برکینا فاسو: افریقی انقلاب کی پہلی چنگاری

[تحریر: لال خان]
مغربی افریقہ کے ملک برکینافاسو میں عوامی بغاوت کی خبریں عالمی ذرائع ابلاغ پر حاوی ہیں، عوام نے علم بغاوت بلند کر کے 27 سال سے اقتدار پر براجمان صدر بلیز کومپئیورے کا تختہ الٹ دیا ہے۔ صدر کے استعفیٰ کے بعد اقتدار سنبھالنے والا آرمی چیف ہنور ترور بھی بپھرے ہوئے عوام کے سامنے ٹھہر نہیں پایا اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بھاگنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ جمعرات 30 اکتوبر کو جب صدر نے جب اپنی صدارت کی مدت میں مزید توسیع کے لیے پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا توہزاروں افراد نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ شروع کردیا۔ سخت سکیورٹی کے باوجودبغاوت میں ابھرے ہوئے عوام نے پارلیمنٹ کے اندر جا کر اس کو آگ لگا دی اور سیاستدانوں نے قریبی ہوٹل میں پناہ لے کر اپنی جانیں بچائیں۔ اس کے بعد مجمع سرکاری ٹی وی کی عمارت کی جانب بڑھا اور اس کی نشریات بھی بند کروا دیں، ساتھ ہی عوام نے صدارتی محل کی جانب پیش قدمی شروع کر دی، پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی اور جلو س پر گولیوں کی بوچھاڑ سے کم از کم تین لوگ مارے گئے۔ انقلاب کے یہ شعلے جلد ہی پورے ملک میں پھیل گئے اور دوسرے بڑے شہر بوبومیں حکمران جماعت کے دفاتر نذر آتش کر دئیے گئے اور صدر کے رشتے داروں کے گھر جلا دئیے گئے۔ آرمی چیف کی وارننگ اور کرفیو کا اعلان بے سود ثابت ہو، عوام نے دارالحکومت کے مرکزی چوراہے پرقبضہ جاری رکھا جس کا نام ’قومی چوک‘ سے تبدیل کر کے ’انقلابی چوک‘ رکھ دیا گیا ہے۔ مستعفی ہونے والا کمپئیورے خطے میں امریکہ کا اہم اتحادی تھااور ملک کے دارالحکومت میں امریکی اڈہ 2007ء سے کام کر رہا ہے جہاں سے پورے خطے کی جاسوسی کی جاتی ہے۔

30 اکتوبر کو ہونے والا مظاہرہ

ان واقعات نے واضح طور پر ایک انقلابی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ 30 اکتوبر کا واقعہ دراصل اس سے قبل ایک ہفتے سے چلے آ رہے غیر معمولی واقعات کا ہی تسلسل تھا۔ 29 اکتوبر کو مزدور یونینوں نے عام ہڑتال کی کال دی تھی، 28 اکتوبر کو دس لاکھ سے زیادہ لوگوں نے صدر کے عہدے کی مدت میں توسیع کو رد کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا۔ پولیس گردی کے باعث یہ احتجاج پر تشدد ہو گیا اور لوگ لوہے کی سلاخوں اور پتھروں سے پولیس کا مقابلہ کرتے ہوئے صدارتی محل کے قریب پہنچ گئے۔ یاد رہے کہ 2011ء میں بھی تنخواہوں میں اضافے کے لئے کمپئیورے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے جن میں فوج کے سپاہی بھی شامل تھے۔ اس تحریک کو ریاستی جبر سے کچل دیا گیا تھا اور سینکڑوں فوجیوں کے کورٹ مارشل ہوئے تھے۔
مستعفی ہونے والا صدر کومپئیورے 1987ء میں فرانسیسی سامراج کی پشت پناہی سے ایک بغاوت کے نتیجے میں صدر بنا تھا۔ یہ بغاوت افریقہ کے سامراج مخالف انقلابی راہنماتھامس سنکارا کے خلاف منظم کی گئی تھی۔ کومپئیورے 1983ء سے 1987ء تک ’’قومی انقلابی کونسل‘‘ کا ممبر اور مبینہ طور پر سنکارا کا دوست تھا۔

