کینیڈا: معیشت کا زوالِ مسلسل

تحریر: زبیر محمد

8 سال ہونے کو ہیں مگر کینیڈین معیشت 2008ء کے بحران سے پہلے والی سطح پر بھی نہ آ پائی بلکہ اندرونی و بیرونی تضادات کی وجہ سے کسی بھی وقت یہ دوبارہ بڑے معاشی بحران میں گھر سکتی ہے۔ فی الوقت معیشت تکنیکی طور پر تقریباً Recession میں ہے یا اس جانب بڑھ رہی ہے۔ 2015ء میں معاشی نمو کی شرح پچھلے سال (2014ء) سے نصف ہو کرصرف 1.18 فیصد رہی۔ زراعت کے شعبے میں خام داخلی پیداوار 2013ء میں 29 بلین (ارب) ڈالر تھی جو مئی 2016ء میں سکڑ کر 26 بلین ڈالر پر آگئی۔ معدنیات کے شعبے میں خام داخلی پیداوار اکتوبر 2014ء میں 142 بلین ڈالر سے گر کر اب 121 بلین ڈالر پر آگئی ہے۔ پیداواری شعبے کی خام داخلی پیداوار جو 2006ء میں199 بلین ڈالر تھی مئی 2016ء میں 171 بلین ڈالر کی سطح پر ہے۔ 1991ء میں بینک آف کینیڈا کی شرح سود قریباً 16 فیصد تھی جو گرتے گرتے 2008ء کے بحران سے قبل 4.5 فیصد پر آگئی۔ بحران سے بچنے کے لیے 2008ء اور2009ء کی درمیانی مدت میں اس شرح سود کو 9 بار گرایا گیا۔ 2009ء اور2010ء کے دوران تو یہ 0.25 فیصد کردی گئی۔ مگر شرح سود کو اس خطرناک حد پر رکھنا ممکن نہیں تھا کیونکہ اس سے جڑی بچتوں پر برا اثر پڑ رہا تھا۔ جیسے 2010ء میں حکمرانوں کو لگا کہ بحران ٹل گیا ہے وہ شرح سود کو تین دفعہ بڑھاتے ہوئے 1 فیصد تک لے آئے۔ مگر فوراً ہی اس کے منفی اثرات سے معیشت پھر لڑکھڑانے لگی اور وہ ایک فیصد شرح سود محض پانچ سال ہی رکھ پائے۔ 2015ء سے اب تک بینک آف کینیڈا کو شرح سود دو مرتبہ گرانی پڑی۔ تاحال یہ 0.5 فیصدپر ہی ہے۔ مگر منڈیاں پہلے ہی اضافی پیداوار سے اٹی پڑی ہیں تو سرمایہ دار کم شرح سود پر بھی سرمایہ کاری سے کترا رہے ہیں۔
دوسری جانب چینی معیشت میں گراوٹ کی وجہ سے خام تیل کی طلب میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی۔ اس نے کینیڈین معیشت کو ہلا کر رکھ دیا۔ البرٹا کے Tarsand تیل کی دولت سے مالا مال ہیں۔ مگر Tarsand سے حاصل ہونے والا خام تیل لاگت میں روایتی طریقوں سے حاصل شدہ تیل سے زیادہ جبکہ معیار میں اس سے کم ہوتا ہے۔ یوں ریفائنری میں اس کے اچھے دام نہیں ملتے۔ چونکہ اس نظام میں تیل کی پیداوار ضرورت کی تکمیل کے بجائے منافع کے حصول کے لیے کی جاتی ہے اس لیے جب Tarsand سے خام تیل منافع بخش نہیں رہا تو تیل نکالنے والی کمپنیوں نے یہاں سے راہِ فرار اختیار کی۔ محض ایک سال کے عرصے میں البرٹا کے صوبے میں 70,000 کل وقتی محنت کش روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
