امریکہ ایران ایٹمی معاہدے کا مطلب کیا ہے؟

| تحریر: حمید علی زادے، ترجمہ: حسن جان |
جمعرات 2 اپریل کو ایران اور دنیا کے طاقتور ترین سامراجی ممالک نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ابتدائی معاہدے کے خاکے پر دستخط کیے۔ اس میں ایران پر امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی طرف سے عائد اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے معاہدہ بھی شامل ہے۔ یہ امریکہ اور ایران کے درمیان بارہ سالہ تنازعہ کے خاتمے کے آغاز کی نشاندہی کر تی ہے۔ لیکن ان مذاکرات کے در پردہ کیا ہے اور اس معاہدے کا مطلب کیا ہے؟
iran america nuclear dealمعاہدے کا خاکہ پندرہ سالوں پر محیط ہے۔ اس عرصے میں ایران کے ایٹمی پروگرام کو انتہائی نچلی سطح پر لا یا جائے گا اگرچہ اس کے تمام لوازمات موجود رہیں گے۔ امریکہ کو ایران کی مختلف ایٹمی تنصیبات پر ’’نگرانی کے بے نظیر اختیارات‘‘ حاصل ہوں گے۔ اس کے بدلے میں ایران کے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے اس پر امریکہ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی طرف سے عائد پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تیل، تجارت، شپنگ اور بینکنگ کے شعبوں پر عائد شدید پابندیا ں اٹھ جائیں گی اور ایرانی معیشت کو عالمی معیشت سے دوبارہ منسلک ہونے دیا جائے گا۔
معاہدے پر عمل در آمد کی مکمل تفصیلات پر ابھی تک اتفاق نہیں ہوسکا ہے اور حتمی معاہدے تک بہت سی چیزیں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ لیکن معاہدے کے خاکے کے جاری ہونے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق معاہدے کو حتمی شکل دینے میں گہر ی دلچسپی رکھتے ہیں۔

ذلت آمیز اقتصادی پابندیاں
ایران میں معاہدے کے اعلان کے چند لمحوں بعد ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور اس خوشی میں پوری رات گاتے، ناچتے اور اپنی گاڑیوں کے ہارن بجاتے رہے۔ تہران اور بہت سے دوسرے شہروں میں تمام سڑکیں بند ہوگئیں اور بہت سی جگہوں میں وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور صدر حسن روحانی کے حق میں صبح تک نعرے لگتے رہے۔ یہ جشن پوری قوم کے سکھ کا سانس لینے کے مترادف تھا کیونکہ سالوں کی ذلت آمیز پابندیوں، جس نے معیشت کو دبوچ لیا تھا اور لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو برباد کر دیا تھا، کا خاتمہ قریب نظر آرہا تھا۔
امریکہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیاں ایرانی عوام سے اعلان جنگ کے مترادف تھیں۔ ان کے نتائج تباہ کن تھے۔ تباہ حال ایرانی معیشت میں بے روزگاری ڈرامائی انداز میں نئی بلندیوں پر پہنچ گئی۔ ایرانی ریال کی قدر80 فیصد گر گئی اور افراط زر 100 فیصد تک پہنچ گیا۔ تہران میں ایک مشہور لطیفہ ہے کہ گوشت سے زیادہ سستی تو ہیروئن ہے۔
ان حالات میں محنت کش طبقے کی پہلے سے کم اجرتیں مزید کم ہوگئیں۔ کم سے کم اجرت جو ہر سال افراط زر کی وجہ سے اپنی قدر کھو دیتی ہے، اب چار افراد کے خاندان کے خط غربت کا ایک چوتھائی بن گئی ہے اور لاکھوں مزدور کم سے کم اجرت سے بھی کم پر کام کر رہے ہیں۔ مڈل کلاس کے لاکھوں لوگ دیوالیہ ہوگئے ہیں کیونکہ ان کی بچت کردہ رقوم اپنی قدر کھو چکی ہیں اور ان کے کاروبار تباہ و برباد ہوگئے۔
پابندیوں کے بعد سے گیس، پانی، بجلی، کھانے کا تیل اور روٹی وغیرہ جیسی بنیادی ضروریات زندگی کی قیمتیں دوگنا، تین گنا اور بعض صورتوں میں چار گنا سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ صرف آٹے کی قیمت چار ہزار فیصد بڑھی ہے۔ جبکہ اسی دوران اجرتیں منجمد ہیں یا بہت ہی کم بڑھی ہیں۔ درحقیقت اجرتوں کی ادائیگی بھی عیاشی بن گئی ہے کیونکہ لاکھوں مزدوروں کو مہینوں اور بعض اوقات سالوں سے اجرتیں نہیں ملی ہیں۔
ہسپتال بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں کیونکہ وہ اہم ادویات اور آلات حاصل نہیں کرسکے۔ ہزاروں مریض، جنہیں کینسر اور دوسری خطرناک بیماریاں لاحق تھیں، علاج سے محروم رہے۔ حالیہ دنوں تک جہازوں کی مرمت کے لیے پرزے حاصل کرنا ناممکن تھا اور گاڑیوں کے سپیئر پارٹس ملنا بھی مشکل ہو گیا اور اکثر عارضی پرزوں کی مدد سے کام چلایا جاتا ہے جس سے آلودگی خطرناک حد تک بڑھی ہے۔
امریکی سامراج کے ہاتھوں ہتک کے احساس نے نفرت اور غصے کو جنم دیا ہے۔ لہٰذا معاہدے کو بہت سے ایرانی قومی وقار کی بحالی کے طور پر بھی دیکھتے ہیں جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اب سامراج کے دباؤ میں نہیں آئے۔
بلاشبہ حتمی معاہدہ ابھی تک نہیں ہو ا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی طور پر ابھی کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا ہے لیکن کشیدگی ایک حد تک کم ہو ئی ہے اور اب جنگ یا ایران پر حملے کی بات نہیں ہوتی اور عوام کو یہ امید ہے کہ پابندیاں ختم ہونے والی ہیں۔