تھامس سنکارا

تھامس سنکارا بائیں بازو کا انقلابی رہنما تھا جسے ’’افریقہ کا چی گویرا‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ فرانسیسی سامراج کے خلاف آزادی کی ایک عظیم جدوجہد کے نتیجے میں 1983ء میں بر سراقتدار آیا تھا۔ سنکارا نے ہی اس ملک کا نام برکینا فاسو رکھا جس کا مطلب ہے’’دیانتدار انسان کی سرزمین‘‘۔ آزادی کے بعد سنکارا نے تمام زمین اور معدنی وسائل فوری طور پر نیشنلائز کر کے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے تمام تعلقات ختم کر دئیے تھے۔ اس نے بڑے پیمانے کی زرعی اصلاحات نافذ کیں جس کے نتیجے میں اناج، خاص کر گندم کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہوا اور برکینا فاسو خوراک میں خود کفیل ہو گیا۔
سنکاراحکومت نے صحت اور تعلیم کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا، اقتدار کے پہلے سال میں 25لاکھ بچوں کی ویکسی نیشن کی گئی، پہلے دو سال میں سکولوں میں بچوں کی تعداد دوگنا ہو گئی۔ سنکاراسامراج کے ساتھ ساتھ افریقی عوام کا خون چوسنے والے مقامی حکمران طبقے سے بھی نفرت کرتا تھا۔ سنکارا اور اس کے وزرا کی تنخواہیں انتہائی کم جبکہ مراعات محدود تھیں، اس کی کوشش تھی کہ ریاستی اہلکار عام آدمی کی طرحس سادہ زندگی بسر کریں۔ سنکارا کے چار سالہ اقتدار میں خواتین کی سماجی اور معاشی حالت میں تیزی سے بہتری آئی، اس نے کہاتھا کہ’’انقلاب اور خواتین کی آزادی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ خواتین کی آزادی کی کوئی خیرات نہیں بلکہ انقلاب کی فتح کی بنیادی شرط ہے‘‘۔ خواتین کو پہلی بار طلاق کا حق دیا گیا، زبردستی کی شادیوں اور خواتین کے جنسی اعضا کی قطع پر پابندی لگائی اور انہیں فوج اور کابینہ میں شامل کیا گیا۔

سنکارا افریقی عوام میں آج بھی مقبول ہے

سنکارا سامراج، جاگیر دار اور سرمایہ دار اشرافیہ کے مقابلے میں عوام کے ساتھ کھڑا تھا لیکن اس سے کئی غلطیاں بھی سرزد ہوئیں۔ اپنے بونا پارٹسٹ رجحانات کے تحت اس نے منظم مزدور یونینوں کے خلاف کاروائیاں کیں تاکہ اس کے فیصلوں کی مخالفت نہ ہو سکے۔ سامراجی قوتوں، خصوصاً فرانسیسی سامراج کے لئے ایسی انقلابی حکومت بہر حال ناقابل برداشت تھی لہٰذا کمپئیورے کی مدد سے ایک سازش تیار کی گئی اور اقتدار پر شب خون مار کر بزدلانہ طریقے سے سنکارا کو قتل کردیا گیا۔ سنکارا کو جسمانی طور پر مٹا دیا گیا لیکن اس کے انقلابی نظریات اور روایات عوام کے دلوں میں رہے۔ الجزیرہ کی رپورٹوں کے مطابق حالیہ مظاہروں میں شریک عوام سنکاراسے متاثر ہیں۔
کمپئیورے نے اقتدار میں آنے کے بعد تمام انقلابی اقدامات اور اصلاحات کا خاتمہ کردیا، وہ 1991ء سے اب تک چار دفعہ صدر ’’منتخب‘‘ ہو چکا ہے۔ صدر کی آئینی مدت کے تحت اسے 2015ء میں عہدے سے ہٹنا تھا لیکن وہ آئینی ترمیم کے ذریعے اپنے عہدے کی معیاد بڑھانے کے چکر تھا، اسی دوران عوام کا غم و غصہ تحریک کی شکل میں پھٹ پڑا۔
کمپئیورے نے اپنے دور اقتدار میں آئی ایم ایف کے اشاروں پر بڑے پیمانے پر نجکاری کی اور عوامی اخراجات میں کٹوتیاں کی گئیں۔ 1991ء میں بلا مقابلہ صدر منتخب ہونے سے پہلے اس نے سوشلزم کی پر زور مخالفت کی، اپنی رد اصلاحات کی پالیسی اس نے ’’عملی مارکسزم‘‘ کا نام دیا جس کے بدلے میں آئی ایم ایف سے بھاری قرضے ملے۔ اس دوران معیشت تو دس فیصد کی شرح سے ’’ترقی‘‘ کرتی رہی لیکن غربت میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ آج برکینا فاسو کی آآدھی سے زیادہ آبادی انتہائی غربت کا شکار ہے، متوقع اوسط عمر 45 برس ہے اور اقوام متحدہ کی فہرست کے مطابق اس کا شمار افریقہ کے غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ 80 فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے جبکہ 90 فیصد زراعت سے منسلک ہے۔ یہ پسماندگی آئی ایم ایف اور فرانسیسی سامراجی کی پالیسیوں کا براہ راست نتیجہ ہے۔ 2008ء کے عالمی معاشی بحران کے باعث کپاس اور دیگر زرعی اجناس کی قیمتوں میں تیز ترین کمی ہوئی جس کے باعث عوام کی حالت بدسے بد تر ہوگئی۔

