’جادوگر‘

مصنف: ایوجن چریکوف | مترجم: سعادت حسن منٹو

شہر میں سخت بدامنی کا دور دورہ تھا۔ ہڑتال پہ ہڑتال ہو رہی تھی۔ یہ فتنہ کارخانوں سے شروع ہوا اور آہستہ آہستہ آگ کی طرح شہر کے ہر گوشے میں پھیل گیا۔
اس شورش کو فرو کرنے کیلئے پولیس ہر ممکن کوشش کو عمل میں لائی۔ مگر بے سْود۔ وہ شورش مٹنے والی نہ تھی۔
شہر اگرچہ پہلے کی طرح گوناگوں دلچسپیوں کا مرقع تھا۔ اس کے بازاروں میں ویسی ہی رونق قائم تھی اور خرید و فروخت حسب معمول جاری تھی۔ مگر بایں ہمہ کوئی شخص بھی یہ کہے بغیر نہ رہ سکتا تھا کہ شہر میں ایک اضطراب کی لہر دوڑ رہی ہے اور معمولی سے معمولی واقعہ ایک عظیم ہیجان کا موجب بن رہا ہے۔
برقنداز (پولیس والا) کی سیٹی کی آواز لوگوں کے دلوں پر بہت ہیبت طاری کردیتی تھی۔
اکثر لوگ تو سیٹی کی آواز سن کر دوڑ جاتے کہ دیکھیں کیا ماجراہے۔ مگر بعض اپنے آپ کو دوکانوں میں چھپالیتے۔ مگر وہ آخر کس سے چھپ رہے تھے؟ وہ کونسی شے تھی جو انہیں اس قدر خوفزدہ کررہی تھی؟ لیکن یہ کسی شخص کو معلوم نہ تھا اور پھر بھی ہر شخص کو ڈر تھا کہ کو ئی کوفناک اور ہیبت ناک واقعہ ضرور پیش ہو کر رہیگا۔
عموماً چیتھڑوں میں ملبوس مزدور بازار میں کھڑے دبی زبان میں باتیں کرتے نظر آتے۔ راستہ چلتے ہوئے وہ امیر لوگوں کی طرف حقارت اور نفرت کی نگاہوں سے دیکھتے۔ مگر وہ ان کے زرد اور غلیظ چہروں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتے تھے۔
ایسے شخص اپنے بھدے چہروں اور غلیظ لباس سے ان بازاروں کی خوبصورتی کو جو بہار کے جاں آفریں موسم میں عروسِ نوبہار کی طرح سجے ہوئے تھے ملوث کررہے تھے۔ یہ عجیب شخص ناخواندہ مہمانوں کی طرح شہر کے بارونق بازاروں میں آوار ہ چکر لگاتے۔ مگر ان سے کوئی شخص ہمکلام نہ ہوتا۔ کہ مبادا اس سے ان کے جسم بھی ویسے ہی غلیظ ہو جائیں۔ لیکن جونہی کسی برقنداز کی ان پر نگاہ پڑ جاتی وہ لوگوں کے دلوں میں ارتعاش خفی پیدا کرتے ہوئے مختلف سمتوں میں بھاگ جاتے تھے۔
’’ امی یہ مزدور ہیں کیا؟‘‘
’’ ہاں! ہاں! لیکن تم چلتے جاؤ اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھو۔‘‘
’’لیکن امی وہ بھاگ کیوں رہے ہیں؟‘‘
’’پولیس سے۔۔۔ دیکھو اب ایسی باتیں نہ کرو۔‘‘
’’لیکن کیوں؟۔۔۔ کیا انہیں سڑکوں پر چلنے کا حکم نہیں؟‘‘
’’ انہیں اجازت نہیں‘‘