سامراج کی پس قدمی
امریکی حکمران طبقے کے لیے یہ معاہدہ ایک واضح پسپائی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ دھیمے انداز میں اس بات کا اظہار ہے کہ امریکہ نے پچھلے پندرہ سالوں کے دوران مشرق وسطیٰ میں تمام چیزوں کا ستیاناس کر دیا ہے اور وہ اپنا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کر سکا۔
john kerry iran america dealمجرمانہ اقتصادی پابندیوں کا مقصد ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا تھا۔ امریکہ کا مطالبہ تھا کہ ایران مکمل طور پر گھٹنے ٹیک دے اور ایٹمی پروگرام ختم کر دے۔ لیکن جو معاہدہ سامنے آیا ہے اس کی رو سے تو امریکہ اپنے مقصد میں ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ پایا ہے۔
در حقیقت، باراک اوباما اور جان کیری جو معاہدہ امریکی کانگریس کے سامنے’’پابندیوں کے ذریعے ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنے‘‘ کے طور پر پیش کر رہے ہیں، کسی بھی طرح اُس پیشکش مختلف نہیں ہے جو پچھلی ایرانی حکومت نے سخت ترین معاشی پابندیوں سے پہلے انہیں کی تھی۔
تکنیکی تفصیلات کے در پردہ، جن کا مقصد الجھن اور معاہدے کی اصل روح کو پوشیدہ رکھنا ہے، امریکہ کی اصل کامیابی ’بریک آؤٹ ٹائم‘ کو بڑھانا ہے، یعنی وہ وقت جو ایران کو ایٹم بم بنانے کے لیے در کار ہے، تین سے چار مہینے سے لیکر ایک سال۔
لہٰذا ’ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ایران‘ کا خطرہ ختم نہیں ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایرانی حکومت اپنی ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے مزید رعایتیں حاصل کر نے کے قابل ہوگی جیسا کہ اس نے ابھی کیا ہے۔ معاہدے کی رو سے ایران دس سال بعد اپنی ایٹمی تنصیبات کو پھیلانے کے قابل ہوگا۔ حقیقت میں یہ ایران کو ایک ایٹمی طاقت کے طور پر تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔
یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ امریکی سامراج کے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں تھا۔ ایک بار جب یہ صلاحیتیں (ایٹمی تنصیبات) قائم ہو جائیں تو حملہ کرکے ان کو ختم کرنے کے سوا اور کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا اور یہ راستہ بند ہو چکا ہے۔

امریکی حکمران طبقے کی حدود
یہ معاہدہ امریکی سامراج کی حدود واضح کرتا ہے۔ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے بے رحم طاقت کا استعمال اب پہلے کی طرح ممکن نہیں ہے اور اب یہ مجبور ہیں کہ دوسرے طریقوں پر انحصار کریں۔ اس نئی امریکی خارجہ پالیسی کی قلابازی کو ’’اوباما ڈوکٹرائن‘‘ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اوباما کو امن پسند مردِ عقل اور ایٹمی معاہدے کو اس کی مثال کے طور پر پیش کیا جائے۔ لیکن یہ وہی اوباما انتظامیہ ہے جو شام پر بمباری کرنا چا ہتی تھی، لیبیا پر بم برسائے، جس نے شام میں فرقہ وارانہ جنگ کی راہ ہموار کی اور انہی فرقہ وارانہ قوتوں سے اب لڑ رہی ہے جو اس نے خود سنی مسلمان علاقوں میں شدت پسند شیعہ ملیشیا بھیج کر تخلیق کی اور یہ وہی انتظامیہ ہے جو یمنی عوام پر مسلسل وحشیانہ بمباری میں شریک ہے۔
obama doctrine cartoon’’اوباما ڈوکٹرائن‘‘، جیساکہ اسے پیش کیا جا تا ہے، استحکام یا جمہوریت کا نظریہ نہیں ہے۔ یہ امریکی حکمران طبقے کی کمزوری اور پس قدمی کا نظریہ ہے۔ ماضی کے جنگ، بد معاشی اور حکومت کی تبدیلی کے ’’آزمودہ طریقے‘‘ اب ماضی کی طرح کارآمد نہیں رہے اور امریکی سامراج مجبور ہے کہ لالچ اور معاشی انضمام کے طریقے پر زیادہ انحصار کرے۔ ایران کے معاملے میں یہ بات واضح ہے کہ اوباما ملاؤں کو مغربی معیشت کے ساتھ جوڑ کر، ان پر کسی حد تک قابو پانا چاہتے ہیں اور ملاں اس پیشکش کو ٹھکرائیں گے نہیں۔
عراق اور افغانستان میں اپنی فوجی مہم جوئیوں کے ذریعے امریکہ نے پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر دیا ہے اور اب وہ مجبور ہے کہ استحکام کے لیے ایران سے رجوع کرے۔ عراق اور شام میں اسلامی بنیاد پرستی، جس کو ہر قدم پر سامراجیوں نے خود تخلیق کر کے پروان چڑھایا، قابو سے باہر ہو چکی ہے اورپورے خطے کو انتشار میں ڈبورہی ہے۔ یہی صورتحال لبنان میں جنم لے رہی ہے جہاں سنی بنیاد پرستی ملک کی یکجہتی کے لیے ابھرتا ہوا خطرہ ہے۔
امریکی سامراج براہ راست مداخلت کے قابل نہیں ہے۔ افغانستان اور عراق میں دو جنگوں میں شکست، جنگ کے خلاف اندرونی عوامی مزاحمت، حکمران طبقے میں سیاسی بحران، فوج کی پست ہمتی، بجٹ کا بحران اور عمومی معاشی بحران نے اس کی فوجی صلاحیتوں کو محدود کر دیا ہے۔ کچھ ہی عرصہ قبل عراق میں شرمناک شکست کے بعد ایک اور زمینی جنگ اب مکمل طور پر ناممکن ہے۔ صرف دو سال پہلے اوباما اور جان کیری کو شام پر بمباری کے منصوبے سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ یہ واضح طور پر امریکی فوجی صلاحیتوں کی حدود کا اظہار ہے جو سرمایہ داری کے عمومی زوال کی وجہ سے کمزور ہورہی ہیں۔
عراق پر قبضے کے دوران امریکہ کی جانب سے صدام کے ریاستی ڈھانچے اور فوج کو تباہ کرنے کی وجہ سے ایران طاقت ور ہوا۔ آج ایران لاتعداد ملاؤں اور بہت سی عراقی اور ایرانی ملیشاؤں کے ذریعے عراق میں اپنی دھاک بٹھا رہا ہے۔ شام میں بھی بشارالاسد کے ساتھ قریبی مراسم اور ہمسایہ ملک لبنان میں حزب اللہ کی وجہ سے ایران وہاں بھی طاقتورہے۔ اس لیے داعش اور دوسری سنی بنیاد پرست تنظیموں سے لڑنے کے لیے امریکہ کے پاس ایران واحد قابل اعتماد مقامی طاقت ہے جس کے پاس زمینی فوج بھی ہے۔

