بلوچستان: ریاستی جبر کیخلاف ابھرتے انقلابی رحجانات

[تحریر: نہال خان]
انسان اور انسانی ذہن بڑے خونی حادثات اور واقعات کو وقت کی وسعتوں میں کھینچ کر اُن واقعات کے ذہنی اثرات کو کم کرنے کا عمل ہزاروں سالوں سے کر تا چلا آرہا ہے۔ یہ شاید انفرادی طور پر مفید اور کارآمد ہو لیکن معروضی طور پر حادثات اور واقعات جتنے گہرے ہوں سماج، سماجی تشکیل اور نظام کی خستہ حالی و تبدیلی کے تقاضوں کی نشانی اور تبدیلی کی وجہ بھی ہوتے اور بنتے ہیں۔ پھر انہی واقعات کا تسلسل ایک معمول بن جاتا ہے اور عام ذہن ان کا عادی ہوکر اسی کیفیت کو عام حالت سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ بہت سارے دانشور، سیاسی قائدین اور رہبران اس مغالطے کا شکار ہوکر اس غیر معمولی حالت کو سمجھنے سے قاصر ہو کر مایوسی اور مفاد پرستی کی کھائی میں گر تے ہیں اور تبدیلی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتے ہوئے نظام اور اس میں موجود اذیت اور عذاب کے دوام کا باعث بنتے ہیں۔
پاکستانی ریاست اور سماج اپنے ہر پہلو میں اضطراب اور ہیجان کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ حکمران ریاستی ادارے جن سے لوگوں کی اُمیدیں بندھوائی گئی تھیں، حالات اور وقت کے کڑے امتحان کے سامنے ناکام ہو کر اُنکا نقاب اُتر چکا ہے۔ جن شخصیات کے غبارے کو میڈیا کی دھونی دھونکنی کے ذریعے پھلایا گیا تھا زمینی تپش سے اُن غباروں سے تیزی سے ہوا نکل رہی ہے۔ مصالحت پسندی، نظریاتی غداریوں، خود غرضی اور دلالی نے روایتی دائیں اور بائیں بازو کے فرق کویکسر مٹا دینے کا کھلواڑ رچایا ہوا ہے۔ کسی بھی حاوی سیاسی جماعت کے پاس سماجی بہتری اور حالت کی تبدیلی کا کوئی پروگرام موجود نہیں، بلکہ اکثر جماعتیں تو بہتری کا دعویٰ کر نے سے بھی قاصر ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام اور متوسط طبقے کی بڑھتی ہوئی اکثریت حکمرانوں اور حکمران ریاست کی حمایت سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔ اس حمایت کو بر قرار رکھنے کے لئے حکمران دھڑے اور ریاستی ادارے جس بے چینی کے ساتھ اضطرابی اقدامات کر تے ہیں، وہ ریاست اور حکمرانوں کے ٹوٹ پھوٹ میں اضافے اور بحران کے مزید گہرا ہونے کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ عوام میں موجود غربت، مہنگائی، بیروزگاری، مفلسی، لاعلاجی، لوڈشیڈنگ اور دیگر اذّیتوں سے توجہ ہٹانے، تحریکوں اور ہڑتالوں کو ؤوخر کرنے کے لئے سماج پر رجعتی رد انقلابی حالت مسلط کر دی گئی ہے۔ خوف و دہشت کا زہر بدلتے ہوئے سماج کی ہواؤں میں گھول دیا گیا ہے۔ معاشی ابتری، اقتصادی بر بادی، ریاستی ٹوٹ پھوٹ کے بحرانات کے ساتھ ساتھ قومی سوال نے اپنے حل کے لئے شدت سے سر اُٹھا یا ہے۔ حکمران جہاں عوام کو صاف پانی نہیں دے سکتے اور سرمایہ دارانہ نظام جو صدیوں سے طے کر دہ سفر کو اُلٹے قدموں کی چال سے دوبارہ طے کر نا چاہتا ہے وہاں حکمرانوں اور نظام میں وہ سکت، وہ توانائی، وہ وژن اور صلاحیت ہی نا پید ہے۔ وہ وقت اور زمانہ ہی گزر گیا جس میں حکمران اور سرمایہ داری سماجی مسائل حل کر نے کی کوشش کر تی تھی۔
