امریکہ کا بحران

تحریر: PTUDC امریکہ

مورخہ 24 جنوری 2018ء کو لکھا گیا۔

20 جنوری 2018ء کو ٹرمپ انتظامیہ کا ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ اسی روز صبح بارہ بجے امریکہ میں وفاقی حکومت کا شٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے۔ یہ اس ملک کی جدید تاریخ میں اٹھارہواں شٹ ڈاؤن ہے۔ لیکن یہ پہلا ایسا واقعہ ہے جب حکومت کے تینوں حصے یعنی وائٹ ہاؤس، ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اکثریت ایک ہی پارٹی (ریپبلکن) کے پاس ہوتے ہوئے حکومت بند ہوئی ہے۔ اگرچہ یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے لیکن اس کے اثرات میڈیا کی جانب سے پھیلائی گئی سنسنی سے کہیں کم ہیں۔
امریکی وفاقی حکومت کے مالی سال کا آغاز یکم اکتوبر سے ہوتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے سالانہ بجٹ منظور ی میں ناکامی کی وجہ سے کانگریس وقتی اور قلیل مدتی مالیاتی بل پاس کر کے حکومت کو فنڈز مہیا کر رہی تھی جو 19 جنوری تک قابل عمل تھے اور کانگریس اسے 16 فروری تک توسیع دینے کی کوشش کر رہی تھی۔ یہ توسیع ایوان نمائندگان میں تو منظور ہو گئی لیکن سینیٹ میں درکار60 ووٹ نہیں حاصل کر سکی، جس کے لیے سینٹ میں اقلیتی جماعت ڈیموکریٹ کا تعاون ضروری تھا۔ ڈیمو کریٹس اس شٹ ڈاؤن کے ذریعے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش رہے ہیں۔ 2013ء میں بھی ریپبلکن پارٹی کی جانب سے اوباما کیئر کی فنڈنگ روکنے کی کوششں کے نتیجے میں حکومت 16 دن تک بند رہی تھی۔
شٹ ڈاؤن سے مسلح افواج جیسے اہم وفاقی ادارے اور ہنگامی سروسز متاثر نہیں ہوں گی۔ لیکن خواتین اور بچوں کے لیے خوراک کی فراہمی جیسے کئی فلاحی پروگراموں میں رکاوٹ آجائے گی۔ اس طرح تعلیم، ٹرانسپورٹ اور کئی دوسری وزارتوں کے محنت کشوں کی بڑی تعداد کو اس مدت کی تنخواہ نہیں ملے گی۔ اس شٹ ڈاؤن کے دوران کانگریس کے ممبران بھاری تنخواہیں بٹورتے رہیں گے جبکہ کم اجرت والے کئی وفاقی ملازمین کی تنخواہیں بند رہیں گی۔
ایک مستقل بجٹ کو پاس کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ڈیمو کریٹک پارٹی کی جانب سے ڈاکا (ڈیفرڈ ایکشن فار چائلڈہڈ ارائیول) پالیسی کو برقرار رکھنا ہے جسے ریپبلکن ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ڈاکا پالیسی ان تارکین وطن کو قانونی تحفظ فراہم کرتی ہے جو بچپن میں غیر قانونی طور پر ملک میں آئے تھے۔ 2017ء میں تقریباً آٹھ لاکھ افراد اس پالیسی کے تحت رجسٹرڈ ہوئے ہیں اور اب ان کے سر پر ڈی پورٹیشن کی تلوار لٹک رہی ہے۔ ان لوگوں نے اپنی تمام بالغ زندگی امریکہ میں گزاری ہے اور اب انہیں جبراً ان ممالک میں ملک بدر کیا جا سکتا ہے جہاں وہ بالکل اجنبی ہیں۔ دوسری جانب ریپبلکن، بالخصوص وائٹ ہاؤس ڈاکا پر لچک کے بدلے میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے لیے فنڈز کی منظوری چاہتے ہیں کیونکہ بارڈر پر دیوار تعمیر کرنا ٹرمپ کے انتخابی مشور کا بنیادی نقطہ تھا۔ اگرچہ اس نے وعدہ کیا تھا کہ اس دیوار کی تعمیر کی لاگت بھی میکسیکو ادا کرے گا۔ بورژوا ریاست کے نقطہ نظر سے بھی یہ دیوار ایک بیہودہ اور مضحکہ خیز منصوبہ ہے اور سنجیدہ پالیسی ساز یہ بخوبی جانتے ہیں لیکن یہ ٹرمپ کے پاگل پن کا اہم حصہ ہے۔