تکریت کی جنگ
دونوں طاقتوں کے باہمی تعلق کا کردار پچھلے مہینے عراقی شہر تکریت کو داعش کے قبضے سے چھڑانے کے دوران واضح طور پر نظر آیا۔ عراقی حکومت مہینوں سے اس آپریشن کی تیاری کر رہی تھی۔ تاہم امریکی سربراہی میں اتحادی افواج زیادہ دلچسپی نہیں رکھتی تھیں۔ امریکہ کو سعودی عرب، خلیجی ریاستوں، اُردن اور ترکی کی طرف سے سخت دباؤ کا سامنا تھا۔ اگرچہ ایرانی افواج اور ایرانی حمایت یا فتہ ملیشاؤں نے اس سے پہلے بھی عراق کے سنی علاقوں میں آپریشن کیے تھے لیکن اس بار معاملہ مختلف تھا۔ تکریت ایک سنی اکثریتی علاقہ ہے جہاں ایران کے علاقائی حریفوں کا اثرورسوخ بہت زیادہ ہے۔ تکریت میں ایرانی افواج کا گھسنا عراق میں ان کے مفادات کے لیے براہ راست خطرہ تھا۔
مسئلہ یہ ہے کہ شیعہ ملیشاؤں کی طرف سے سنیوں کے گھروں کو تباہ کرنے کا عمل، جو اس سے پہلے بھی ہوا ہے، داعش کے خلاف آئندہ جنگوں کے لیے اہم مسائل پیدا کر سکتا تھا۔ اس لیے تکریت کو واپس لینے کے منصوبے سے متعلق مہینوں تک امریکہ ہچکچاہٹ کا شکار رہا۔

battle of tikrit
شیعہ ملیشیا کے اہلکار تکریت پر بمباری کر رہے ہیں

تاہم مہینوں کی تیاری کے بعد 2 مارچ کو ایرانی پاسداران انقلاب اور عراقی حکومت نے تکریت کو قبضے سے چھڑانے کے منصوبے کا اعلان کرکے سب کو حیران کر دیا۔ امریکیوں کو اس خبر نے بے خبری میں آدبوچا اور ایک امریکی اہلکار نے ’’تھوڑی حیرت‘‘ کا اظہار کیا۔ حکمت عملی کے اعتبار سے اسے ایسے وقت میں شروع کیا گیا جب ایٹمی مذاکرات کے نئے دور کا آغاز ہونے والا تھا۔ طاقت کے اس مظاہرے کا مطلب یہ پیغام دینا تھا کہ ایران کو امریکہ کی اتنی ضرورت نہیں ہے جتنی کہ امریکہ کو ایران کی ہے۔
تاہم ایرانی زمینی فوج پاسداران انقلاب کے ٹینکوں اور بھاری توپخانوں کے ساتھ جب تکریت میں داخل ہوئی تو انہیں ہیرو اور نجات دہندہ کے طور پر نہیں بلکہ قابض افوا ج کے طور پر دیکھا گیا۔ مقامی آبادی کی مخالفت سب سے بڑی رکاوٹ تھی اور ہفتوں کی معمولی پیش رفت کے بعد فوج کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ آخر میں امریکیوں نے آپریشن میں اس شرط پر شمولیت اختیار کی کہ تمام ایرانی فوجی اور بدر بریگیڈ، ایران سے منسلک شیعہ ملیشیا، پیچھے ہٹ جائیں گے۔ نئے اتحاد کے ذریعے داعش کو تکریت سے نکال دیا گیا (اگرچہ انتہائی مشکلات کے بعد) اور عراقی وزیر اعظم عبادی نے آپریشن کی تعریف کی، اس وجہ سے بھی کہ اسے ایرانی فوج کی مدد کے بغیر کیا گیا۔
اگرچہ ایران سے وابستہ فوجی دستوں کو پیچھے ہٹایا گیا لیکن باقی رہ جانے والے جنگجو بھی زیادہ تر شیعہ ملیشیا سے تھے جو ایران کے کنٹرول میں تھیں۔ امریکی جوائنٹ چیف آف سٹاف کے چیئر مین جنرل مارٹن ڈمپسے کے سینٹ کمیٹی کو دیئے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ تکریت کو واپس لینے والی تیس ہزار فوج میں سے دو تہائی شیعہ تھے۔ ان میں بڑی تعداد ایرانیوں کی بھی ہوگی جو ان فارسی جملوں سے ظا ہر ہوتا ہے جو شہرکو واپس لینے کے بعد تکریت کی دیواروں پر لکھے گئے۔
لاس اینجلس ٹائمز نے تکریت میں فوجوں کے داخل ہونے والے دن حزب اللہ کی ایک اعلیٰ بریگیڈ کے اہلکار کی باتوں کو نقل کیا، ’’آج شام چار بجے ہم تکریت پر حملے کے آپریشن کمانڈ کی طرف لوٹ چکے ہیں۔‘‘ اس نے کہا کہ اتحادی افواج کی تکریت میں بمباری رک چکی ہے جس نے ملیشیاؤں کے واپس آنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ اس نے کہا، ’’آپریشن کی کمانڈ اب مکمل طور پر ’’بسیج مردمی‘‘ (شیعہ ملیشیا) کے ہاتھوں میں ہے۔‘‘
حقیقت تو یہ ہے کہ عراقی فوج برائے نام بھی نہیں ہے۔ جس چیز نے آج عراق کی ٹوٹ پھوٹ کو روکا ہوا ہے وہ شیعہ ملیشیا، ایرانی فوج اور نیم فوجی دستے ہیں جو ملک میں کام کر رہے ہیں۔ یہی وہ فوجیں ہیں جن پر امریکہ سنی عرب علاقوں میں داعش کے خلاف لڑنے کے لیے اعتماد کر سکتا ہے۔
یہ امریکہ اور اس کے روایتی اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی اہم وجہ ہے۔ سعودی، ترک اور خلیجی ریاستیں عراق میں ایران کی معاشی، سیاسی اور فوجی صف بندی سے خوف زدہ ہیں۔ تاہم ان کی خواہشات کے بر عکس امریکہ عراق میں ایران کے پہلو بہ پہلو لڑرہا ہے اور اس کی حمایت کر رہا ہے جو امریکی اتحادیوں کے ملک میں اثر و رسوخ کے لیے نقصان دہ ہے۔

