جنوبی افریقہ: صرف رنگ بدلا تھا، نظام نہیں۔۔۔

[تحریر: بن مورکن (جنوبی افریقہ)، ترجمہ:اسدپتافی]
ایک طویل مدت تک بیمار رہنے کے بعد نیلسن منڈیلا اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ منڈیلا کی موت کا اعلان جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے کیاجس کے بعد ملک بھر سے لوگ جنگ آزادی کے اس ہیرو کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے جمع ہو نا شرع و ہوگئے۔ ملکی پرچم منڈیلا کی تدفین تک سرنگوں رکھا گیا۔ منڈیلا ایک عظیم سیاسی و تاریخی شخصیت اور نسلی امتیاز کے خلاف عالمی تحریک کے نمایاں قائدین میں سے ایک تھے۔ انہوں نے خونخوار نسل کُش حکومت کے خلاف طویل جدوجہد کی جس کی پاداش میں انہیں عمرقید کی سزاسنائی گئی۔ اس وقت جنوبی افریقہ کی بورژوازی اور اس کی گماشتہ و نمائندہ حکومت ان سے شدید حقارت رکھتی تھی۔ آج ان کی موت پر ٹسوے بہانے والے منڈیلا کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیا کرتے تھے۔ مارگریٹ تھیچر اور رونالڈ ریگن کے یہی خیالات تھے۔ اس وقت برطانیہ کے اندر ’’ ٹوری یوتھ‘‘ نے ایک پوسٹر نکالا تھا جس میں منڈیلا کوپھانسی دئیے جانے کا مطالبہ کیا گیاتھا۔ یہ مشہور ومعروف پوسٹر فیڈڑیشن آف کنزرویٹو سٹوڈنٹس نے 1980ء کی دہائی میں نکالا تھا۔ آج کا برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اس وقت 23 سال کا تھا اور اس نے 1989ء میں جنوبی افریقہ کا دورہ کیاتھا، تب منڈیلا جیل میں تھے۔ یہ دورہ Strategy Network International کی جانب سے ایک خودساختہ ’’حقائق کی تلاش‘‘ مشن کے نام پر کیا گیاتھا۔ یہ وہ لابی تھی جو کہ خاص طورپر نسل پرست حکومت کے خلاف لگائی گئی پابندیوں کو ختم کروانے کیلئے کام کر رہی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے اس وقت کے جنوبی افریقہ کے صدربوتھا کے ساتھ انتہائی خوشگوار تعلقات قائم تھے۔ تب یہ لوگ منڈیلا کو راندہ درگاہ بنائے ہوئے تھے، جبکہ آج یہی لوگ منڈیلا کی موت پر مگر مچھ کے آنسو بہارہے ہیں اور ان کے ٹسوے ہیں کہ روکے نہیں رُک رہے۔

1980ء کی دہائی میں’’ٹوری یوتھ‘‘ کی جانب سے شائع کیا جانے والا پوسٹر۔برطانیہ کے موجودہ وزیر اعظم ڈیوڈکیمرون اس وقت ٹوری یوتھ کے سرگرم کارکن تھے۔