’’انہیں اجازت کیوں نہیں؟‘‘
’’ خدا کیلئے مجھے تنگ نہ کرو۔۔۔ اپنا ہاتھ مجھے پکڑاؤ اور جلدی جلدی چلنے کی کوشش کرو۔۔۔ نہیں تو ہمیں بھی کسی برقنداز کا کوڑا۔۔۔‘‘ سرگ نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس کے ساتھ ساتھ دوڑنا شروع کردیا۔ مزدوروں کے گروہ کے منتشر ہونے پر ماں سخت خوفزدہ ہوگئی تھی۔ اس کی اس وقت صرف یہی خواہش تھی کہ کسی طرح وہ اپنے مکان میں پہنچ جائے۔
’’ کیا یہ مزدور شریر ہیں امی؟‘‘
’’کون ؟۔۔۔ کون؟‘‘
’’مزدور‘‘
’’ مجھے معلوم نہیں۔۔۔ وہ اچھے بھی ہیں اور بْرے بھی۔۔۔ مگر وہ کام ہی نہیں کرتے‘‘
’’ کیا وہ مست ہیں؟‘‘
’’ ہاں!ہاں!۔۔۔ مگر تم ٹھہرو مت۔۔۔اور ان کی طرح مست نہ بنو‘‘
’’کیا وہ بڑے ہیں امی؟‘‘
’’ وہ ابھی جواب بھی نہ دینے پائی تھی کہ چند گھوڑا سوار سپاہی بازار میں نمودار ہوئے۔ ان میں سے ایک نے اپنے گھوڑے کے ایک کوڑا رسید کیا۔
کوڑے کی آواز سرگ کی ماں کے کانوں میں اس طرح گونجی جیسے بندوق کی آواز۔ وہ چلائی اور بغیر کرایہ طے کئے سرگ کو ایک گاڑی میں دھکیل کر کوچوان کی طرف دیکھتے ہوئے خوفزدہ لہجہ میں کہا۔’’جلدی کرو۔۔۔ جہاں تک جلدی ہو سکے‘‘
’’مگر کہاں۔مادام‘‘ کوچوان نے مودبانہ کہا۔
’’ تم سیدھے چلے چلو۔۔۔ آہ میرے خدا۔۔۔ جلدی چلو‘‘
’’خوف مت کیجئے مادام! وہ ہمیں ہاتھ تک نہیں لگائیں گے‘‘
جب گاڑی بازار کا پہلا موڑ مڑی تو سرگ کی ماں کی جان میں جان آئی اور اطمینان کا سانس لے کر بولی ’’دیکھو۔۔۔ میں تمہارے ساڑھے چار آنہ سے زیادہ کرایہ نہیں دینے کی‘‘
’’مگر یہ کرایہ مناسب نہیں محترمہ!‘‘
’’تو پھر گاڑی ٹھہرالو۔۔۔ ہم ٹرام کار میں گھر چلے جائیں گے‘‘
بہت بہتر مادام۔۔۔ مگر مجھے ڈر ہے کہ آپ کو بے فائدہ وقت ضائع کرنا پڑیگا۔۔۔ ٹرام کاریں آج نہیں چلیں گے‘‘
’’ کون کہتا ہے؟‘‘
’’ میں نے کل سنا تھا کہ ٹریم کار چلانے والے مزدور ہڑتال کررہے ہیں‘‘
اسی اثنا میں مزدوروں کا ایک گروہ گاڑی کے قریب سے گزرا۔ سرگ کی ماں پھر خوفزدہ ہوگئی اور کوچوان کو اشارہ کیا کہ وہ گاڑی کو پھر چلادے۔
سرگ اپنی ماں کی گود میں بیٹھا ہوا اس گروہ کی طرف خوفزدہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
’’مجھے سمجھ نہیں آتی کہ پولیس ان لوگوں کے پیچھے اتنی سرگرداں کیوں ہورہی ہے۔ اگر وہ کام نہیں کرتے۔۔۔ تو نہ کریں۔۔۔ کچھ عرصہ کے بعد بھوک سے تنگ آکر خود ہی سرنگوں ہو جائیں گے‘‘
