بھگت سنگھ کا ادھورا سفر

تحریر: لال خان

انقلابی تحریکوں کی اپنی ہی حرکیات ہوتی ہیں۔ جدوجہد کی میراث بالعموم ان افراد کی شکل میں باقی رہتی ہے جو اپنے ہراول کردار کی بدولت اِن تحریکوں کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ ایک طبقاتی سماج میں تاریخ بھی حکمران طبقات کے نقطہ نظر سے پڑھائی جاتی ہیں۔ تحریک آزادی کی سرکاری تاریخوں میں یہاں انگریز سامراج کی پیوند کردہ سیاسی اشرافیہ کا ذکر ہی ملتا ہے۔ جبکہ اِس خطے کے محنت کشوں، نوجوانوں اور مسلح افواج کے سپاہیوں کی جدوجہد مرکزی کردار کی حامل تھی جسے معقول قیادت اور تنظیم میسر آتی تو یہ تحریک ’قومی آزادی‘ کے مرحلے سے آگے بڑھ کے سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے پر منتج ہوتی۔ تحریک آزادی میں ایسے انقلابی رجحانات کی نمائندگی کرنے والوں میں سے بھگت سنگھ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ جسے اٹھاسی سال پہلے برطانوی سامراجیوں نے تئیس سال کی عمر میں پھانسی دے دی تھی۔
پھانسی کے احکامات پر عمل درآمد 24 مارچ 1931ء کو ہونا تھا لیکن سامراجی آقاؤں کو کوئی بڑی عوامی بغاوت پھوٹ پڑنے کا اتنا خوف تھا کہ انہوں نے دو ساتھیوں سمیت بھگت سنگھ کو عجلت میں ایک دن پہلے ہی شام 7:30 بجے پھانسی دے دی۔ کرہ ارض کی اُس وقت کی سب سے طاقتور اور جابر سامراجی قوت کی بوکھلاہٹ کا یہ عالم تھا کہ بھگت سنگھ، سُکھ دیو اور راج گُرو کو نہ صرف قتل کیا گیا بلکہ ان کی لاشوں کے ٹکڑے کرکے انہیں جلا کے دریا میں پھینک دیا گیا۔ بعد میں اُس لاہور سینٹرل جیل کو ہی ختم کردیا گیا۔ اس جگہ پر اب ’شادمان چوک‘ موجود ہے جہاں آج بھی ان انقلابیوں کے نام کی کوئی تختی یا یادگار نہیں ہے۔ لیکن اُن کی انقلابی میراث آج بھی نوجوانوں کیلئے مشعل راہ ہے ۔
بھگت سنگھ نے اپنی پھانسی سے چند مہینے پہلے لکھا تھا، ’’میں جانتا ہوں کہ جب میرے گلے میں پھندا ڈالا جائے گا اور پاؤں کے نیچے سے تختہ کھینچا جائے گا تو وہی میری زندگی کے آخری لمحات ہوں گے… دنیا میں کسی ذاتی غرض یا بعد از موت انعام کی خواہش کے بغیر میں نے اپنی زندگی آزادی کیلئے وقف کی ہے۔یہی میرا راستہ تھا۔ وہی دن آزادی کے عہد کا نقطہ آغاز ہو گا جب انسانوں کی بڑی تعداد ذلتوں سے انسانیت کی آزادی کیلئے خود کو وقف کرے گی۔‘‘
بھگت سنگھ کے نظریات کو سرحد کے دونوں اطراف کے سرکاری مورخین اور دانشوروں نے مسخ کر کے پیش کیا ہے۔ ہندوستان میں سکھ بنیاد پرستوں نے اسے پگڑی پہننے والا کٹر سکھ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ بی جے پی جیسے نیم فسطائی رجحانات اسے ایک تنگ نظر قوم پرست کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اِس ملک کی رجعتی قوتوں کو بظاہر اُس کے سکھ پس منظر سے مسئلہ ہے۔ لیکن دنوں طرف ایک چیز مشترک ہے کہ بھگت سنگھ کے انقلابی نظریات کو ہر ممکنہ حد تک چھپایا جاتا ہے۔ حقیقت میں وہ ایک پرجوش مارکس وادی تھا جو سوشلسٹ انقلاب کی ناقابل مصالحت جدوجہد کو برصغیر کے عوام کی حقیقی آزادی کا واحد راستہ سمجھتا تھا۔
