مودی کے زوال کا آغاز؟

تحریر: حسن جان

بھارت کے حالیہ ریاستی انتخابات میں پانچ ریاستوں میں بی جے پی کو پچھلے پانچ سالوں کی بدترین شکستوں کاسامنا کرنا پڑا ہے۔ راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی حکومت سے باہر ہوگئی ہے۔ تلنگانہ میں اگرچہ بی جے پی کی حکومت نہیں تھی لیکن یہاں بھی ان کو بڑی حزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے علاوہ میزورم میں برسراقتدار کانگریس حکومت سے باہر ہوگئی ہے۔ اگرچہ ہندی بولی جانے والی دو ریاستوں میں بی جے پی کم فرق سے ہاری ہے لیکن کارپوریٹ میڈیا کے مودی کے حق میں پراپیگنڈے اور ’’شائننگ انڈیا‘‘ کے پرفریب نعروں کے تناظر میں اس شکست نے بی جے پی کے ’وِکاس‘ (ترقی) اور ’اچھے دن‘ کے وعدوں اور دعوؤں کا پول کھول دیا ہے۔ نریندرا مودی جس معاشی ترقی، روزگار کی فراہمی اور غربت کے خاتمے کے نعروں کے ساتھ 2014ء کے انتخابات میں اقتدار میں آیا تھا وہ تو پورے نہ ہوئے ہاں البتہ اس میں اپنی ناکامی اور خفت کو چھپانے کے لیے مذہب اور ذات پات کی بنیادوں پر تقسیم اور فسادات کو اس دوران خوب ہوا دی گئی۔ دوسری طرف اس معاشی، سیاسی اور سماجی جبر کے خلاف آواز اٹھانے والے سماجی کارکنوں، بائیں بازو کے سیاسی ورکروں اور ترقی پسند آوازوں کو ہندوبنیادپرست تنظیموں اور ریاستی جبر کے ذریعے ’غدار‘ اور ’پاکستانی ایجنٹ‘ کے الزامات لگا کر خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ان انتخابات میں اگرچہ بی جے پی کی ہار ہوئی ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ کانگریس دوبارہ ابھر رہی ہے۔ اگرچہ شمالی ہندوستان کی تین ریاستوں میں کانگریس کی حکومت بنی ہے لیکن اس کے باوجود یہ کانگریس کی جیت سے زیادہ بی جے پی کی ہار ہے کیونکہ تلنگانہ کے الیکشن میں کانگریس اور بی جے پی دونوں کو شکست ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ میزورم ریاست میں تو کانگریس کو حکومت سے ہی ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ یہ دراصل مودی کے ان نیولبرل معاشی نسخوں کی شکست ہے جس میں ایک طرف سرمایہ داروں کے ایک قلیل ٹولے کو تو بہت فائدہ ہوا اور ان کی دولت میں دیوہیکل اضافہ ہوا جبکہ دوسری طرف عوام کی معاشی حالت بد سے بدتر ہوتی گئی ہے۔
سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی (CMIE)، جو ایک اکنامک اور بزنس تھنک ٹینک ہے، کے مطابق راجستھان میں اکتوبر 2018ء میں بیروزگاری کی شرح 13.7 فیصد تھی جو قومی سطح پر بیروزگاری کی شرح 6.6 فیصد کا دوگنا ہے۔ راجستھان میں بی جے پی کی وزیراعلیٰ وسوندھرا راجے نے 2013ء میں اقتدار میں آنے کے بعد 15 لاکھ نوکریاں فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ حالیہ دنوں میں الیکشن مہم کے دوران اس نے فخریہ انداز میں دعویٰ کیا کہ اس کی حکومت نے پندرہ کی بجائے 44 لاکھ نوکریاں پیدا کر دی ہیں۔ جبکہ راجستھان کے ہی وزیر محنت اور روزگار نے پچھلے سال دسمبر میں کہا تھا کہ حکومت محض 2.17 لاکھ روزگار ہی فراہم کرسکی ہے۔ ریاست میں بیروزگاری کی گھمبیرتا کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2017ء میں راجستھان اسمبلی میں چپڑاسی کی 18 پوسٹوں کے لیے 13000 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں 912 انجینئر، 23 وکیل، ایک چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ اور 393 پوسٹ گریجویٹ تھے۔ اس کے علاوہ بے تحاشہ قرضوں اور قدرتی آفات سے فصلوں کی تباہی کی وجہ سے کسانوں کی خودکشیاں روز کا معمول ہیں۔ دوسری طرف بی جے پی کی حکومت عوام کو گائے کی حفاظت کے انتہائی بھونڈے اور رجعتی نان ایشو میں الجھائے ہوئے تھی ۔ مضحکہ خیزی یہ ہے گائے کی حفاظت کے لیے ایک الگ ’’وزارتِ گائے‘‘ قائم کی گئی جس کا کام آوارہ گائیوں کو رہائش اور حفاظت فراہم کرنا تھا۔ وزیر موصوف نے جائیداد کی خرید و فروخت پر 20 فیصد ٹیکس عائد کیا تاکہ ان پیسوں سے گائیوں کے لیے پناہ گاہیں تعمیر کی جاسکیں۔ گائے کو ذبج کرنے اور اس کا گوشت کھانے کے الزام میں نچلی ذات کے ہندوؤں اور مسلمانوں کا ہجوم کے ذریعے قتل (Mob lynching) کرنے کے متعدد واقعات تسلسل سے ہوتے رہے ہیں ۔
مدھیہ پردیش میں بی جے پی پچھلے پندرہ سالوں سے برسراقتدار تھی۔ پچھلے پانچ سالوں میں مدھیہ پردیش میں کسانوں کے متعدد احتجاج اور ہڑتالیں ہوئیں۔ اس سال جون میں کسانوں نے دس دنوں تک ہڑتال کی اور اس دوران شہروں کو زرعی اجناس کی ترسیل بند کردی۔ ان کا مطالبہ زرعی قرضوں کی معافی، زرعی اجناس کی مناسب قیمت کا اجرا اور تباہ شدہ فصلوں کی تلافی کی ادائیگی تھی۔ اپنی پچھلی حکومت میں بی جے پی نے پانچ سالوں میں پچاس لاکھ نئی نوکریاں پیدا کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بی جے پی کی پندرہ سالہ حکومت میں صرف 2.45 لاکھ نوکریاں ہی پیدا کی جاسکیں۔ دوسری طرف حالیہ الیکشن مہم کے دوران کانگریس نے ووٹرز کو جلب کرنے کے لیے کسانوں کے قرضے معاف کرنے کے وعدے بھی کیے۔ اسی طرح چھتیس گڑھ میں بھی بی جے پی پچھلے پندرہ سالوں سے برسراقتدار تھی اور حالیہ ریاستی انتخابات میں بی جے پی کو سب سے زیادہ شرمناک شکست چھتیس گڑھ میں ہوئی جہاں انہیں کانگریس کی 68 سیٹوں کے مقابلے میں صرف 15 سیٹیں ہی مل سکیں۔ ان تینوں ریاستوں میں انتخابی مہم نریندرا مودی، بی جے پی کے صدر امیت شاہ اور اتر پردیش کے مذہبی جنونی وزیر اعلیٰ یوگی ادتیاناتھ نے مل کر چلائی تھی۔ پچھلے پانچ سالوں میں اپنی سرمایہ نواز پالیسیوں اور عوام کے معاشی قتل عام کے بعد وہ ’وِکاس‘ اور معاشی خوشحالی کی بات اس طرح نہیں کرسکتے تھے جیسا کہ انہوں نے 2014ء میں کی تھی۔ اس لیے اس دوران انہوں نے کھلم کھلا مذہبی تقسیم اور ہندو مسلم تفریق کی رجعتی نعرے بازی کے گرد اپنی انتخابی مہم چلائی۔ بالخصوص یوگی ادتیاناتھ نے تو اس معاملے میں ساری حدیں پار کردیں۔ مثلاً چھتیس گڑھ کے انتخابی جلسے میں اس نے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’اگر تمہارے پاس علی ہے تو ہمارے پاس بھی بجرنگ بلی ہے۔‘‘ اس کے علاوہ اس نے مسلم نام کے حامل شہروں، عمارتوں، سڑکوں اور اسٹیشنوں کے نام تبدیل کرکے ہندو نام رکھنے کے اعلانات بھی کیے۔ مندر اور مسجد کے اس جھگڑے میں وہ اتنے آگے چلے گئے کہ بی جے پی کے ایوان بالا کے ممبر سنجے کاکاڈے کو یہ کہنا پڑا کہ ’’میرے خیال میں ہم ترقی کے مسئلے کو بھول چکے ہیں جبکہ رام مندر، مجسمے اور شہروں کے نام بدلنا اب ہماری توجہ کا مرکز بن گیاہے۔‘‘