صوبائی انتخابات مئی 2015ء میں عوام نے ایک عرصے سے راج کرتی کنزرویٹو حکومت کو تیسرے نمبر پر دھکیل دیا اور پہلی بار البرٹا میں نیو ڈیموکریٹک پارٹی (NDP) کو صوبائی حکومت ملی۔ لبرل یہاں اپنی پانچ میں چار نشستیں ہار بیٹھے۔ جبکہ کنزرویٹوز کا گڑھ مانے جانے والے صوبے میں خود کنزرویٹو اپنی 70 میں سے 60 سیٹیں گنوا بیٹھے۔ NDP کو چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اپنی سوشلسٹ اساس کی جانب لوٹتی اور کم از کم فرار ہوتی ہوئی تیل کی کمپنیوں کو اشتراکی ملکیت میں قومیا لیا جاتا۔ مگر اس نے صوبائی حکومت میں ایسا کوئی ارادہ ظاہر نہ کیا۔ مئی 2015ء کے صوبائی الیکشن سے اکتوبر 2015ء تک البرٹا کی عوام نے لگ بھگ 6 ماہ NDP کو پرکھا مگر کوئی ٹھوس تبدیلی کے آثار نظر نہ آنے پر اسی عوام نے وفاقی انتخابات میں NDP کو آئینہ دکھا دیااور کنزرویٹو امیدوار بھاری اکثریت سے دوبارہ میدان مار گئے۔ ان چند سالوں کی مدت میں محنت کشوں نے بار ہا یہ باور کروا دیا ہے کہ وہ اصلاح پسندی کو رد کر چکے ہیں اور بہت بڑی تبدیلی کے خواہاں ہیں۔
ایک طرف تو تیل کی گرتی قیمتوں نے حکمرانوں کے ایوان ہلا دیے دوسری جانب عالمی منڈی میں کینیڈین مصنوعات کی طلب میں کمی سے زر کی عالمی منڈی میں کینیڈین ڈالر کی مانگ میں خاطر خواہ کمی ہوگئی۔ اس کے باعث عالمی زر کی منڈی میں ایک امریکی ڈالر کے مقابلے کینیڈین ڈالر محض 76 سینٹ کا رہ گیا۔ 1970ء سے2008ء تک غیر ملکی تجارت کا توازن ہمیشہ ہی کینیڈا کے حق میں رہا۔ اس کے بعد سے یہ زیادہ تر منفی ہے۔ جون 2016ء میں یہ تجارتی خسارہ تاریخ کی بدترین سطح 3.63 بلین ڈالر تک آگیا۔ کینیڈین صنعتیں اپنی پیداواری صلاحیت کا محض 80 فیصد ہی استعمال کر رہی ہیں۔ قرضوں کا عفریت تو بالکل ہی قابو سے باہر ہے۔ نجی قرضے GDP کا 250 فیصد ہو چکے ہیں۔ بیرونی سرکاری قرضہ جات 2015ء میں 612 بلین ڈالر ہوگئے۔ 2007ء میں سرکاری قرضہ جات GDP کا 66.5 فیصد تھے جو 2015ء تک GDP کا 91.5 فیصد ہوگئے ہیں۔ صرف مئی 2016ء کے ایک ماہ کے دوران مزید 250 کمپنیاں دیوالیہ ہوگئیں۔ معیشت کا ہر شعبہ گراوٹ کا شکار ہے۔ نہیں گرا تو بس ایک اعشاریہ یعنی کارپوریٹ منافع، جو 2015ء کی آخری سہ ماہی میں 47.6بلین ڈالر تھے اور 2016ء کی پہلی سہ ماہی میں بڑھ کر 61.7 بلین ڈالر ہوگئے۔ کم شرح سود اور Deficit Financing مختصر دورانیے کے لیے تو معیشت کو بچائے ہوئے ہیں مگر ان کی وجہ سے معیشت میں ایک اور بحران پک رہا ہے۔ بچتوں کی حوصلہ شکنی ہورہی۔ بجٹ خسارے کا سارا بوجھ آخر کار محنت کشوں پر ہی لادا جائے گا۔ ماضی قریب کی مونٹریال میں ہونے والی ہڑتالیں اور ٹورانٹو میں ہونے والے یونیورسٹی طلبہ کے احتجاج حکمران طبقے اور اشرافیہ کے لیے تنبیہہ ہیں۔ محنت کشوں کو مصنوعی مسائل میں زیادہ تر الجھا ئے رکھنا ممکن نہیں ہے۔ ان میں جڑت پیدا ہوگی اور یہ مقامی احتجاج اور ہڑتالیں مقامی نہیں رہیں گی بلکہ ان کا دائرہ پورے ملک میں پھیلے گا۔ کینیڈین محنت کشوں کا ان حکمرانوں اور اس نظام سے اعتبار اٹھتا جا رہا ہے۔
