انقلابِ کیوبا خطرے میں؟

| تحریر: لال خان |

اس ہفتے امریکی صدر اوباما کے دورہ کیوبا کو تاریخی قرار دیا جا رہا ہے۔کا رپوریٹ میڈیا اور سامراجی دانشور تاثر دے رہے ہیں کہ’ ’سوشلزم کے آخری گڑھ‘‘ میں سرمایہ داری کی بحالی کا آغاز ہو چکا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے شدید بحران کے اس عہد میں یہ پراپیگنڈا خصوصی طور پر کیا جارہا ہے تاکہ دنیا بھر میں محنت کش اور نوجوان جس متبادل نظام کی جدوجہد کر رہے ہیں یا اس جانب راغب ہو رہے ہیں، اس رجحان کو سبوتاژ کیا جا سکے۔ تاہم کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی!

cuba_usa_obama_tripیہ 1928ء کے بعد کسی برسر اقتدار امریکی صدر کا پہلا دورہ کیوبا تھا۔ اوباما اور راؤل کاسترو (فیڈل کاسترو کا چھوٹا بھائی) کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں 2014ء میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کا آغاز ہوا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات انقلابِ کیوبا کے کچھ عرصے بعد 1961ء میں منقطع ہوئے تھے۔ فیڈل کاسترو اور چے گویرا کی قیات میں برپا ہونے والے اس انقلاب کے ذریعے کیوبا میں سے امریکی سامراج کے کٹھ پتلی جنرل بیٹسٹا کی آمریت کو اکھاڑا گیا تھا۔کیوبا پر امریکہ کی جانب سے سخت معاشی پابندیاں اسی وقت سے عائد ہیں اور کیوبن حکومت کے مطابق گزشتہ تقریباً پانچ دہائیوں کے دوران کیوبا کو 1100ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
کیوبا میں انقلاب کے بعد سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کیا گیا اور اس وقت کے سوویت یونین کی طرز پر ہی سہی لیکن منصوبہ بند معیشت نافذ کی گئی۔ آج بھی بڑی حد تک کیوبا کا طرز معیشت یہی ہے جسے امریکی سامراج اب ’’سافٹ وار‘‘ کی حکمت عملی سے ختم کرنا چاہتا ہے۔ کیوبا سے ’’مذاکرات‘‘ کا آغاز اور پچھلے اتوار کو اوباما کا تین روزہ دورہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ راؤل کاسترو کیوبا کے سیاسی نظام میں تبدیلی کے بغیر امریکہ کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات کی بحالی اور معاشی پابندیوں کا خاتمہ چاہتا ہے۔ کیوبن حکومت اپنے جزائر پر سے امریکی قبضہ بھی ختم کروانا چاہتی ہے جن میں سے ایک پر گوانتانامو کی بدنام زمانہ جیل قائم ہے۔اوباما کیوبا پر سے معاشی پابندیاں اٹھانے پر رضامند نظر آتا ہے لیکن ری پبلکن پارٹی کی اکثریت پر مبنی امریکی کانگریس اس پر تیار نہیں۔ اس لحاظ سے اوباما کے دورے میں علامتی’’خیر سگالی‘‘ کے علاوہ کیوبا کے لئے کچھ نہیں تھا۔
اقتدار میں آنے کے بعد فیڈل کاسترو نے اس وقت کے امریکی صدر آئزن ہاور سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد فیڈل کاسترو کو قتل کروانے کی مسلسل کوشش امریکی سی آئی اے کی جانب سے کی جاتی رہی۔ کبھی اس کے سگار میں بم رکھا گیا تو کبھی اس کی کافی میں زہر ملایا گیا۔ پھر کیوبا کے علاقے ’بے آف پگز‘ پر حملہ کروایا گیا جو بری طرح ناکام ہوا۔