شام اور کشیدہ گٹھ بندھن
شام میں بھی امریکہ اور ایران بہت قریب آچکے ہیں۔ در اصل امریکیوں کو پتہ ہے کہ بشارالاسد کی حکومت ہی وہ واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے ملک میں کسی طرح کا استحکام قائم کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بشار الاسد اور امریکہ داعش کے خلاف اپنی مشترکہ جنگ میں ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں اور باری باری اہداف پر بمباری کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے الجھنے سے اجتناب کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے امریکہ اور اس کے خطے کے اتحادیوں کے درمیان تعلقات بھی کشیدہ ہو گئے ہیں۔
erdogan-isis-turkey-syria-kurds-altagreerترکی، جو نیٹو کا رکن ہے اور جہاں اہم امریکی فوجی تنصیبات ہیں، اوباما پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ شام پر حملہ کرے۔ امریکی گماشتے اردگان نے شام میں بر سر پیکار اسلامی جنگجوؤں پر بھاری سرما یہ کاری کی ہے۔ شام میں حقیقی بنیادیں حاصل کرنے سے پہلے شامی اپوزیشن گروہوں کی اکثریت کو ترکی میں پناہ اور تربیت دی گئی۔ ترکی نے بہت سے گروہوں، جن کی اکثریت اسلامی بنیاد پرست تھے، کو ٹریننگ، ہیڈ کوارٹر، نقل و حمل کی سہولیات، فنڈز اور ہتھیار بھی دیئے۔
خارجہ پالیسی کی مہم جوئیوں میں شام آخری موقع تھا جس کے ذریعے ترکی اپنی عزت بحال کر سکتا تھا۔ اسی وجہ سے اردگان مسلسل امریکہ اور نیٹو کو شام میں مداخلت کے لیے قائل کر رہا تھا۔ امریکی قلابازی پر اس کی ناراضگی کوئی حیرت کی بات نہیں۔ امریکی اب اردگان کی طرف سے اس حریف کی حمایت چاہتے ہیں جس پر حملے کے لئے وہ امریکہ کو کہہ رہا تھا۔ اردگان ایک غنڈہ سیاست دان ہے جو اپنے ہی علاقے میں اپنی سر عام رسوائی برداشت نہیں کرسکتا۔ خاص طور پر جب پچھلے چند سالوں میں وہ ایک کے بعد دوسرے بحران کی زدمیں آتا رہا ہے۔
اقتدار کے ایوانوں میں اس کے اقتدار کو نہ ختم ہونے والے کرپشن سکینڈلز اور اس کے قریبی اتحادیوں کی طرف سے حملوں کا سامنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، گہرے ہوتے ہوئے معاشی بحران اور اس کے آمرانہ رجحانات نے آبادی کے بڑے حصے کو مشتعل کر دیا ہے۔ 2013ء کی غیزی پارک کی تحریک صرف ایک وارننگ تھی کہ اس کے خلاف غم و غصہ مجتمع ہو رہا ہے۔
اسرائیل بھی امریکہ کی پیروی نہیں کر رہا۔ ابھرتے ہوئے ایران کو اسرائیلی حکمران خطے میں اپنے اثرورسوخ کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اسرائیل دوسرے ملکوں پرحملے کرکے علاقے ہتھیانے میں مزید آزاد نہیں ہو گا، خاص طور پر اگر ایران ایٹم بم بنا لیتا ہے تو یہ اس کے لیے فوجی اصطلاح میں ’’وجودی خطرہ‘‘ پیدا ہوجائے گا۔ اسی لیے اسرائیل نے ہر قدم پر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایران کی طاقت کو تسلیم کرنے کا کوئی بھی معاہدہ اسرائیلیوں اور وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے لیے دھچکا ہوگا جس نے فوراً ایٹمی معاہدے کے خاکے کو امریکہ کی تاریخی غلطی قرار دیا ہے۔
اسرائیل کے لیے ایک اور خطرہ حزب اللہ کی شام میں نئی کامیابیا ں ہیں، بالخصوص گولان کی پہاڑیوں کے قریب، جس سے ایرانی پراکسی کو اسرائیل کے خلاف نئے محاذ فراہم ہوں گے۔ اسی وجہ سے نیتن یاہو خاموشی سے القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ کی اس علاقے میں حمایت کر رہا ہے اور اسے فضائی کمک، خفیہ معلومات اور ان کے زخمیوں کو اسرائیلی ہسپتالوں میں علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔
یہ سب کچھ امریکہ اسرائیل تعلقات میں بڑھتے ہوئے بحران کی غمازی کرتا ہے جو اپنے کمزور ترین مقام پر پہنچ چکے ہیں۔ نیتن یاہو نے حالیہ دنوں میں امریکہ کا دورہ کیا تاکہ موجودہ صدر کے خلاف کانگریس اور سینٹ کو اکٹھا کر سکے۔ اس دورے میں، جس کے دوران وہ اوباما سے نہیں ملا، اس نے ایٹمی مذاکرات کی خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی ٹیپ چلائی جسے موساد نے ریپبلکن سیاست دانوں کے لیے حاصل کیا تھا تاکہ امریکی سیاسی نظام میں تفرقہ ڈالا جا سکے۔ ہر قدم پر اسرائیلیوں نے مذاکرات کو واضح طور پر سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے جس کی امریکہ کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔
netanyahu-iran-p51نیتن یاہو کے ایران پر متعصبانہ حملو ں کی جڑیں بھی اسرائیلی حکمران طبقے کے بحران میں پیوست ہیں۔ حالیہ سالوں میں یہ بحران مزید پر انتشار ہو گیا ہے کیونکہ عرب انقلاب کے نتیجے میں ایک نئی سماجی تحریک نے جنم لیا ہے۔ اس تحریک نے، جواگرچہ اب سڑکوں پر نہیں ہے، اپنا اظہار سماجی مسائل مثلاً روزگار، ہاؤسنگ، افراط زر اور اسرائیلی سیاست میں کرپشن کے خلاف تحریک کی شکل میں کیا۔ ان حالات میں طاقت پر براجمان رہنے کے لیے نیتن یاہو کو تیزی سے دائیں جانب جا نا پڑا جس نے اسرائیلی سماج میں دائیں اور بائیں بازو کے درمیان خلیج کو مزید بڑھا دیا۔ اس سیاق و سباق میں ایرانی ’’وجودی خطرہ‘‘ کو نیتن یاہو نے اچھے طریقے سے استعمال کر تے ہوئے خوف پیدا کرکے طاقت پر براجمان رہنے کی کوشش کی۔
سعودیوں اور خلیجی ریاستوں کے لیے ایران پہلے سے ایک ’’وجودی خطرہ‘‘ ہے۔ ان کے کمزور حکمرانوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور ان کی فوجیں ناقابل اعتبار اور غیر موثر ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایرانی پاپولزم اور جزیرہ نما عرب کے بہت سے تیل سے مالامال علاقوں میں شیعہ آبادی پر اس کے ممکنہ اثرات سے خوف زدہ ہیں۔ خلیجی حکمران طبقات ایران کو اپنی مراعات اور حکمرانی کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں۔ یقیناًایٹمی ہتھیاروں سے لیس ایران اس خطرے کومزید بڑھاوا دے گا۔ ایران کو بطور علاقائی طاقت تسلیم کرنا سعودیوں کے لیے ایک دھچکا ہوگاجنہوں نے امریکہ کو بار بار ایران پر حملہ کر کے اس کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کا کہا ہے۔
عراق جنگ سے پہلے ایرانی اور عراقی فوج کے درمیان ڈیڈ لاک کی وجہ سے سعودی پر سکون اور محفوظ تھے۔ تاہم اب ایرانی فوج کے سامنے کوئی بھی نہیں ہے اور جو سعودیوں سے صرف چند سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ ایک ایسی برتری ہے جسے ایرانی ہر موقع پر استعمال کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔
اپنی پراکسیوں کے ذریعے سعودی ایران کے خلاف ہر جگہ لڑ رہے ہیں سوائے اپنے ملک میں جہاں وہ کمزور ہیں۔ ان تمام تر اقدامات کی ستم ظریفی یہ ہے کہ شام اور عراق میں سنی فرقہ واریت کو ہوا دے کر وہ امریکہ کا انحصار ایران پر مزید بڑھا رہے ہیں۔
امریکہ نے سعودی عرب سے عسکری حمایت کا وعدہ کیا ہے اوران کو یہ یقین دلارہے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدے سے ان کا اتحاد تبدیل نہیں ہوگا۔ نئے سعودی بادشاہ نے اس بات کے امتحان کے لیے امریکہ کو یمن کی جنگ میں شامل کرنے کی کوشش کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں امریکہ شروع میں مائل نہیں تھا۔ شیعہ ملیشیا والے ممکنہ طور پر یمن میں رضاکار فوج بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو امریکہ کو مضحکہ خیز صورت حال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جہاں وہ ایک طرف عراق میں شیعہ جنگجوؤں کے پہلو بہ پہلو لڑ رہے ہوں اور یمن میں انہی جنگجوؤں پر بم برسا رہے ہوں۔
آخری تجزیے میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی تمام ریاستوں کی شدید اندرونی کمزوری کی وجہ سے ہے۔ ان کے اندرونی بحرانوں کی وجہ سے ان کے درمیان تضادات بڑھ رہے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ کوخطے کے تمام فریقوں کی ضرورت ہے۔ سعودی یا اسرائیلی ریاست سے قطع تعلقی کی بات ہی نہیں ہوسکتی لیکن عین اسی لمحے انہیں ایران کی بھی ضرورت ہے۔
امریکی سامراج کی کمزوریوں کو محسوس کرتے ہوئے، وسط مشرقی ریاستیں سب اپنی اپنی خواہشات کے مطابق اپنا اپنا کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں۔ وہ دوسری عالمی طاقتوں کے ساتھ بھی تعلقات بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بنیامن نیتن یاہو نے ولادمیر پیوٹن سے ملاقاتیں کی ہے اور ترکی نے روس کے ساتھ ایک اہم گیس پائپ لائن کا معاہدہ کیا ہے جس کے ذریعے روس اس قابل ہوگا کہ وہ یوکرائن سے گزرے بغیر ہی اپنی گیس یورپ تک پہنچائے۔ مصر نے بھی روس کے ساتھ تعاون کو مزید بڑھا دیا ہے جبکہ چین بڑی حدتک سعودی عرب کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بن گیا ہے۔ ایران کے پہلے سے ہی چین اور روس کے ساتھ گہرے مراسم رہے ہیں۔
ایران بڑی طاقتوں کے درمیان آزادانہ طور پر توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم فی الحال روایتی امریکی اتحادی، چین اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے امریکہ سے مزید مراعات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ایک خاص سطح پر پہنچ کر اس عمل کی اپنی ہی منطق سامنے آئے گی۔
اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ مستقبل قریب میں امریکہ، ایران یا اپنے پرانے اتحادیوں سے منہ موڑ لے گا۔ تاہم ہر بار جب امریکہ ایک فریق سے تعلقات بنانے کی کوشش کرے گا تو دوسرے فریق سے تعلقات بگڑ جائیں گے اور خطے میں کشیدگی بڑھ جائے گی۔ کسی مقام پر جا کر ان پکتے ہوئے تضادات کو حل کرنا ہوگا۔

