بربریت!

اداریہ جدوجہد:-

انسان کتنا ہی بے بس ہو، معاشرہ کتنا ہی بے حس ہوجائے لیکن رگ جان میں ایسے خلیے ضرور ہوتے ہیں جنہیں کوئی واقعہ سلگا دیتا ہے۔ ابتدا میں یہ کیفیت کرب اور اذیت کو جنم دیتی ہے لیکن پھر روح کے زخم بھی جاگ کر غصے کو جنم دیتے ہیں، ظلم و بربریت کے خلاف انتقام کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔ افراد میں بکھرا ہوا دکھ جب شریانوں میں دوڑ کر ظلم سے انتقام کی اجتماعی تڑپ کو بیدار کرتا ہے تو بکھری ہوئی گھائل بغاوت مجتمع اور بیدار ہو جاتی ہے۔
ہر ماں اور باپ آج اپنے بچوں کو خوفزہ نظرسے دیکھ رہے ہیں، جیسے انہیں کھو دینے کا اندیشہ ہو۔ بچوں کے ذہن میں سکول کا تناظر بدل رہا ہے۔ دہشت کا خوف، زندگی کی ذلت، مذہبی جنون اور لبرل بیہودگی کا تسلط جس سماجی بیگانگی کو جنم دے رہا ہے اس سے اجتماعی نفسیات فی الوقت مفلوج ہے۔ پشاور میں مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں بچوں کے قتل عام کے بعد انسانیت غم سے نڈھال ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ فیض صاحب نے اپنے یہ اشعار انہی بچوں کے نام کئے تھے:

پڑھنے والوں کے نام
جو اصحاب طبل وعلم
کے دروں پر کتاب اور قلم

کا تقاضا لیے، ہاتھ پھیلائے
پہنچے مگر لوٹ کر گھر نہ آئے

وہ معصوم جو بھولپن میں
وہاں اپنے ننھے چراغوں میں لو کی لگن لے کر پہنچے

جہاں بٹ رہے تھے گھٹا ٹوپ، بے انت راتوں کے سائے !