بھگت سنگھ کی برسی کے موقع پر پچھلے سال نریندرا مودی کا کہنا تھا کہ ’’بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کی شہادت ہماری تاریخ کا سنگ میل ہے۔ ہر بھارتی کو اس بات پر فخر ہے کہ ان تینوں کا تعلق ہماری سرزمین سے ہے۔‘‘ مودی جیسے رجعتی شخص کی جانب سے بھگت سنگھ کی یہ منافقانہ تعریف دراصل اس کی توہین کے مترادف ہے۔ جدوجہد کے دوران اپنے تجربات اور بالخصوص لاہور سینٹرل جیل میں اپنی قید کے دوران مطالعے کی روشنی میں بھگت سنگھ نے بہت اہم نتائج اخذ کیے تھے۔ مثلاً 2 فروری 1931ء کو بھگت سنگھ نے ’نوجوان سیاسی کارکنان کو پیغام‘ میں لکھا، ’’آپ لوگ ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ لگاتے ہیں۔ میں توقع کرتا ہوں کہ آپ کو اندازہ ہو گا کہ اس نعرے کا مطلب کیا ہے۔ ہماری تعریف کے مطابق انقلاب کا مطلب اس سماجی نظام کو اکھاڑ کر ایک سوشلسٹ نظام قائم کرنا ہے… در حقیقت ریاست اور حکومتی مشینری‘ حکمران طبقے کے ہتھیار ہیں جن کے ذریعے سے وہ اپنے مفادات کی حفاظت کرتے ہیں۔ ہمیں اس ہتھیار کو چھین کراسے اپنے مقصد کے حصول کے لئے استعمال کرنا ہے جو کہ مارکسی بنیادوں پر ایک نئے معاشرے کی تعمیر ہے۔‘‘
1928ء تک بھگت سنگھ ایک سرگرم انقلابی سوشلسٹ بن چکا تھا۔ اس نے اپنی پارٹی کا نام ’ہندوستان ریپبلکن آرمی‘ سے تبدیل کر کے ’ہندوستان سوشلسٹ رپبلکن آرمی‘ (HSRA) رکھ دیا تھا۔ اِس تبدیلی کی خوبصورت عکاسی راج کمار سنتوش کی فلم ’’The Legend of Bhagat Singh‘‘ کے ایک سین میں بھی کی گئی ہے جس میں دہلی کے مضافات میں ایک خفیہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھگت سنگھ واضح کرتا ہے کہ ’صرف آزادی ہمارا مقصد نہیں ہے۔ ہم ایسی آزادی نہیں چاہتے جس میں گورے حکمرانوں کی جگہ مٹھی بھر امیر اور طاقتور ہندوستانی لے لیں… ہمیں ایسا وطن چاہئے جہاں انسان کے انسان پر ظلم کا خاتمہ ہو… اور یہ مقصد ہماری پارٹی کے نام میں صاف نظر آنا چاہئے … ‘
بھگت سنگھ آرکائیو میں ایک اخباری رپورٹ درج ہے جس کے مطابق ’’21 جنوری 1930ء کو لاہور سازش کیس کے ملزمان عدالت میں سرخ سکارف پہن کر آئے۔ جیسے ہی جج اپنی کرسی پر بیٹھاتو انہوں نے نعرہ لگایا، ’کمیونسٹ انٹرنیشنل زندہ باد‘ ’ لینن امر ہے‘ اور ’سامراجیت مردہ باد‘۔ بھگت سنگھ نے پھر عدالت میں ایک ٹیلی گرام کا متن پڑھا اور جج سے درخواست کی کہ اسے تیسری انٹرنیشنل کو بھیجا جائے۔‘‘