ایک وفادار اپوزیشن
امریکی پسپائی کی کیفیت میں اب تک ہونے والے مذاکرات کے نتائج ایران کے حق میں ہیں۔ امریکی کوئی بھی بڑی کامیابی حاصل کیے بغیر دشمنی ختم کرنے کا وعدہ کر رہے ہیں جبکہ ایران کو خطے کی اہم طاقت کے طور پر رسمی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔
معاہدے کے خاکے کے اعلان کے فوراً بعد حکمران اشرافیہ کے تمام دھڑوں کے اعلیٰ سرکاری اہلکاروں نے، سوائے شدید انتہاپسندوں کے، مذاکرات کاروں کی ٹیم اور ان کے حاصل کردہ ابتدائی نتائج کی تعریف کی۔
حسین شریعتمداری (رجعتی اخبار کیھان کا ایڈیٹر) جو ایرانی ریاست کے سخت گیر دھڑے کا نمائند ہ ہے، ان چند افراد میں سے تھا جنہوں نے ڈیل پر تنقید کی جسے اس نے ’’زین لگے گھوڑے‘‘ کے بدلے ’’پھٹی پرانی رسی‘‘ لینے کے مترادف قرار دیا۔ وہ ریاست کے زیادہ سخت گیر دھڑے کی کیفیت کی نمائندگی کر تا ہے جو اس معاہدے سے بہت کم مستفید ہونگے۔
اس بات کو تسلیم کر تے ہوئے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک سر کش لیکن متوازن بیان دیا اور ایران پر پابندیوں کے حوالے سے مزید مراعات کا مطالبہ کیا۔ تاہم خامنہ ای نے اس کے بعد مزید مصالحانہ لہجے میں کہا، ’’اگر وہ ایٹمی مذاکرات میں ابہام سے اجتنا ب کرتے ہیں تو اس تجربے کا مطلب یہ ہوگا کہ دوسرے معاملات میں ان سے مذاکرات کے امکانات موجود ہیں۔‘‘
Steve Bell 17.06.2014وہ بنیادی طور پر شام کی طرف اشارہ کر رہا تھا جہاں امریکہ کافی عرصے سے ایران، روس اور بشارالاسد کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ ایران اور امریکی سامراج کے درمیان تعلقات کی اصل نوعیت کو عیاں ہے۔ تمام تر سامراج مخالف پروپیگنڈے کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران کو امریکہ کے ساتھ کام کرنے میں کبھی بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ در حقیقت اگر ایران نہ ہوتا تو افغانستان اور عراق کی شکست امریکیوں کے لیے اس سے بھی زیادہ بھاری ہوتی اور عراق سے انخلا اس سے بھی زیادہ بھاری قیمت پر ہوتا۔ ایران کومغربی منڈیوں تک رسائی اور تیل اور صنعتی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس کے بدلے میں وہ خطے میں ’’استحکام‘‘ کی خاطر اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔
تاہم وہ یہ بات واضح طور پر جانتے ہیں کہ امریکہ سے کھل کر دوستی کے اور بھی نتائج ہیں۔ یہ ریاست کی داخلی پالیسی میں ایک اہم موڑ ہے۔ تیس سالوں تک ملاؤں نے امریکی سامراج کے خطرے کو قوم کو اپنے تابع کرنے، طبقاتی تضادات کو تحلیل کرنے اور اپنی آمریت کے طفیلی کردار کو چھپانے کے لیے استعمال کیا۔ لیکن امریکہ کے ساتھ نیا معاہدہ ان لوگوں کو مشتعل کرے گا جو ’’بڑا شیطان‘‘ کے خلاف ریاست کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ بہت سے لوگ جنہوں نے دہائیوں تک ریاست کی حمایت کی ا ب یہ سوال کر رہے ہیں، ’’تو پھر اتنے سالوں تک ہم نے ’مزاحمت ‘ کیوں کی؟‘‘
ریاست کے پاس راستہ بدلنے کے سوا کوئی اور آپشن بھی نہیں ہے۔ تاہم اسے ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا پڑے گا تاکہ کمزور داخلی استحکام برقرار رہے۔ اسی وجہ سے مذاکرات کو بار بار ملتوی کرنا پڑا تاکہ دو نوں اطراف کو اندرونی محاذپر ماحول سازگار بنانے کے لیے وقت مل سکے۔
در حقیقت دونوں اطراف گہرے اندرونی بحران کا شکار ہیں جس کی وجہ سے حتمی معاہدے کو بار بار ملتوی کرنا پڑا۔ ایران کھل کر پابندیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کررہا تھا جبکہ امریکہ فوری طور ایٹمی پروگرام سے پیچھے ہٹنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ کوئی بھی عوام کی نظروں میں شکست خوردہ نظر نہیں آنا چاہتا تھا۔ تاہم مذاکرات کے دوران ایک ’’عارضی مسودہ‘‘کے ذریعے طرفین اندرون خانہ ہزیمت اٹھائے بغیر اپنے اپنے مطالبات پر مصالحت کرنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ چالیں کب تک کارآمد ہوں گی ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ حالات میں اچانک اور تیز تبدیلیاں رسمی معاہدے پر دستخط کو مشکل، حتیٰ کہ ایک عرصے کے لیے ناممکن بنا سکتی ہیں لیکن اس سے وہ مادی حالات تبدیل نہیں ہوں گے جو اس معاہدے کی بنیاد ہیں۔

