے امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے مالکان خوب مال بنائیں گے۔ اسلحہ بیچنے کا مقصد ہی جنگ اور تنازعات کو تقویت دینا ہوتا ہے تاکہ یہ کاروبار آگے بڑھ سکے۔ جتنی بربادی بڑھے گی اُتنا اسلحہ بکے گا اور جتنا اسلحہ بکے گا اُتنی بربادی ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنے گاہکوں کے دشمنوں کو للکار کر اپنے اسلحے کے دام بڑھا دیئے۔ یہ بھی ’’مارکیٹنگ‘‘ کا ایک طریقہ واردات ہے۔ لیکن جہاں امریکی معیشت اور فوجی طاقت روبہ زوال ہے اور بحرانوں اور شکستوں سے دوچار ہے وہاں سعودی عرب سمیت اِن تمام ممالک کا سرمایہ دارانہ نظام معاشروں میں خلفشار اور اقتصادی بحران حکمرانوں کے اقتدار لرزا رہا ہے۔ ایسے میں یہ اعلامیے، وعدے اور بڑھکیں اِن دراڑوں کو بھرنے کی نامراد واردات ہیں۔ اِس موقع پر اگر کسی دہشت گرد ریاست کی مذمت نہیں کی گئی تو وہ اسرائیل کی صیہونی ریاست ہے، جس کے ساتھ سعودی عرب اور دوسرے حکمرانوں نے پس پردہ معاونت کی حامی بھری ہے۔ ٹرمپ نے ریاض سے سیدھا یروشلم جانا تھا، بھلا اسرائیل کے بدترین مظالم اور فلسطینیوں پر جاری ریاستی دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانے کی کسی مسلم لیڈر کی جرات بھی کیسے ہوسکتی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ کا ایسے استقبال کیا گیا جیسے ماضی میں برطانوی شاہی خاندان کے دورہ برصغیر میں کیا جاتا تھا۔ سارا ہندوستان ہلا دیا جاتا تھا۔ لیکن اس استقبال سے نہ تو امریکی سامراج کی تنزلی رک سکے گی اور نہ ہی سعودی حکمرانوں کی اپنی حاکمیت کو لاحق خطرے کا دھڑکا ختم ہوسکے گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس نظام زر میں بحران کی یہ سفارتکاری بھی ایسے انتشار پیدا کر رہی ہے کہ وفاداریاں بدل رہی ہیں، الحاق مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں، لیکن خلفشار بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ آج اس کا شکار عام محنت کش عوام ہورہے ہیں۔ دہشت گردی سے لے کر سامراجی جارحیت تک، غریب ہی مر رہے ہیں، کچلے جا رہے ہیں، دربدر اور برباد ہو رہے ہیں۔ لیکن اپنی دولت کی بے ہودہ نمائش کرنے والے اِن بدقماش حکمرانوں کو بھی بغاوت کے انتقام کا سامنا کرنا ہوگا۔ یہ انتقام صرف ایسے ہی انقلاب کے ذریعے ممکن ہے جسے مذہب، رنگ، نسل، قوم اور ماضی کی دوسری تفریقوں کو ترک کرتے ہوئے ایک طبقاتی یکجہتی میں منظم ہو کر اِن حکمرانوں کے نظام کے خلاف برپا کیا جائے۔ محنت کشوں کا اپنے طبقے کے سواکوئی اتحادی، کوئی غمگسار نہیں ہے!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*