جنسی تفریق اور گھٹن

تحریر: لال خان

باچاخان یونیورسٹی چارسدہ کے چیف پروکٹر محمد شکیل نے 24 دسمبر کو ایک حکم نامے کے تحت یونیورسٹی کے طلبا اور طالبات کے ’’اکٹھے بیٹھنے اور ٹہلنے‘‘ کو ممنوع قرار دے دیا ہے۔ بہت سے تعلیمی اداروں میں ایسے کئی ’’احکامات ‘‘ پچھلے عرصے میں جاری کیے جاتے رہے ہیں۔ جب پریس نے پروکٹر صاحب سے دریافت کیا کہ اس حکم نامے کی وجہ کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ طلبہ کے مفاد میں ہے تاکہ ان کا وقت ضائع نہ ہو۔‘‘ اس مضحکہ خیز بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پروکٹر صاحب اور اس سوچ کے علمبردار چاہے جس بھی ریاستی، تعلیمی، عدالتی یا دوسرے ادارے میں ہوں سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی لڑکا اورلڑکی آپس میں مل بیٹھتے اور گفتگو کرتے ہیں تو وہ فضول ہی ہوگی اور وقت کے ضیاں کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اس سوچ کے پیچھے یہی ذہنیت ہے کہ لڑکے اور لڑکی کی ملاقات محض ایک مقصد کے لئے ہوتی ہے کہ انکے درمیان کوئی ’’غیر اخلاقی‘‘ مراسم یا جنسی بے راہ روی ہی ہو سکتی ہے۔ رجعت سے آلودہ سوچ یہ تصور بھی نہیں کرسکتی کہ طلبا و طالبات آپس میں فن، ادب، سائنس، تعلیم، نصاب، فلسفہ، سیاست، ثقافت، تاریخ، فلم، عالمی حالات اور معاشرے کے بحران جیسے موضوعات پربات چیت یا بحث ومباحثہ کر سکتے ہیں۔ اکیسویں صدی میں ہمارے مقدر اور اخلاقیات کے ان ٹھیکیداروں کی یہ پسماندہ اور قدامت پرست ذہنیت اس فہم سے عاری اور اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے بھی انکاری ہے کہ جنسی تفریق کے جسمانی پہلوؤں کے علاوہ ہر شعبے اور علم میں خواتین اور مرد برابر کی صلاحیتیں رکھ سکتے ہیں۔ ان کی سوچ کا تبادلہ اور مختلف سائنسی اور ثقافتی موضوعات پر بحثیں زیادہ بہتر اور ترقی یافتہ نتائج اور علم کے بہتر حصول کا باعث بن سکتی ہیں۔ لیکن آ ج کے معاشرے میں یہ سوچ بے سبب نہیں ہے۔ کسی بھی سماج میں جب اقتصادی اور ثقافتی تنزلی ہوتی ہے تو اس کے معیار گرنے شروع ہوجاتے ہیں۔ رجعت حاوی ہو جاتی ہے۔
اگر بھارت میں ’’لَو جہاد‘‘ کی وحشت پھیل رہی ہے تو یہاں بھی رجعتی عناصر نے نوجوانوں کی سماجی زندگی کو کم زچ نہیں کیا ہے۔ قدامت پرستی کے جبر کی شدت اور گھٹن سے جنسی بے راہ روی اور ہوس میں کمی نہیں اضافہ ہی ہو گا۔ جب سماجی قدریں رجعتی حاکمیت کی جکڑ میں گھٹنا شروع ہو جاتی ہیں تو معاشرے میں منافقت، جھوٹ اور ہر عمل کو پس پردہ کرنے کی روش عام ہونے لگتی ہے۔ لیکن اس سوچ کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ نفسیات رکھنے والے حضرات عورت کو کم تر اور محض استعمال کی جنس سمجھتے ہیں۔ برابری کی بجائے ان خیالات کی بھینٹ چڑھا کر ’’تحفظ‘‘ کے نام پرعورت کو زیادہ سے زیادہ سماجی تنگ نظری اور گھٹن پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ ا س سے عورت شاید جسمانی طو ر پر تو ’’محفوظ‘‘ ہوجائے لیکن ذہنی طور پر ایک محدود ’’چادر اور چاردیواری‘‘ کے ماحول میں بہت سی صلاحیتوں کو استوار کرنے اور سوچ کو وسیع کرنے سے محروم ہوجاتی ہے۔ جنرل ضیاالحق نے مذہبیت کا استعمال کرکے وحشیانہ آمریت کے تسلط کو بڑھاوا دینے کی پالیسی اختیار کی تھی۔ اس سے جہاں لسانی، فرقہ وارانہ، قومیتی اور مسلکوں کی تفریق اور مخاصمت سے منافرتوں نے جنم لیا وہاں معاشرے میں تشدد اور ثقافتی گھٹن میں اضافہ ہو گیا۔ اس کے بعد کی آنے والی لبرل حکومتوں نے اس ذہنیت کو ریاستی و سماجی اداروں اور رحجانات سے نکالنے کی نہ کوشش کی اور نہ ہی شاید ان میں ایسا کچھ کرجانے کی صلاحیت تھی۔ سماجی بحران کی شدت بڑھنے سے ا ب یہ رجعت مزید گھناؤنی شکل میں معاشرے کو دبوچ رہی ہے۔ اس تسلط سے جنسی بے راہ روی صرف پوشیدہ ہو گئی ہے۔ صنفی تعلقات میں منافقت عروج پر ہے اور سماجی واخلاقی قدر بن گئی ہے۔ جھوٹ عام ہوگیا ہے۔ جنسی تشدد اور بلادکار کے واقعات ایک معمول سا بن گئے ہیں۔ معاشرے میں یہ اخلاقی گھٹن جس جنسی ہوس کو بڑھاوا دے رہی ہے وہ واقعی خطرناک او ر سنگین ہے۔ خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات نے انکی محرومی اور محکومی کو مزید اذیت ناک بنا دیا ہے جس سے احساس کمتری میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن اگر یہ قدامت پرست‘ عورت کو مقید کرنے کے ذمہ دار ہیں تو پھرلبرل ازم اور سیکولرازم کی سوچ اور سماجی اخلاقیات بھی عورت کی ’آزادی‘ کو مجروح ہی کر رہی ہیں۔ یا تو عورت کے چادر اور چاردیواری میں مقید رہنے کواس سماجی بدچلنی سے پناہ کا راستہ بتایا جاتاہے یا پھر لبرل سوچ ہے جس نے عورت کو محض تشہیر کی جنس بنا کر رکھ دیا ہے۔ جس کی ظاہری نمائش کی نفسیات سے پھر خواتین کو مسلسل احساس کمتری میں مبتلا کراویا جا رہا ہے۔ ا س نمائش کے لئے بیوٹی پالروں کا کاروبار تیزی سے بڑھنا شروع ہوگیا ہے۔ تقابلی حسن کی اندھی دوڑ میں فیشن، جواہرات اور کاسمیٹکس وغیرہ کی صنعت بھاری منافع خوری کر رہی ہے۔ ان صنعتوں کی بنائی ہوئی مصنوعات کا انسانی زندگی کی بنیادی ضروریات سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ جب ظاہری رنگ روپ کو ہی عورت کی کامیابی، شہرت اور سماجی مرتبت کا معیار بنا دیا جائے تو پھر ذہنی صلاحیتیں بری طرح مجروح ہوتی ہیں۔ سکارفوں اور ڈیزائنر برقعوں کی صنعت بھی تیز ی سے لوٹ رہی ہے۔
سب سے کلیدی مسئلہ طبقاتی ہے۔ غریب محنت کش عورت نہ تو چادر اور چاردیواری میں بند ہو کر روٹی روزی کماسکتی ہے نہ ہی برقعہ پہن کر فصلوں کی کٹائی یا فیکٹری میں کام کر سکتی ہے۔ لیکن یہ غریب خواتین نہ میک اپ کے سازوسامان کے لئے پیسے رکھتی ہیں نہ ہی ان کو روپے کی نمائش کے زیادہ مواقع میسر آتے ہیں۔ یہ ظاہریت کے رحجانات کھوکھلی منافقانہ اخلاقیات اور گرتی ہوئی سماجی قدروں کی غمازی کرتے ہیں۔ درحقیقت ہر عارضی طور پر ساکت سماج کے ان ادوار میں درمیانہ طبقہ خودیہ رحجانات اپناتا اور پھر نچلے طبقے پر مسلط کرتا رہتا ہے۔ یورپ، امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی معاشی اور سماجی سہولیات کی ترقی کی انتہا کے ادوار میں بھی عورت کا سٹیٹس مرد سے کم تر ہی رہا۔ محنت کشوں میں بھی خواتین کی اجرتیں مردوں سے کم ہی رہیں۔ لیکن آج جب بحران کی شدت سے سرمایہ دارانہ ممالک کی فلاحی ریاستوں کی ٹوٹ پھوٹ شروع ہوچکی ہے تو ان سہولیات کے خاتمے سے پھر محنت کش عورتیں ہی سب سے بڑے نقصانات کا نشانہ بن رہی ہیں۔ اس نظام زر کے تحت کسی معاشرے کی کتنی بھی ترقی کیوں نہ ہوجائے یہ صنعتی استحصال جاری رہتا ہے۔
تعلیمی اداروں سے لے کرپورے معاشرے میں امیری اور غریبی اور بہتات اور محرومی نے مردوں اور خواتین کے رشتوں اور باہمی جذبوں کو جس طرح مسخ کیا ہے وہ المناک ہے۔ مالیاتی حیثیت انسانی جذبوں کو تاراج کر دیتی ہے۔ قدامت پرستی اور لبرل ازم دونوں رحجانات مالیاتی سرمائے کے تابع ہیں۔ عورت کی محکومی اور صنفی استحصال و تشدد اسی عدم برابری اور ضروریات کے حصول کی اندھی دوڑ کی پیداوار ہیں۔ ہوس اور خود غرضی کو اگر زندگی کا محور بنادیا جائے تو پھر رشتوں کو استعمال کرنے کی نفسیات ایک بیمار سماج کی غمازی کرتی ہے۔ لیکن صنفی جبر اور ہوس پرستی کا یہ سماج خصوصاً محنت کش خواتین کی زندگیوں کو ایک عذاب مسلسل بنا کر رکھ دیتا ہے۔ ہر دوسرے استحصال کی طرح صرف عورتوں پر مبنی جدوجہد سے اس صنفی جبر کی اذیت سے چھٹکارا حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس کے لئے مردوں اور خواتین محنت کشوں کو یکجا ہو کر ان فرسودہ قدروں اور سماجی ڈھانچوں کے خلاف لڑنا پڑے گا۔ 1918-19ء کی جرمن انقلابی سرکشی کی قیادت کرنے والی مارکسسٹ قائد روزا لکسمبرگ (جس کواس جدوجہد کی پاداش میں قتل کردیا گیا تھا) نے1912ء میں لکھے گئے مضمون ’’خواتین کی ذلت اور طبقاتی جدوجہد‘‘ میں کہا تھا، ’’عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اصل مقصد خواتین کی ذلت واستحصال کا خاتمہ ہے۔ لیکن اس مقصد کے حصول کے لئے وسیع تر تحریک صرف خواتین کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ مردوں اور عورتوں کے مشترکہ تعلق اور مزدور تحریک کا مسئلہ ہے۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*