ایرانی معیشت
ایرانی ریاست پابندیوں کے اٹھنے کے بعد ملنے والے معاشی ریلیف پرانحصار کر رہی ہے تاکہ اس سے اندرونی طور پر ابھرنے والی مخالفت کو روکا جاسکے۔ ہر کوئی اس پیش رفت کی حمایت کرے گا۔ چھ سالوں کے معاشی بحران نے ایرانی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔ صرف تیل کے انفراسٹرکچر کوقبل از بحران کی سطح پر پہنچنے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ہلکی اور بھاری صنعت کی بڑی کمپنیوں کو اپنی پیداوار میں بڑے پیمانے پر کمی کرنا پڑی ہے۔ ایرانی اور بیرونی سرمایہ دار پابندیوں کے اٹھنے کی امید میں پہلے سے تیاری کر رہے ہیں۔ بڑی مغربی کمپنیاں پہلے سے ہی تیل اور انفراسٹرکچر کے پرکشش ٹھیکوں کو ہتھیانے کے لیے آپس میں لڑ رہی ہیں۔
20140222_MAD001اکانومسٹ کے مطابق امریکی کمپنیاں مقامی ٹھیکوں کے لیے ایران میں مقامی فرنٹ مین استعمال کر رہی ہیں۔ ذرائع نے اخبار کو بتا یا، ’’اگر ایٹمی معاہدہ ہوگیا تو آپ دیکھیں گے کہ امریکیوں نے راتوں رات بہترین منصوبو ں پر ایک سالہ سرمایہ کاری کا معاہدہ کرلیا ہے۔ یورپی سرمایہ کار قطار میں کھڑے ہونگے لیکن وہ ایگزون موبل اور شیوران کے ساتھ معاہدے کریں گے جیسا کہ لیبیا میں ہوا۔‘‘ ایک یورپی سرمایہ دار نے شکایت کرتے ہوئے کہا، ’’میں تو سمجھتا ہوں کہ امریکیوں نے ہمیں دھوکہ دیا ہے۔‘‘
تاہم ریاست نے اپنے لیے تمام تر دروازے کھلے رکھتے ہوئے حالیہ دنوں میں چین کے ساتھ تجارت کو 200 ارب ڈالر تک لے جانے کا معاہدہ کیا ہے۔ چینی سرمایہ کاروں کے سو رکنی وفد نے حالیہ دنوں میں ایران کا دورہ کیا تاکہ سرمایہ کاری کے امکانا ت کا جائزہ لے سکیں۔

ریاست کا مستقبل
داخلی طور پر ایران اس ایٹمی معاہدے کے اثرات سے مضبوط ہوگا۔ قومی وقار کی بحالی اور وحشیانہ اور تباہ کن قوتوں کے ہاتھوں برباد خطے میں ایک ’’غیر فرقہ وارانہ استحکام بخش قوت‘‘ کے طورپر ریاست خود کو عوام کے سامنے زیادہ تسلی بخش بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرے گی۔ اسی طرح معاشی ابھار کے ساتھ ساتھ ریاست کی گرفت ڈھیلی پڑنے سے لوگوں کو سانس لینے کا موقع ملے گا۔
تاہم اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ بے چینی کا خاتمہ ہوگا۔ دہائیوں کی جابرانہ حکومت نے آبادی کے بڑے حصے کو مشتعل کر رکھا ہے، بالخصوص نوجوانوں کو جنہیں انقلاب یا اس کے بعد کی جنگوں کے بارے میں کچھ نہیں پتا۔ ان کے نزدیک اسلامی جمہوریہ ایران دراصل آزادی، جمہوریت اور ایک اچھی زندگی کے راستے میں رکاوٹ ہے۔
ابتدائی معاہدے کے اعلان کی رات لگنے والے نعروں میں سے ایک یہ تھا، ’’اگلا معاہد ہ ہمارے شہری حقوق کے بارے میں ہوگا۔‘‘ حسن روحانی عوامی غم و غصے اور روز مرہ معاملات میں ریاست کی شدید گرفت کو ختم کرنے کے مطالبے کے نتیجے میں برسر اقتدار آیا تھا۔ اس کی الیکشن مہم کو لاکھوں نوجوانوں نے ہائی جیک کر لیا جو شہری آزادی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
’’موسم سرما ختم ہوچکا ہے‘‘ یہ وسیع پیمانے پر گردش کرنے والا ایک ٹیکسٹ میسج ہے جوبائیں بازو کا ایک مشہور انقلابی گیت ہے جو 2009ء کے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف تحریک کا ترانہ بن گیا تھا۔ یہ اس بات کی واضح نشانی ہے کہ لوگوں میں غم و غصہ کس حد تک مجتمع ہوچکا ہے۔

