’تبدیلی‘ کا کیا ہو گا؟

تحریر: لال خان/عمران کامیانہ

الیکشن 2018ء کے نتائج کے مطابق قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستوں کیساتھ عمران خان کی تحریک انصاف وفاقی حکومت بنانے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ خیبر پختونخواہ، جہاں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کا دوبارہ قیام یقینی ہے، کے علاوہ پنجاب میں بھی نواز لیگ کے مساوی 113 نشستوں کیساتھ تحریک انصاف حکومت سازی کے لئے جیتنے والے آزاد امیداواروں سے رابطے کر رہی ہے۔ 25 جولائی کی رات سے الیکشن کے نتائج سامنے آنے کے بعد بالخصوص شہری علاقوں میں درمیانے طبقے کے بہت سے نوجوانوں کا جشن دیکھا گیا۔ تاہم عمومی جوش و خروش بڑی حد تک محدود تھا۔ نہ صرف ہارنے والی مقامی جماعتوں بلکہ بین الاقوامی مبصرین اور میڈیا گروپس کی جانب سے بھی دھاندلی کے الزامات کے بعد انتخابات کی ساکھ خاصی مجروح ہو چکی ہے۔ نواز شریف کیساتھ تصادم میں آنے والی اسٹیبلشمنٹ او ر ’ڈیپ سٹیٹ‘ پر مقامی اور غیر ملکی حلقوں کی جانب سے پولنگ سے قبل اور اس کے دوران تمام تر انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔ نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ان تضادات کی وجوہات میں خارجہ پالیسی بالخصوص ہندوستان کیساتھ تعلقات، سی پیک کے ٹھیکے، داخلی سکیورٹی پالیسی اور اختیارت پر اختلافات جیسے امور شامل تھے۔ تاہم انتخابات کے نتائج کو سراسر دھاندلی کا نتیجہ قرار دینا بھی درست نہیں ہے۔ تحریک انصاف کا حقیقی ووٹ بینک بھی بلاشبہ سرگرم تھا جس میں مراعت یافتہ درمیانے طبقات کیساتھ ساتھ بیروزگاری اور سماجی پسماندگی کے شکار نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی شامل تھی۔ تادمِ تحریر مخالف جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کا شور بھی جاری ہے اور کئی حلقوں میں ری کاؤنٹنگ بھی ہو رہی ہے۔ تاہم نتائج میں کوئی بڑی تبدیلی اب ممکن نہیں ہے۔ اسی طرح مبینہ دھاندلی کے خلاف ’آل پارٹیز کانفرنس‘ بھی بلائی گئی ہے جو شروع سے ہی تقسیم کا شکار نظر آ رہی ہے۔ فوری طور پر ایسی کوئی تحریک چلانے کی سکت کسی سیاسی جماعت میں نظر نہیں آتی۔
عمران خان کی سیاسی لفاظی زیادہ تر ’کرپشن‘ کے مسئلے پر مرکوز رہی ہے جسے وہ تمام تر دوسرے مسائل کی بنیادی وجہ قرار دیتا ہے۔ اسی ایشو کو استعمال کرتے ہوئے وہ اپنے انتہائی مالدار مخالفین بالخصوص نواز خاندان پر تابڑ توڑ حملے کرتا رہا ہے۔ اگر ہم حالیہ عرصے میں دائیں بازو کے دوسرے پاپولسٹ مظاہر، مثلاً ہندوستان میں نریندرا مودی کے ابھار پر غور کریں تو وہاں بھی کرپشن کو ہی بنیادی ایشواور درمیانے طبقات کو سیاسی حمایت کی سماجی بنیاد بنایا گیا ہے۔ درحقیقت فلپائن میں روڈریگو ڈٹرٹے، امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ، ترکی میں طیب اردگان، ہندوستان میں نریندرا مودی اور پاکستان میں عمران خان جیسے دائیں بازو کے پاپولسٹ رہنماؤں کے ابھار میں کئی مماثلتیں موجود ہیں۔ ان تمام رجحانات کی لفاظی میں ’تبدیلی‘ کی بات بھی سرِ فہرست رہی ہے جسے کسی حقیقی متبادل کی عدم موجودگی میں کچھ وقتی پذیرائی بھی ملی۔ تاہم کرپشن کے خاتمے اور تبدیلی کے تمام تر نعروں کے باوجود تحریک انصاف میں بدعنوان اور موقع پرست عناصر (’’الیکٹیبلز‘‘)، قبضہ گروہوں اور انتہائی امیر مافیا سرمایہ داروں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ڈیپ سٹیٹ کی ایما پر کالے دھن کے انداتاؤں سے وابستہ کارپوریٹ میڈیا کی بھرپور حمایت بھی تحریک انصاف کو حاصل رہی ہے جس کی بنیاد پر شریفوں اور دوسرے سیاسی مخالفین کے خلاف ایک مسلسل اور تند و تیز مہم چلائی گئی۔ تاہم ریاست اور حکمران طبقات کے مختلف حصوں کے اِس ٹکراؤ میں بیروزگاری، علاج اور تعلیم جیسے کروڑوں عام لوگوں کے حقیقی مسائل کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا گیا اور پس پشت ڈالا گیا۔ علاوہ ازیں عمران خان نے انڈیا مخالفت اور قومی شاونزم پر مبنی لفاظی کے ذریعے درمیانے طبقات اور سماج کے زیادہ رجعتی اور پسماندہ حصوں کو متوجہ کرنے کی کوشش بھی کی۔ اسی طرح وہ لبرلزم اور مذہبیت کے اس امتزاج اور ملغوبے کو بھی استعمال کرتا رہا جو تحریک انصاف کا خاصا ہے اور جو یہاں کے درمیانے طبقات کی متذبذب نفسیاتی کیفیات کی عکاسی کرتا ہے۔
جہاں تک کرپشن کا تعلق ہے تو ایک ایسا ملک جس کی دو تہائی معیشت کالے دھن پر مبنی ہو وہاں بدعنوانی اوپر سے نیچے تک معیشت، سماج اور سیاست کا ناگزیر جزو بن جاتی ہے۔ یوں ایک طر ح سے یہ کرپشن اِس بیمار سرمایہ دارانہ نظام کے وجود کی نہ صرف ناگزیر پیداوار بلکہ شرط ہے جس نے کئی دہائیوں سے اِس بحران زدہ معیشت کو دھڑام ہونے سے بچا رکھا ہے۔ نامیاتی طور پر بحران زدہ اور کرپٹ نظام میں کرپشن کے خاتمے کی بات یا کوشش بذات خود ایک ناقابلِ حل تضاد ہے۔
نواز لیگ نے اپنے پانچ سالہ دورِ اقتدار میں اگرچہ لوڈ شیڈنگ کے اذیت ناک مسئلے پر بڑی حد تک قابو پایا، کئی میگا پراجیکٹس مکمل کئے، افراطِ زر کو خاصا کم رکھا اور معاشی اصلاحات کی کوشش بھی کی لیکن قرضوں کے بوجھ تلے دبتی چلی جا رہی بھاری خساروں سے دوچار اِس نظامِ معیشت کا بحران اتنا شدید ہے کہ آبادی کی وسیع تر اکثریت کی زندگیوں میں کسی بڑی سماجی و معاشی تبدیلی اور ترقی کی گنجائش کم و بیش نہ ہونے کے برابر ہے۔ بعد ازاں جب ریاست کے کچھ طاقتور حصوں سے تضادات پھٹ پڑے تو سرکاری دھونس کے سامنے نواز لیگ کی موروثی قیادت تقسیم کا شکار ہو گئی۔ ضیا آمریت کی کوکھ سے جنم لے کر ایک عرصے تک ریاستی آشیرباد سے چلنے والی مسلم لیگ، جو بنیادی طور پر بڑے سرمایہ داروں اور درمیانے تاجر طبقات کی سیاسی روایت رہی ہے، کبھی مزاحمت کی جماعت رہی ہے نہ ہو سکتی ہے۔ نواز شریف اور اُس کی بیٹی اپنے سیاسی وجود کو برقرار رکھنے کے لئے اگرچہ ایسی جارحانہ لفاظی کا سہارا لینے پر مجبور ہوئے جو مروجہ سیاست کی حدود سے خاصی تجاوز کر رہی تھی ، کسی حد تک عوامی مسائل پر بھی بات کی لیکن انہوں نے دانستہ طور پر طبقاتی سوال کو نہیں چھیڑا۔ چونکہ آخری تجزئیے میں وہ سرمایہ دار طبقے یا اس کے ایک حصے کے مفادات کی نمائندگی کر رہے تھے لہٰذا اپنے مخالفین ہی کی طرح طبقاتی تضادات اور ایشوز کو ہر حد تک دبائے رکھا۔ ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے سے نواز شریف کی ’اسٹیبلشمنٹ مخالف مہم‘ میں یہ بنیادی کمی تھی جس کی وجہ سے یہ کوئی بہت بڑا مومینٹم حاصل نہیں کر سکی اور آبادی کے ایک حصے تک محدود رہی۔ مزید برآں اسی دوران شہبار شریف‘ ڈیپ سٹیٹ سے معاہدے اور سمجھوتے کے لئے سرگرم رہا۔ اِسی ڈیل کے تحت یا اس کی کوشش میں نواز شریف اور مریم کے استقبال کے لئے نکلنے والے جلوسوں کو بھی ہر ممکن حد تک ’بے ضرر‘ بنایا گیا۔ یوں متضاد سمتوں میں گامزن منقسم قیادت نے نواز لیگ کی تمام تر ایجی ٹیشن اور انتخابی مہم کو بری طرح مفلوج کر دیا۔ شہباز شریف اپنی انتخابی مہم میں میگا پراجیکٹوں کا جو ’ڈویلپمنٹ کارڈ‘ کھیلنا چاہ رہا تھا عوام کی اکثریت کے لئے اس کی کشش بہت محدود تھی۔
بہرحال اب وزیر اعظم بننے کی عمران خان کی سلگتی ہوئی خواہش اگلے کچھ دنوں میں حقیقت بننے جا رہی ہے۔ تحریک انصاف دائیں بازو کی ایک بورژوا، بلکہ لمپن بورژوا پارٹی ہے جس کا رہنما بوناپارٹسٹ رجحانات کا حامل ہے اور جس کی سماجی بنیاد مذہبی اور لبرل شہری درمیانے طبقات میں ہے۔ کئی حوالوں سے یہ آج کی نواز لیگ کے نواز – مریم دھڑے سے کہیں زیادہ دائیں بازو کی جماعت ہے جس کے ’’نظریات‘‘ ایسے تضادات پر مبنی ہیں کہ آج تک کوئی انہیں واضح طور سے بیان نہیں کر پایا ہے۔ درحقیقت درمیانے طبقے کی فرسٹریشن سے جنم لینے والے تمام سیاسی رجحانات کئی حوالوں سے ایسی ہی نظریاتی کنفیوژن پر مبنی ہوتے ہیں۔ بدھ کے انتخابات میں کامیابی کے بعد عمران خان نے اپنے ٹیلیوژن خطاب میں غریبوں کی زندگیوں میں بہتری لانے، کرپشن کے خاتمے، دس ارب درخت لگانے، ہیلتھ کارڈ، اگلے پانچ سال میں ایک کروڑ نوکریاں پیدا کرنے اور پچاس لاکھ نئے گھر بنانے کی باتیں کی ہیں۔ اگرچہ یہ تقریر بھی متضاد نوعیت کے وعدوں پر مبنی تھی جس میں بیک وقت غریبوں کی حالت میں بہتری کی بات اور ساری پالیسیاں ’بزنس کمیونٹی‘ (سرمایہ داروں) کو ساتھ ملا کر بنانے کا عندیہ موجود تھا لیکن بالفرض یہ تمام تر وعدے پورے بھی ہو جائیں تو بھی اِس سماج کی محرومی اور بدحالی جتنی گہری ہے اس کے پیش نظر کوئی بہت بڑا فرق نہیں پڑنے والا۔ لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ ملکی معیشت انتہائی تباہ کن بحران کا شکار ہے۔ جس سے وقتی طور پر نکلنے کا واحد راستہ تحریک انصاف کے پاس بھی سامراجی مالیاتی اداروں سے قرض لینے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ متوقع وزیر خزانہ اسد عمر نے برملا اعتراف کیا ہے کہ ’’بحران اتنا شدید ہے اور اتنے فوری اقدامات کا متقاضی ہے کہ (آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ لینے سمیت) کسی بھی آپشن کو رد نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بھرنے اور بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لئے 11 ارب ڈالر فوری طور پر درکار ہیں جس کے لئے آئی ایم ایف کے سامنے پھر سے ہاتھ پھیلائے جائیں گے۔ 1980ء کے بعد آئی ایم ایف سے لیا جانے والا یہ بارہواں قرضہ ہو گا۔ تاہم اب کی بار ’تبدیلی‘ کی سرکار برسراقتدار ہو گی جو ماضی کی ہر حکومت کی طرح ہر برائی کا ذمہ دار پچھلی حکومت کو قرار دے رہی ہو گی۔ لیکن کئی معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ اتنا قرضہ آئی ایم ایف سے بھی نہیں ملے گا۔ شاید چین سے کچھ مزید قرضہ مل جائے جس کی قیمت آئی ایم ایف سے کم نہیں ہو گی۔ ’موڈیز‘ نے پہلے ہی پاکستان کی کریڈٹ رینکنگ مستحکم سے منفی کر دی ہے۔ جو قرض ملے گا بھی اس کے لئے نجکاری اور مہنگائی جیسے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ اگرچہ نگران حکومت جاتے جاتے پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور روپے کی قدر میں تیز کمی جیسی کئی وارداتیں کر گئی ہے لیکن نئی آنے والی حکومت کو ہنی مون پیریڈ بہرحال نہیں ملے گا۔ واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے مطابق مالی سال 2018-19ء میں مذکورہ بالا مدوں میں 28 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ سی پیک کے پراجیکٹوں کے لئے بڑھتی ہوئی درآمدات اور قرضوں کی کیفیت میں دسمبر کے بعد سے مرکزی بینک چار مرتبہ روپے کی قدر گرا چکا ہے۔ اسی دوران عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی ہو رہا ہے اور بڑی معاشی طاقتوں کے درمیان تجارتی جنگ بھی جاری ہے جو عالمی سطح پر بڑے معاشی بحران کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ ’بلومبرگ‘ کے مطابق پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر ایشیا میں تیز ترین کمی کیساتھ 9 ارب ڈالر تک گر چکے ہیں۔ یہ ذخائر اب اس سطح سے بھی نیچے ہیں جب ملک نے پچھلی دو بار آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ کے لئے رابطہ کیا تھا۔ بلومبرگ اپنے تازہ مضمون ’’ایک معاشی بحران پاکستان کے نئے رہنما عمران خان کا منتظر ہے‘‘ میں لکھتا ہے، ’’اب کی بار آئی ایم ایف کا رویہ بھی خاصا سخت ہو گا۔ پچھلی بار بھی بہت سی سٹرکچرل اصلاحات موخر کی گئی تھیں یا کی ہی نہیں گئی تھیں۔ نجکاری کا پروگرام ہو یا ٹیکس انفراسٹرکچر میں تبدیلیاں ہوں، آئی ایم ایف خاصی سختی کرے گا اور نیچے یہ سب کچھ کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔‘‘ اسی دوران معاشی نمو کی شرح چھ سالوں میں پہلی بار سست روی کا شکار ہو کر 5.2 یا اس سے بھی کم تک گر جانے کا امکان ہے۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں بڑے حجم کی غیر دستاویزی (کالی) معیشت کے پیش نظر ٹیکس سے جی ڈی پی کا تناسب انتہائی کم (12.5 فیصد) ہے۔ آنے والی حکومت بھی ’ٹیکس نیٹ‘ میں اضافے کے لئے بالواسطہ ٹیکسوں میں ہی اضافہ کرے گی کیونکہ جب پالیسیاں ’بزنس کمیونٹی‘ کے اشاروں پر بنیں گی تو امیروں پر براہِ راسٹ ٹیکس تو نہیں لگے گا۔ پاکستان میں پہلے ہی حکومتی آمدن کا 70 سے 80 فیصد عام لوگوں پر بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل ہوتا ہے۔ یہاں کا سرمایہ دار طبقہ تاریخی طور پر اس قدر تاخیر زدہ اور نحیف ہے کہ ٹیکس چوری اور بدعنوانی کے بغیر اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا۔ ویسے بھی عمران خان جو بیرونی سرمایہ کاری لانے کی بات کرتا ہے اس کے لئے سرمایہ داروں کو ہر قسم کی چھوٹ اور لوٹ مار کی اجازت دینا پڑتی ہے۔ کارپوریٹ منافعوں پر معمولی سی ضرب بھی سرمائے کی پرواز کو تحریک دیتی ہے جس سے اقتصادی بحران شدید تر ہو جاتا ہے۔ یوں زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو سرمایہ داری کی ہر پالیسی سرمایہ داروں کے مفادات کی تابع ہو تی ہے اور ایک کرپٹ نظام کو ٹھیک کرنے کی کوشش اس کے خلفشار کو شدید تر ہی کرتی ہے۔ آئی ایم ایف جیسے سامراجی اداروں پر اس قدر انحصار کیساتھ معاشی معاملات میں عمران خان حکومت کا اختیار برائے نام ہی ہو گا۔ ماضی کی طرح بجٹوں کا بڑا حصہ قرضوں کے سود کی نظر ہوتا رہے گا۔ یہاں دفاعی بجٹ میں کمی کے بارے میں سوچنا بھی گناہ ہے۔ یوں حکومتی آمدن کا کم و بیش دوتہائی قرضوں اور دفاعی اخراجات کی نظر ہوتا ہے اور باقی زیادہ تر ریاستی کارگزاریوں پر خرچ ہو جاتا ہے۔ اِس نظام میں ان اخراجات کی ترجیحات میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ عمران خان نے ’’سادگی‘‘ اپنانے کی بھی بہت باتیں کی ہیں۔ اگرچہ ماضی میں بھی وہ ایسے وعدے اور دعوے کرتا رہا ہے لیکن پختونخواہ حکومت کی کارستانیاں کچھ اور ہی داستان سناتی ہیں۔ اب کی بار شاید ایسے کچھ کاسمیٹک اقدامات کر بھی دئیے جائیں لیکن عام ریل ڈبے میں گاندھی کے سفر سے لے کر ضیاالحق کی سائیکل سواری تک، اس نظام میں حکمرانوں کی ’سادگی‘ عوام کو زیادہ مہنگی پڑا کرتی ہے۔ حکومتی گیسٹ ہاؤسز کو ہوٹلوں میں تبدیل کر کے اتنے دیوہیکل خسارے بھرنے اور قرضے اتارنے کی باتیں سراسر مضحکہ خیز ہیں۔ جہاں تک تعلیم اور صحت کا تعلق ہے تو سرکار کے پاس ان دیوالیہ مالیاتی حالات میں ’ہیومن ڈویلپمنٹ‘پر خرچ کرنے کو کچھ نہیں ہے۔ ایک بار پھر نجی شعبہ ہے جس کے مالکان تحریک انصاف سمیت ہر مرجہ پارٹی پر براجمان ہیں۔ تعلیم و علاج جیسے بنیادی انسانی حقوق کو بازار کی جنس بنا کے غریبوں کو کنگال کر رہے ہیں اور اپنی تجوریاں بھرتے چلے جا رہے ہیں۔ اسی نجی شعبے کیساتھ مل کے عمران خان نے پچاس لاکھ گھر بنانے کی بات کی ہے۔ لیکن گھروں کی تو یہاں پہلے ہی بھرمار ہے۔ رئیل اسٹیٹ یہاں کے منافع بخش ترین دھندوں میں سرفہرست ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ آبادی کی اکثریت کے پاس ان گھروں کو خریدنے کی سکت نہیں ہے۔ کیونکہ یہ ’نجی شعبہ‘ ہر کام منافع خوری کے لئے کرتا ہے، انسانوں کی سہولت کے لئے نہیں۔
عمران خان متقدر قوتوں کا کتنا ہی لاڈلا کیوں نہ ہو، اسے خارجہ امور اور ’سکیورٹی معاملات‘ میں ٹانگ اڑانے کی اجازت بہرحال نہیں ملے گی۔ ہندوستان سے تعلقات سمیت اس کے اختیارات نواز شریف یا کسی بھی سابقہ سویلین حکمران سے زیادہ نہیں ہوں گے۔ بلکہ یہ حکومت شاید ملک کی تابع ترین اور کمزور ترین حکومت ہو گی۔ اس حقیقت کا ادراک عمران خان کو جلد ہی ہو جائے گا اور اگر نہیں ہو گا تو کروا دیا جائے گا۔ جس نظام میں حکومتیں بنتی ہیں وہی ان حکومتوں کو چلاتا بھی ہے۔ ہر فیصلہ، ہر اقدام اسی کے تقاضوں کے تحت کرنا پڑتا ہے۔ جیسا کہ کارل مارکس نے واضح کیا تھا کہ کوئی قانون سازی مروجہ نظام سے بالاتر نہیں ہو سکتی۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام جس بحران کا شکار ہے اور یہ بحران جس سماجی خلفشار اور سیاسی انتشار کو جنم دے رہا ہے اس میں کوئی مستحکم اقتدار نہیں آسکتا۔ عمران خان کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے نہ چاہنے کے باوجود بھی آبادی کی درمیانی پرتوں نے اس کے ساتھ بہت امیدیں وابستہ کر لی ہیں۔ لیکن اس کے پاس کوئی متبادل پروگرام اور لائحہ عمل نہیں ہے۔ وہ اور اس کی پارٹی اسی نظام پر یقین رکھتے ہیں۔ غریبوں اور محنت کشوں کے لئے اِس نظام میں اصلاحات کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ درمیانے طبقات کی اکثریت کا وجود اور معیارِ زندگی کچے دھاگے سے بندھا ہوا ہے۔ جو امیدیں عمران خان سے وابستہ کی گئی ہیں اور جو خواب اس نے دکھائے ہیں ان کا بہت جلد ٹوٹنا ناگزیر ہے۔ آنے والے دنوں میں اسے اپنی ماضی کی لفاظی کے برعکس ہر سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔’تبدیلی‘ کا یہ عمل کئی طرح کے متضاد نتائج پیدا کرے گا جو سماجی شعور میں معیاری تبدیلیاں بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ اس نظام میں رہتے ہوئے کسی ’تبدیلی‘ کا یوٹوپیا بے نقاب اور رسوا ہونا شاید سماج کو آگے بڑھانے کے لئے ضروری بھی تھا۔ حالات اور واقعات ہی لوگوں پر واضح کریں گے کہ انہیں جو تبدیلی درکار ہے وہ چہروں کو بدلنے سے نہیں بلکہ منڈی اور منافع کے اس پورے نظامِ سرمایہ کو اکھاڑ پھینکنے سے ہی برپا ہو سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*