گرتی ہوئی کمزور معیشت نے سماج کو اندر سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اپریل 2016ء میں 7 فیصد محنت کش روزگار سے محروم تھے جبکہ نوجوانوں میں بے روزگاری کا تناسب 13.3 فیصدتھا۔ کینیڈا پنشن پلان پر بوجھ پڑا تو محنت کشوں کی قربانی دے دی گئی اور ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سے بڑھا کر65 سال کر دی گئی۔ دوسری جانب کل وقتی ملازمتوں کو باقاعدہ سسٹم کے تحت جز وقتی ملازمتوں سے بدلا جا رہا ہے۔ محض جولائی 2016ء میں 71,400 کل وقتی محنت کشوں کو بے روزگار کیا گیا۔ جبکہ اسی ایک ماہ میں 40,200جزوقتی ملازمتیں دی گئیں۔ Consumer Credit اب 552.8 بلین ڈالر پہنچ گیا ہے۔ Household Debt بھی GDP کا 97.6 فیصد ہو گیا ہے جو آمدنی کا 167 فیصد ہے۔ 2015ء کی ایک رپورٹ کے مطابق 36 کینیڈین یونیورسٹیز کے 18,000 گریجویٹس پر اوسطاً 26,819 ڈالر تعلیمی اخراجات کی مد میں قرضہ ہے اور ان کی اکثریت کم از کم آمدنی کی سطح سے ذرا اوپر ہی کما پاتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ٹورانٹو کے باسی اپنی آمدنی کا نصف محض رہائشی کرایہ کی مد میں ادا کرتے ہیں۔
1961ء میں NDP ’کینیڈین لیبر کانگریس‘ (CLC) اور بائیں بازو کی سوشلسٹ جماعت ’کوآپریٹو کامن ویلتھ فیڈریشن‘ (CCF)کے ضم ہونے سے وجود میں آئی۔ CCF کے 1933ء کے بنیادی منشور Regina Manifesto میں اس اولین ترجیح کا عزم کیا گیا تھا کہ سرمایہ داری نظام کو اکھاڑ پھینکا جائے گا اور اس کی جگہ منصوبہ بند سوشلسٹ معیشت و جمہوریت لائی جائے گی۔ NDP کو جنم دینے والی CCF کی بنیاد مزدورں اور کسانوں نے مل کر گریٹ ڈیپریشن کے پیش منظر میں 1932ء میں رکھی تھی۔ ’’NDP سمجھتی ہے کہ حصول امن اور جمہوری سوشلزم دونوں ہی محفوظ تر اور انصاف پر مبنی جدیدریاست کے حصول کے لیے ناگزیر ہیں‘‘یہ وہ سوشلسٹ اساس تھی جس کے باعث کساد بازاری سے تنگ اور ہر طرح کے سیاسی، سماجی اور ریاستی جبر سے جان چھڑانے کے لیے عوام نے NDPکواپنا نجات دہندہ سمجھا۔ مگر خود NDP مزدوروں، کسانوں اور نوجوانوں کی طاقت کا اندازہ لگانے میں چوک گئی۔ آئندہ آنے والے دنوں میں نہ صرف NDP بلکہ اس کے سربراہ Thomas Mulcair (جو ایک زمانے میں کیوبیک میں لبرل سرکار کے صوبائی وزیر بھی رہے ہیں) کو اس بھول کی بھاری قیمت چکانا پڑی۔ 2006ء سے 2015ء تک سٹیون ہارپر کی قیادت میں کنزرویٹواقتدار میں رہے۔ معیشت کساد بازاری کا شکار تھی۔ گرتی معیشت کو سہارا دینے کے لیے مزدوروں، کسانوں اور نوجوانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ جبکہ کارپوریٹ سیکٹر کو مراعات سے نوازا جا تا رہا۔ اس امید پر کہ وہ سرمایہ کاری کریں گے اور اس کے ثمرات پوری معیشت پر پڑیں گے بشمول کم اور درمیانی آمدن والے گھرانوں پر۔ مگر نتائج بر عکس نکلے۔ کارپوریٹ ٹیکس کی مد میں بڑے پیمانے پر ٹیکس مراعات دی گئیں، کارپوریٹ ٹیکس میں کمی اور چھوٹ دی گئی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف کارپوریٹ ٹیکس کی مد میں مراعات کی وجہ سے حکومت پر ہر سال قریباً 15 بلین ڈالر کا اضافی بوجھ پڑا۔ سرمایہ دار عالمی منڈی کو دیکھتے ہوئے ان مراعات کے باوجود سرمایہ کاری سے کتراتے رہے اورایک کے بعد ایک کاروبار بند ہوتا چلا گیا۔ بے روزگاری میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ کارپوریٹ سیکٹر پر تکیہ کرنے کا انجام یہ نکلا کہ معیشت کساد بازاری سے نکلنے کی بجائے معاشی جمود کا شکار ہوگئی۔