6th_day__green_condolence
2009ء میں ایرانی ریاست کے خلاف بڑے عوامی مظاہرے ہوئے تھے

بہت سے ایرانی اس معاہدے کو صرف امریکہ پر کاری ضرب کے طور پر نہیں بلکہ ریاست کے انتہائی دائیں بازو پر بھی کاری ضرب کے طور پر دیکھتے ہیں جنہوں نے لمبے عرصے تک امریکہ دشمنی کے ذریعے اندرونی بغاوت کو کچلنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا اظہار ایک اور نعرے سے ہوا جو بہت مشہور ہوگیا ہے، ’’کیھان (انتہائی دائیں بازو کا روایتی اخبار) اور اسرائیل ہم آپ سے تعزیت کرتے ہیں۔‘‘
اس سے ریاست کے سخت گیر دھڑے پر دباؤ کی غمازی ہوتی ہے۔ وہ واضح طور پر پچھلے عرصے میں کمزور ہوئے ہیں اور یہ عمل جاری رہے گا کیونکہ ایرانی حکمران طبقہ عالمی منڈی میں داخل ہونے کی تیار ی کر رہا ہے جہاں انہیں اپنے قدامت پرست رویوں کو تبدیل کرنا ہوگا۔ اس لیے ریاست کے اندر بحران جاری رہے گا۔
صدر حسن روحانی ان مذاکرات کے نتیجے میں واضح طور پر زیادہ طاقتور ہوا ہے۔ ایک طرف اسے انتہاپسندوں کو شکست دینے والا اور دوسری طرف ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھا جا تا ہے جس نے قومی وقار کا دفاع کیا اور پابندیوں کا خاتمہ کیا۔ لیکن یہ زیادہ عرصہ نہیں چلے گا۔ روحانی اس وعدے کے ساتھ اقتدار میں آیا تھا کہ وہ عوام کی معاشی مشکلات کا خاتمہ کرے گا اور نہیں شہری آزادیاں دے گا۔ ان میں سے کوئی بھی وعدہ پورا نہیں ہوا اور جب معاہدے پر عمل در آمد شروع ہوگا تو وہ توقعات پھر نمو دار ہوں گی۔
ریاست اس بات کو واضح طور سمجھتی ہے کہ اسے سماج پر اپنی گرفت کو ڈھیلی کرنا ہوگا تاکہ لوگوں کا غم و غصہ نکلتا رہے۔ 2009ء کی گرین موومنٹ اور عرب انقلاب کی وارننگ سے اس نے یہ بات سمجھی ہے کہ اگر اس نے اقتدار میں رہنا ہے تو اسے اپنی روش تبدیل کرنا ہوگی۔ تاہم سماج کو کھولنے کی کوئی بھی کوشش عوامی غم و غصے کے پھٹنے کا باعث بن سکتی ہے جو اپنے اظہار کا راستہ ڈھونڈ رہا ہے۔
حسن روحانی کی حکومت کی نرم حکمت عملی کا نتیجہ یہ ہے کہ پچھلے سال، گرین موومنٹ کی شکست کے بعد، سب سے زیادہ مظاہرے ہوئے۔ پچھلے موسم خزاں میں حکومت کو کئی مواقع پر شدید دھچکا لگا۔ ہزاروں لوگوں نے خواتین پر رجعتی مذہبی ٹولوں کی طرف سے تیزاب کے حملوں کے خلاف مظاہرے کیے۔ اس کے علاوہ طلبہ کے دن کے موقع پر طلبہ نے کھلی سر کشی کی اور چند دن بعد تہران یونیورسٹی میں حسین شریعتمداری کے خلاف مظاہرہ ہوا جسے براہ راست ٹی وی پر بھی دکھایا گیا۔

