بنگلہ دیش کا خلفشار

[تحریر: لال خان]
پچھلے چند ہفتوں سے بنگلہ دیش کے سماج میں موجود سلگتے ہوئے تضادات پھٹ کر ایک مسلسل خلفشار کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ ایک طویل عرصے سے بدترین ریاستی جبر اور معاشی استحصال کے خلاف بنگلہ دیش کا محنت کش طبقہ ہڑتالیں اور احتجاج کرتا آرہا ہے۔ خاص طور پر گارمنٹ انڈسٹری میں کام کرنے والے محنت کشوں (جن میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل ہے)کے ابتر حالات زندگی اور ملٹی نیشنل اجارہ داریوں کی جانب سے بدترین استحصال کی خبریں پچھلے کچھ عرصے سے منظر عام پر آرہی ہیں۔ گارمنٹس فیکٹریوں میں آگ لگنے اور مزدوروں کے جھلسنے کے واقعات ایک معمول بن چکے ہیں۔ سماج میں پائی جانے والی بے چینی اور غم و غصے کو دبانے یا اس کی سمت تبدیل کرنے کے لئے بنگلہ دیش کا حکمران طبقہ ریاکاری کے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرنے پر مجبور ہو رہا ہے۔
پچھلے کئی برسوں سے سامراجی مالیاتی ادارے، برصغیر کے مختلف ممالک کے حکمران طبقات اور ان کے پروردہ دانش ور بنگلہ دیش کی معاشی اور سماجی ترقی کے گن گارہے ہیں۔ یہاں تک کہ پاکستان کے بہت سے سرمایہ داروں نے بڑے پیمانے پر اپنا سرمایہ بنگلہ دیش منتقل کیا ہے۔ لیکن بنگلہ دیش میں ہونے والی جس غیر ملکی سرمایہ کاری کا چرچا کیا جاتا ہے اس کی بنیادی وجہ کم ترین اجرتوں پر محنت کشوں کی دستیابی ہے جنہیں غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر انتہائی غیر انسانی حالات میں کام کرنا پڑتا ہے۔ زیادہ تر محنت کشوں کو سوشل سیکیورٹی، سیفٹی الاؤنس اور علاج معالجے جیسی بنیادی سہولیات سرے سے میسر نہیں ہیں، بیشتر فیکٹریوں میں یونین سازی پر پابندی عائد ہے،ٹھیکیداری نظام رائج ہے اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والے محنت کشوں کو بدترین ریاستی جبر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ محنت کشوں کو ’’کنٹرول‘‘ میں رکھنے کے لئے صنعتی علاقوں میں ’’خصوصی پولیس‘‘ تعینات ہے جس کا مقصد ہی کسی ہڑتال یا احتجاج کو اس بے رحمی سے کچلنا ہے دوسرے مزدور ’’عبرت‘‘ حاصل کریں۔ گارمنٹس کی غیر ملکی ملٹی نیشنل کمپنیاں محنت کشوں کی پیداواری صلاحیت کا حساب گھنٹوں یا منٹوں میں نہیں بلکہ ملی سیکنڈز میں رکھتی ہیں۔ یہ بنگلہ دیش کا وہ ’’معاشی ماڈل‘‘ ہے جو تیسری دنیا کے کسی بھی ملک کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے ’’پر کشش‘‘ بناتا ہیں اور جس کے عمران خان اور نواز شریف سمیت پاکستان کے حکمران اور معیشت دان بہت مداح ہیں۔
1971ء کی خانہ جنگی کے 42 سال بعد قتل عام میں ملوث جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو سزائیں دینے کا موجودہ سلسلہ عوامی لیگ کی حکومت نے اسی لئے شروع کروایا ہے کہ ریاستی جبر کے تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود سماجی بے چینی اور انتشار پڑھتا جارہا ہے، وزیر اعظم حسینہ واجد کی مقبولیت تیزی سے گر رہی ہے اور 2014ء میں ہونے والے انتخابات میں عوامی لیگ کی شکست کے امکانات بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ تلخ معاشی حقائق سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے پہلے 91 سالہ ملا غلام اعظم کو 90 سال قید کی سنائی گئی جس کے بعد شروع ہونے والے پر تشدد مظاہرے عبدالقادر ملا کی پھانسی کے بعد شدت اختیار کر گئے ہیں۔ عبدالقادر ملا میر پور کے قصاب کے نام سے مشہور تھا اور اس کے مظالم کی داستانیں بہت ہولناک ہیں۔ پاکستان کی پارلیمنٹ میں عبدالقادر ملا کی سزائے موت کے خلاف دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی قراردار کو عوامی لیگ نے بھرپور استعمال کیا ہے اور اس کے ذریعے پاکستان دشمنی کے جذبات کو پھر سے اجاگر کر کے بڑے پیمانے پر عوامی مظاہرے کروائے جارہے ہیں۔ یہ دراصل بیرونی تضاد کے ذریعے داخلی تضاد کو دبانے کی ایک کوشش ہے۔ جنگی جرائم میں ملوث مجرموں کو یقیناًسزا ملنی چاہئے لیکن سوال یہ ہے کہ آخر عوامی لیگ کو یہ خیال 42 سال بعد ہی کیوں آیا ہے؟ دوسری طرف ان مقدمات کے خلاف اپوزیشن کی دائیں بازو کی پارٹی بی این پی، جسکی سربراہ ایک فوجی آمر کی اہلیہ خالدہ ضیا ہیں، مذہبی بنیاد پرستی کو ابھار کر اپنی مقبولیت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بی این پی اور جماعت اسلامی کا اتحاد کافی پرانا ہے۔ انتہائی دائیں بازو کا یہ رجعتی اتحاد بنگلہ دیش کے سرمایہ دار طبقے کے ایک دوسرے دھڑے کی نمائندگی کرتا ہے۔
1971ء کے قتل عام میں ملوث جماعت اسلامی کے رہنماؤں پر ان حالات میں مقدمہ چلانا عوامی لیگ حکومت کی ایک بھونڈی چال تھی جس کو آغاز میں زیادہ عوامی پزیرائی بھی نہیں مل پائی۔ جماعت اسلامی کی بنیادیں بنگلہ دیش میں سماجی کی پسماندہ پرتوں میں کسی حد تک موجود ہیں جنہیں وہ آج کل تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے ان رہنماؤں کی پاکستان ہجرت نہ کرنے کی وجہ جماعت کے بنیادی نظریات تھے۔ 1947ء میں برصغیر کی تقسیم اور پاکستان کی تخلیق کے سب سے بڑے مخالفوں میں سے ایک جماعت اسلامی بھی تھی۔ مولانا مودودی کے نظریاتی افکار کے دو بنیادی نکات میں سے ایک پورے برصغیر اور دنیا بھر میں اسلامی خلاف کا نفاذ اور سخت گیر جابرانہ اسلامی ریاست کی تشکیل تھی۔ اسلامی خلافت کے نظرئیے کی بنیاد پر ہی جماعت اسلامی جدید قومی ریاست اورسیکولر قوم پرستی کے خلاف تھی۔ دوسری اہم بنیاد مولاناکا معاشی نقطہ نظر تھا جس کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام شریعت کے عین مطابق ہے۔ جماعت اسلامی کی داخلی بحثوں میں مولانا مودودی نے فرد کے ہاتھوں میں دولت کے لاامتناہی ارتکاز کو جائز قرار دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر کے مسلمان سرمایہ داروں اور جاگیر دار وں کا ایک حصہ جماعت اسلامی کی مالیاتی اور سیاسی حمایت میں پیش پیش تھا اور بعد ازاں امریکی سامراج نے سوویت یونین اور بائیں بازو کے خلاف جماعت کو ہی استعمال کیا۔
برصغیر اور دوسرے سابقہ نو آبادیاتی ممالک کے حکمرانوں کی جدید قومی ریاست کی تشکیل میں ناکامی کا واضح ثبوت سکوت بنگال جیسے واقعات اور قومی آزادی کی درجنوں تحریکیوں ہیں۔ بھارت کی 28 میں سے 17 ریاستوں میں قومی محرومی کے جذبات آزادی کی تحریکوں میں بدل چکے ہیں۔ اگر بنگلہ دیش کی بنیاد بنگالی قوم ہے تو پھر یہ صرف مشرقی بنگال تک کیوں محدود ہے؟ مشترکہ زبان اور ثقافت رکھنے کے باوجود مغربی بنگال اس بنگالی ریاست کا حصہ کیوں نہیں بن سکا؟ اس کی بنیادی وجہ بھی مشرقی بنگال کے حکمران طبقے کمزور معاشی، سیاسی اور فوجی قوت ہے جس کے پیش نظر وہ ہندوستانی اشرافیہ کا مقابلہ کر کے بنگالی قوم کو یکجا کرنے سے قاصر ہیں۔ تمام تر تیسری دنیا میں صورتحال اسی طرح پیچیدہ اور قومی ریاست کے فرائص نامکمل ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والی نئی قومی ریاستوں میں شاید ہی کوئی ایسی ہو جہاں کاحکمران طبقہ قومی یکجہتی، سالمیت، آزادی اور معاشی استحکام اور صنعتی انفراسٹرکچر جیسے تاریخی فریضے مکمل کر پایا ہو۔