منڈیلا نسل پرستی کے خلاف اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور مسلسل 27 سالوں تک پابند سلاسل رہے جس کی وجہ سے وہ جنوبی افریقہ کے محنت کشوں کی آنکھوں کا تارا بن گئے۔ اسی قید وبند کے دوران ہی منڈیلا کو بیماری لاحق ہوگئی جس نے آخر تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ جب وہ جیل میں تھے تو وہ غریبوں، محروموں اورمظلوموں کیلئے آزادی کی جدوجہد کرنے والے رہنما اور ایک ہیرو بنتے چلے گئے۔ دوسری طرف امیرلوگوں کیلئے وہ شر کی علامت بنے رہے۔ جس دوران منڈیلا پابند سلاسل رہے تب تک میڈیا نے ان پر کوئی توجہ نہ دی لیکن آج ہر طرف سے ان کی تعریف وتوصیف کے ڈونگرے برسائے جارہے ہیں۔
یہ سب اس وقت تبدیل ہوا کہ جب 80ء کی دہائی میں عوام الناس اور محنت کش اٹھ کھڑے ہوئے، متحرک ہوئے اور انہوں نے خود کو COSATU ٹریڈیونین کنفیڈڑیشن کے گرد منظم کرنا شروع کردیاجو کہ جنوبی افریقہ کی سب سے طاقتور مزدور تنظیم تھی۔ اس عظیم جدوجہد اور تحریک کے دوران یہاں کے محنت کشوں اور نوجوانوں نے بڑے عوامی مظاہرے اور ہڑتالیں منظم کیں جن کے نتیجے میں جنوبی افریقہ کی سفیدفام نسل پرست حکومت کا تخت اکھڑگیا۔ وہی سرمایہ دار، جو کہ اب تک منڈیلا کو جیل میں رکھے آرہے تھے، اس کے بعد چوکنے ہوگئے اور نئے طور طریقوں سے اپنی چالیں چلنا شروع ہو گئے۔ اس جدوجہد اور تحریک کی شدت نے حکمران طبقات کو دو دھڑوں میں تقسیم کر دیا۔ ان میں سے ایک دھڑا ایسے سخت گیروں پر مبنی تھا جو کہ سابق صدر بوتھا کے ساتھ تھااگرچہ یہ جنوبی افریقہ کی قومی آزادی کی تحریک کے ساتھ مذاکرات کر رہاتھا لیکن کسی نتیجے پر نہیں پہنچنا چاہ رہا تھا۔ دوسری طرف اصلاح پسندڈی کلرک کے ساتھ تھے جو کہ یہ چاہ رہے تھے کہ اس سے پہلے کہ تحریک سرمایہ دارانہ نظام کو ہی اکھاڑ کر پھینک دے، بہتر ہے کہ بوتھا حکومت کی قربانی دے دی جائے۔
مذاکرات کا یہ کھلواڑ جنوبی افریقہ کے عوام کیلئے دو دھاری تلوار ثابت ہوا۔ بلاشبہ عمومی سرمایہ دارانہ جمہوریت کا نفاذاور چند ایک حقوق پر مبنی بلوں پر اتفاق جنوبی افریقہ کے عوام کیلئے ایک بڑی رعایت تھے، لیکن یہ ایک ایسی ٓزادی تھی جس میںآپ کو سرمایہ داری کے تحت ہی رہنا تھا، یعنی کہ آپ کے ہاتھ پاؤں باندھ کر آپ سے کہہ دیاگیا کہ آپ گیند سے کھیلیں۔
نیلسن منڈیلا نے اپنی قیدوبند سے پہلے ایک چارٹر آف فریڈم میں بڑے جوش وجذبے کے ساتھ نیشنلائزیشن کا اعلان کیاتھا۔ 1959ء میں منڈیلا نے کہا تھا ’’یہ حقیقت ہے کہ بینکوں، سونے کی کانوں اور زمینوں کی نیشنلائزیشن کا چارٹر میں مطالبہ، مالیاتی ا ور سونے کی اجارہ داریوں اور کاشت سے وابستہ مفادپرستوں کی نیند حرام کر رہاہے، جو کہ صدیوں سے عام انسانوں کو لُوٹتے چلے آرہے ہیں اور جس کے باعث لوگ غلاموں سے بدتر زندگی گزارتے چلے آرہے ہیں۔ یہ نیشنلائزیشن انتہائی ضروری اقدام ہے، جب تک بھی ان اجارہ داریوں کو ختم نہیں کیا جاتا ہے اور جب تک ا س دولت کا اختیاروانتظام عوام کے ہاتھوں میں نہیں دیاجاتا تب تک اس چارٹر کی اہمیت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ ‘‘تاہم منڈیلا نے نیشنلائزیشن کو سوشلزم کے ساتھ منسلک نہیں کیاتھا۔ وہ نیشنلائزیشن کو صرف ایک قومی منظرنامے میں دیکھ رہے تھے۔ جب وہ جیل سے رہاہوکر آئے تو ایک بار پھر دہرایا کہ ’’سونے کی کانوں، بینکوں اور اجارہ دارانہ صنعتوں کی نیشنلائزیشن افریقن نیشنل کانگریس ANC کی پالیسی ہے اورا س حوالے سے اپنے نقطہ نظرمیں لچک یا تبدیلی لانا ناقابل مصالحت ہے۔ ‘‘

