اداریہ جدوجہد: جبرِمسلسل

آج سے35سال قبل اس ملک کی تاریخ کا بدترین شب خون مارا گیا تھا۔4اور5جولائی 1977ء کی درمیانی رات کی تاریکی میں چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا ایک فوجی بغاوت کے ذریعے تختہ الٹ کر ایک وحشت ناک مارشل لا مسلط کردیا گیا تھا۔ ردانقلابی وار جنرل ضیاء الحق کی سربراہی میں کیا گیا تھا۔ اس رجعتی آمریت کو مسلط کرنے کے لیے اسلام کا سہارا لیا گیا اور معاشرے کی پسماندہ پرتوں کی حمایت اور ریاستی جبر کے ذریعے سرمایہ داری کے تحفظ اور سامراجی مفادات کی حفاظت کے لیے پورے خطے میں جبر اور ظلم کا ایک وحشت ناک کھلواڑ شروع کیا گیا تھا۔
گیار ہ سال تک ا س ریاستی درندگی نے مذہبی جنونیت کے نظریات پر اس معاشرے کو ایک اذیت ناک تشدد کا شکار کیا۔1978ء میں کالونی ٹیکسٹائل ملز ملتان کے مزدوروں سے لے کر 1983ء کی سندھ میں ابھرنے والی عظیم بغاوت کو فوجی سنگینوں اور بارود کے ذریعے خون میں ڈبو دیا گیا۔ سینکڑوں کو پھانسیوں پر لٹکا دیا گیا ‘ہزاروں کو سرعام کوڑے مارے گئے۔ بے شمار نوجوانوں اور محنت کشوں کو اس ملک کے ہر خطے میں بدنام زمانہ اذیت گاہوں میں جسمانی اور ذہنی تشدد کے ذریعے مفلوج کیا گیا۔ امریکی سامراج کی ایما پر اسلامی بنیاد پرستی کو نہ صرف فروغ دیا گیا بلکہ ریاستی پشت پناہی سے ان کو منظم اور متحرک کرکے ان مذہبی غنڈوں کے ذریعے لوگوں کی نجی زندگیوں میں مداخلت سے لے کر مزاحمت کرنے والوں کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال کیا گیا۔ افغانستان میں ایک ردانقلابی ڈالر جہاد شروع کیا گیا۔منشیات کے کاروبار سے نہ صرف اس جہاد کو فنانس کیا گیا بلکہ اس ملک میں شعوری طور پر نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو بغاوت سے باز رکھنے کے لئے منشیات کا عادی بنا دیا گیا۔ مدرسوں کے جال بچھا کر ایک پوری نسل کو وحشت اور جنون کی نفسیات میں ڈبوکر ردانقلاب کے لیے تیار کیا گیا۔ اس معاشرے کی اقدار کومسل دیا گیا۔ منافقت‘جھوٹ‘ فریب‘دھوکہ دہی‘ خودغرضی‘ حرص‘ لالچ اورتشدد سماجی معمول بنانے کی کوشش کی گئی۔امریکی سامراج کی حمایت سے مسلط ہونے والی اس مذہبی آمریت نے اس سماج کی ہر خوشی چھین لی۔ حکمران سرمایہ داروں نے دولت کا بے پناہ اجتماع کیا۔ جبکہ محنت کش استحصال کی چکی میں پستے رہے۔ لیکن اس تمام تر جبرکے باوجود یہاں کے محنت کشوں اور نوجوانوں نے ایک عظیم جدوجہد اور قربانیوں کی لازوال مثال رقم کی۔ 1971ء میں قائم ہونے والی پیپلز پارٹی حکومت نے جہاں اس ملکی کی تاریخ میں محنت کش طبقات کے لئے سب سے ریڈیکل اصلاحات کیں وہاں اس پارٹی کے بالشویک پارٹی نہ ہونے سے سرمایہ داری کا خاتمہ نہ ہوسکااور ریاست کو گرا کرایک مزدور جمہوریت پر مبنی ریاست استوار نہیں ہو سکی۔ یہ وہ سب سے اہم عنصر تھا جو پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت کی تنزلی اور اس درندہ صفت آمریت کے تسلط کی راہ ہموار کرنے کا باعث بنا۔ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل کی تاریک رات میں پھانسی کے ذریعے قتل کیا گیا۔ اس سامراج اور اس ملک کے سرمایہ داروں نے بھٹو سے ان اصلاحات جن کے ذریعے ان کو چند خراشیں آئیں تھیں کا ایک خونخوار انتقام لیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پھانسی کی کوٹھڑی میں جو آخری کتاب لکھی وہ اسکی آخری وصیت کا درجہ اختیار کرگئی ہے۔ اپنی زندگی اور موت کے فیصلہ کن اسباق جو بھٹو نے مستقبل کی نسلوں کے لیے چھوڑے تھے ان میں اس نے لکھا کہ ’’میں اس آزمائش میں اس لئے مبتلا ہوں کہ میں نے ملک کے شکستہ ڈھانچے کو پھر سے جوڑنے کے لیے متضاد مفادات کے درمیان آبرومندانہ اور منصفانہ ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔ یوں معلوم ہوتا ہے اس فوجی بغاوت کا سبق یہ ہے کہ درمیانہ راستہ ‘ قابل قبول حل یا مصالحت محض یوٹو پیا (دیوانے کاخواب) ہے۔ فوجی بغاوت ظاہر کرتی ہے کہ طبقاتی کشمکش ناقابل مصالحت ہے اورا س کا نتیجہ ایک یاد وسرے طبقے کی فتح کی صورت میں ہی نکلے گا۔‘‘
لیکن المیہ یہ ہے کہ بھٹو کے بعد آنے والی پیپلز پارٹی کی قیادتوں نے بانی چیئرمین کی اس آخری وصیت کومکمل طور پر نظر انداز کردیا۔ آج نہ صرف ضیاء الحق کی وحشت ناک سرمایہ دارانہ پالیسیوں کا تسلسل موجود ہے بلکہ گل سڑکر ضیا کے عہد میں جنم لینے والے دوسرے عذابوں (دہشت گردی‘ لوٹ مار‘ جبر ‘ خونریزی ‘منافقت‘ رجعتیت ‘ مذہبی جبر استحصال) کا عمل جاری ہے۔ ضیاء الحق تو جسمانی طور پر چلا گیا لیکن اس کانظام اور فکر آج بھی ایک جبر مسلسل ڈھارہا ہے۔ اس نظام کے مزید گل سڑ جانے سے یہ اذیتیں معاشرے کو مزید شدت سے تاراج کررہی ہیں۔ نہ صرف اس کا نظام موجود ہے بلکہ آج کے سیاسی افق پر اسکی باقیات حاوی ہیں۔ نہ صرف دوسری مسلط پارٹیوں پر ان کا راج ہے بلکہ پیپلز پارٹی کے حالیہ لیڈروں میں بہت سے ضیاء الحق کے حواری شامل ہیں۔5جولائی صرف یوم سیاہ منا کر احتجاج کرنے کا دن نہیں‘ بلکہ اس طبقاتی جنگ میں جو حکمران طبقات نے ایک گہرا وار کیا تھا اس کا منہ توڑ جواب دینے کا اعادہ اور تیاری کرنے کا دن بھی ہے۔ جس غربت محرومی اور ذلت میں یہاں کی جنتا سلگ رہی ہے وہ ناگزیر طور پر ایک نئی بغاوت میں بھڑک اٹھے گی۔ اس مرتبہ اس تحریک کو ایک سوشلسٹ فتح سے ہمکنار کرنا ہمارا فریضہ ہے۔ اسی نظام اور اسکی ریاست کو اکھاڑ کر ہی اس صدیوں کے ظلم اور جبر کا انتقام لیا جاسکتا ہے جو حکمرانوں نے نسل در نسل محنت کش طبقے پر ڈھایا ہے۔

PDFفائل ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔
متعلقہ:

اداریہ جدوجہد: بھٹو کی میراث کا نیلام؟

دسمبر27 کے زخم کب بھریں گے؟

4 Comments

  1. Pingback: شمارہ نمبر 7: یکم تا 15 جولائی 2012ء

  2. Pingback: مرتضیٰ بھٹوکی اصل جدوجہد کیا تھی؟

  3. Pingback: پاکستان: یہیں سے اٹھے کا شور محشر

  4. Pingback: 5 جولائی: چار دہائیوں پر محیط یومِ سیاہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*