پاکستان لینن کے الفاظ میں، جو اُنہوں نے روس کے بارے میں کہے تھے، ’’محکوم قوموں کا جیل خانہ ہے‘‘۔ محکوم قوموں کے حکمران طبقے کے بر عکس محنت کش عوام کی زندگی مزید عذاب میں گر تی جارہی ہے۔ محرومی، بیگانگی اور غصّے کی انتہا ہے۔ خاص طور پر بلوچستان کے سلگتے ہوئے حالات اور بربادی، دکھوں کی کتا ب میں ایک نئے درد ناک باب کا اضافہ کر رہے ہیں۔ عملی سیاست میں نئے درس و اسباق فراہم کر رہے ہیں۔ مارکسسٹوں نے روزاوّل سے حکمران ریاست کے خلاف بلوچستان کی قومی آزادی کی تحریک کی بھر پور حمایت کی ہے اور ساتھ ہی تحریک کی زمان و مکان اور طرز پر بحث اور کمزوریوں پر انگشت نمائی کی ذمہ داری بھی نبھائی ہے۔ جس میں بلوچستان میں فوجی آپریشنز، مسخ شدہ لاشوں اور ریاستی جبر کے خلاف مظاہرے، ریلیاں پورے ملک کی سطح پر منظم کی گئیں اور تحریک پر تجزیاتی مقالے بھی ملکی، بین الاقوامی سطح پر شائع کئے گئے۔

بی ایس او کے ابتدائی ایام میں ڈیرہ غازی خان میں ہونے والا ایک جلسہ

بی۔ ایس۔ او کا انقلابی تشخص
پاکستان کے بننے کے ساتھ ہی بلوچ قومی آزادی کی تحریک کے نئے دور کا آغاز ہوا اور اب تک آزادی کے حصول کے لئے کئی تحریکیں چلیں اور جنگیں لڑی گئیں ہیں۔ ان تمام تحاریک میں اپنی تعداد، اثرات اور وسعت کے لحاظ سے دو تحریکیں بہت اثر انداز اور گہری رہی ہیں۔ ان میں ایک 1970ء کی دہائی کی تحریک تھی جو اپنی نظریاتی بنیادوں اور سیاسی تعلقات کی بنیاد پر ایک انقلابی رحجانات رکھنے والی تحریک تھی۔ اس تحریک کے زیر اثر بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (BSO) نوجوانوں کے ایک انقلابی تشخص کے طور پر ابھری۔ نومبر 1967ء میں بننے والی یہ تنظیم پورے خطے میں نوجوان طالبعلموں کے نظریاتی ہر اوّل دستہ کی حیثیت اختیار کر گئی۔ جس کے ترانے کئی ملکوں کے ریڈیو سٹیشنز سے نشر ہو تے تھے۔ ضیاء آمریت کے دوران جب بلوچستان سے مشرق وسطیٰ کی ریاستوں بحرین، عمان اور دیگر ممالک کے لئے فوجی بھرتیاں ہو رہی تھیں تو اس کے خلاف محنت کش طبقے کی بین الاقوامیت کے تحت بی ایس او نے بھر پور مزاحمتی تحریک شروع کی۔ بی ایس او کے کارکنوں اور رہنماؤں نے شیوخ کے لئے فوجی بھرتیوں اور اُنکی بادشاہتوں کے تحفظ اور ان ممالک کے محنت کشوں پر جبر کے لئے بلوچ نوجوانوں کے استعمال اور استحصال کے خلاف مہم چلائی۔ مظلومیت و محکومیت اور محنت کشوں کی بین الاقوامیت کا ایک زندہ عملی قابل تقلید نمونہ پیش کیا۔ لیکن ضیاء آمریت نے رعونت کے ساتھ سامراجی دلالی میں بھر تیا ں جاری رکھیں تو ایک موقع پر مزاحمت کے عروج پر بی ایس او کے چئرمین حمید بلوچ نے بھر تی کے ایک مرکز میں اُس مرکز کے انچارج کر نل کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جس کی پاداش میں حمید بلوچ کو پھانسی دی گئی اور حمید شہید حکمران طبقے اور حکمران ریاست کے خلاف جدوجہد کی نشانی اور نوجوانوں کے لئے سحر انگیز ہیرو کا مرتبہ پا کر امر ہو گیا۔ شہید مجید بلوچ بی ایس او کے ایک اور اہم انقلابی رہنما تھے جنہوں نے مظلوموں، محکوموں، محنت کشوں اور مزدوروں کے انقلابی نظریات سے مسلح ہو کر ایک مثالی جد وجہد کی۔ یوم مئی سے لے کر خطے کے اہم انقلابات کے ساتھ جڑت اور یگانگت کے ایام کی تقریبات منعقد کر تے رہے اور شعور و نظریات کا علَم بلند رکھااور اسی انکارِ بیعت کی پاداش میں گولیا ں مار کر شہید کر دیئے گئے۔ یوں تو شہدا اور انقلابیوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ اذیتوں، تکلیفوں اور دکھوں کا ایک الگ باب ہے۔ لیکن جرأت، ہمت اور انقلابی جد وجہد کا ایک قابل فخر سرمایہ بھی وراثت میں نئی نسل کو منتقل ہوا ہے۔
تحریکوں کو ظلم و جبر اور قتل عام سے ختم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی غداریوں کے ذریعے اُس کو عوام اور نوجوانوں کے حافظے اور تاریخ سے مٹایا جا سکتا ہے۔ عوامی اور انقلا بی تحریک کو اکابرین جہاں چھوڑ جا تے ہیں نئی نسلیں وہی علَم اُنہی ارمانوں کے ساتھ اُسی خون آلود مقام سے بلند کر کے آگے بڑھتے ہیں۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے اور افغان ثور انقلاب کے سقوط نے انقلابی نظریات کو پیچھے دھکیل دیا۔ تحریک میں ٹھہراؤ آیا۔ مایوسی پھیلی، غداریاں ہوئیں اور دھیرے دھیرے ایک سناٹا اور اندھیرا چھانے لگا۔ طلبا تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں میں عمومی اور بی۔ ایس۔ او میں خصوصی طور پر ٹوٹ پھوٹ اور انتشار نے جنم لیا۔ کئی ناموں کے لاحقوں کے ساتھ بی ایس او بنیں۔ بی ایس او کے خمیر، بنیادوں اور ارتقا کی پوری تاریخ سے اجنبی خیالات، نظریات اور ثقافت نے جنم لیا۔

موجودہ تحریک
تاریخی طور پر قومی آزادی اور حکمران ریاست کے خلاف تحریکوں میں زمان و مکان اور طریقہ کار کو فیصلہ کن اہمیت حاصل ہو تی ہے۔ درحقیقت طریقہ کار اور لائحہ عمل بھی آخری تجزیے میں نظریات کے تحت ہی تشکیل پاتے ہیں اس لیے نظریے کی فوقیت ہر حال میں موجود رہتی ہے۔ لیکن کسی مخصوص دور میں کوئی غلط سیاسی طریقہ کار استعمال کر نے سے نہ صرف ناکامی کا خطرہ ہو تا ہے بلکہ مایوسی اور بد گمانی کے پھیلنے اور گہرے ہونے کے خدشات ہو تے ہیں۔ ایک سوالیہ نشان مسلح تحریکوں کے بشمول بلوچ پاکستان کی تمام قومی آزادی کی تحریک کے انتخابِ عہد پر لگا رہے گاکہ جب جب حکمران ریاست مختلف وقتوں میں بڑی تحریکوں اور بحرانات کے زیر اثر کمزور ہو کر بکھرنے لگی ہے تو تب تب کچھ شخصیات کو چھوڑ کر سب نے مصالحت پسندی کی پالیسی کے ذریعے ظالم حکمران ریاست کو سنبھالا دے کر پاؤں پر کھڑا کیا اور جب ریاست نے اپنی بکھری ہو ئی قوت اور توانائی کو اکھٹا کیا تو ایسے وقت کو مزاحمتی اور مسلح جدوجہد کے لئے منتخب کیا گیا۔ 1947ء میں ہندوستان کے بٹوارے کے سامراجی اقدام کے بعد نومولود ریاست یا سامراجی مورچے کو بھر پور پنپنے کا مو قع دیا گیا۔ بلکہ حکمران ریاست کو بنانے اور مسلم لیگ کے دلالی پر مبنی خیالات اور خوابوں میں شرکت مظلوم قومیتوں کے حکمران طبقے کی سنجیدہ جدوجہد کا مر کزہ بن گئے۔ سرمایہ دارانہ جمہوریت کی استواری، معاشی خوشحالی، ترقی و اصلاحات، سماجی آزادی جیسے کھوکھلے نعروں اور سہانے سرابوں کے پیچھے تھک ہا ر کر قومی آزادی کے سر خیل بنے، مظلوم عوام اور نوجوانوں کی حکمران ریاست اور مروجہ نظام سے نفرت کو اپنے دامن میں جمع کر کے ایک اور انتہا کی جانب بڑھے۔ اس انتہا سے پھر موقع پرستی کی جانب مُڑ گئے۔ 1968-69ء کے انقلاب نے جب ریاست کے ستونوں کو گر ا کر ریاست کی طاقت کو گلیوں اور سڑکوں میں بکھیر دیا تو اُس وقت انقلاب کو جہاں پیپلز پارٹی کی اصلاح پسند قیادت نے زائل کیا اور سرمایہ دارانہ حکمران ریاست کی ذرائع پیداوار کی بیوروکریٹک کنٹرول میں ملکیت کی شکل میں تشکیل نو کی، رجعتی قوانین نافذکئے اور انہی محکوم قومیتوں کے حکمران طبقے کے ساتھ مل کر مکمل رجعتی بنیادوں پر تشکیل شدہ آئین دیا۔ آئی ایس آئی کا سیاسی ونگ بنا۔ حکمران ریاست کے ستونوں نے جب اپنی توانیاں بحال کیں، اپنے پٹھوں میں طاقت جمع کی اور محنت کش عوام کو تقریباً نکیل ڈال دی گئی تو ہمیں 70ء کی دہائی کے وسط میں نیشنل عوامی پارٹی کی قومی آزادی کی مسلح جد وجہد کی تحریک ابھرتی ہوئی نظر آئی۔ نیپ کی اس مسلح تحریک کے ایک حصّے نے ضیا آمریت کے دور میں مسلح جد وجہد تر ک کر دی اور نام نہاد قومی دھارے میں شامل ہوئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی نوجوانوں اور سیاسی انقلابی کارکنوں نے قید و بند کی اذیتیں برداشت کیں۔ اپنی آرزوؤں کی تکمیل کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ریاستی دہشت گردی اور فوجی آپریشنز نے کئی گاؤں اور گھر بر باد کئے۔ املاک نیلام ہوئیں اور ریاست کو اپنے خونی پنجے گاڑنے کا جواز ملا۔ یہ ظلم و جبر و بر بادی بھٹو دور اور ضیا آمریت دونوں میں جاری و ساری رہی۔ اس پورے دور میں بی ایس او کی انقلابی سیا سی جد وجہد تسلسل کے ساتھ بہت ہی سنجیدہ اور سائنسی انداز میں جاری رہی۔ جس کی تفصیل اوپر کی سطور میں مختصر اًبیان کی گئی۔
