محنت کش عورت کی آزادی: سوشلزم!

تحریر: لاجونتی/خکولا

سرمایہ دارانہ نظام آج پوری دنیا میں انسانوں کی زندگیاں اجیرن کر رہا ہے۔ پیداواری صلاحیت تاریخی بلندی پر ہونے کے باوجود بھی یہ نظام انسانوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔ ہر جگہ روزگار، تعلیم اور علاج کی سہولیات چھینی جا رہی ہیں۔ خواتین اس نظام میں دوہرے استحصال کا شکار ہیں۔ ایک طرف یہ نظام محنت کش طبقات کی خواتین کو بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرنے سے قاصر ہے وہیں ان کے وجود کو نمائشی جنس بنا دیا گیا ہے۔
اکثر پسماندہ سماجوں میں’عورتوں کی آزادی‘ کا بہت شور سنائی دیتا ہے۔ ’سول سوسائٹی‘ کی خواتین غریب اور پسماندہ عورتوں کو یہ جتانے کی کوشش کرتی ہیں کہ انہیں ترقی یافتہ ممالک کی طرح آزادی حاصل کرنا ہوگی۔ اسی سے ان کے مسائل حل ہونگے۔ لیکن مغرب میں بھی عورت کا معاشی اور سماجی استحصال جاری ہے۔ ایوانوں میں بیٹھی طبقہ امرا کی خواتین کے مسائل اور مفادات محنت کش خواتین سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ بالا دست طبقات کے مرد حضرات اپنی بیگمات کو بڑی بڑی چمکیلی گاڑیوں، عالیشان محلات اور خوبصورت باغات کی طرح ہی سجا کر رکھتے ہیں۔ یہی ان کی نظر میں عورت کا اصل مقام اور حیثیت ہے اور اسی غلامانہ سوچ کو میڈیا وغیرہ کے ذریعے درمیانے طبقات کی نفسیات میں اتارا جاتا ہے۔ درمیانہ طبقہ یہی سوچ پورے معاشرے اور محنت کش طبقات پر مسلط کرتا ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں بھی عورت کا درجہ مرد سے کمتر ہی سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ جیسی ’آئیڈیل‘ ریاست میں بھی عورتوں کو مردو ں سے کم تنخواہ ملتی ہے اور ان کا جنسی استحصال بھی کیا جاتا ہے۔ اسی طرح برطانیہ میں مردوں کی نسبت خواتین کو ایک جیسا کام کرنے کے باوجود بھی بیس فیصد تک کم اجرت دی جاتی ہے۔ ان ممالک میں گھریلو تشدد بھی معمول ہے۔ بنیادی طور پر یہ سرمائے کا نظام ایک منڈ ی کی معیشت کا نظام ہے جہاں عورت کو انسان کی بجائے جنس تصور کیا جاتا ہے۔ ایسے سماج میں محنت کش طبقات کی خواتین کو ہر قدم پر ذلتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے چاہے تعلیمی ادارے ہوں یا کام کرنے کی جگہیں۔
کسی بھی سماج کی ترقی کا اندازہ اس میں موجود خواتین کی کیفیت سے لگایا جاسکتا ہے۔ ایسے میں اگر پسماندہ سماجوں کی خواتین کا جائزہ لیں تو جبر و استحصال کی انتہائیں نظر آتی ہیں۔ یہاں خواتین پر گھریلو تشدد اور جنسی جرائم کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ قدامت پرستانہ سوچ عورت کے وجود کو صرف چار دیواری تک محدود کر دینا چاہتی ہے۔ اِسی طرح گھر سے باہر کام کرنے والی محنت کش خواتین کی زندگیاں پہلے سے کہیں زیادہ تلخ ہیں۔ جس معاشرے میں ماں آزاد نہ ہو وہ معاشرہ غلام رہتا ہے۔ ماں کی حالت اس معاشرے میں اس قدر بدتر ہو چکی ہے کہ سالانہ 6 لاکھ خواتین صرف زچگی کے دوران ایک نئی زندگی کو جنم دیتے ہوئے اپنی زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں۔ اسی طرح غذائی قلت کی شرح بھی مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں 11 فیصد زیادہ ہے۔ نصف سے زیادہ حاملہ خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں اور بچوں کی بھی تقریباً اتنی ہی تعداد نامکمل نشونما سے دوچار ہے۔ سماج میں ہر جگہ لڑکیوں اور لڑکوں کے درمیان امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ گھریلو مشقت بچپن سے ہی لڑکیوں پر مسلط کر دی جاتی ہے جو ان کیلئے انتہائی وحشیانہ اور کمر توڑ ہوتی ہے۔ یہ ایسی حقیر محنت ہے جس سے عورتوں کی شعوری اور سماجی نشوونما میں کوئی مدد نہیں ملتی۔ پاکستان میں ہر سال پانچ ہزار خواتین گھریلو تشدد کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ جو زندہ بچ بھی جاتی ہیں وہ اس تشدد کے نتیجے میں نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین میں ذہنی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ گھریلو تشدد اور تناؤ ہی ہے۔ اِسی طرح بالغوں کے ساتھ ساتھ بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی لعنت بھی یہاں موجود ہے۔ سماجی تنظیم ’ساحل‘ کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ہرروز صرف بچو ں سے زیادتی کے بارہ کیس رجسٹر کیے جاتے ہیں۔ خواتین کے معاملے میں ایسے بیشتر کیس رجسٹر ہی نہیں کیے جاتے۔ اس کے علاو ہ تیزاب پھینکنے، زندہ جلانے، سنگسار کرنے، غیرت کے نام پر قتل کرنے جیسے واقعات آئے روز سامنے آتے رہتے ہیں۔
