فاٹا کا مقدر

اداریہ جدوجہد

پچھلے کئی سالوں سے جاری ڈرون حملوں اور فوجی آپریشنوں کے ’’Collateral Damage‘‘ ( عام انسانوں کی اموات) سے فاٹا کے پسماندہ اور سنگلاخ علاقوں میں جو بربادی ہوپئی ہے اس سے پوری کی پوری آبادیاں بے گھر، مجروح اور گھائل ہوئی ہیں۔ ان تباہ کاریوں بعد اب جاتی ہوئی اسمبلی نے اچانک اپنی آخری سانسوں میں فاٹا کے پشتونخواہ سے انضمام کا بل ایک طویل تنازعے کے باوجود دھونس سے پاس کر دیا ہے۔ اس پر حکومت، اپوزیشن اور میڈیا سبھی قومی یکجہتی کی کامرانی کا واویلا ایسے کر رہے ہیں جیسے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو اور فاٹا کا وہ پیچیدہ اور سنگین مسئلہ حل ہو گیا ہو جو تقریباً دو سو سال کے نوآبادیاتی ڈھانچے کے جبر سے اب سلگنے لگا تھا۔ مولوی فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کی پارٹیوں کی طرف سے ا س ادغام کی مخالفت بھی یقیناًسیاسی اور مالیاتی مفادات کی غماز ہے۔ لیکن کم از کم سب اچھا بھی نہیں ہے۔ آپریشن کرنے والے کر گئے۔ بہت سے علاقوں میں ان کاروائیوں سے دہشت گردی کا خاتمہ تو نہیں ہوسکا لیکن یہ ضرور ہے کہ جہاں بھی فضائی بمباری اور آگ و بارود سے تباہی مچائی گئی وہاں مقامی آبادیوں کو اجاڑ کے رکھ دیا گیا۔ اس نظام میں ان کی بحالی صرف کنٹرولڈ میڈیا اور سیاسی بیانات تک ہی ہوسکے گی۔ سرکاری پریس ریلیزوں کی یقین دہانیاں بھی تعمیر نو کا صرف ایک سراب ہی ہیں۔ یہاں کی پسماندگی اور سنگلاخ ویرانوں میں موجود خطرات تک اس کاسہ لیس صحافت کی پہنچ تک نہیں ہے۔ فاٹا کی اس غربت، ذلت، ناخواندگی اور صحت و علاج کی عدم دستیابی ( جو پاکستان میں سب سے اذیت ناک ہے) میں آپریشنوں کی بربادیاں یہاں کے عام انسانوں کے زخموں کو مزید کریدنے کا باعث ہی بنی ہیں۔ اب سرکار کا موقف یہ ہے کہ اس ادغام سے کسی جادوئی انداز سے سارے مسائل کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اس سیاست میں فاٹا کو علیحدہ یونٹ بنانے یا ادغام وغیرہ پر ریفرنڈم کروانے کے باقی حل بھی محض انتظامی نوعیت کے ہیں۔ یہاں کے قدیم سماجی ڈھانچوں اور معاشی پسماندگی کے اوپر قوانین کے سطحی تبدیلی سے ایسے سنگین مسائل حل نہیں ہونے والے۔ اتنے گہرے گھاؤ اتنی آسانی سے نہیں بھرتے! جب کوئی نظام اپنے تاریخی زوال میں داخل ہوجائے تو حکمران جو بھی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں وہ مسائل کو حل کرنے کی بجائے ان کو مزید پیچیدہ ہی بنا دیتے ہیں اور فاٹا جیسے خطوں میں تو یہ زیادہ دھماکہ خیزبن جاتے ہیں۔