بھوک، ننگ، افلاس اور محرومی کے عذاب در عذاب میں گھرے محنت کش عوام کے روح اور احساس پہلے ہی سلگ رہے ہوتے ہیں۔ ایسے المناک واقعات کے بعد رائج الوقت حاکمیت کے خلاف نفرت کی چنگاری، بغاوت کے شعلوں کو بھڑکا سکتی ہے۔ حکمران درحقیقت اسی بغاوت سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ چنانچہ حکمران طبقہ اپنی ریاست، سیاست اور صحافت کے ذریعے اس واقعے کو عوام میں بددلی پھیلاکر انہیں مایوسی کی دلدل میں مزید غرق کردینے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ تین روزہ ’’یوم سوگ‘‘ بھی اسی چکر میں منایا جارہا ہے۔
سب پارٹیوں نے اور ریاستی اداروں کے سربراہان نے حسب روایت ’’مذمت‘‘ کی ہے۔ نریندرا مودی کی وجہ شہرت ہی وحشت ہے۔ جس شخص کی سیاسی طاقت ہی ہندو بنیاد پرستی کی بربریت ہو، دہشت گردی پر اس کا ’’اظہار افسوس‘‘ بڑا عجیب سا لگتا ہے۔ لاطینی امریکہ سے لے کر فلسطین، عراق اور افغانستان تک اپنے ہاتھ لاکھوں انسانوں کے لہو سے رنگنے والے ڈیوڈ کیمرون اور جان کیری جیسے افراد کی مذمتیں بھی طنز معلوم ہوتی ہیں۔ یہ اسی سامراج کے نمائندے ہیں جس نے اسلامی بنیاد پرستی کی اس بربریت کو جنم دیا تھا۔ جماعت اسلامی، جس کی تاریخ ہی محنت کشوں اور کمیونسٹوں کے قتل عام سے عبارت ہے اور جو جہادی گروہوں کے سیاسی فرنٹ کے طور پر آج بھی سرگرم ہے، اس کے ملا بھی منافقت اور تضحیک کے ٹسوے بہا رہے ہیں۔ ۔ ’’جہاد‘‘ اور ’’قتال‘‘ کا درس دینے والے ان ملاؤں کی مذمت، زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
ایسے ’’سرکاری ملا‘‘ بھی ہیں جو اس واقعے کو رجعت کے مزید ابھار کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ عوامی غم و غصے کے پیش نظر ان ملاؤں نے اسلام کے نام ہونے والی اس درندگی کو غیر اسلامی قرار دینا شروع کر دیا ہے۔ افغان ڈالر جہاد میں امریکہ نے ملاؤں کی جو کھیپ پیدا کی تھی وہ خود بری الذمہ ہونے کے لئے امریکہ پر الزام تراشی کر رہی ہے۔ 16 دسمبر کی شام چونکہ دارالحکومت اسلام آباد کے دل میں واقع جامعہ حفصہ اور لال مسجد میں جشن منایا جارہا ہو گا لہٰذا مصروفیت کے پیش نظر برقعہ پوش مولوی ایک چینل پر ہی نمودار ہوا اور پشاور کی بربریت کی مذمت کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ ہندوستان کی طرف بھی انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں کیونکہ ’’قوم‘‘ اور مذہب کی دشمنی کا یہ تعصب نہ ہوتو ریاستی سرپرستی پر منحصر ان کا بچا کھچا سیاسی وجود بھی ختم ہو جائے۔
’’اچھے‘‘ اور ’’برے‘‘ طالبان کی بحث کو ریاستی دانشور دانستہ طور پر پھر سے ابھار رہے ہیں۔ مسلمانوں اور طالبان میں تفریق کی جعل سازی بھی کی جارہی ہے۔ ’’معتدل اسلام‘‘ اور انتہا پسندوں کے اسلام میں مصنوعی لکیر کھینچنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔ یہاں بڑے بڑے ’’معتدل‘‘ بوقت ضرورت جنونی ہوجاتے ہیں اور جماعت الدعوۃ کی طرح ’’انتہا پسندانہ اعتدال‘‘ کے ذریعے بھی کاروبار چلائے جاتے ہیں۔ تبلیغی جماعت بھی بڑی متعدل ہے جس کے سالانہ اجتماع میں جرنیلوں، ججوں، بیوروکریٹوں اور ارب پتی سرمایہ داروں سے لے کر ریاض بسرا جیسے خونخوار دہشت گرد بھی بکثرت ملتے ہیں۔ اس ’’معتدل جماعت‘‘ کی اصلیت ٹالبوٹ کی نئی کتاب ’’پاکستان کی نئی تاریخ‘‘ میں بے نقاب کی گئی ہے کہ میڈرڈ اور لندن کی ٹرینوں میں ہونے والی دہشت گردی میں کوئی اور نہیں بلکہ تبلیغی جماعت کے افراد براہ راست طور پر ملوث تھے۔
مذمت سے لے کر ہنگامی اجلاسوں میں ’’عزم ‘‘کے اظہار تک،یہ حکمران ہر وہ کام کریں گے جس سے مذہبی جنون اور دہشت گردی کے منافع بخش کاروبار پر کوئی ضرب نہ لگے۔ سرعام دندنانے والی کسی ’’کالعدم‘‘ تنظیم پر ہاتھ ڈالا جائے گا نہ کوئی مدرسہ بند ہو گا۔ پاکستان کی سرمایہ داری اتنی گل سڑ چکی ہے کہ کالے دھن کے سہارے کے بغیر ڈھیر ہوجائے گی۔ اس کالے دھن کو تحفظ دینے کے لئے یہاں کے حکمران مذہب کا استعمال دہائیوں سے کرتے آرہے ہیں۔ کسی عقیدے کو سیاسی و اسٹریٹجک مقاصد کے لئے استعمال کرنے والوں کے دامن بعض اوقات اپنی ہی بھڑکائی ہوئی آگ سے جل جاتے ہیں۔ امریکی سامراج کے بعد پاکستانی ریاست کو اس حقیقت کا ادراک بڑے تلخ تجربات کروا رہے ہیں۔
لیکن بنیاد پرستی صرف مدرسوں اور مذہبی تنظیموں تک محدود نہیں ہے بلکہ ریاستی مشینری کے اندر تک سرایت کئے ہوئے ہے۔ ضیاالحق کی یہ زہریلی پالیسی ہر ’’جمہوری‘‘ حکمران نے جاری رکھی ہے۔ اسلامی بنیاد پرستی کو سیاسی حکمرانوں نے بھی استعمال کیا ہے اور سرمایہ داروں نے بھی۔ آج کل ملک ریاض اربوں روپے کی مساجد بناتا پھر رہا ہے اور مذہبی جنونی تنظیمیں ریاستی سرپرستی میں ’’خیراتی کام‘‘ کر رہی ہیں۔ عدلیہ کا دہشت گردوں کو سزا نہ دینا یا انتظامیہ کا ان پر ہاتھ نہ ڈالنا کوئی حیران کن امر نہیں ہے۔ یہ اس رجعت کا ہی اظہار ہے جسے حکمران طبقہ اپنے بوسیدہ نظام کے تسلط کے لئے بے دریغ استعمال کرتا آیا ہے۔
نیک نامی کے لئے مساجد بنوانے اور خیرات کرنے والے ’’سخی‘‘ اسلامی بنیاد پرستوں پر بھی بھاری سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ جب تک منشیات، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، ڈاکہ زنی جیسے جرائم کے کالے دھن کی بے پناہ سپلائی اس دہشت گردی کو حاصل ہے، یہ کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔یہ منافع بخش کاروبار ہے۔ فاٹا جیسے پسماندہ قبائلی سماجوں میں پاکستان کی بوسیدہ اور مافیا سرمایہ داری کی مداخلت نے سماجی ارتقا کی ناہمواری کو بھڑکا کر اس بربریت کو جنم دیا ہے جس کے وار پورے معاشرے کو گھائل کر رہے ہیں۔ یہ جدیدیت قبائلی سماج کے ڈھانچوں کو توڑنے کی بجائے انہیں مسخ کرکے خوانخوار بنانے کا موجب بنی ہے۔
مذہبی فسطائیت اور دہشت گردی آخری تجزئیے میں سرمایہ دارانہ نظام کے بھیانک بحران کا نچڑا ہوا عرق ہے۔ اس حقیقت کو چھپانا ہی کارپوریٹ میڈیا اور حکمران طبقے کے دانشوروں کا کاروبار ہے۔ اس نظام میں دہشت گردی اور بڑھے گی، رکے گی نہیں۔سیکیورٹی کمپنیاں خوب مال بنا رہی ہیں لیکن کس کس سکول میں کہاں کہاں سیکیورٹی دی جاسکتی ہے؟جس ریاست کے خمیر میں وحشت کے جراثیم ہوں وہ اس ناسور کو کیسے ختم کر سکتی ہے؟
فریڈرک اینگلز نے سو سال پہلے لکھ دیا تھا کہ ’’ایک صدی بعد نسل انسان کے سامنے دو ہی راستے ہوں گے۔ بربریت یا سوشلزم!‘‘بربریت کا ننگا ناچ جاری ہے۔ سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد، نسل انسان اور تہذیب کے بقا کی فیصلہ کن جنگ بن چکی ہے!

Comments are closed.