بلوچستان کی موجودہ قومی آزادی کی تحریک کا اُبھار شدت کے ساتھ ہوا۔ موجودہ تحریک سابقہ تحریکوں کی نسبت مختلف خصوصیات کی حامل ہے۔ یہ تحریک سابقہ تحریکوں کی نسبت جو کسی ایک علاقے، قبیلے یا پارٹی کی سطح تک محدود تھے، افرادی قوت اور علاقوں کی وسعت کے اعتبار سے سب سے وسیع اور زیاد ہ آبادی کو اپنے اثر میں رکھتی ہے۔ یہ کسی قبیلے، تنظیم یا پارٹی کے بجائے بلوچوں کے تقریباً تمام قبیلوں اور علاقوں پر محیط تحریک ہے۔ جس کو نوجوانوں کی بہت بڑی اکثریت کی حمایت حاصل رہی ہے۔ اس تحریک کی قربانیوں اور نوجوانوں کی شہادتوں کی فہرست بھی بہت طویل ہے۔ اذیتوں اور دکھوں کی داستانیں بھی بے نظیر ہیں۔ لیکن تحریک میں شامل بڑے حصے اور عمومی حمایت بلوچ انقلابی نظریاتی روایت سے محروم بھی ہیں۔ نوجوانوں کی محرومی اور محکومی سے اُبھرنے والی نفرت میں جذباتی پن زیاد ہ غالب رہا ہے۔ مارکسسٹوں نے بہت شروع سے ہی انفرادی دہشت گردی کی مخالفت تاریخی اسباق کی بنیا د پر کی تھی اور تاریخی طور پر یہ بات مسلم رہی ہے کہ انفرادی دہشت گردی سے ریاست کو زیا دہ جبر کرنے اور خونخوار بننے کا جواز فراہم ہو تا ہے۔ حکمرانوں نے ریاستی دہشت گردی کے ذریعے ظلم و جبر اور وحشت کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ خانہ جنگی اور قبائلی دشمنیوں کے ذریعے تحریک کو پسپا کر نے کے حر بے آزمائے جا رہے ہیں۔ فرقہ پرستی کی آگ کے شعلوں سے تبدیلی کی فضا کو زہر آلود کیا جا رہا ہے۔ ہر وہ حربہ اور ہتھکنڈہ عمل میں لا یا جا رہا ہے جس سے تحریک اور تبدیلی کی خواہش کو کچلا جا سکے۔
دوسری جانب تحریک اور اس میں موجود نوجوانوں کا بڑا حصّہ حالات اور واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے انقلابی نظریات کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ اُن کی نظریاتی ریڈیکلائزیشن میں تیزی سے اضافہ ہو تا رہا ہے۔ مارکسزم، لیننزم اور سوشلسٹ انقلاب کی روایت جنم لے رہی ہے۔ اس ریڈیکلائزیشن کے اُبھار کو کم کرنے اور نظریاتی دھار کی تیزی کو کُند کر نے کے لئے امریکی سامراج نے امریکی کانگریس میں بلوچستان کی تحریک کی حمایت میں قرار داد پیش کی۔ جس سے وہ عارضی طور پر ایک کنفیوژن اور سراب پیدا کرنے میں کسی حد تک کامیاب رہا۔ لیکن سامراج کی حکمران ریاست کے ساتھ رجعتی جابرانہ ہتھکنڈوں اور آپریشنز میں گٹھ جوڑ اور خا موشی نے بہت جلد اُسے بے نقاب کیا۔ جس سے نوجوانوں کی صفو ں میں سامراج دشمنی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان میں امریکی سامراج کو نجات دہندہ اور رجعتی قوتوں کو کچلنے والی قوت قرار دینے والے پشتون قوم پرست حالیہ سامراجی پالیسی پر لاجواب ہیں جس میں امریکی سامراج نے طالبان رہنماؤں کی رہائی کے ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ ڈیورنڈ لائن کو ایک بین الاقوامی سر حد کے طور پر سمجھتی اور مانتی ہے۔