سرمایہ داری جس سماج پر بھی حاوی ہوتی ہے رفتہ رفتہ اس کے دور دراز خطوں اور معاشروں میں بھی سرایت کر جاتی ہے۔ پاکستان جیسی پسماندہ، تاخیر زدہ اور مسخ شدہ سرمایہ داری جہاں اِس پورے خطے کو یکساں، صحت مند اور دور رس ترقی اور استحکام دینے سے قاصر رہی ہے وہاں جب اس نے وسیع کالے دھن کے ساتھ فاٹا جیسے قبائلی یا نیم قبائلی علاقوں میں سرایت کی ہے تو یہاں کی پسماندگی کو مٹانے کی بجائے اس کو مزید خونخوار اور اذیت ناک بنا دیا ہے۔ یوں تو پورے برصغیر میں سرمایہ داری کا طرز ارتقا بہت ناہموار اور متضاد کردار کا حامل تھا لیکن فاٹا جیسے علاقوں میں یہ کیفیت اپنی انتہائی شکلوں میں ملتی ہے۔ بنیادی صنعت کاری کا نام و نشان نہیں ہے۔ پینے کا صاف پانی تک مہیا نہیں ہے۔ البتہ جدید سمارٹ فون ہر ہاتھ میں نظر آتے ہیں۔ یہاں کی وسیع ناخواندگی کی انتہاؤں سے آنے والے بہت سے لوگ اپنے ’کوٹوں‘ کے ذریعے یونیورسٹیوں کی بڑی بڑی ڈگریوں کیساتھ اعلیٰ عہدوں اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں بلند مرتبت حاصل کر گئے۔ لیکن اسی طرح بہت سے عام نوجوان اور ان کے خاندان جب یہاں کی تباہ کاریوں سے تنگ آکر بڑے شہروں کی طرف ہجرت پر مجبور ہوئے تو جہاں ان کے شعور میں قدیم قبائلی روایات موجود تھیں وہاں جدید تعلیم اور طرزِ زندگی کے اثرات سے غم و غصے کی جو نفسیات ابھری وہ ایک بغاوت کی شکل میں پھٹ پڑی ۔ جو ہمیں ’پی ٹی ایم‘ کی تحریک کی صورت میں نظر آتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ا س پسماندہ ترین خطے سے ابھرنے والی تحریک نے پورے پاکستان کے میٹروپولیٹن شہروں تک کو جھنجوڑ کے رکھ دیا ہے۔ عام لوگوں کی ایسی قوت اور جرات یہاں پچھلی کئی دہائیوں سے نہیں دیکھی گئی جس نے مقتدر حلقوں میں شدید اضطراب اور خوف بھی پیدا کیا۔ قومی اسمبلی میں ڈیپ سٹیٹ کی پشت پناہی سے منظور ہونے والی انضمام کی قرار داد اسی خوف کی غمازی کرتی ہے۔ لیکن جب تک نظام نہ بدلا جائے تب تک ادغام یا علیحدگی یا نئے صوبوں کے قیام سے اس نظام کے پیدا کردہ مسائل حل نہیں ہوتے۔ فاٹا کے سیاسی، ثقافتی، معاشی اور سماجی حقوق کے حصول کی لڑائی کا آغاز بہرحال ہو چکا ہے۔ اس عزم اور حوصلہ مندی کی فضا نے نہ صرف پشتونوں بلکہ پورے ملک کے ہراول نوجوانوں کو ایک نئی رجائیت اور حوصلے سے سرشار کیا ہے۔ لیکن فاٹا کے نوجوانوں نے جس سرکشی کا علم بلند کیا ہے اس کو باقی خطوں کے نوجوانوں اور محنت کشوں کی جدوجہد سے جوڑنے کی اشد ضرورت ہے۔ مروجہ سیاست، صحافت اور ریاست والے اس تحریک کو توڑنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں، خریدنے کے لئے بھی سرگرم ہیں اور تھکا کر زائل کرنے کی واردات بھی کر رہے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ موقع پرستی اور مصالحت سے چند افراد کو مراعات تو مل جاتی ہیں لیکن وسیع تر عوام کی حالت بد سے بدتر ہوجاتی ہے۔ وہی انسان بِک اور جھک نہیں سکتا جس کی زندگی کا مقصد کسی نجی مفاد کی بجائے اجتماعی اور اشتراکی نجات ہو۔ انقلابی سوشلزم کے اس نصب العین میں متحرک ہونا بہت بڑی خوش نصیبی ہوتی ہے۔ ان محرومیوں اور بربادیوں سے فاٹا کے مظلوم لوگوں کی نجات کا مقدر پورے جنوب ایشیا اوردنیا بھر کے محنت کشوں اورمظلوموں کی نجات سے جڑا ہوا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*