نوجوان منڈیلا

لیکن بعد ازاں نیشنلائزیشن بارے منڈیلا کا موقف تباہ کن طریقے سے بہت جلد تبدیل ہو گیا۔ منڈیلا، جنوبی افریقہ اور عالمی بورژوازی کے بدترین دباؤ کی زد میں آتے چلے گئے اور اپنی ریڈیکل پوزیشنوں سے دستبردار ہو گئے۔ منڈیلا اس کے بعد ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں شریک ہوئے جس کے بعد وہ بورژوازی سے اور بھی قریب تر ہو گئے۔ حکمران طبقے اور سامراج نے انہیں مائل کرلیا کہ وہ نیشنلائزیشن کو ترک کر دیں اور منڈی کو پنپنے کا موقع دیں۔ اس عمل میں De Beers Mines کے ہیری اوپن ہیمر نے مصالحانہ کرداراداکیا۔ منڈی کے ساتھ یہ مصالحت جنوبی افریقہ کے محنت کشوں اور غریبوں کیلئے تباہ کن ثابت ہوئی۔ ANC کے لیڈر، رونی کیسریلزکے الفاظ میں’’1991ء سے1996ء کے دوران کا وقت ایسا تھا کہ جب ANC کی روح مرنی شروع ہو گئی اور یہ کارپوریٹ اثرورسوخ تلے دبتی چلی گئی۔ یہ انتہائی مہلک والاموڑ تھا۔ میں اسے اپنی موت کا مرحلہ ہی کہوں گا کیونکہ ہم بری طرح جال میں پھنس چکے تھے۔ آج بھی ہم میں سے کئی یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے اپنے عوام کو دریا میں غرق کرکے ڈبو دیا اور پھران کی قیمت وصول کرلی۔‘‘
منڈیلا کی موت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے کہ جب جنوبی افریقہ کے سماج کے اندرطبقاتی کشمکش عروج پر ہے۔ آج یہاں نابرابری تب سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے جب سفید فاموں کی حکمرانی ہواکرتی تھی۔ جہاں جہاں بھی سرمایہ داری ہو گی وہاں ناگزیر طور پر یہی ہوگا۔ تاریخ نے ایک بار پھر یہ سچا سبق سکھایاہے کہ سرمایہ دارانہ بنیادوں پر قومی آزادی عملی طور پر ممکن نہیں ہوسکتی۔ عوام نے صرف نام نہاد جمہوریت کیلئے جدوجہد نہیں کی تھی بلکہ ان کی جدوجہد کا حقیقی مقصدومنشا حقیقی برابری کا حصول تھا۔ ابھی تک عوام کی یہ منشا ادھوری ہے۔
بلاشبہ بورژوازی منڈیلا کی وفات کے موقع کو سنہری جانتے ہوئے منڈیلا کی ’’قومی مصالحت‘‘ اور’’ قومی یکجہتی‘‘کا واویلا کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی اور کر بھی رہی ہے۔ اس کا مقصد بالکل صاف اور عیاں ہے کہ عوام الناس کو اس کھوکھلے نعرے کے تحت قابو میں رکھنے کی کوشش کی جائے تاکہ وہ اپنی حقیقی نجات کا رستہ اپنانے کی طرف راغب نہ ہونے پائیں، لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہوگا اور نہ ہی زیادہ دیر تک عوام کو دھوکہ دیا جاسکے گا۔
وہ انقلابی صفات جن کی وجہ سے منڈیلا کوآزادی کی جنگ لڑنے والے کی حیثیت سے عزت نصیب ہوئی تھی، وہ جوانی جو انہوں نے جوش وجذبے کی نذر کی، ان کی سخت جانی جو قید وبند میں ان کے کام آئی اور ان کی زندگی کہ جو آزادی کیلئے وقف ہوئی۔ ۔ ۔ ایسی ہی انقلابی صفات آج کے جنوبی افریقہ کے محنت کش طبقے میں مجسم ہو رہی ہیں۔ آج پرولتاریہ کے سامنے کوئی بھی راہ نجات نہیں رہی سوائے طبقاتی جدوجہد کے۔ دنیا بھر کی طرح یہاں جنوبی افریقہ کے اندر سرمایہ دارانہ نظام اس وقت اپنے سب سے بڑے بحران کے سمندر کے عین وسط میں پھنسا ہواہے۔ یہ نظام عام انسانوں کو سوائے بھوک، ننگ، محرومی، بیماری اور بے گھری کے کچھ بھی نہیں دے سکتا۔ آج حقیقی آزادی کیلئے جستجو اور جدوجہد کا ایک ہی راستہ ا ور طریقہ ہے: سوشلزم!

متعلقہ:
منڈیلا کا ادھورا سفر
جنوبی افریقہ: آزادی سے رستا خون

2 Comments

  1. Pingback: شمارہ نمبر 24: 16 تا 31 دسمبر 2013ء

  2. Pingback: جنوبی افریقہ: فیسوں میں اضافے کے خلاف طلبہ تحریک کی فتح

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*