ازخود نوٹسوں کی بھرمار

تحریر: لال خان

جمعہ 7 دسمبر کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کافی عرصے بعد اپنے ریمارکس میں یہ تسلیم کیا ہے کہ ’’جج اور عدالتیں غلطیوں سے پاک نہیں۔ از خود نوٹس کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنا چاہیے۔‘‘ اول تو عدلیہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اور ہوتا چلا آ رہا ہے اس کو جسٹس صاحب کے ان ریمارکس سے ماند نہیں کہا جاسکتا۔ یہاں کے غریب انصاف کے لئے بھٹکتے ہیں، نسل در نسل ایک ہی مقدمے میں ساری پونجیاں لگ جاتی ہیں اور تقریباً ہر چیف جسٹس نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد عدلیہ میں وسیع کرپشن کا رونا رویا ہے۔ دوسری جانب شاید چیف جسٹس کو یہ اندازہ بھی ہوگیا ہے کہ از خود نوٹس لینے سے سماج کے سلگتے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ چیف جسٹس نے جس جوش اور برق رفتاری سے ہر شعبے کو از خود نوٹسوں سے درست کرنے کی کوشش کی ہے وہ ویسے کے ویسے پڑے ہیں۔ ہسپتالوں کی بدحالی سے لے کر تجاوزات اور قبضہ مافیا تک کا جبر جوں کا توں قائم ہے۔ نہ سرکاری ملازمین کو’’بڑوں‘‘ کے عتاب سے کوئی ریلیف ہے نہ ہی کرپشن اور دوسری سماجی برائیاں کم ہوئی ہیں۔ نکتہ یہ ہے کہ انفرادی طور پر کوئی بڑے سے بڑا ریاستی اہلکار بھی اپنی سوچ کے مطابق فیصلے لے کر بہتری کی کوشش تو کر سکتا ہے لیکن جس نظام کی رگوں اور شریانوں میں بدعنوانی کی بیماریاں پھیل جائیں اسے بااختیار افراد محض احکامات سے ٹھیک نہیں کر سکتے۔ پولیس کا ناجائز استعمال ہو یا سنگین الزامات کی زد میں آنے والے لوگوں کی سیون سٹار ہسپتالوں میں بدقماشیاں ہوں، سبھی مسائل یکمشت حل کرنے اور بدانتظامی و بدعنوانی ختم کرنے کے لئے بہت زور لگانے کا تاثر پیدا کیا گیا ہے۔ لیکن جب کسی نظام کے انتظامی ڈھانچے مفلوج ہو جائیں تو سٹیرائڈ ٹیکوں سے کوئی بہتری نہیں آتی۔ یہ حقیقت جوڈیشل ایکٹوزم سے بھرپور گزشتہ تقریباً دس سالوں میں ہمارے سامنے واضح ہوگئی ہے۔ اگر ہم ان ازخود نوٹسوں کے انجام کا جائزہ لیں تو ناجائز قبضوں سے متعلقہ انکوائری کمیشن، جن میں سول سوسائٹی کے ’معزز شہری‘ بھی شامل تھے، کوئی سنجیدہ اجلاس کرنے بھی قاصر رہے ہیں، انکوائری کی رپورٹ بنانا تو بہت دور کی بات ہے۔ کتنے ہی واقعات کا چرچہ ہوا اور کتنے ہی نوٹس لیے گئے لیکن ہر ایشو کچھ عرصے بعد بھول بھلا دیا جاتا ہے۔ جہاں تک بدعنوانی کا تعلق ہے تو صرف پاناما لیکس میں 432 پاکستانیوں کے نام تھے۔ ان میں سے ایک بھی نہیں پکڑا گیا۔ جن کیسوں میں فوری احتساب اور ’انصاف‘ کیا گیا وہاں وجوہات مختلف تھیں۔ یہاں کے بدعنوان حکمران طبقات جب اپنے ہی نظام کے سرکاری آقاؤں سے ٹکر لینے کی کوشش کرتے ہیں تو انجام یہی ہوتا ہے۔ ایک ٹکٹ پر دوشو نہیں چلا کرتے۔
کرپشن کے خاتمے کی نعرہ بازی بھی ایک مذاق بن کے رہ گئی ہے۔ جتنا کرپشن کا شور ہے وہ اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے۔ جتنا اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اتنی ہی مہنگی ہو جاتی ہے۔ کونسا ادارہ ہے جہاں کرپشن نہیں۔ جس ملک کی 73 فیصد معیشت کالے دھن پر مبنی ہو تو سماج کی کونسی پرت ہے جو کرپشن سے بچ سکتی ہے۔ ہر سطح پر لین دین، سرکاری محکموں میں کام کروانے، ٹھیکے لینے اور دینے سمیت سارا زنگ آلود نظام ہی کرپشن کے تیل سے لبریکیٹ ہوتا ہے۔ عدلیہ یا دوسرے اداروں کے اعلیٰ حکام تو نوٹس لے کر، کبھی موقع واردات پر پہنچ کر احکامات صادر کردیتے ہیں لیکن پھر ان احکامات پر عمل درآمد تو سرکاری ڈھانچوں نے کروانا ہوتا ہے۔ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل!
