محروم سماجوں میں کارپوریٹ کرکٹ

تحریر: خواجہ زبیر

معاشی محرومی اور عدم استحکام، ٹوٹتے ہوئے انسانی رشتوں اور سماجی بیگانگی میں ایسی نفسیات جنم لیتی ہیں جن میں کھیل بھی جنون بن جاتا ہے۔ حکمران طبقہ اس نفسیات کو قوم پرستی اور شاونزم کو ابھارنے جبکہ میڈیا پیسہ بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ آئی سی سی چیمپینز ٹرافی کے فائنل میں ہندوستان اور پاکستان کے ٹکراؤ میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہو گی۔
برطانیہ میں حال ہی میں دو اہم واقعات رونما ہوئے۔ ایک جیرمی کوربن کی قیادت میں لیبر پارٹی نے ٹوری پارٹی کی پارلیمان میں اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر دیا۔ دوسرا لندن کی فلک پوش رہائشی عمارت میں بنیادی حفاظتی اقدامات کی ناقص فراہمی کے سبب لگنے والی آگ سے ہونے والی ہلاکتوں کی اندوہناک خبر، جس نے اس سرمایہ داری نظام میں برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں حکمران طبقے کے دوہرے معیاروں کی قلعی کھول دی۔ اب کرکٹ میچ کے فائنل میں دو روایتی حریفوں کے ٹکراؤ پر کروڑوں شائقین کی نظریں دوبارہ انگلینڈ پر مرکوز ہیں۔
برصغیر کے خونی بٹوارے کے فوراً بعد 1948ء میں پاکستان آئی سی سی کا رکن بن گیا۔ 52۔ 1951ء میں پاکستانی ٹیم پانچ ٹیسٹ میچ کھیلنے ہندوستان گئی۔ چند سال پہلے وہ کھلاڑی جو کبھی ایک ساتھ ایک ہی ٹیم میں کھیلا کرتے تھے اب میدان میں ایک دوسرے کے مد مقابل تھے۔ دہلی میں کھیلے گئے میچ میں ہندوستان کی فتح ہوئی۔ لیکن لکھنو میں جب پاکستان نے میزبان کو شکست دی تو بٹوارے کے زخم پھر سے تازہ ہو گئے۔ مقامی تماشائیوں کی طرف سے ہندوستانی ٹیم کو شدید غم و غصے کا سامنا کرنا پڑا۔ کرکٹ اب محض ایک کھیل نہیں رہ گیا تھا بلکہ ایک جنون کی شکل اختیار کر گیا۔ گو بمبئی کے تیسرے ٹیسٹ میں ہندوستان جیت گیا مگر تب تک رقابت اور شائقین کا دباؤ اس نہج کو پہنچ گیا کہ اگلے دونوں ٹیسٹ مقابلوں میں دونوں طرف کے کھلاڑی ہار سے بچنے کے لئے دباؤ میں دفاعی کھیل کھیلتے رہے۔ یوں نہ صرف یہ دونوں ٹیسٹ میچ بلکہ 1955ء میں پاکستان میں ہونے والی ٹیسٹ سیریز کے پانچوں مقابلے بھی بے نتیجہ اختتام پذیر ہوئے۔ تناؤ اس حد کو جا پہنچا کہ ایمپائروں کی غیر جانبداری پر انگلیاں اٹھنا شروع ہو گئیں۔ اس کی بعد ہندوستان میں ہونے والی 1961ء کی سیریز کے پانچوں میچ بھی بغیر ہار جیت کے فیصلے کے انجام کو پہنچے۔ تاہم اس قدر مخاصمت کے باوجود بھی کرکٹ کے میدان میں کھلاڑیوں نے شائستگی کا دامن نہ چھوڑا۔
اس کے بعد کرکٹ پاک و ہند میں حکمران طبقات کے سیاسی مفادات کا شکار ہونا شروع ہو گئی۔ کبھی جنگ کی وجہ سے دونوں حریفوں میں کرکٹ نہ ہو پائی۔ کبھی اندرا گاندھی کا قتل اس کے تعطل کا بہانہ بنا۔ کبھی ممبئی حملوں کا نام لے کر کرکٹ تعلقات منقطع کر لیے گئے۔ کبھی اسی کرکٹ کو دونوں ممالک کے حکمران طبقے کے مابین کشیدگی کو ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ 87۔ 1986ء کی جنگی کشیدگی تو بہت سوں کو یاد ہو گی جب آپریشن براسٹیک کے دوران ہندوستان راجستھان سیکٹر پر اپنی 6,00,000 سپاہ پاکستانی حدود سے محض سو میل کے فاصلے تک لے آیا تھا۔ جنگی مبصرین کے بقول دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ کسی فوج کی سب سے بڑی موبلائزیشن تھی۔ اِس کشیدگی کو تباہ کن حد تک پہنچنے سے روکنے کے لئے بھی حکمران طبقات نے کرکٹ کا استعمال کیا۔ اس کے بعد بھی حکمران طبقہ کرکٹ کو حسب ضرورت کبھی حالات بگاڑنے اور کبھی سدھارنے کے لیے استعمال کرتا رہا۔ یہی وہ وقت تھا جب دونوں ممالک ریاستی سرمایہ داری سے ہٹ کر آزاد منڈی کی معیشت کو اپنے ہاں فروغ دے رہے تھے۔ سرمائے کا ناگ ہر شعبے کو ڈس رہا تھا۔ پاکستان میں ضیائی آمریت کے لگائے بیج زہریلے پھل دینے لگے تھے۔ ریاستی سپانسرشپ سے مفتی، شہاب، اشفاق اور بانو قدسیہ کو ابھارا جا رہا تھا۔ فلم میں سماجی مسائل کی جگہ نمبر داروں اور گنڈاسوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ ثقافت، سیاست اور صحافت تک، ہر شعبہ انحطاط کا شکار تھا وہاں کھیل کے میدان اور کرکٹ کیسے بچ سکتے تھے۔ کرکٹ جو کبھی بہت شائستگی، تسلی اور نفاست سے کھیلا جاتا تھا اب کمرشلائز ہو کر کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیسہ بنانے کا میدان بن گیا۔ ٹیسٹ کہ جگہ ون ڈے اور پھر T-20 آگئے۔ جوا، میچ فکسنگ، جوڑ توڑ، کارکردگی بڑھانے کے لیے غیر قانونی ادویات کا استعمال، کرکٹروں اور سیاسی و ریاستی آقاؤں کا گٹھ جوڑ وغیرہ اب کس سے چھپا ہے۔
ہندوستان اور پاکستان کے حکمران اپنے اپنے ملکوں میں تو ٹیلیویژن، اخبارات، درسی کتب اور مذہب کو استعمال کرتے ہوئے دونوں طرف کی عوام کو ایک دوسرے سے متنفّر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر یہاں ترقی یافتہ مغربی ممالک میں صورت حال بالکل مختلف ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ میں پندرہ لاکھ پاکستانی اور اٹھارہ لاکھ ہندوستانی آباد ہیں۔ امریکہ میں نو لاکھ پاکستانی اور چوالیس لاکھ ہندوستانی، سعودی عرب میں انیس لاکھ پاکستانی اور چالیس لاکھ ہندوستانی، متحدہ عرب امارات میں بارہ لاکھ پاکستانی اور اڑتیس لاکھ ہندوستانی، فرانس میں ڈیڑھ لاکھ پاکستانی اور پینسٹھ ہزار ہندوستانی اور کینیڈا میں ڈیڑھ لاکھ پاکستانی اور دس لاکھ ہندوستانی آباد ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کے حکمران قوم پرستی اور شاونزم کا جو زہر عوام کے ذہنوں میں گھولتے ہیں اس کا اثر یہاں آتے ہی زائل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ سب ایک ساتھ ایک ہی علاقوں میں آباد ہیں۔ ان کے معاشی حالات بھی ایک سے ہیں۔ ان کے بچے ایک ہی سکول میں ساتھ ساتھ پڑھتے ہیں۔ ایک ہی ہوٹلوں میں کھاتے پیتے ہیں۔ عید، شب رات، ہولی، دیوالی جیسے تہواروں پر ہندوستانی پاکستانی کا فرق کیے بغیر ایک دوسرے کو مبارکبادیں دیتے ہیں۔ مگر کرکٹ میچ کے دوران میڈیا اپنے پیسے بنانے اور حکمران اپنی سیاست چمکانے کے لیے جو بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے پر بیان بازی کی مشق کرتے ہیں، اس کی زد میں کچھ دیر کو یہاں کے ہندوستانی اور پاکستانی بھی آجاتے ہیں۔ لیکن یہاں کے معاشی حالات میں ان میں سے اکثر کی ٹوٹی کمر کسی اور بوجھ کو برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہوتی۔ جب ساٹھ پاؤنڈ کا ٹکٹ چھ سو پاؤنڈ میں بک رہا ہو جو یہاں بسنے والے ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کی اکثریت کی اوسط ہفتہ وار آمدنی سے بھی زیادہ ہے تو محنت کش تو میچ دیکھنے سٹیڈیم جا ہی نہیں پاتے۔ ہندوستان اور پاکستان کا فائنل سٹیڈیم میں ایک مراعات یافتہ اقلیت ہی دیکھ سکتی ہے۔ زیادہ تر افراد اپنے گھر یا کام پر ہی یہ فائنل دیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