معاشی ترقی کے تمام تر دعووں کے باوجود بنگلہ دیش میں آبادی کا وسیع حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے

24 سال تک مغربی پاکستان کے حکمرانوں نے مشرقی بنگال کی اشرافیہ کے ساتھ مل کر وہاں کے عوام کا بھرپور استحصال کیا۔ اس صورتحال میں نسلی تعصب اور حقارت بھی نمایاں تھی۔ قومی محرومی کے انہی جذبات کو استعمال کرتے ہوئے عوامی لیگ نے مشرقی بنگال کے حکمران طبقے کے ایک حصے کی پشت پناہی سے بنگلہ دیش کی بنیاد رکھی۔ لیکن پاکستان سے آزادی کے 42 سالوں میں کیا بنگلہ دیش کے عوام کو کوئی معاشی خوشحالی یا آسودگی حاصل ہو پائی ہے؟ 60 لاکھ بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں، یونیسیف کے مطابق 3 کروڑ تیس لاکھ بچے (کل بچوں کی نصف تعداد) انتہائی غربت اور غذائی قلت کا شکار ہیں، بنگلہ دیش کے اخبار ڈیلی سٹار میں چھپنے والے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق آبادی ساڑھے 4 کروڑ افراد خط غربت جبکہ ڈھائی کروڑ افراد انتہائی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اقوام متحدہ اور حکومت کے ان اعداد و شمار کی روشنی میں حقیقی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
نوآبادیاتی ممالک کی تاریخ گواہ ہے کہ نام نہاد قومی آزادی عوام کو معاشی آزادی اور خوشحالی فراہم نہیں کر سکتی ہے۔ سرمایہ دارانہ سماج کا بنیادی تضاد طبقاتی ہے جسے ذرائع پیداوار کو اجتماعی ملکیت میں لیتے ہوئے سرمایہ داری کا خاتمہ کر کے ختم کیا جاسکتا ہے۔ اشتراکیت کا یہی راستہ نسل انسان کو قلت، غربت اور محرومی کی ذلتوں سے نجات دلا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*