نوجوانوں میں تیزی سے مقبولیت پانے والے بھگت سنگھ کے ان انقلابی نظریات نے مقامی حکمران طبقات کے سیاسی نمائندوں کی دُکانداری کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اُس کے قتل میں گاندھی سمیت تمام سیاسی اشرافیہ کی منشا اور خاموش حمایت شامل تھی۔
یہ درست ہے کہ ابتدا میں بھگت اور اُس کے ساتھیوں کا رجحان مسلح جدوجہد کی طرف تھا جس کے تحت انہوں نے انگریز افسران پر گولی بھی چلائی۔ لیکن بہت جلد وہ اِس طریقہ کار کی محدودیت اور دیوہیکل سامراجی مشینری کے سامنے ناگزیر ناکامی کو بھانپ گئے تھے۔ اکتوبر1929ء میں پنجاب سٹوڈنٹس کانفرنس کے لئے بھگت سنگھ نے جو پیغام بھیجا وہ اس کی نظریاتی نشونما اور بلوغت کا پتا دیتا ہے: ’’آج ہم نوجوانوں کو بندوق اور بم اٹھانے کا نہیں کہہ سکتے۔ لاہور کے آئندہ اجلاس میں پارٹی ملک کی آزادی کے لئے سخت جدوجہد کی کال دے گی… نوجوانوں کو صنعتی علاقوں کی کچی آبادیوں میں رہنے والے لاکھوں مزدوروں اور تباہ حال جھونپڑیوں میں رہنے والے کسانوں کو بیدار کرناہوگا۔‘‘ اِسی طرح جیل میں بھگت سنگھ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا، ’’پرتشدد طریقہ کار، جو ہمارے اسلاف میں بہت مقبول تھا، کی رومانویت کی جگہ سنجیدہ نظریات نے لے لی ہے۔ اب مزید کسی روحانیت اور اندھے عقیدے کی جگہ نہیں ہے۔ انتہائی ضرورت کے وقت ہم شدید اقدامات کرسکتے ہیں لیکن عوامی تحریکوں میں تشدد اُلٹ نتائج دیتا ہے۔‘‘ یوں بالخصوص انقلابِ روس کے تجربے کی روشنی میں وہ اِس نتیجے پر پہنچا تھا کہ انقلاب برپا کرنے کے لئے انقلابی پارٹی درکار ہے جس کی تعمیر کے لئے کٹھن سیاسی جدوجہد کرنا ہو گی اور محنت کش طبقے سے رجوع کرنا ہو گا۔ کیونکہ محنت کش ہی سماج کا پہیہ گھماتے ہیں اور وہی سماج کو بدل بھی سکتے ہیں۔
بھگت سنگھ کے عدالتی قتل کی تقریباً نو دہائیوں بعد آج بھی اِس خطے کے ڈیڑھ ارب عام انسان محرومی اور غربت سے دوچار ہیں۔ اِس نظام کے لبرلزم سے لے کے مذہبی بنیاد پرستی تک نے عام لوگوں کی زندگیوں کو مزید تنگ ہی کیا ہے۔ انقلاب سے کم کوئی چیز ان کے مسائل حل نہیں کر سکتی۔ نوجوانوں کے نام بھگت سنگھ کا یہ پیغام آج بھی بالکل معقول اور درست ہے ، ’’انقلاب کیلئے جذباتیت یا خون خرابے کی بجائے مستقل مزاجی سے کی جانے والی جدوجہد، پیش قدمی اور قربانی چاہیے۔ سب سے پہلے ذاتی تسکین کے خوابوں سے چھٹکارہ پانا ہو گا… مشکلات اور مصائب آپ کو مایوس نہ کریں۔ نہ ہی ناکامی اور غداریوں سے دل برداشتہ ہوا جائے۔ جتنی بھی مشقت کرنی پڑے‘ آپ کے اندر کا انقلابی مرنا نہیں چاہیے۔ ان امتحانات سے گزر کر ہی آپ کامیاب ہو ں گے اور آپ کی فتح ہی انقلاب کا اثاثہ ہو گی۔ ‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*