فرقہ واریت کا عفریت

| تحریر: لال خان |

مدھیہ پردیش میں ہندو مذہبی جنونیوں کی جانب سے زندہ جلائی جانے والی بچی ہو، بلوچستان میں وقفے وقفے سے قتل عام کے شکار ہزارہ ہوں، ہندوستان میں قتل عام اور تعصب کے شکار مسلمان یا عیسائی ہوں، سندھ میں محصور ہندو ہوں یا حالیہ دنوں میں ضلع چکوال کے درمیال گاؤں میں احمدی فرقے کے خلاف ہونے والا بلوا اور تشدد، مذہبی بنیاد پرستی کا پاگل پن اور وحشت جنوبی ایشیا اور اس کے باہر اپنے عروج پر ہے۔
fundamentalist-terrorist-organizations-cartoonسول سوسائٹی کے ’قانونی‘ احتجاجوں سے کچھ نہیں ہونے والا اور فرقہ پرستوں کی زہریلے نفرت پر مبنی سرگرمیاں دھڑلے سے مذہبی اقلیتوں کا قتل عام کر رہی ہیں۔ ریاستی آقاؤں اور مختلف حکومتوں کی جانب سے علامتی مذمتوں کے باوجود حکمران طبقات کا قطعاً کوئی ارادہ نہیں ہے کہ اس مذہبی جنون کو لگام دیں جو سماج میں پہلے سے محکومی کے شکار عوام پر قہر نازل کر رہا ہے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ نام نہاد سیکولر اور لبرل حکومتوں نے بھی محنت کشوں اور نوجوانوں کی تحریک سے خوفزدہ ہوکر اپنی حاکمیت کو بچانے کے لیے اکثر و بیشتر ان رجعتی قوتوں اور ملاؤں کا سہارا لیا ہے۔
کوئٹہ میں 8 اگست کے سانحے کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی مرتب کردہ اس رپورٹ نے ’بیرونی ہاتھ‘ کے تاثر کو مسترد کیا ہے جو میڈیا اور حکام اکثر دیتے ہیں۔ رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیاہے کہ ’’خودکش حملہ آور پاکستانی تھا اور اس کے تمام تر ساتھی بھی پاکستانی تھے‘‘۔رپورٹ میں وزارت داخلہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اقدام میں ہچکچاہٹ اور ان پر پابندی لگانے میں تاخیر کو اجاگر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ’’پہلے سے کالعدم قرار دی گئی تنظیمیں اپنی غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور نئی دہشت گرد تنظیموں پر کافی تاخیر کے بعد پابندی لگائی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ کچھ دہشت گرد تنظیموں پر ابھی تک پابندی نہیں لگائی گئی جبکہ مختلف دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے ان کے بیانات نشر بھی ہوئے ہیں۔ مدرسوں کی رجسٹریشن یا نگرانی کا کوئی انتظام نہیں ہے‘‘۔کمیشن نے فرقہ وارانہ تشدد کے سوال پر میڈیا کے معذرت خواہانہ کردار کی بھی مذمت کی ہے، ’’میڈیا میں دہشت گردی کے شکار لوگوں کے بارے میں بہت کم مواد ملتا ہے۔ میڈیا کوریج زیادہ تر دہشت گردوں کے پراپیگنڈہ کے گرد مرکوز ہوتی ہے جو اینٹی ٹیررازم ایکٹ کی دفعہ 11-W کی خلاف ورزی کرکے نشر کی جاتی ہے‘‘۔ کمیشن نے سفارش کی ہے کہ اگر میڈیا دہشت گردوں کے نظریات کی تشہیر کرتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے۔ رپورٹ پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے پتا چلتا ہے کہ دہشت گردی اور فرقہ وارانہ خون ریزی کو قابو کرنے میں یا تو یہ ریاست اور حکومتیں مکمل ناکام ہیں یا ان کی ملی بھگت اور مرضی و منشا سے یہ سب کچھ ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ بعض اداروں کے کچھ دھڑے اس بنیاد پرستی، جنون اور قتل عام کو ہوا دیتے ہیں جو سماج کوتاراج کر رہا ہے اور ثقافتی، سماجی اور اخلاقی اقدار کو مسخ کر رہا ہے۔
سیاسی و ریاستی اشرافیہ، آبادی کی وسیع اکثریت کو درپیش تباہ کن سماجی معاشی ذلت کی طرف ایک مجرمانہ بے حسی اختیار کیے ہوئے ہے۔وسیع بیروزگاری اور مسلسل بڑھتی ہوئی غربت، صحت و تعلیم سے لے کر دوسری لازمی انسانی ضروریات سے اذیت ناک محرومی،عوام کی قوت خرید کو مسلسل نگلتی ہوئی مہنگائی۔ ان حکمران طبقات اور ان کے میڈیا نے ان سلگتے ہوئے مسائل کو یکسر رد کر کے پس پشت ڈال دیا ہے۔ وہ دراصل ان مسائل کے ذکر کو ہی منظر عام سے غائب کرنا چاہتے ہیں۔ ریاستی ادارے دراصل محکوم محنت کش عوام پر ایک چھوٹی سی اقلیت کی حکمرانی اور استحصال کو برقرار رکھنے کے لیے بنائے گئے ہیں، اس لیے یہ محروم اور استحصال زدہ عوام کے نجات دہندہ ہرگز نہیں ہیں۔ روایتی قیادتیں موقع پرستی اور لوٹ مار کے لیے انتہائی بے شرمی اور ڈھٹائی سے عوام سے غداری کرکے سرمایہ داری کے چرنوں میں سربسجود ہوچکی ہیں۔
وقتی طور پر طبقاتی کشمکش میں کسی حد تک جمود چھایا ہوا ہے جو ملک کی موجودہ صورت حال میں مایوسی اور قنوطیت کا باعث بن رہا ہے۔ اس طرح کے ادوار میں مذہبی، فرقہ وارانہ، ذات پات اور ماضی کے دوسرے تعصبات وقتی طور پر عود آتے ہیں۔ حکمران طبقات جن کا مطمع نظر ہی طبقاتی بغاوت کی معمولی سی چنگاری کو بھی بجھانا ہوتا ہے، وہ ان تعصبات کو ہوا دیتے ہیں تاکہ ان کو ایک آلے کے طور استعمال کرکے محنت کش عوام میں رخنہ ڈال سکیں۔ یہ دہشت گرد تنظیمیں جو کالے دھن کی مالیاتی خوراک پر پلتی ہیں، مشہور ہونے اور طاقت حاصل کرنے کے بعد اکثر اوقات اپنے آقاؤں کے قابو سے بھی باہر ہوجاتی ہیں اور ریاست کو درہم برہم کرنے والا انتشار بن جاتی ہیں۔
سماج میں فرقہ واریت کے وجود کو مبالغہ آرائی سے پیش کیا جاتا ہے حالانکہ ان کی آبادی کے وسیع حصے میں کوئی حمایت موجود نہیں ہے۔ پاکستان کے وجود کے ستر سالوں میں دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں نے پانچ فیصد سے زیادہ ووٹ کبھی نہیں لیے ہیں۔ یہ رجعتی رجحانات زیادہ تر پیٹی بورژوازی (درمیانے طبقے) میں پائے جاتے ہیں، جو ایک ایسا ڈانواڈول طبقہ ہوتا ہے جو سماجی و معاشی درجہ بندی میں اپنے آگے نہ بڑھ پانے کی ہیجانی کیفیت میں مذہبی بنیادپرستی میں اپنی فرسٹریشن کا مداوا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح سماج کی پسماندہ ترین پرتوں میں بھی ان رجحانات کو کچھ پذیرائی ملتی ہے۔