سرکاری ٹی وی پر قبضے کے بعد مظاہرین براہ راست نشریات پر

موجودہ انقلابی بغاوت، جسے عرب بہار کی طرز پر ’’سیاہ بہار‘‘ بھی کہا جارہا ہے، کے اثرات پورے افریقہ میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ خاص کر نائیجیریا میں اس کے بڑے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جہاں کچھ عرصہ پہلے ہی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف عوامی تحریک ابھری تھی۔ برکینا فاسو میں انقلابی تبدیلی سے انگولا، یوگنڈا، کیمرون اور دیگر افریقی ممالک کے آمر بھی لرز گئے ہیں۔ یہ واقعات جنوبی افریقہ میں بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے جہاں غربت اور امارت کی خلیج دنیا میں سے سب سے وسیع ہے۔
فرانسیسی اور امریکی سفارتکار سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں کہ فوج کے ذریعے دوبارہ کسی کٹھ پتلی حکمران کو ملک پر مسلط کر دیا جائے۔ نوجوانوں کی ایک تنظیم ’’شہریوں کاجھاڑو‘‘ نے ’’فوجی سرمایہ دار مردہ باد‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے ’’اصل فوج‘‘ سے اپیل کی ہے کہ وہ عوام کے ساتھ مل کر حقیقی دشمنوں کے خلاف لڑیں۔ اگر عوام خود کو دفاعی کمیٹیوں میں نچلی سطح تک منظم کرتے ہیں اور اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینے کے لیے اجتماعی قیادت کی جانب بڑھتے ہیں تو انقلابی عمل تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ عوامی کمیٹیوں کو ریاست کے تمام ادار وں کو تحلیل کر کے تمام امور اپنے ہاتھ میں لینا ہوں گے، اس نظام کے رکھوالے سیاستدانوں اور جرنیلوں سے مصالحت کرنے کی بجائے سرمایہ داری کا یکسر خاتمہ کرنا ہوگا۔
جابر ریاست اور استحصالی نظام کی قابل نفرت نشانیوں کو نذر آتش کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا، بورژوا ریاست کو اکھاڑ کر محنت کشوں کا انقلابی اقتدار تعمیر کرنا ہوگا۔ جس انقلابی تحریک کا آغاز آئینی اور جمہوری مطالبات سے ہوا ہے اس کو سماجی اور معاشی نجات کے سوشلسٹ پروگرام سے جوڑنا ہوگا، محنت کشوں اور نوجوانوں کے حقیقی مسائل اسی صورت میں حل ہو سکتے ہیں۔ برکینا فاسو کے موجودہ حالات کوئی بھی رخ اختیار کر سکتے ہیں لیکن ایک بات واضح ہے کہ ’’سیاہ بہار‘‘ کے انقلابی سلسلے کا آغاز ہو چکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*