ایران: انتخابات اور بحران

تحریر: لال خان

19 مئی کو ایران میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر روحانی نے دوبارہ بڑی اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔ ان انتخابات میں’’ اصلاح پسندوں‘‘ کی فتح کا سامراجی ذرائع ابلاغ میں بہت شور ہے۔ جہاں کہیں کارپوریٹ سرمائے کو منافع خوری کا کوئی موقع نظر آتا ہے تو اس حکومت اور قیادت کے گن گانے لگتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ 1979ء کے انقلاب کو قتل کرکے قائم کی جانے والی ملاں اشرافیہ کی اِس رجعتی مذہبی آمریت میں انتخابات صرف سماجی دباؤ اور بغاوت کو تحلیل کرنے کی حد تک ہی ’جمہوری‘ ہوتے ہیں۔ ان انتخابات میں حصہ بھی صرف وہی افراد لے سکتے ہیں جن کو غیر منتخب مذہبی پیشواؤں کی ’سپریم کونسل‘ اجازت دے۔ اوپر سے ٹھونسی گئی سیاسی، فکری، سماجی اور اقتصادی پالیسی سے ہٹ کر کوئی نظریہ یا پروگرام رکھنے والے کو سرے سے انتخابات میں حصہ لینے تک کی اجازت ہی نہیں ہوتی۔ حتیٰ کہ خود کو ’سپریم کونسل‘کی منشا کے مطابق ڈھالنے والے اکثر امیدوار بھی نااہل قرار دے دیئے جاتے ہیں۔ شاید قدیم روس میں زارشاہی کے بدترین جبر کے تحت دوماؤں کے انتخابات بھی اِس سے کہیں زیادہ جمہوری ہوا کرتے تھے۔ حالیہ ایرانی انتخابات میں بھی صدارت کے لیے 369 امیدواروں نے درخواستیں سپریم کونسل کی خدمت میں پیش کی تھیں لیکن صرف 16 کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی۔ ان میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جس کی حکمران ملاں اشرافیہ کے گروہ سے قربت نہ ہو۔