cii-maulana-sherani-cartoon1980ء کی دہائی سے بنیادی پرستی کو ہوا دینے میں ریاست کے کردار اور سرکاری ملاؤں کی دولت میں بے پناہ اضافے سے پرتشدد فرقہ وارانہ تنظیموں کے تشدد میں بھی شدت آئی جنہیں بنیادی طور پر سامراج اور ریاست نے تخلیق کیا اور پروان چڑھایاتھا۔ بعد کی دہائیوں میں مختلف جمہوری حکومتوں نے بھی ان فرقہ وارانہ پراکسیوں کا استعمال جاری رکھا اور پورے ملک میں ان کے مدرسوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ جرائم، کرپشن، منشیات، قبضہ گیری اور دوسرے دھندوں پر مبنی کالی معیشت کے بڑھنے سے مختلف بنیاد پرست دھڑوں کے درمیان اس لوٹ مار پر لڑائیاں بھی بڑھ گئیں۔ اس سے ان فرقوں کے مزید فرقے بنے اور سب اس لوٹ کے مال کو زیادہ سے زیادہ لوٹنے کے لیے آپس میں دست و گریبان ہو گئے۔ ہر نیا بننے والا فرقہ اور دھڑا پہلے سے زیادہ بربریت کا مظاہرہ کرتا تھا تاکہ اپنا دبدبہ اور مارکیٹ ویلیو بڑھا سکے۔ آج پاکستان میں ضیاالحق کی وحشی آمریت کے دور سے کہیں زیادہ مذہبی فرقے اور مختلف انواع و اقسام کی بنیاد پرست تنظیمیں موجود ہیں۔ سماجی تعلقات مزید زہرآلود ہو رہے ہیں اور نجی زندگیوں میں ایک طرف ان بنیاد پرستوں تو دوسری طرف ’نیشنل ایکشن پلان‘ جیسی ’’کاروائیوں‘‘ کے نام پر ریاست کی مداخلت بڑھتی جا رہی ہے۔
ضیاالحق کی وحشی شقوں کو آئین اور قانون سے نکالنے کی کوشش اور جرات آج تک کوئی نام نہاد جمہوری حکومت نہیں کر سکی۔ توہین سے لے کر عورتوں کے خلاف قوانین تک، سب مالیاتی اور جائیداد کے جھگڑوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ مذہب ایک منافع بخش کاروبار بن گیا ہے۔ ان وحشی فرقہ وارانہ گروہوں کو پیسے دے کر انتقام لئے جاتے ہیں، قبضے کروائے اور چھڑوائے جاتے ہیں، بلیک میل کیا جاتا ہے، قتل و غارت کروائی جاتی ہے۔ جرائم پیشہ اور بدعنوان عناصر، منشیات کے سوداگر، بھتہ خور، پراپرٹی مافیا، سیاستدان، سرمایہ دار اور جاگیر دار، ریاستی افسر شاہی اور کاروباری لوگ ان تنظیموں کی خدمات اپنے مفادات کے لئے کرائے پر حاصل کرتے ہیں۔ موجودہ قوانین، آئین، ریاستی ڈھانچوں اور نظام میں اس عفریت کے خاتمے کی توقع خودفریبی کے مترادف ہے۔اس گلی سڑی سرمایہ داری کے اندر رہتے ہوئے اس تباہ کاری سے نجات کا سبق دینا لوگوں سے خیانت اور غداری ہے۔ اس نظام کے استحصال اور محکومی کے شکار محنت کش طبقات کی ایک انقلابی تحریک ہی ان رجعتی رجحانات اور ان کے انداتاؤں کا خاتمہ سیاسی، معاشی، ثقافتی اور سماجی طور پر کرکے بنیاد پرستی اور فرقہ واریت سے نجات دلا سکتی ہے۔ بے رحم انقلابی جراحی کے بغیر انسانی جسم اور روح اس عفریت کی جکڑ سے آزاد نہیں ہو سکتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*