’’آپ درست فرما رہی ہیں مادام! آپ ایک حیوان کو فاقہ کشی کے حربہ سے مطیع کرسکتے ہیں اور یہی حربہ انسان کیلئے بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ مگر ایک غریب انسان کو اس طرح آزار پہنچانا گناہ ہے۔۔۔ گناہِ کبیرہ!‘‘
کوچوان نے اپنی گھنی داڑھی کو کھجاتے ہوئے کہا۔
کچھ دیر خاموش رہ کر کوچوان پھر سرگ کی ماں کی طرف متوجہ ہوا اور کہا’’ دیکھئے آپ ایک قیمتی چغہ پہنے ہوئے ہیں۔ اور میں ایک بھدا کوٹ۔ میر یہ بتلائیے ان دونوں چیزوں کو تیار کرنے والا کون ہے؟‘‘
’’ اس کے متعلق زیادہ غورو فکر کی ضرورت نہیں۔ اگر تمہارے پاس بھی روپیہ ہو تو تم بھی ایسے قیمتی کپڑے پہن سکتے ہو۔۔۔ اگر ہمارے آدمی کام نہیں کرینگے تو کیا غیر ممالک سے چیزیں منگائی نہیں جاسکتیں؟‘‘
’’لیکن اگر ذرائع آمدورفت ہی بند ہوگئے تو۔۔۔ یعنی اگرریلوے کے مزدوروں نے بھی ہڑتال کردی تو پھر آپ وہ چیزیں کہاں سے منگوائیں گے؟‘‘
’’ایسا خیال کرنا محض بے وقوفی ہے۔۔۔ گورنمنٹ بھلا کیا ایسا کرنے کی اجازت دیگی؟‘‘
’’ معلوم نہیں مادام! مگر میں نے سنا ہے کہ ریل والے بھی عنقریب ہڑتال کرنے والے ہیں‘‘
سرگ اپنی ماں اور کوچوان کی گفتگو کو بڑے غور سے سن رہا تھا۔ وہ یہ سب کچھ سن کر سخت حیران تھا کہ وہ لوگ جو دوسروں کیلئے کپڑے اور دیگر اشیا تیار کرتے ہیں بازاروں میں پولیس سے اس طرح کیوں بھاگتے پھرتے ہیں۔
اس کی ماں نے ابھی ابھی اسے ایک نیا کوٹ خرید کر دیا تھا۔ جو اس وقت اس کے گھٹنوں پر کاغذ میں لپیٹا ہوا پڑا تھا۔ سرگ بہت خوش تھا کہ اس کی ماں نے اسے یہ کوٹ اس وقت سے پہلے ہی خرید کر دیا۔ جبکہ وہ وقت آرہا تھا کہ کپڑے تیار ہونے بھی بند ہو جاتے۔
’’امی! کیا میرا نیا کوٹ بھی انہوں نے ہی تیار کیا ہے؟‘‘
’’ ہر ایک چیز۔۔۔ ننھے میاں! ہر ایک چیز انہی کی تیار کردہ ہے۔۔۔ آپ کے جسم پر کوئی بھی ایسی شے نہیں جو انہوں نے تیار نہ کی ہو‘‘ کوچوان نے بجائے ماں کے جواب دیا۔
ماں نے سرگ کے ہاتھ کو جھٹکا دیتے ہوئے سخت غصہ کے لہجہ میں کہا ’’ زیادہ بک بک نہ کرو سرگ! تمہیں کوچوان سے گفتگو نہیں کرنی چاہیے‘‘ مگر کوچوان چپ نہ ہوا اور اس موضوع پر دیر تک اپنے خیالات کا اظہار کرتا رہا۔
’’ معلوم نہیں وہ تمہیں گرفتار کیوں نہیں کرتے‘‘ سرگ کی ماں نے کوچوان سے مخاطب ہو کر کہا۔
