اداریہ جدوجہد: نیٹو سپلائی

حکمران طبقات صرف ریاستی طاقت کے زور پر حکمرانی نہیں کرسکتے۔ بلکہ ریاستی تشدد ان کا آخری حربہ ہوتا ہے کیونکہ محنت کش جب ریاست کو شکست دے دیتے ہیں تو پھر انقلاب کو روکا نہیں جاسکتا۔ معمول کے حالات میں درمیانے طبقے کے مختلف اداروں اور سماجی شعبوں کے ماہرین فن‘ کھیل‘ اخلاقیات‘ مذہبی فرقہ بازی‘قومی شاونزم‘نسلی تضادات اور دوسرے فرسودہ تعصبات کو سماجی نفسیات پرمسلط کرکے عوامی شعور کو بیداری سے روکنے اور طبقاتی یکجہتی کو توڑنے کے کام میں ملوث رہتے ہیں۔ ان تمام رجحانات کو منظم اور مسلط کرنے کا کردار ذرائع ابلاغ اور بورژوا میڈیا ادا کرتا ہے۔ حکمرانوں کے ان ماہرین کے طریقہ واردات میں سب سے اہم اوزار جعلی تضادات‘ نان ایشوز اور حکمرانوں کے باہمی تصادموں میں محنت کش طبقے کو نفسیاتی طور پر ملوث کرنا ہوتا ہے ۔آج ان کا یہی عمل ہمیں پاک امریکہ تعلقات اور نیٹو کی سپلائی کی بحالی کے گرد ابھاری جانے والی بحث میں نظر آتا ہے ۔ ایک طرف حکمرانوں کا ایک لبرل حصہ ہے جس میں بہت ساسابقہ بایاں بازو بھی پایا جاتا ہے جو ابھی مرحلہ وار انقلاب کے نظریے سے دستبردار ہو کر سرمایہ دارانہ جمہوریت کو حتمی مقصد اور منزل قرار دے چکا ہے۔ اس نظریاتی زوال پذیری میں وہ سامراجی پیروکار بن کر سرمایہ دارانہ نظام کو ’’تاریخ کے اختتام‘‘ کے فرسودہ نظریے کے تحت نسل انسان کا آخری مقدر بتا رہے ہیں۔ یہ لابی نیٹو کی سپلائی کی بحالی اور اس کو کاروبار بنا کر امداد میں اضافے کا پرچار کررہی ہے۔ دوسری جانب مذہبی بنیاد پرست ہیں جن کو امریکہ نے ہی پروان چڑھایا اور پھر وہ مالی مفادات کے ٹکراؤ سے عارضی طور پر ایک تصادم کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ دفاعِ پاکستا ن کونسل جو اس ملک کے تما م رجعتی اور قدامت پرست عناصر پر مبنی ہے وہ نیٹو سپلائی کی بحالی کے خلاف تحریک چلا رہی ہے۔ یہاں تک کہ بزور طاقت وہ اس کو روکنے کی بات بھی کررہے ہیں ۔ لیکن حکمرانوں کے معاشی اور ثقافتی بحران کی شدت نے ان کی اخلاقی اقدار کو اس حد تک گرا دیاہے کہ وہ منافقت کی اتھاہ گہرائیوں میں غرق ہوچکے ہیں۔ ایک طرف اس کونسل میں شامل جماعت اسلامی امریکہ کے خلاف واویلا کررہی ہے تو دوسری جانب اسکی پروردہ افغان دہشت گرد تنظیم حزب اسلامی کے جنگجو افغانستان میں نیٹو افواج کے کیمپوں میں رہ رہے ہیں اور امریکی فوجیوں کے ساتھ مل کر دوسرے جہادی گروپوں کے خلاف آپریشنز میں حصہ لے رہے ہیں۔
موجودہ ’لبرل‘ مخلوط حکومت اپنی بدعنوانی اورسرمایہ دارانہ نظام کے بحران کی وجہ سے اتنی کمزور اور خصی پن کا شکارہے کہ وہ ان ملاؤں کے خوف سے سپلائی چوری چھپے کھولنے کا کوئی ذریعہ تلاش کررہے ہیں۔ جبکہ ملاں اتنے کمزور ہیں کہ ان کو پتہ ہے کہ مذہبی دہشت گردی نے انکی رہی سہی ساکھ بھی ختم کردی ہے ۔ سماجی حمایت کے نہ ہونے کے باوجود ان کا سماج پرظاہری غلبہ دراصل پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت کے اس بحران زدہ نظام کو اپنانے اورسوشلسٹ پروگرام سے انحراف کرنے کی وجہ سے ہے۔
دوسری جانب امریکی سامراج اور دوسرے نیٹو ممالک سرمایہ دارانہ نظام کے تاریخ کے سب سے بڑے کریش کی وجہ سے افغانستان میں جنگ جاری نہیں رکھ سکتے اور یہاں سے فرار کا کوئی راستہ تلاش کررہے ہیں۔ سامراج کی معاشی بدحالی ان کے انتظامی اور فوجی بحران اورامریکی ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان تضادات کے تصادم میں تبدیل ہونے کے عمل سے ظاہر ہورہی ہے۔ سامراج کی اس کمزوری کو جانچتے ہوئے پاکستانی فوج کی اشرافیہ چینی حکمرانوں کی شہ پر بھرپور فائدہ اٹھانے اور سامراجی انخلا کے بعد افغانستان پر اپنا تسلط اور استحصال قائم کرنے کے چکر میں ہے۔ لیکن حکمرانوں کے مختلف دھڑوں کی لڑائیوں میں برباد عام لوگ ہورہے ہیں ۔ ڈرون حملوں سے لے کر مہنگائی اور غربت کے ہاتھوں اموات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ جوں جوں بحران شدت پکڑے گا یہ آگ اور خون کا کھلواڑ بھی بڑے گا۔ موجودہ نظام میں مزید بربادی کے علاوہ کوئی دوسرا تناظر نہیں ہے۔ ان جنگوں کو ختم کرنے کے لیے حکمرانوں کے تمام دھڑوں کو شکست دینے کے لیے سوائے طبقاتی جنگ لڑنے اور جیتنے کے انسانی بقا اور نجات کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ محنت کش عوام ان جنگوں اورمعیشتوں کی تباہ کاریوں سے بہت اذیت میں ہیں۔ لیکن اس غم اور تکلیف کو ایک غصے اور مزاحمت میں بدلنا ہوگا۔ انقلابات نے ہمیشہ بڑے بڑے رائج الوقت مفکروں اور تجزیہ کاروں کو حیران وپریشان کیا ہے۔ وہ وقت شاید زیادہ دور نہیں جب یہ ایک مرتبہ پھر انقلابی سوشلزم کی فتح کی صورت میں ہونے والا ہے۔

One Comment

  1. Pingback: شمارہ نمبر 6: یکم تا 15 جون 2012ء

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*