2015ء تبدیلی کا سال تھا۔ جبر و استبداد سے مبرا ہارپر سرکار کا طویل عہد اختتام پذیر ہونے کو تھا۔ Stop Harper کا نعرہ بچے بچے کی زبان پر تھا۔ حزب مخالف کی دونوں بڑی جماعتیں NDP اور Librals نے اس تبدیلی کا اندازہ کر لیا تھا۔ اسے دیکھتے ہوئے NDP نے Ready For Change کا نعرہ لگایا۔ جبکہ لبرلز نے انتخابی مہم کے لیے ’Real Change‘ کے نعرے کا انتخاب کیا۔ NDP کے لیے عوام کا دل جیتنے کا اس سے بہتر موقع پہلے کبھی نہ آیا تھا۔ اپنی انتخابی مہم کے آغاز میں اس نے عوام کے دکھوں پر مرہم رکھی۔ کم از کم اجرت 15 ڈالر فی گھنٹہ کرنے کا نعرہ لگایا گیا۔ بچوں کے لیے Day Care کے اخراجات میں کمی کا وعدہ ہوا۔ کینیڈا بھر میں 200 نئے طبی مراکز قائم کرنے کا کہا گیا۔ صوبوں کو7000 ڈاکٹر اور میڈیکل سٹاف بھرتی کرنے کے لیے درکار فنڈز کا وعدہ کیا۔ بزرگ شہریوں کی دیکھ بھال کی استطاعت میں مزید 41000 افراد کی دیکھ بھال کی گنجائش نکالنے کا وعدہ ہوا۔ بچوں کی نگہداشت کے لیے Day Care سینٹرز کی صلاحیت میں دس لاکھ کا اضافہ کرنے کا عندیہ دیا جن کے زیادہ سے زیادہ فیس 15ڈالر روزانہ ہوگی۔ عوام نے NDP کے بیانات دیکھتے ہوئے اسے سر آنکھوں پر بٹھا لیا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ سروے رپورٹس کے مطابق NDP کی مقبولیت کا گراف 37 سے40 فیصد کے درمیان آگیا۔ جبکہ کنزرویٹو 30 اور لبرلز24 فیصد پر تھے۔ مگر NDP قیادت میں ایک ٹھوس سوشلسٹ پروگرام کا فقدان تھا۔ سروے نتائج کے نشے میں دھت پارٹی قیادت نے دائیں جانب جھکنا شروع کردیا اور Bay Street کے آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنا شروع کر دی گئی۔ جیسے جیسے NDP دائیں جانب جھکتی گئی لبرلز ویسے ویسے بائیں جانب مڑتے گئے۔ NDP قیادت سر توڑ کوششیں کر دیں کہ وہ خودکو ایک ’’اعتدال پسند‘‘، اصلاح پسند جماعت کے طور پر پیش کر سکیں۔ NDP مڈل کلاس کا دل جیتنا چاہ رہی تھی مگر مارکسی رحجان کے فقدان کی وجہ سے وہ یہ بھول گئی کہ ایک طبقاتی سماج میں دو ہی حقیقی طبقے ہوا کرتے ہیں اور جب ان دو طبقات کے تضادات کھل کر سامنے آجائیں اور یہ دونوں ایک دوجے کے ساتھ دست و گریباں ہوں تو کوئی تیسری پوزیشن نہیں لی جا سکتی۔ اگر الیکشن جیتنا بھی مقصود تھا تو بھی NDP کو کھل کر واضح انداز میں مزدوروں، کسانوں اورنوجوانوں کی صف میں شامل ہو کر اشرافیہ پر حملہ آور ہونا چاہیے تھا۔ ایسے میں دونوں طبقات میں کسی مصالحت کی کوئی کوشش کارگر ثابت نہیں ہوتی الٹا اپناہی نقصان ہوا کرتا ہے۔ دوسری جانب جسٹن ٹروڈو کی قیادت میں لبرلز تیسری پوزیشن پر کھڑے NDP کی مقبولیت میں اتارچڑھاؤ دیکھ رہے تھے۔ وہ خلا جو NDP مزدور طبقے میں چھوڑ آئی تھی اسے لبرلز نے پر کرنے میں ایک گھڑی ضائع نہ کی۔ ٹروڈو مزدوروں، کسانوں، نوجوانوں، Visible Minorities میں یوں گھل مل گیا جیسے وہیں سے نکلا ہو۔ اس نے کھل کر اشرافیہ پر حملے کیے۔ NDP کی مقبولیت کا گراف گرنا شروع ہوا تو اسے بہت سوں نے خبردار بھی کیا۔ الیکشن نتائج آئے تو لبرلز کینیڈا بھر میں میدان مار گئے۔ محنت کش عوام نے عوامی رائے کو نظر انداز کرنے پر NDP کو کڑی سزا دی۔ اس کی نشستیں 103 سے گھٹ کر محض 44 رہ گئیں۔ NDP کی ہاری ہوئی 51 نشستوں میں سے 50 لبرلز لے اڑے۔ جبکہ کنزرویٹوز جن 60 جگہوں پر ہارے وہ بھی تمام کی تمام لبرلز کی جھولی میں گریں۔ عوامNDP کو اتنی آسانی سے معاف کرنے والے نہیں تھے۔ اپریل 2016ء میں ایڈمینٹن میں منعقد پارٹی کنونشن میں 52 فیصد نمائندگان نے پارٹی قیادت میں تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا۔ 2011 ء کے انتخابی نتائج، 2015ء کی بدترین شکست اور پھر 2016ء کا پارٹی کنونشن اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ NDP کی بقا صرف اور صرف اپنی بنیادی سوشلسٹ اساس کی جانب رجوع کرنے میں ہے۔
الیکشن 2015ء کے دوران لبرل سرکار نے جو وعدے کیے تھے وہ محض ان کی سیاسی چال تھی جو بازی جتا گئی۔ کنزرویٹوز پر شدیدنکتہ چینی کرنے والے لبرلز آج خود اسی راستے پر گامزن ہیں۔ پچھلی حکومت نے ڈاک کی گھر گھر ترسیل بند کر دی تھی۔ وعدے کے باوجود اسے اب تک بحال نہیں کرایا جا سکا۔ امریکی سامراج کی خوشنودی کی خاطر جب کینیڈا نے داعش کے خلاف جنگی مہم جوئی کا آغاز کیا تو لبرلز نے خوب مگرمچھ کے آنسو بہائے کہ اس مہم جوئی سے ناحق لوگوں کا خون ہو رہا ہے۔ مگر آج لبرل سرکار نے نہ صرف یہ کہ یہ مہم جوئی جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ اس کی معیاد میں توسیع کر دی گئی۔ F-35 طیاروں کی خریداری کے سودے پر خوب برہمی کا اظہار کیا گیا کہ اتنے مہنگے جہاز خریدنے کی کیا ضرورت ہے، مگر وہ سودے تا حال برقرار ہیں۔ جب حکومت میں نہیں تھے تو انسانی حقوق کے نعرے لگاتے نہیں تھکتے تھے۔ مگر آج سعودی حکومت کو انسانی حقوق کی پامالی کے باوجودجنگی سازو سامان بیچا جا رہا ہے۔ کینیڈا کی ریاست کروڑوں شامیوں کو گھر بدر کرنے پر مجبور کرکے آج چند ہزار تارکین کو پناہ دے کر اپنے کارنامے اور نیکی کی خوب تشہیر کر رہی ہے۔
لبرلز کے قول بائیں بازو کے اور ان کے عمل دائیں بازو کے ہیں۔ لیکن یہ زیادہ دن اپنا مکروہ چہرہ چھپا نہ پائیں گے۔ لبرلز کے ہنی مون کے دن ختم ہوچکے ہیں۔ حالات کے ستائے مزدوروں اور نوجوانوں کا صبر ختم ہونے کو ہے۔ حال ہی میں ٹورانٹو سے متصل شہر مسی ساگاکے لائبریری ورکرز نے مجبور ہو کر ہڑتال کر دی۔ یہ ان کی تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ میں پہلی ہڑتال تھی۔ دوسری جانب کینیڈا پوسٹ اور لیبر یونین CUPW کے مابین 2011ء سے چلے آرہے تنازعات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔ یونین کنٹریکٹ کی جو پیشکش مینجمنٹ نے کی ہے وہ کسی صورت یونین کو قبول نہیں اور پوسٹل ورکرز نے اسے یکسر مسترد کرتے ہوئے ہڑتال کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے۔ مینجمنٹ کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں لیکن لبرل سرکار سارے معاملے میں چپ سادھے ہوئے ہے۔ عوام میں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت ہارپر کے چلے جانے سے کچھ دیر کو ماند پڑگئی تھی۔ مگر ان کے کرب کا کارن کوئی ایک شخص یا گروہ یا سیاسی جماعت نہیں بلکہ وہ معاشی نظام ہے جو جونک کی مانند ان کا خون چوس کر زندہ ہے اور جب تک یہ نظام باقی ہے یہ اضطراب بار بار امڈ آئے گا اور ہر بار اس کی شدت میں اضافہ ہوگا۔
حالات زندگی تنگ ہونے پرزندگی کے قریباًہر شعبے کے خواتین اور مرد، نوجوان و طلبہ چیخ اٹھے ہیں۔ اس آواز کو ایک طرف تو طاقت سے دبانے کی کوشش کی گئی۔ اسکی مثال 2010ء میں ٹورانٹو میں منعقد G20 سربراہ اجلاس کے موقع پر ہونے والے پر تشدد احتجاج میں نظر آئی۔ 97 کے قریب پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ گرفتاریوں کے دوران تشدد سے 39 افراد زخمی ہوئے۔ وہ زخمی مظاہرین جن کی گرفتاری نہیں ہوئی ان کی تعداد تو سینکڑوں میں ہے۔ 10,000 مظاہرین کا پر امن احتجاج روکنے کے لیے 20,000 جوان پولیس، فوج اور سیکیورٹی اداروں سے لیکر تعینات کیے گئے۔ زبان کی آزادی پر قفل پڑے تو پر امن احتجاج پر تشدد تصادم میں بدل گیا۔ املاک کی توڑ پھوڑ کا تخمینہ قریباًساڑھے سات لاکھ ڈالر لگایا گیا۔ ریاستی جبر کے مسلح جتھوں نے طاقت کا کھلا استعمال کیا۔ کل گرفتاریوں کی تعداد ایک ہزار تھی جو کینیڈا کی تاریخ کی سب سے بڑی گرفتاریاں تھیں۔ مسلح جتھوں کے ذریعے ریاستی جبر محض ایک پہلو تھا۔ مزدوروں کی آواز دبانے کے لیے مقننہ کا سہارا بھی لیا گیا۔ کینیڈین پیسیفک ریل کے ہڑتالی مزدوروں کو پارلیمنٹ میں بل پیش کرکے اس ہڑتال کو غیر قانونی قرار دیا گیا اور مزدوروں کوکام پرجانے کا حکم دے دیا گیا۔ یہی Back To Work کا حکم نامہ Air Canada اور Canada Post کی ہڑتالوں کو کچلنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
معاشی حالات کی وجہ سے خاندان ٹوٹ کر بکھر رہا ہے۔ یہ معاشی جبر نفسیاتی بیماریوں اور گھریلو تشدد کی شکل میں اپنا اظہار کر رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق یہاں 25 کی عمر تک کے 20 فیصد نوجوان کسی نہ کسی قسم کی نفسیاتی بیماری کا شکار ہیں۔ مئی 2016ء میں جاری کی گئی CBC کی رپورٹ کے مطابق گھریلو تشدد کی ایسی وارداتیں جن میں اسلحہ استعمال ہوا میں 70 فیصد اضافہ ہو اہے۔ اونٹاریو میں ہائی سکول کے آخر ی سال کے 83 فیصد بچے شراب نوشی کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہاں 19 سال کی عمر سے پہلے شراب نوشی کی ممانعت ہے۔ 23 فیصد بچوں کو منشیات کی پیشکش ہوئی۔ جبکہ 17 فیصد بچے غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی ادویات کا نشہ کرتے ہیں۔ CSIS کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا میں منظم جرائم کے 950 سے زیادہ گروہ سر گرم ہیں۔ جن میں 80 فیصد کی آمدنی کاذریعہ منشیات کا دھندہ ہے۔ منشیات کے عادی افراد کا 60 فیصد حصہ 15 سے 24 سال کی عمر کا ہے۔ صرف British Columbia کے صوبہ میں بھنگ کی کاشت سے 5 سے7 بلین ڈالرز کی سالانہ آمدنی ہوتی ہے۔ نوجوانوں میں بھنگ کے بڑھتے رحجان کو دیکھ کر حکومت نے اپنی الیکشن مہم میں بھنگ کی خرید و فروخت کو قانونی شکل دینے کا وعدہ کیا تھا اور نوجوانوں کے خوب ووٹ بٹورے۔
کینیڈا میں طبقاتی تضاد تیزی سے شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ایک طرف معاشی تنگدستی کی وجہ سے محنت کشوں اور نوجوانوں میں شدید اضطراب پایا جا تا ہے۔ دوسری جانب ان کے بنیادی حقوق پر پے در پے مجرمانہ حملے کیے جارہے ہیں۔ یونینائزڈ نوکریوں کو ختم کرکے کنٹریکٹ پر بھرتیاں کی جارہی ہیں۔ کل وقتی محنت کشوں کو فارغ کر کے جزوقتی اور عارضی بھرتیاں کی جارہی ہیں۔ لے دے کے مفت صحت اور مفت ہائی سکول کی تعلیم رہ گئی تھی اس پر بھی لالچی سرمایہ دار گدھ اپنی نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ ایک منظم سازش کے تحت مفت علاج نشانے پر ہے۔ ایک معمولی X-Ray یا CT-Scan کے لیے اکثر ہفتوں اور مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ Specialist ڈاکٹروں سے تاریخ ملتے ملتے نونو ماہ لگ جاتے ہیں۔ ایسے ہی حملے سکولوں، اساتذہ اورعملے پر بھی کئے جا رہے ہیں۔ پچھلے سال اونٹاریو کے بورڈز کے اساتذہ ہڑتال پر گئے جس سے 67,000 بچے متاثر ہوئے۔ ریاستی جبر سے تو خود ریاستی جبر کے مسلح جتھے بھی محفوظ نہیں۔ 2013ء میں حالات سے تنگ آکر ایڈمنٹن میں جیل کا حفاظتی عملہ ہڑتال پر چلا گیا۔ الٹا تین ہڑتالی محافظوں کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔ دسمبر 2015ء میں اونٹاریو کی جیلوں کے حفاظتی عملے نے بھی ہڑتال کی کال دے دی تھی۔
کہتے ہیں کہ ظلم جب حد سے گزرتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ ان تنازعات کو جتنا دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ اتنے ہی شدید اور نا حل پذیر ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک دوجے سے بر سر پیکار دونوں طبقات میں مصالحت کی تمام کوششیں عارضی ثابت ہوئی ہیں اور کچھ عرصہ بعد یہ تضادات ایک نئی شدت سے دوبارہ ابھر جاتے ہیں۔ یہ طبقاتی جنگ پہلے ہی معرکہ میں جیتنا شاید ممکن نہ ہو۔ مگر محنت کش طبقہ اس لڑائی کے لیے تیار ہے۔ اگر وہ اکا دکا معرکے ہار بھی گیا تو کیا غم۔ اس کے پاس کھونے کو بچا ہی کیا ہے سوائے زنجیروں کے۔ لیکن آخری معرکے میں محنت کشوں کی فتح یقینی ہے۔ ورنہ وہ معرکہ اس طبقاتی جدوجہد کا آخری معرکہ نہیں ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*