کرکٹ میں سرمائے کا نفوذ بہت بڑھ گیا ہے، لیکن اس سے جڑی خبریں شازونادر ہی عوام تک رسائی حاصل کر پاتی ہیں۔ آئی سی سی اور کرکٹ کھیلنے والے ممالک کے کرکٹ بورڈز اپنے زیادہ تر معاہدوں کو پبلک نہیں ہونے دیتے۔ مگر جب جب یہ معاہدے اخبارات کی زینت بنتے ہیں تو حیران کن انکشافات سامنے آتے ہیں۔ مثال کے طور پر آئی سی سی اور سٹار چینل کے مابین 2015ء سے 2023ء تک 18 ٹورنامنٹوں کا نشریاتی حقوق کا معاہدہ 20000000 ڈالر میں طے پایا۔ ہندوستانی روپے میں اس کی مالیت 128930000000 روپے ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ آئی سیسی چیمپینز ٹرافی کے مقابلے پانچ براعظموں کے لگ بھگ 200 ممالک، جغرافیائی اور سیاسی اکائیوں میں دیکھے جا سکیں گے۔ اسی نوعیت کے نشریاتی حقوق کے معاہدے سکائی ٹی وی، فوکس، فجی ٹی وی، وِلو ٹی وی، او ایس این، سوپر سپورٹس، ٹین سپورٹس، اے ٹی این، پی ٹی وی سپورٹس، آئی ٹی وی، ای ایس پی این، ایس ایل آر سی، جی ٹی وی، لیما، چینل نائن، ہاٹسٹار، بی ٹی ایس سپورٹس اور یپ ٹی وی نے بھی کر رکھے ہیں جن کی تفصیلات منظر عام پر نہ آ سکیں۔ سٹار ٹی وی ہندوستانی کرکٹ یونیفارم پر اپنا لوگو لگانے کے لیے BCCI کو سالانہ 3200000 ڈالر ادا کر رہا تھا۔ مگر اس مقابلے کی منڈی کی معیشت میں بڑی مچھلی چھوٹی کو ہڑپ کر جاتی ہے۔ حال ہی میں ایک چینی موبائل کمپنی OPPO نے لگ بھگ 10790000000 ہندوستانی روپے مالیت کے عوض انڈین کرکٹ یونیفارم پر اپنا لوگو لگانے کا پانچ سالہ معاہدہ کر لیا۔ نشریاتی حقوق، اشتہاری حقوق، لائسنسنگ حقوق، آفیشل پارٹنرز اور اس جیسے نہ جانے کتنے ناموں سے بے انتہا پیسہ کھیل کے نام پر اس جنون کو پروان چڑھا کے لوٹا جاتا ہے۔ حالیہ چیمینز ٹرافی کے فائنل کے بارے میں بی بی سی کا کہنا ہے: ’’لیکن سوچئے ایسے دو ملکوں کے بارے میں جو ایک دوسرے کے خلاف سرحدوں پر ہتھیار تانے ہوں، ان کے درمیان بات چیت بند ہو، فلمیں اور سیریل پر پابندی لگانے والوں کا شور ہو۔ لیکن اس سب کے درمیان یہ کشیدگی کرکٹ کے میدان پر اربوں کی کمائی میں بدل جائے۔ 18 جون کو جب انڈیا اور پاکستان چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گے تو یہ روایتی حریفوں کے درمیان محض ایک میچ ہی نہیں ہوگا۔ اشتہارات کی دنیا کے ماہرین کے مطابق اس فائنل میچ کے دوران ٹی وی اشتہارات سے تقریباً 500 کروڑ کی کمائی ہونے کا اندازہ ہے۔ یعنی فائنل میں 100 اوور کے میچ میں ہر ایک اوور میں تقریباً پانچ کروڑ کی کمائی کی امید ہے۔‘‘ یہ صرف ایک کھیل کے ایک میچ کی کیفیت ہے۔ ذرا سوچیں اس پیسے کو سماج کی فلاح میں استعمال کریں تو دنیا کا نقشہ ہی کچھ اور ہو۔