انقلابِ کیوبا (1953-59ء) کی شروعات فیڈل کاسترو اور چے گویرا کی سربراہی میں ایک مسلح سرکشی کے ذریعے ہوئی تھی جسے ’’26 جولائی کی تحریک‘‘کہا جاتا ہے۔ یہ سرکشی اتار چڑھاؤکے ساتھ یکم جنوری 1959ء تک جاری رہی جب امریکی کٹھ پتلی جنرل بیٹسٹا کا تختہ الٹ کر انقلابی حکومت کا اعلان کیا گیا۔ تاہم انقلاب کی حتمی کامیابی میں دارلحکومت ہوانااور دوسرے بڑے شہروں کے محنت کشوں کا کردار کلیدی تھا جن کی ہڑتال نے سرمایہ دارانہ ریاست کو مفلوج کر دیا تھا۔ انقلابِ کیوبا کے لاطینی امریکہ اور دنیا بھر میں دور رس سیاسی اثرات مرتب ہوئے۔
انقلاب کے بعد بیٹسٹا دور میں عوام پر جبر و تشدد کے پہاڑ توڑنے والے سینکڑوں ریاستی اہلکاروں کو خصوصی عدالتوں کے کٹہروں میں کھڑا کیا گیا، سب کے سامنے ٹرائل ہوئے اور فوری سزائیں دی گئیں۔ اسی طرح انقلاب کے بعد ٹھوس معاشی اور سماجی ترقی کا آغاز ہوا۔ سیاہ فام آبادی اور خواتین کو مساوی حقوق دئیے گئے۔ بڑے پیمانے پر رہائشی فلیٹس، تعلیمی ادارے، ہسپتال اور دوسرا بنیادی انفراسٹرکچر تعمیر کیا گیا۔ 1959ء سے پہلے کیوبا کی آدھی سے زائد آبادی نا خواندہ تھی، 1960ء تک ملک کا ہر بچہ زیر تعلیم تھا اور تعلیم بالغاں کے ہنگامی منصوبے کے تحت شرح خواندگی تقریباً سو فیصد تک جا پہنچی تھی۔ ہر شہری کو صاف پانی اور مناسب غذا کی فراہمی انقلابی حکومت کی جانب سے مختصر عرصے میں یقینی بنائی گئی۔ علاج کو مفت قرار دیا گیا اور دنیا کا جدید ترین ہیلتھ کیئر سسٹم تعمیر کیا گیا جو آج بھی اپنی مثال آپ ہے۔
انقلاب کے وقت کیوبا کی زرخیز ترین 75 فیصد زمین سامراجی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے قبضے میں تھی جسے نیشنلائز کرنے کا آغاز فروری 1959ء کے زرعی قانون کی شق 17 کے تحت کیا گیا۔ اسی طرح بڑے اور درمیانے سائز کی تمام کمپنیاں بھی نیشنلائز کی گئیں، ان میں فیڈل کاسترو کے خاندان کی اپنی کمپنی بھی شامل تھی۔ 1960ء کے اواخر تھا انقلابی حکومت 25 ارب ڈالر مالیت کی پراپرٹی قومی ملکیت میں لے چکی تھی جو اس سے قبل چند سرمایہ دار اور زمیندار خاندانوں اور سامراجی کمپنیوں کے تسلط میں تھی۔ 6 اگست 1960ء کو انقلابی حکومت نے تمام غیر ملکی پراپرٹی نیشنلائز کرنے کا اعلان کیا جن میں بڑا حصہ امریکی کمپنیوں کا تھا۔ 1961ء میں حکومت نے مذہبی تنظیموں، بالخصوص رومن کیتھولک چرچ کی تمام جائیداد بھی نیشنلائز کر لی اور مذہب کو ریاست سے الگ کر دیا گیا۔ یہ تمام تر زمینیں اور ذرائع پیداوار، جو اسے قبل کیوبا کے محنت کش عوام کا خون نچوڑنے کے لئے استعمال ہوتے تھے، اب انہی عوام کی بہتری اور فلاح کے لئے بروئے کار لائے گئے۔ علاج اور تعلیم کے کاروبار پر سختی سے پابندی عائد کی گئی اور ان سہولیات کو بنیادی انسانی حقوق اور ریاست کی ذمہ داری قرار دیا گیا۔ 3 اکتوبر 1965ء کو فیڈل کاسترو کمیونسٹ پارٹی آف کیوبا کا پہلا جنرل سیکرٹری بنا اور 2008ء تک کیوبا کا صدر رہا۔
انقلاب کے بعد اپنائی گئی خارجہ پالیسی کے مضمرات بین الاقوامی تھے۔ اس پالیسی کے تحت عالمی سامراج سے برسر پیکار تمام غریب ممالک اور قومی آزادی کی تحریکوں کی ہر ممکن حمایت کا اعلان کیا گیا۔ گھانا، نکاراگوا، یمن، انگولا اور ویت نام وغیرہ میں 60 ہزار کیوبن فوجی حریت پسندوں کے شانہ بشانہ لڑنے کے لئے بھیجے گئے۔ کیوبن ڈاکٹر دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ مہارت اور انتھک محنت کی وجہ سے مشہور ہیں، 2005ء کے زلزلے کے بعد کیوبا نے ڈھائی ہزار ڈاکٹر کشمیر بھیجے جنہوں نے فیلڈ ہسپتالوں میں لاکھوں متاثرین کی مدد کی۔ کشمیر کے نوجوانوں کوکیوبا میں میڈیکل کی تعلیم دینے کے لئے کیوبن حکومت نے سینکڑوں وظیفے بھی جاری کئے۔