نسل در نسل ذرائع ابلاغ اور نصابوں کے ذریعے عدلیہ جیسے اداروں کی ساکھ قائم کی جاتی ہے۔ اس سے یہ عمومی نفسیات بن جاتی ہے کہ عدل، قانون اور آئین کی بڑی اہمیت ہے۔ ہر بڑا مجرم اور بدعنوان‘ عدلیہ کے گن گاتا ہے، جب تک کہ خود نرغے میں نہ آ جائے۔ جب نواز اور مریم روزانہ پیشیاں بھگت رہے تھے تو ان کے مخالفین بہت خوش تھے ۔ انکے پابند سلاسل ہونے پر شادیانے بجا رہے تھے۔ لیکن جب ان کو ذرا سا باور کروایا گیا کہ بدعنوانی میں وہ بھی کسی سے کم نہیں ہیں تو پھر اسی عدلیہ میں انہیں کیڑے نظر آنے لگے۔ کبھی نواز شریف کو بھی قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کے وقار کا بڑا بخار تھا۔ لیکن جب اس پر عدالتی وار ہونے لگے تو موصوف کو انصاف کا ترازو ٹیڑھا نظر آنے لگا۔ لیکن اگر کبھی تھوڑی سی چھوٹ پائیں گے تو جناب کی نظر میں عدلیہ کا تقدس بھی واپس لوٹ آئے گا۔
ڈی پی او عظمت گوندل کے تبادلے اور معزولی پر از خود نوٹس تو آ گیا۔ لیکن ’بڑے لوگوں‘ اور آئی جی کی انکوائری میں ڈی پی او کا الزامات سے بری قرار دیا جانا بھی اس کے کام نہیں آیا۔ وہ تو رُل گیا ہے لیکن عدل و انصاف جاری و ساری ہے۔ کسی ہسپتال کے دورے اور اس کے میڈیا میں شور شرابے کے ایک دن بعد وہی معمول کی ذلت غریب مریضوں کو پھر سے لاحق ہو جاتی ہے۔
اسی طرح چیف جسٹس نے بڑی آسانی سے کہہ دیا ہے کہ اگر میرے بس میں ہوتا تو ٹریڈ یونین پر پابندی لگا دیتا۔ ویسے آج بھی بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس ملک کے بانی جناح صاحب نے اپنی سیاست کا آغاز ٹریڈ یونین سے کیا تھا۔ وہ 1925ء میں ڈاک کے ملازمین کی یونین (آل انڈیا پوسٹل سٹاف یونین)، جس کے اراکین کی تعداد 70 ہزار تھی، کے صدر منتخب ہوئے تھے اور 1926ء کے ٹریڈ یونینز ایکٹ کو منظور کروانے میں اُنہوں نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ عام حالات میں مزدوروں کا اپنی یونین کے علاوہ کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ مئی 1886ء میں شکاگو کے مزدوروں نے آٹھ گھنٹے یومیہ کے اوقات کار کے لئے اپنے خون کا نذرانہ دیا تھا۔ اس کے بعد یہ مطالبہ پوری دنیا میں زور پکڑتا گیا۔ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے کسی حد تک اوقات کار آٹھ گھنٹے یومیہ کروانے کے اقدامات کئے تھے۔ لیکن ضیا آمریت اور بعد کی جمہوری حکومتوں کے دوران محنت کشوں کی خستہ حالی میں اضافہ ہی ہوا۔ آج حالات یہ ہیں کہ شاید ہی کسی ادارے میں آٹھ گھنٹے کے اوقات کار ہوں۔ مزدور 16 گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں ایک فیصد سے بھی کم محنت کش ٹریڈ یونینز میں منظم ہیں۔ وہ بھی زیادہ تر سرکاری اداروں میں۔ ٹھیکیداری اور دہاڑی دار مزدوری کا نظام رائج ہے۔ علاج کی کوئی سہولیات نہیں، کوئی سوشل سکیورٹی نہیں، کوئی پنشن نہیں۔ کام کی جگہوں میں حفاظت کا کوئی انتظام نہیں اور فیکٹریوں سے لے کر کانکنی تک حادثات میں محنت کشوں کی اموات معمول بن چکی ہیں۔ جبر و استحصال کی اس اذیت کو صرف مزدور ہی سمجھ سکتے ہیں۔ آئی ایل او اور دوسرے عالمی اداروں کے معاہدے بھی ہیں اور قوانین بھی موجود ہیں۔ لیکن سرمائے کی دھونس کے آگے یہ قوانین بھلا کیا معنی رکھتے ہیں ۔
اگر ہم جسٹس صاحب کے اپنے شعبے کا جائزہ لیں تو یہاں انصاف کا حصول اتنا مہنگا ہے کہ غریب آدمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی مالی حیثیت ہی نہیں رکھتا۔ وکیلوں کی فیسوں کے ساتھ ساتھ عدل کے ایوانوں کی ہر سیڑھی پر کوئی نہ کوئی خرچہ ہے جس کے بغیر آگے نہیں جایا جا سکتا۔ زیریں عدالتوں میں تقریباً 19 لاکھ، ہائی کورٹس میں تین لاکھ جبکہ سپریم کورٹ میں 38 ہزار مقدمات التوا کا شکار ہیں۔ چیف جسٹس نے خود تسلیم کیا ہے کہ عدلیہ میں بے پناہ کرپشن ہے۔ اور عدل اگر خود کرپشن کا شکار ہے تو کرپشن کیسے مٹائے گا؟ ریاست کا یہ آخری ادارہ بھی پورا زور لگا چکا ہے۔ نظام جوں کا توں بدعنوانی، ٹوٹ پھوٹ اور انتشار کا شکار ہے۔ جب کسی نظام کا وقت گزر جائے تو وہ ناسور بن کر پورے سماج کو بیمار کردیتا ہے۔ ایسے میں انقلابی جراحی لازم ہو جاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*