نریندرا مودی جس ’چمکتے ہندوستان‘ (شائننگ انڈیا) کے نعرے کے ساتھ 2014ء میں اقتدار پر براجمان ہوا تھا وہ انڈیا صرف مٹھی بھر سرمایہ داروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے ہی چمک رکھتا ہے۔ عوام کی وسیع اکثریت کے لیے اس میں صرف تاریکی اور ذلت ہی ہے۔ جس ’گجرات ماڈل‘ کی بنیاد پر مودی کو شہرت ملی وہ دراصل نیولبرل معاشی پالیسیوں کا بے رحمانہ نفاذ تھا جس کے تحت کارپوریٹ سرمائے کے منافعوں میں اضافے کے لیے ’سازگار ماحول‘ تیار کیا جاتا ہے اور معیشت میں ریاست کے کردار کو کم سے کم کیا جاتا ہے۔ اس سے کارپوریشنوں کی سرمایہ کاری اور منافعوں میں تو بے تحاشہ اضافہ ہوتا ہے اور شرح نمو میں بھی بڑھوتری آتی ہے لیکن اس ترقی کے ثمرات عام جنتا تک نہیں پہنچ پاتے۔ جس سے سماجی تضادات مزید شدت اختیار کرتے ہیں۔ جب یہی سماجی تضادات پھٹ کر حکمرانوں کی حاکمیت کو خطرے میں ڈالنے لگتے ہیں تو وہ مذہبی فسادات کرواتے ہیں۔ گجرات میں 2002ء میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات بی جے پی اور مودی کی ہی کارستانی تھی۔
مودی کی گجرات میں انہی بے رحمانہ نیولبرل معاشی پالیسیوں کے نفاذ کے بعد وہ ملکی سرمایہ داروں اور عالمی اجارہ داریوں کی آنکھ کا تارہ بن گیا تھا اور اسے اقتدار میں لانے کے لیے ان کارپوریشنوں کی طرف سے ایک باقاعدہ مہم چلائی گئی۔ ایسو سی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (ADR)، جو دہلی میں ایک تھنک ٹینک ہے، کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 2004ء سے کارپوریشنوں کی طرف سے مختلف سیاسی پارٹیوں کو ملنے والے چندوں (Corporate Donations) میں 613 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ان ’چندوں‘ کا سب سے بڑا حصہ یعنی 77.72فیصد (تقریباً پندرہ ارب روپے)بی جے پی کو ملے جبکہ اسی عرصے میں کانگریس کو 4.5 ارب روپے ملے۔ یہ کارپوریشنز ہی پارٹیوں کو چلاتی ہیں اور انہیں اقتدار میں لاتی ہیں اور ان کی پالیسیوں کا تعین کرتی ہیں۔
لیکن معیشت کو عالمی اجارہ داریوں کے لیے مزید لبرلائزکرنے اور سرمایہ کاری کے لیے ’سازگار‘ ماحول بنانے کے نتیجے میں ایک طرف تو شرح نمو اپنی بلند ترین سطح 10.26 فیصد (سال 2010ء) تک پہنچ گئی اور ملک میں ڈالر ارب پتیوں کی تعداد 141پر پہنچ گئی۔ دوسری طرف طبقاتی فرق میں بے تحاشہ اضافہ ہوا۔ آکسفیم کی رپورٹ کے مطابق سال 2017ء میں بھارت میں 17 نئے ارب پتیوں کا اضافہ ہوا لیکن اسی سال ملک میں پیدا ہونے والی دولت کا 73 فیصد اوپر کی امیر ترین 1 فیصد آبادی کی جیبوں میں چلا گیا جبکہ 67 کروڑ یعنی ملک کی آدھی آبادی کی دولت میں محض ایک فیصد کا اضافہ ہوا۔ ہفنگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس وقت بھارت میں بیروزگاری گزشتہ بیس سالوں کی بلند ترین سطح پر ہے۔ بیروزگاری کے ساتھ ساتھ کم اجرتیں بھی سنگین مسئلہ ہے۔ 82 فیصد مرد اور 90 فیصد خواتین ماہانہ دس ہزار روپے سے کم کماتے ہیں جبکہ ساتویں سینٹرل پے کمیشن کی سفارشات کے مطابق کم سے کم اجرت ماہانہ 18 ہزار روپے ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ جی ڈی پی کی نمو اور روزگار کی تخلیق کے درمیان تناسب بھی تضادات سے بھر پور ہے۔ ستر اور اسی کی دہائی میں اگر جی ڈی پی کی شرح نمو 3 سے 4 فیصد ہوتی تو روزگار کی تخلیق 2 فیصد سالانہ تھی ۔ اب حالت یہ ہے کہ جی ڈی پی تو 7 فیصد کی شرح نمو سے بڑھ رہا ہے لیکن روزگار کی تخلیق 1 فیصد سالانہ ہے۔ یوں دنیا بھر کی طرح ہندوستان میں بھی ’جاب لیس گروتھ‘ کا مظہر دیکھا جا سکتا ہے۔ سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی (CMIE) کے مطابق سال 2018ء میں بیروزگاری جولائی 2017ء کے 3.4 فیصد سے بڑھ کر اب 7.1 فیصد ہوگئی ہے۔
حالیہ برسوں میں اس معاشی جبر اور مودی کی سرمایہ نواز پالیسیوں کے خلاف بھارت میں محنت کشوں نے شاندار جدوجہد اور ہڑتالیں کی ہیں۔ اس سال غریب کسانوں نے ریاست مہاراشٹرامیں دارالحکومت ممبئی کی طرف قرضوں کی معافی اور اپنے دیگر مطالبات کے لیے ہزاروں کی تعداد میں مارچ کیا۔اس مارچ میں طلبہ کی شمولیت اور یکجہتی نے ایک معیاری فرق پیدا کیا اور اس دیوہیکل مارچ کی وجہ سے سرکار کو ان کی مانگیں ماننا پڑیں۔ اسی طرح ستمبر 2015ء میں پندرہ کروڑ سے زائد ہندوستان کے طاقتور پرولتاریہ نے عام ہڑتال میں حصہ لیا۔ اگلے سال یعنی 2016ء میں بھی اٹھارہ کروڑ سے زائد مزدوروں نے ایک دن کی عام ہڑتال کی۔ اب نئے سال 2019ء کے آغاز پر بھی ہندوستان کے محنت کشوں نے ایک دفعہ پھر نریندرا مودی کی نیم فسطائی اور کارپوریٹ حکومت کے خلاف 8 اور 9 جنوری کو دو دن کی عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے جس میں ملک بھر سے کروڑوں محنت کشوں نے حصہ لیا ہے۔ اس کے علاوہ دفاعی پیداوار سے منسلک محنت کش مہینے کے آخر میں تین روزہ (23 سے 25جنوری تک) ہڑتال کریں گے۔ ہندوستان کے محنت کشوں کی یہ جدوجہد اور ہڑتالیں مودی اور ادتیاناتھ جیسے مذہبی جنونیوں کے نیولبرل معاشی نسخوں اور مذہبی تقسیم کی وارداتوں کو ایک منہ توڑ جواب ہیں۔ محنت کش طبقہ اس لڑائی میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا لیکن سوال یہ ہے کہ ہندوستان کی بڑی اور عوامی حمایت کی حامل کمیونسٹ پارٹیاں کب بورژوا جمہوریت اور سیکولرازم کی آنکھ مچولی کے کھیل سے باہر نکلیں گی۔ اگر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ)، جو ہندوستان میں بائیں بازو کی سب سے بڑی پارٹی ہے، اصلاح پسندی کو مسترد کرتے ہوئے ایک سوشلسٹ انقلابی پروگرام اپناتی ہے یا کسی اور شکل میں انقلابی قیادت کا ابھار ہوتا ہے تو ہندوستان کے دیوہیکل محنت کش طبقے کو سوشلسٹ انقلاب برپا کرنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*