آزادی اور انقلاب کی تحریکیں کوئی واقعہ یا حادثہ نہیں ہوتیں کہ وہ واقع ہوں اور بات ختم ہو جائے بلکہ تحریکیں اور انقلابات ایک زندہ جاری و ساری عمل کا نام ہے۔ بلوچستان میں جاری تحریک کئی مرحلوں سے گز ر ی ہے۔ تاریخی طور پر بھی کئی اسباق اور تجر بے حاصل کیے ہیں، جس سے تحریک میں سنجیدگی اور پختگی میں اضافہ ہوا ہے۔ بی ایس او اور روایتی انقلابی رحجانات کا دوبارہ سے جنم ہو رہاہے۔ تحریک نئی کر وٹ لے رہی ہے۔ عرب انقلاب بھی نوجوانوں کے شعور اور عزم پر خوشگوار اثرات چھوڑ رہا ہے۔ سرابوں اور مغالطوں کے بادل چھٹ رہے ہیں۔ بلوچستان کے آنے والے عام انتخابات اور اُس کے نتیجے میں بننے والی حکومت سے موقع پرستی اور ناقابل مصالحت طبقاتی جد وجہد کے درمیان واضح خط کھنچ جا نا یقینی ہے۔ نئی صف بندی ہو گی۔ نظریا ت اور مفادات کی جنگ نکھرے گی۔
پاکستانی ریاست، سرمایہ دارانہ نظام اور گلتے سڑتے سماج میں حکمرانوں کے پاس وہ اہلیت ہی نہیں کہ جس سے وہ کوئی چھوٹا سا مسئلہ بھی حل کر سکیں بلکہ وہ تمام تاریخی مسائل جو سرمایہ داری نے بہت پہلے حل کرنے تھے حل نہ ہو سکنے کے نتیجے میں زیادہ پیچیدہ اور گھمبیر ہو کر سماج کے بنیادی تضادات کے حل کو یر غمال بنائے ہوئے ہیں۔ لیکن خطے میں بدلتے ہوئے حالات رجعتی دور کے خاتمے کی غمازی کر تے ہیں۔ ایران میں 2009ء کے انتخابات کے بعد بر پا ہونے والی انقلابی تحریک 2013ء کے انتخابات کے لئے انگڑائی لے رہی ہے۔ افغانستان میں امریکی سامراج کی شکست اور طالبان کی بڑے پیمانے پر کھودینے والی حمایت کے بعد انقلابی قوتوں کے بننے اور ابھرنے کے قوی امکانات اور تقاضے اُبھر رہے ہیں۔ پاکستان میں مصنوعی طور پر ریاست کی طر ف سے رجعتیت کا تسلط اپنے آخری حدود تک پھیل کر سکڑ رہا ہے۔ خطے میں موجود انقلابی قوتوں کی محنت کش طبقے کی بین الاقوامیت اور نظریا تی بنیادوں پرجدوجہد ہی آزاد مستقبل کی ضمانت ہے۔ ایران، افغانستان اور پاکستان کے بلوچ علاقوں پر مشتمل بلوچستان صرف محنت کش طبقے کی بین الاقوامیت اور مذکورہ ملکوں کے محنت کش عوام کی حمایت کے ذریعے ہی انقلابی نظریات کے تحت ایک آزاد جمہوری اور سوشلسٹ بلوچستان بن سکتا ہے جو اس خطے کی رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن کا ایک اہم حصّہ ہو۔

متعلقہ:
بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے

بلوچستان میں یوم مئی کی تقاریب

مارکسسٹ انفرادی دہشت گردی کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟

One Comment

  1. Pingback: خون میں ڈوبا بلوچستان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*