اگر محنت کش طبقہ حرکت میں آتا ہے
سب سے اہم بات یہ ہے کہ پچھلے سال محنت کش طبقے کی تحریک کی بحالی کے ابتدائی مراحل دیکھنے میں آئے جو 2009ء کے بعد جمود کا شکار تھی۔ یہ حکومت کی پالیسیوں کا براہ راست نتیجہ ہے۔
DoNotReadThis-Xروحانی کی حکومت وقتی طور پرشاید عوام دوست دکھائی دے لیکن اس کی اصل وفاداری بڑے سرمائے کے ساتھ ہے۔ اس سال حکومت نے نجکاری سے 39 اَرب ڈالر آمدنی کا تخمینہ لگا یا تھا جو اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ میں سب سے بڑی آمدن تھی۔ آخر میں انہیں معیشت کی کمزور کیفیت کی وجہ سے پیچھے ہٹنا پڑا لیکن اس سے حکومت کی سمت کا تعین ہوتا ہے۔
روحانی کی حکومت نے بنیادی اجنا س پر سبسڈی کو مزید کم کر دیا ہے جبکہ سبسڈی کی جگہ لینے والی امدادی رقوم کو تین سال سے ایک ہی سطح پر برقرار رکھا ہوا ہے۔ اس عرصے میں افراط زر 175 فیصد رہا ہے۔
پچھلے مہینوں میں روٹی کی قیمتیں مزید 30 فیصد بڑھی ہیں۔ پیٹرول کی قیمتیں بھی اس سال پانچ سے دس فیصد بڑھیں گی جبکہ پیٹرول کی فروخت کو لبرلائز کیا جا رہا ہے جس کایقینی طور پر مطلب مزید مہنگائی ہے۔ تعلیمی بجٹ میں صرف 14 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جو افراط زر کے تناسب سے بہت کم ہے۔ اسی اثنا میں دفاعی اخراجات میں 33 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
روحانی حکومت نے ملازمتوں کی ضمانت پر بھی حملے جاری رکھے ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ 93 فیصد مزدور عارضی (سہ ماہی، ماہانہ، ہفتہ وار یا روزانہ) ملازمت اور پچاس فیصد مزدور ’’بلینک کنٹریکٹ‘‘ کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں جن کو کسی طرح کے کوئی حقوق حاصل نہیں ہیں۔
یہ حالات بمع بیروزگاری بڑھتی ہوئی مزدور تحریک کی بنیاد بن رہے ہیں۔ پچھلے سال نجکاری اور محنت کشوں کے حالات زندگی پر حملوں کے خلاف کان کنوں کی بڑی ہڑتالیں دیکھنے میں آئیں۔ ان میں سب سے بڑی ہڑتال بافق شہر میں ہوئی جہاں پانچ ہزار کان کنوں نے بافق کے ہزاروں شہریو ں کی مدد سے پچھلے سال انتالیس دنوں تک ہڑتال کی (انقلاب ایران کے بعد سب سے بڑی ہڑتال ) اور اس کے علاوہ اب تک متعدد چھوٹی ہڑتالیں بھی ہوئی ہیں۔
چادر ملو کے ہزاروں کان کن پچھلے سال متعدد بار ہڑتال پر گئے۔ تاہم حکومت نے ان کے پانچ رہنماؤں کو ایک ایک سال قید اور کوڑوں کی سزا سنائی ہے۔ بافق کے مزدوروں کے ساتھ بھی یہی ہوسکتا ہے جن میں سے بہت سے مزدوروں پر سنگین جرائم کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
اس کے بعد جنوری، فروری اور مارچ میں ہزاروں اساتذہ نے تنخواہوں میں افراط زر سے کم اضافے اور غیر مساوی مراعات کے خلاف قومی سطح پر تحریک شروع کی۔ تحریک نے ایران کے بڑے شہروں میں متعدد ہڑتالوں، بڑے مظاہروں اور بہت سے دوسرے شہروں میں چھوٹے مظاہروں کو جنم دیا۔ یہ مزدور تحریک کی اہم ترین مثالیں ہیں جو 2009ء کے بعد اپنے عروج پر ہے اور جو مستقبل کے واقعات کا پیش خیمہ ہے۔
سالوں تک لوگوں کو یہ تلقین کی گئی کہ داخلی بغاوت سے قوم امریکی سامراج کے خلاف کمزور ہوگی اس لیے انہیں اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے کم اجرتوں اور کمتر معیار زندگی پر گزارہ کرنا چاہئے۔ تاہم ایک بار جب حتمی معاہدہ ہوگا تو لوگ بہت کچھ کا تقاضا کریں گے۔ وہ مالکان سے سالوں کی واجب الادا اجرتوں اور مراعات کی ادائیگی کا پوچھیں گے۔ دوسری طرف حکمران طبقہ اپنے منافعوں کے دفاع میں مزاحمت کرے گا۔ پہلے سے ہی علی طیب (نیا وزیر معاشی امور) توقعات کو کم کرنے کے لیے کوشش کر رہا ہے، ’’یہ سوچنا انتہائی سادگی ہوگی کہ پابندیوں کے اٹھنے سے ہماری ساری مشکلات ختم ہوجائیں گی۔‘‘
عالمی سرمایہ داری کے بحران کی کیفیت میں، جہاں تما م تر بڑی معیشتیں زوال پذیر ہیں یا جمود کا شکار ہیں، ایران میں مسلسل معاشی ابھار صرف اجرتوں میں مزید کمی اور پیدواریت کو بڑھانے سے ہی ممکن ہے۔ بہ الفاظ دیگر محنت کش طبقے کے استحصال کو مزید بڑھاکر۔
ابتدائی مراحل میں سرمایہ کاری کے ابھار اور سالوں کے جمود کے بعد معا شی سرگرمی کی وجہ سے اس کے اثرات مدہم ہونگیں لیکن جلد یا بدیر سرمایہ دارانہ نظام کے تحت زندگی کے حقائق محنت کش طبقے پر اپنا دباؤ ڈالنا شروع کریں گے۔ عالمی معاشی زوال کی وجہ سے یہ دباؤ مزید بڑھے گا۔ طبقاتی فرق مزید واضح ہوجائے گا کیونکہ ریاست مزید سامراج مخالف نعرے بازی کی آڑ میں چھپ نہیں سکے گی۔ یہ ایران میں طبقاتی جد وجہد کے نئے دور کا آغاز ہوگا جو ایک طرف اَرب پتی ملاؤں کی منافقت اور دوسری طرف اصلاح پسندوں کی غداری کو عیاں کرے گا۔

سرمایہ داری کا دیوالیہ پن
مشرق وسطیٰ میں تما م تر انتشار کی وجہ سرمایہ داری کی خطے کے سب سے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں نا اہلی اور نامرادی ہے۔ امریکی سامراج نے پورے خطے کو اپنی نجی شوٹنگ رینج کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ایک کے بعد دوسرے ملک پر حملہ کرنا، لاکھوں لوگوں کو قتل کرنا اور تہذیب یافتہ زندگی کی بنیادوں کو تباہ کرنا اس کا وطیرہ رہا ہے۔ چینی کے برتنوں کی دکان میں ہاتھی کی مانند اس نے پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر دیا ہے اور ایک ممکنہ علاقائی جنگ کی راہ ہموار کی ہے۔
اقتدار پر براجمان اس کے گماشتہ حکمران ٹولے خطے کے محنت کشوں کے جسم پر طفیلیوں کی مانند ہیں۔ یہ حکومتیں اقتدار میں رہنے کے لیے پورے خطے کو بھی خون میں ڈبونے سے نہیں ہچکچائیں گی۔ بربریت، آگ اور خون کی اس ہولی میں ایران واحد مستحکم قوت کے طور پر موجود ہے لیکن صرف اس وجہ سے کہ باقی حکمران خود گل سڑ کر کمزور ہوچکے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی بنیاد بھی ہر ملک کی طرح طبقاتی تفریق پر ہے۔
arab spring protestorجب تک انقلابی تحریکیں پسپائی کا شکار ہیں، ان ریاستوں کی رجعتی سازشیں معمول کا حصہ ہوں گی۔ خطے کی تمام ریاستیں اپنے وجود کا جواز کھو چکی ہیں۔ جلد یا بدیر ایک کے بعد دوسرے ملک میں عوام کی انقلابی تحریکیں اٹھیں گی۔ صرف طبقاتی بنیادوں پر ایک تحریک ہی خطے کے انتشار اور بربادی کا خاتمہ کر سکتی ہے۔

متعلقہ:

ایران: ’’مرگ بر امریکہ‘‘ اب کہاں؟

داخلی بحران کے سفارتی مضمرات

’’دہشت گردی کے خاتمے‘‘ کا مغالطہ

کیوبا امریکہ سفارتی تعلقات کی بحالی، مضمرات اور تناظر

شام: اسد کیوں جیت رہا ہے؟

One Comment

  1. Pingback: تابکاری، سفارتکاری اور عیاری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*