انتخانی مہم میں ٹرمپ نے ننگی نسل پرستی اور امیگرینٹ مخالفت سے سماج کی کئی پسماندہ پرتوں کو اپنی جانب مبذول کیا تھا اور ان پرتوں کو ساتھ رکھنے کے لیے یہ اب اس کی ضرورت بھی ہے۔ ٹرمپ کی طرف سے حال ہی میں افریقہ اور کریبین کے ممالک کے لیے غلاظت بھری زبان استعمال کرنا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ لیکن ڈیمو کریٹک پارٹی کی جانب سے ان تارکین وطن کی حمایت بھی انتہائی منافقت پر مبنی ہے اور امیگرینٹ کمیونٹی کے ووٹ برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔ امریکہ کی تاریخ میں ڈی پورٹیشن کا سب سے بڑا پروگرام ڈیمو کریٹک صدر اوباما کے دور میں ہی جاری ہوا جس میں 25 لاکھ لوگوں کو جبراً واپس بھیجا گیا۔ تارکین وطن اور بالخصوص قانونی حیثیت سے محروم تارکین وطن امریکی سرمایہ داری کے لیے ناگزیر ہیں۔ ایک طرف انفارمیشن ٹیکنالوجی سے لیکر صحت اور دوسری جدید ترین صنعتیں بڑے پیمانے پر دوسرے ممالک سے آئے محنت کشوں پر منحصر ہیں تو دوسری طرف زراعت، تعمیرات اور دوسرے سخت جسمانی محنت والے کاموں میں غیر قانوں تارکین وطن کا بد ترین استحصال کر کے بھاری شرح منافع حاصل کی جاتی ہے۔ خود صدر ٹرمپ کی ملکیت ‘عیاشی کے کلبوں اور ہوٹلوں میں کام کرنے والوں کی اکثریت غیر ملکی محنت کشوں پر مشتمل ہے۔ اندازے کے مطابق اس وقت ملک میں ایک کروڑ بیس لاکھ کے قریب غیر قانونی تارکین وطن موجود ہیں۔ جہاں ان کا استحصال سرمایہ داری کے لیے ضروری ہے وہیں ان کو مسلسل خوف میں رکھ کر ہی اس استحصال کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب ان تارکین وطن کے خلاف نفرت کو ابھار کر امریکی محنت کشوں کی طبقاتی جڑت اور جدوجہد کو کمزور کیا جاتا ہے۔ امریکی محنت کشوں کو مسلسل ڈرایا جاتا ہے کہ غیر ملکی محنت کش ان کی نوکریاں چھین لیں گے چناچہ انہیں کم اجرتوں اور مراعات پر سمجھوتہ کرنا چاہیے۔
امریکی محنت کشوں، بالخصوص انحطاط کا شکار فولاد، بھاری مصنوعات اور کا نکنی کے محنت کشوں کی بڑی تعداد نے ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا لیکن ایک سال گزرنے کے بعد محنت کشوں کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملا۔ مختلف جائزوں کے مطابق تقریباً 35 فیصد امریکی ٹرمپ کی کارکردگی کو مثبت قرار دے رہے ہیں، جو کہ امریکی تاریخ میں کسی بھی صدر کی پہلے برس میں بد ترین شرح مقبولیت ہے۔ جبکہ سرمایہ دار طبقہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہا اور سٹاک مارکیٹ تمام ریکارڈ توڑ رہی ہے جو سرمایہ داروں کے جشن کا اظہار ہے۔ حکومت میں آتے ہی ٹرمپ نے صنعتوں اور کاروبار پر ماحولیات اور صنعتی سیفٹی کی بہت سے ریگولیشن کا خاتمہ کر دیا تھا۔ مارچ 2017ء میں اس نے ’فیئر پلے اینڈ سیف ورک پلیس ایکٹ‘ کا خاتمہ کیا جس کی رو سے وفاقی حکومت کے لیے کام کرنے والے ٹھیکہ دار لیبر قوانین اور سیفٹی کی خلاف ورزیوں کوروکنے کے مجاز تھے۔ اکتوبر میں ٹرمپ انتظامیہ نے ا وور ٹائم کے ایک کے قانون میں تبدیلی کے ارادے کا ا علان کیا تھا جس کی رو سے ایک کروڑ بیس لاکھ محنت کشوں کو اوور ٹائم مل رہا ہے۔ اس کے علاوہ بینکوں اور کریڈٹ کارڈ کمپنیوں کے فراڈ کوصارفین کی قانونی چارہ جوئی سے بچانے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ سرمایہ داروں کے لیے سب سے بڑا تحفہ 2017ء کے اواخر میں متعارف کروائی جانے والی ٹیکس ’اصلاحات‘ ہیں جن سے کارپوریٹ انکم ٹیکس35 فیصد سے کم ہو کر20 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ٹیکس قوانین میں مختلف چور دروازوں کی وجہ سے حقیقی شرح کہیں کم ہے اور بہت سی کارپوریشنز برائے نام ہی ٹیکس ادا کرتی ہیں۔ اسی بِل میں ہی ہیلتھ انشورنس لینے کی انفرادی پابندی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے حکومت کو سبسڈی کی مد میں بڑی بچت ہو گی۔ اندازے کے مطابق اس کے نتیجے میں 2027ء تک مزید ایک کروڑ تیس لاکھ امریکی ہیلھ انشورنس سے محروم ہو جائیں گے۔
جہاں یہ حالیہ شٹ ڈاؤن زیادہ ڈرامائی اہمیت کا حامل ہے وہیں یہ زیادہ دیر جاری بھی نہیں رہ سکتا۔ مذاکرات جاری ہیں اور جلد ہی دونوں پارٹیاں کسی حل پر متفق ہو جائیں گی، کیونکہ دونوں پارٹیاں ہی سرمایہ داروں کی نمائندہ اورآلہ کار ہیں۔ جہاں ان کے باہمی اختلافات سرمایہ داروں کے مختلف دھڑوں کے مفادات اور منافعوں اور سرمایہ دارانہ ریاست کو چلانے کے مختلف طریقوں کے ہیں وہیں دوسری جانب دونوں پارٹیاں محنت کشوں اور امریکی عوام کے مختلف حصوں اور حلقوں کو اپنے اپنے انداز سے دھوکہ دے کر سرمایہ دارانہ اقتدار کو استحکام اور طوالت دیتی ہیں۔ سماج میں ٹرمپ کے خلاف پہلے سے موجود نفرت اور غصہ بڑھتاجا رہا ہے۔ 20جنوری کو ہی ملک گیر خواتین مارچ میں لاکھوں کی شرکت اس نفرت کا ایک اظہار ہے۔ اس وقت ڈیمو کریٹک پارٹی اس نفرت کو کیش کروا کر رواں برس ہونے والے کانگریس کے انتخابات میں مزید نشستیں جیتنے کی کوشش میں ہے۔ اس شٹ ڈاؤن پر ڈیمو کریٹک پارٹی کی ناگزیر ڈیل ان کو مزید بے نقاب کرے گی۔ تاریخ بہت کفایت شعار ہوتی ہے اور ٹرمپ کے خلاف نفرت سارے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف نفرت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ امریکی پرولتاریہ کی انقلابی تحریک کے آگے دنیا کی تاریخ کی سب سے طاقتور ریاست بھی کھڑی نہیں ہو سکے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*