فروری 1962ء میں امریکی پابندیوں کے نفاذ کے بعد کیوبا باضابطہ طور پر سوویت بلاک میں چلا گیا اور سوویت یونین کے ساتھ 1991ء کے اس کے انتہائی قریبی معاشی اور سیاسی تعلقات قائم رہے۔ سوویت یونین کی فراغدلانہ مالی، سیاسی اور تکنیکی امداد کے ساتھ ساتھ اس تعلق کے کئی منفی اثرات بھی تھے۔ اس عہد کا سوویت یونین لینن اور ٹراٹسکی کی جمہوری مزدور ریاست نہ تھا بلکہ افسر شاہی کے شکنجے میں جکڑا جا چکا تھا۔ چنانچہ ناگزیر طور پر کیوبا کا ریاستی ڈھانچہ بھی اسی طرز پر استوار ہونے لگا۔اسی بنیاد پر چے گویرا کے سوویت افسر شاہی سے تضادات پیدا ہوئے۔ چے گویرا کیوبا کو سوویت یونین کے تسلط سے آزاد ایک جمہوری مزدور ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتا تھا۔
1991ء میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد کیوبا کی معیشت بری طرح سے متاثر ہوئی اور یہ عالمی طور پر تنہا ہو گیا۔ کیوبا میں بحران کا یہ عہد ’’سپیشل پیرئیڈ‘‘ کہلاتا ہے۔ تاہم چند سالوں بعد وینزویلا میں ہوگو شاویز سامراج کے خلاف جدوجہد اور سوشلزم کے نعرے کے تحت برسر اقتدار آیا اور کیوبا کے ساتھ دوستانہ مراسم قائم کئے۔ وینزویلا کی طرف سے سستے تیل اور دوسری مالی و تجارتی امداد نے کیوبا کو سنبھلنے کا موقع دیا۔ شاویز کے انتقال کے بعد ادھوری اور مصالحت پر مبنی پالیسیوں کی وجہ سے وینزویلا میں سوشلسٹ پارٹی کی حکومت شدید بحران اور عدم استحکام کا شکار ہے اور کیوبا کی منصوبہ بند معیشت ایک بار پھر ہر طرف سے سرمایہ داری کے نرغے میں ہے۔
کیوبن ریاست کا ایک دھڑا ’’چینی ماڈل‘‘ کی طرز پر سرمایہ داری کی ’’محدود‘‘ بحالی چاہتا ہے۔ اوباما اسی دھڑے کے ذریعے واردات کرنا چاہتا ہے۔ ایسی کوئی پالیسی حتمی طور پر سرمایہ داری کی مکمل بحالی پر منتج ہو گی اور تعلیم ، علاج اور روزگار سمیت منصوبہ بند معیشت کی تمام حاصلات رفتہ رفتہ ضائع ہو جائیں گی۔ تاہم ریاست اور کمیونسٹ پارٹی میں ابھی بھی مضبوط دھڑے موجود ہیں جو منصوبہ بند معیشت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
کیوبا میں سرمایہ داری کی بحالی کے لئے امریکی سامراج کی ’’سافٹ وار‘‘ پالیسی کی کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ نام نہاد ’’چینی ماڈل‘‘ کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں اور چینی معیشت تیزی سے زوال پزیر ہے۔ ایسے میں ’’چینی ماڈل‘‘ سے وابستہ بہت سی خوش فہمیاں دور ہو رہی ہیں۔آخری تجزئیے میں کیوبا کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی مزاحمت اور عالمی سطح پر انقلابی تحریکوں کی کامیابی ہی انقلابِ کیوبا کی بقا کی ضامن ہو سکتی ہے۔

متعلقہ:

امریکہ کیوبا سفارتی تعلقات کا مستقبل

One Comment

  1. Pingback: چے گویرا کی انقلابی میراث

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*