ایران کی اس مذہبی آمریت کے پیچھے اصل حاکمیت مالیاتی سرمائے کی ہی ہے۔ 1979ء میں انقلاب کے بعد ردانقلاب سے برآمد ہونے والی حاکمیت نے اپنی تشریح کے تحت شاہ کے ایران کی ’’غیر اسلامی اقدار‘‘ کو تو ختم کیا لیکن بنیادی معاشی و اقتصادی ڈھانچہ وہی رہا۔ یہ ضرور ہوا کہ بہت سے ایسے ملاں بھی اب اقتدار میں داخل ہوگئے جو نچلی پرتوں سے تھے۔ رضا شاہ پہلوی کی مطلق العنان بادشاہت کا خاتمہ ہوا تو اس کے ساتھ اُس کے بہت سے حواری سرمایہ دار اور سیٹھ بھی فرار ہوئے۔ وہ جتنا مال نکال سکتے تھے انہوں نے امریکہ اور مغربی دنیا میں پہنچایا لیکن ایک طوفانی کیفیت میں ساری دولت لے جانا ممکن نہیں تھا۔ نئی مذہبی ریاست نے بہت سی معیشت کو سرکاری تحویل میں لیا لیکن اِس کا کنٹرول عوام کے نہیں بلکہ اِسی ملاں اشرافیہ کے پاس تھا۔ جنہوں نے ایک طرف اپنی سماجی بنیادیں مضبوط اور وسیع کرنے کے لئے اگرچہ تعلیم، صحت، روزگار، انفراسٹرکچر وغیرہ میں بہتری کی بڑی اصلاحات کیں، لیکن ساتھ ہی ریاستی جبر اور کنٹرول کو زیادہ سخت بھی کیا۔ چونکہ بنیادی نظام سرمایہ داری ہی تھا لہٰذا رفتہ رفتہ ملاؤں (یا ان کے قریبی لوگوں) کا ایک نیا سرمایہ دار طبقہ وجود میں آیا۔ نئی ریاست کو خود کو مستحکم کرنے کے لئے امریکہ سمیت مغربی سامراجیوں کی لوٹ مار کو بند کرکے اُن کے اثاثے اور دولت بھی اپنے قبضے میں لینے پڑے جس سے اس کا امریکہ سے تصادم ناگزیر ہوگیا۔ شاہِ ایران چونکہ امریکہ کا پورے خطے میں سب سے اہم اتحادی اور گماشتہ تھا، اس لیے اس کے ظلم اور استحصال کے خلاف ایران کے عوام میں پائی جانے والی نفرت کو اس ملاں اشرفیہ نے اپنے لئے استعمال بھی کیا۔ آج تک ایرانی ریاست ’سامراج مخالفت‘ کا تاثر دیتی ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ شاہ کی شاہی آمریت کے خلاف تاریخ میں سب سے زیادہ جدوجہد ایران کے کمیونسٹوں نے کی تھی۔ ایران کی کمیونسٹ پارٹی، جس کا نام ’’تودہ‘‘ تھا، سب سے بڑی قوت بن کر 1979ء کی تحریک میں ابھری اور اسی کے کارکنان نے تیل، پلاسٹک اور دوسری صنعتوں میں مزدوروں کی ہڑتالوں اور مزاحمتی تحریک کو ابھارا، جس سے شاہِ ایران کے مضبوط اور جابر اقتدار کا خاتمہ ہوا اور امریکہ کی بھرپور حمایت بھی اُسے بچا نہیں سکی۔ لیکن تودہ پارٹی کی قیادت نے سب سے بڑا جرم یہ کیا کہ سوشلسٹ انقلاب کی بجائے ’قومی جمہوری انقلاب‘ کے پروگرام کے تحت ملاؤں سے غیر مشروط اتحاد کرکے انکی قیادت کو تسلیم کر لیا۔ ملاں جب اقتدار میں آئے تو انہوں نے سب سے پہلے کمیونسٹوں کا ہی وسیع قتل عام کیا۔ اس سے خوف اور دہشت بھی پھیلی اور پھر امریکہ کو شیطان قرار دے کر بیرونی تصادم کا وہ روایتی اوزار بھی تخلیق کیا گیا جو عوام میں سامراج دشمنی کے جذبات کو استعمال کرتے ہوئے نئی ملاں ریاست کے وجود کا جواز فراہم کرے۔ لیکن کسی بھی سرمایہ دارانہ معیشت میں جب منافعوں کی حصہ داری کا بحران پیدا ہوتا ہے، چاہے ملاں ہی برسر اقتدار کیوں نہ ہوں، تو ریاست میں تضادات پیدا ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی ریاست کے انتہائی جکڑے ہوئے سیاسی ڈھانچے پر مسلط اشرافیہ میں بھی مسلسل پالیسی تضادات نمودار ہوتے رہے ہیں۔ ایک دوسرے کوقیدوبند بھی کیا جاتا ہے اور سیاسی تنازعات کھل کر بھی سامنے آئے ہیں۔ اسی سے مغربی میڈیا نے یہ ’’اصلاح پسندوں‘‘ اور ’’قدامت پرستوں‘‘ کی دھڑے بندی کی اصطلاعات مینوفیکچر کیں جن کو آج بھی سیاست میں متبادل بنا کر پیش کیاجاتا ہے۔ جہاں رفسنجانی، خاتمی اور روحانی جیسے ملاؤں کو نام نہاد’’اصلاح پسند‘‘ دھڑے سے منسوب کیا گیا وہاں احمدی نجاد اور حالیہ انتخابات میں حصہ لینے والے ابراہیم رئیسی کو نام نہاد ’’قدامت پرست‘‘ دھڑے کے امیدوار بنا کر پیش کیا گیا۔ لیکن کوئی بنیادی اور حقیقی فرق نہیں ہے۔ صرف طریقہ واردات کا فرق اور حصہ داری کی لڑائیاں ہیں۔