ہندوستان کی معاشی ترقی کے بہت چرچے ہیں لیکن وہاں نصف سے زیادہ آبادی بیت الخلا کی سہولت سے محروم ہے۔ بالخصوص دیہاتوں میں خواتین کو بدترین زندگی کا سامنا پیدا ہونے کے ساتھ ہی کرنا پڑتا ہے۔ جس تیزی سے بلادکار کے واقعات ہندوستان میں بڑھ رہے ہیں شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک میں بڑھے ہوں گے۔ دہلی کو اب دنیا کا ’’ریپ کیپیٹل‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں ہر تیسری عورت جنسی ہراسگی یا زیادتی کا شکار ہے۔ پندرہ سال تک کی ستائیس فیصد لڑکیوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایسے حالات سے تنگ آکر بہت سی خواتین خود کشی کے ذریعے اپنی اذیت ناک زندگی کا خاتمہ کر لیتی ہیں۔ ایک حکومتی رپورٹ کے مطابق والدین میں بیٹوں کی خواہش کے باعث ان چاہی لڑکیوں کی تعدادبڑھتی جا رہی ہے جن سے بدترین سلوک کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب جہاں ٹیلیویژن کی رنگینیوں میں عورت کی آزادی اور ’’Women Empowerment‘‘ کا نعرہ بلند کیا جاتا ہے وہیں یہ لبرل خواتین و حضرات صرف ان ’’آزادیوں‘‘ کی بات کرتے ہیں جو ان کے نظام کے لئے منافع بخش ہیں۔ محنت کش طبقات کی خواتین میں غذائی قلت، بھوک، بنیادی ضروریات زندگی سے محرومی، علاج معالجے کی عدم دستیابی اور قلیل اجرت جیسے مسائل پر آواز نہیں اٹھائی جاتی کیونکہ اس سے سرمایہ داری کا غلیظ چہرہ عیاں ہوتا ہے۔ دراصل حقوقِ نسواں کے ایشو کو بھی این جی اوز نے منافع بخش کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان این جی اوز کو ہر کچھ عرصے بعد خواتین پر تشدد وغیرہ کے کسی اندوہناک واقعے کی ضرورت ہوتی ہے جسے اچھال کر مال بنایا جاتا ہے اور پھر کچھ دنوں بعد وہ ایشو منظر عام سے غائب ہو جاتا ہے۔ حال ہی میں ’می ٹو بریگیڈ‘ اور ’وومین امپاورمنٹ‘ کا سمبل سمجھی جانے والی اداکارہ سے ایک فلم میں ایسا کردار کروایا گیا جس میں عورت کا وجود اس کے شوہر کے مرنے کے بعد کسی کام کا نہیں رہتا۔ عورت کے وجود کے ساتھ اس سے بڑا کھلواڑ آخر کیا ہوسکتا ہے؟
موجودہ نظام مسلسل اپنے بحران کے باعث زوال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ نظام انسانوں کو اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے سے روک رہا ہے اور ایک بیمار زندگی ان پر مسلط کر رہا ہے۔ حال ہی سعودی عرب میں خواتین کی آزادی کے نام پر فیشن شو کرانے کی اجازت دی گئی ہے جسے لبرل حلقوں میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سے بڑا فریب کیا ہوسکتا ہے کہ جہاں عورتیں شدید معاشی اور سماجی گھٹن میں ہوں وہاں ان کے جسموں کی تشہیر کو ان کی ’آزادی‘ سے تعبیر کیا جائے۔ سعودی عرب میں لبرلائزیشن کے حالیہ تمام اقدامات کا مقصد معیشت کو بحران سے نکالنے کے لئے سرمایہ کاری اور منافع خوری کے نئے شعبوں کو پروان چڑھانا ہے۔
ہر سال طرح اس سال بھی 8 مارچ دنیا بھر میں ’خواتین کے عالمی دن‘ کے طور پر منایا جائے گا۔ یہ درحقیقت ’محنت کش خواتین کا عالمی دن‘ ہے جسے منانے کا فیصلہ 1910ء میں دوسری انٹرنیشنل کے تحت منعقد ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں کیا گیا تھا۔ اس میں سرکردہ کردار کلارا زیٹکن نے ادا کیا تھا جو جرمنی کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اور پھر کمیونسٹ پارٹی کی نمایاں رہنما تھیں۔ لیکن اس دن کو عالمی سطح پر شہرت اور پذیرائی اس وقت حاصل ہوئی جب روس میں انقلابی تحریک کا آغاز 1917ء کے موسمِ بہار میں اسی خواتین کے عالمی دن کے مظاہرے سے ہوا۔ گزشتہ صدی میں برپا ہوئے اس عظیم انقلاب نے محنت کش مرد و خواتین کو صدیوں کی ذلتوں اور استحصال سے نجات دلائی تھی۔ آج ایک بار پھر سماج اسی بربادی کی زد میں ہے جس کے خلاف محنت کش خواتین نے تاریخ میں انقلابِ فرانس سے انقلابِ روس تک کئی فیصلہ کن لڑائیاں لڑی ہیں۔ عورت کی غلامی کا آغاز سماج کی طبقاتی تقسیم کے ساتھ ہوا تھا۔ اس سے نجات بھی طبقات کے خاتمے کے ذریعے ممکن ہے جو صرف انقلابی سوشلزم ہی کر سکتا ہے۔ ایک سوشلسٹ سماج میں نہ صرف طبقاتی بلکہ جنسی بنیادوں پر بھی انسان کی انسان کے ہاتھوں محکومی کا خاتمہ ہو گا۔

Tags:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*