بلوچستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے محنت کشوں کی تحریک

رپورٹ : نذر مینگل:-

بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایک خود مختار ادارہ ہے جو 1974 ء میں معرض وجود میں آیا لیکن اس وقت اس ادارے اور اس میں کام کرنے والے محنت کشوں کا مستقبل خطرے میں پڑ چکا ہے۔ یہ 4% بی ڈی اے چارجز (Cost) پر بلوچستان میں ترقیاتی کاموں کے خدمات سر انجام دینے والا صوبائی حکومت کا ماتحت ادارہ ہے اور اپنے وسائل سے تمام اخراجات اور ملازمین کی تنخواہیں ادا کرتا ہے۔اب بی ڈی اے کے 4% چارجز کم کر کے صرف 2% کر دئیے گئے ہیں جبکہ ملازمین کی تعداد 1300 سے تجاوز کر چکی ہے۔ محکمہ کے اخراجات کے علاوہ صرف ماہانہ تنخواہوں کی مد میں ڈھائی کروڑروپے جو سالانہ تیس کروڑ روپے بنتے ہیں اور موجودہ حالا ت میں ادارے کے لئے اتنی خطیر رقم ادا کر نا ناممکن ہو گیا ہے جس کی وجہ سے 1300 ملازمین کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ لہٰذا بی ڈی اے کے ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں مظاہروں اور احتجاجی بھوک ہڑتال کا سلسلہ شروع کیا ہے۔اس سلسلے میں گورنر ہاؤ س کے سامنے دھرنا بھی دیا گیا ہے اور بھوک ہڑتال اپنے 17 ویں دن میں داخل ہو چکی ہے ۔ ملازمین کا مطالبہ ہے کہ بی ڈی اے کے اربوں روپے کے اثاثے صوبائی حکومت اپنی تحویل مین لے کر ادارے کے تمام اخراجات اور ملازمین کی تنخواہوں کے لئے صوبائی بجٹ میں (صوبائی محکمہ جات میٹروپولیٹن کارپوریشن اور گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرز پر)سے بی ڈی اے کے لئے سالانہ صوبائی بجٹ میں غیر ترقیاتی فنڈ مختص کیا جائے اور ادارے میں ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کیا جائے۔ تاکہ ادارے کے تمام ملازمین جو مستقبل کے حوالے سے شدید بے چینی کا شکار ہیں مطمئن ہو سکیں اور 1300 گھرانوں کے چولہے جلتے رہیں۔ملازمین کا مطالبہ ہے کہ ان کے مطالبات فوری طور پر منظور کئے جائیں بصورت دیگر جد وجہد کوتیز کر کے مزید وسعت دی جائے گی۔ PTUDCکے وفد نے بی ڈی اے کے بھوک ہڑتالی کیمپ کا دورہ کیا اور انہیں ان کی جد وجہد میں مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ PTUDC مزدوروں کی جد وجہد میں ان کے شانہ بشانہ رہے گی اور مطالبہ کر تی ہے کہ مزدوروں کے مطالبات کو فوری طور پر حل کئے جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*