گزشتہ عرصے میں جہاں ایران خطے کی بڑی فوجی اور اقتصادی طاقت بنا ہے وہاں عام ایرانیوں کی محرومی، معاشی ناہمواری اور طبقاتی تضادات میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ اگر ہم حکومتی اعدادوشمار کو ہی تسلیم کرلیں تو کل 6 کروڑ 40 لاکھ کام کرنے کے اہل محنت کشوں میں سے 2 کروڑ 30 لاکھ یکسر بیروزگار ہیں۔ جن کے پاس روزگار ہے بھی اُنکی اجرتوں میں تاخیر اور ٹھیکیداری نظام کے تحت بدترین استحصال اور برطرفیاں عام ہیں۔ عام محنت کش، جن میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل ہے، دو سے تین نیم ملازمتیں کرکے بھی گزارہ نہیں کر پاتے۔ مہنگائی بے پناہ ہے۔ ایران اِس وقت وینزویلا اور سوڈان سمیت دنیا کی بلند ترین افراطِ زر والے پانچ ممالک میں شامل ہے۔ امریکی اور یورپی سامراجیوں نے اپنے کٹھ پتلی ادارے اقوام متحدہ کے ذریعے ایران پر جو پابندیاں عائد کی تھیں ان میں ایران کے سرمایہ داروں کو قلت میں قیمتیں بڑھا کر فائدہ ہی ہوا ہے لیکن ایران کے محنت کش اور غریب بری طرح برباد ہوئے۔
2015ء کے ایٹمی معاہدے کے بعد جزوی طور پر جو پابندیاں ختم ہوئی ہیں ان سے عوام کی بہت سی امیدیں وابستہ کروائی گئی ہیں، جو پوری ہوتی نظر نہیں آتیں۔ حالیہ انتخابات میں ’’قدامت پرست‘‘ دھڑے اور اسکی بدنام زمانہ ’’بسیح‘‘ ملیشیا کے خلاف نفرت کا ووٹ ہی روحانی کو ملا ہے، اُس کا اپنا کوئی کمال نہیں۔ جوں جوں ایران کا معاشی اور سماجی بحران شدت پکڑ رہا ہے حکمران ملاں اشرافیہ میں دراڑیں بڑھ رہی ہیں۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ انکی مدد کو سعودی عرب پہنچ گیا ہے۔ ٹرمپ نے عرب اور مسلم سربراہان مملکت سے خطاب میں ایران کو دہشت گردی سے منسوب کرکے ایرانی ملاؤں کا ہی بھلا کیا ہے۔ مغربی سامراجی جہاں ایران کی ساری منڈی اور وسائل پر تسلط کے لئے بے چین ہیں وہاں شدت پکڑتی ہوئی سعودی ایران چپقلش کی بنیاد پر ہی امریکہ نے سعودی عرب سے 50 سالہ تاریخ میں اسلحے کی سب سے بڑی ڈیل کی ہے۔ ٹرمپ نے 350 ارب ڈالر کے اِن معاہدوں کے ذریعے زوال پذیر امریکی اجارہ داریوں اور معیشت کو طاقت کا ٹیکہ لگانے کی کوشش کی ہے۔ امریکی سامراج نے خطے میں مذہبی فرقہ واریت اور خونریزی کو بڑھانے کا نیا کھیل شروع کیا ہے۔ ایرانی حکمران اِن بیرونی تضادات سے داخلی فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
لیکن بیرونی تضادات کو ابھار کر عوام کو صدا جکڑا نہیں جا سکتا۔ ایران کا نوجوان اور محنت کش اس جبرواستحصال کو لمبے عرصے تک برداشت نہیں کرسکے گا۔ ریاستی جبر کے باوجود ایران میں محنت کشوں کی ہڑتالوں کا سلسلہ گزشتہ عرصے میں جاری رہا ہے۔ 2009ء میں ایک وسیع عوامی تحریک ابھری تھی جو قیادت کے فقدان سے زائل ہوگئی۔ 2011ء کے عرب انقلاب کی پسپائی نے دوسرے کئی ممالک کی طرح ایرانی عوام کی بغاوت کو وقتی دھچکا پہنچایا ہے۔ لیکن ایران میں محنت کشوں اور نوجوانوں کی نئی انقلابی شورش نہ صرف مقامی حکمرانوں بلکہ امریکی سامراج، خطے کی تمام رجعتی بادشاہتوں اور آمریتوں اور اُن کے نظام کے خلاف اعلانِ جنگ کرے گی۔

متعلقہ:

ٹرمپ اور ایران!

ایران سعودی چپقلش میں شدت

بغیر پابندیوں کے ایران؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*