ایک طرف کھیل میں اربوں کھربوں کی سرمایہ کاری اور منافعے ہیں، لیکن تصویر کا دوسرا رخ بہت ہی بھیانک منظر پیش کرتا ہے۔ مثلاً ہندوستان میں ہر پانچ میں سے دو سکولوں میں کھیل کود کا گراؤنڈ سرے سے میسر ہی نہیں ہے۔ بارڈر کے اس طرف صورت حال اور بھی ابتر ہے۔ چھوٹے صوبوں کی محرومی تو سب پر عیاں ہے، لیکن معاشی طور پر سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی لڑکوں کے 21 فیصد اور لڑکیوں کے 52 فیصد سرکاری سکولوں میں کھیل کے میدان سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ جا بجا گلی محلوں میں سکولوں کے نام پر کھلی پرائیوٹ دکانوں میں تو کھیل کے میدانوں کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ سندھ کی بات کریں تو فیڈرل بیورو آف سٹیٹسٹکس کے ذیلی ادارے سندھ بیورو آف سٹیٹسٹکس کی تازہ ترین رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ کے 46039 سکولوں میں سے محض 7647 سکولوں میں کھیل کا میدان موجود ہے جبکہ 38393 سکولوں میں کھیل کا میدان نہیں ہے۔ جسمانی ورزش اور کھیل کود بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں مگر شماریاتی ادارے کے نزدیک لیباریٹری، لائبریری اور کھیل کے میدان کا شمار ’ایڈوانسڈ فسیلیٹیز‘ میں ہوتا ہے۔ بلاشبہ ان کی درجہ بندی حکمران طبقے کے مکروہ چہرے سے پردہ ہٹاتی ہے۔ جو نظام سندھ کے 46039 سکولوں میں سے 28760 سکولوں کو بجلی کا کنکشن، 21102 سکولوں کو ٹوائلٹ، 23315 سکولوں کو پینے کا پانی اور 18907 سکولوں کو چاردیواری مہیا نہ کر سکے اس کے نزدیک محنت کش طبقے کے بچوں کے لیے لیبارٹری، لائبریری اور کھیل کے میدان کو ’ایڈوانسڈ فسیلٹی‘ گردانا جانا قابل فہم ہے۔ برصغیر میں نصف بچے غذائی قلت سے دوچار اور نامکمل نشونما کا شکار ہیں۔ یہ نظام اپنے وجود کے تمام جواز کھو بیٹھا ہے۔
ان سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سرمائے کی قلت ہرگز نہیں ہے۔ سرمایہ دانہ نظام وہ وسائل اور تکنیک پیدا کر چکا ہے کہ مختصر مدت میں ہی ہر بچے تک وہ سہولیات پہنچائی جا سکتی ہیں جن سے محض مراعات یافتہ اقلیتی طبقے کے بچے ہی فیضیاب ہوتے ہیں۔ لیکن اِن وسائل کو اِس نظام کے تحت بروئے کار نہیں لایا جا سکتا۔ اصل سبب دولت کا ایک مخصوص طبقے کے ہاتھوں میں خطرناک حد تک شدید ارتکاز اور اس کا غیر پیداواری سرگرمیوں پر بے جا اصراف ہے۔ یہ حقیقت سب پر واضح ہونی چاہیے کہ سرمایہ دار اقلیت کی محنت کش اکثریت کی حالتِ زار بدلنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ سرمایہ دار ٹولہ محنت کش طبقے پر محض اتنا ہی خرچ کرتا ہے جس سے وہ اگلے دن کام پر دوبارہ آ سکیں، اس سے رتی برابر نہ کم نہ زیادہ۔ زیادہ خرچ کرنے سے اس کے منافعے کم ہوتے ہیں اور کم خرچ کرنے سے محنت کش کام کر کے ان کے خزانے بھرنے کے قابل نہیں رہے گا۔ محنت کشوں کو اس ذلت سے نکلنے لیے ان پیداواری وسائل، کھیتوں، کھلیانوں، فیکٹریوں، ملوں اور مالیاتی اداروں کو سرمایہ داروں کے چنگل سے چھڑا کر اپنی مشترکہ تحویل میں لینا ہو گا۔ جس سے یہ محض ایک اقلیتی ٹولے کی ہوس کی بھوک مٹانے کی بجائے پورے سماج کی بہبود پر صرف ہوں گے۔ محنت کش طبقے کے سامنے بربریت اور سوشلزم کے دو راستے ہی ہیں۔ ایک سوشلسٹ سماج میں ہی جعلی سرحدوں کو مٹایا جائے گا اور ہر دوسرے شعبے کی طرح کھیل کو بھی سرمائے اور منافع کے چنگل سے آزاد کروا کے معراج تک پہنچایا جائے گا۔

متعلقہ:

کرکٹ کی افیون

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*