اس پر کوچوان چپ ہوگیا اور تمام راستہ اس بارے میں کوئی گفتگو نہ کی۔
سرگ خیالات کا ہجوم لئے گھر میں داخل ہوا۔ وہ ہنوز یہ نہیں کہہ سکتا کہ مزدور بْرے ہیں یا اچھے۔
’’سونیا! آج ہم نے مزدور دیکھے۔۔۔ مزدور!‘‘ سرگ نے اپنی بہن کو پْر اسرار لہجے میں کہا۔
’’ وہ کس شکل کے ہیں سرگ؟‘‘
’’وہ۔۔۔ وہ کسانوں کی طرح ہیں میرے خیال میں‘‘
گھر میں ان شخصوں کی بابت جنہوں نے کارخانوں اور فیکٹریوں کو بند کردیا تھا اور کام کرنے سے انکار کردیا تھا، ہر روز گفتگو ہوتی۔ مگر سرگ اس گفتگو سے بھی کوئی نتیجہ برآمد کرنے میں قاصر رہا۔ وہ تاحال وثوق سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ آیا وہ لوگ اچھے ہیں یا برے۔
ایک روز اس نے اپنے خا دم آگنیش سے دریافت کیا ’’کیا یہ لوگ کارخانہ کو بند کرسکتے ہیں؟‘‘
’’بہت آسانی سے ننھے آقا!‘‘
’’لیکن کس طرح؟‘‘
’’بس وہ کام کرنے سے انکار کردیتے ہیں‘‘
’’لیکن ان کے بغیر کارخانہ چل ہی نہیں سکتا کیا؟‘‘
’’کارخانے کس طرح چلیں ننھے آقا! جبکہ ان کے بغیر کوئی کام ہی نہیں ہوسکتا‘‘
’’اچھا تو یہ بات ہے؟۔۔۔ اسی طرح میرا نیا کوٹ بھی ان کے بغیر نہ تیار ہوسکتا‘‘
’’یقیناً‘‘
’’ اور میرا چھوٹا کوٹ بھی‘‘
’’چھوٹا کوٹ، پاجامہ اور قمیض بھی۔۔۔ اگر وہ یہ سب چیزیں تیار نہ کرتے تو آپ ویسے ہی ہوتے جیسے قدرت نے آپ کو پیدا کیا تھا۔ باکل عریاں!‘‘
’’ بے وقوف آدمی! مگر میری امی مجھے دوسرے ملک سے کپڑے منگوا دیتی‘‘
’’ مگر اس طرح آپ کو بہت انتظار کرنا پڑتا۔ لیکن اگر وہاں بھی اس طرح ہڑتال ہوتی یا اگر ذرائع آمدورفت ہی بند ہو جائے تو۔۔۔؟‘‘
’’ریل گاڑیاں بھی بند ہو جائینگی کیا؟‘‘
’’افواہ تو ایسی ہی ہے‘‘
’’ تو پھر میرے ابا کس طرح آئیں گے؟۔۔۔۔ میں انہیں کس طرح مل سکو ں گا؟‘‘
’’اس حالت میں انہیں پیدل سفر کرنا پڑے گا‘‘
’’خبردار جو ایسی بات کہی! میں امی کو کہہ دونگا کہ تم میرے ابا کی نسبت ایسے الفاظ استعمال کررہے تھے‘‘
یہ کہہ کر سرگ تھوڑی دیر کیلئے چپ ہوگیا اور کچھ سوچنے لگا۔
لیکن چند منٹ کے بعد اپنے کوٹ کی آستین کو پکڑکرکہنے لگا ’’ اور تم کہوگے یہ آستین بھی انہی کے ہاتھ کی سلی ہوئی ہے‘‘
’’کیوں نہیں؟۔۔۔ تمہاری والدہ نے صرف تمہیں جنم دیا ہے باقی۔۔۔‘‘
دو دن کے بعد ٹرام کاریں چلنی بند ہوگئیں۔ اخبار شائع نہ ہوئے۔ غسل خانوں پر قفل لگ گئے۔ وہ بازار جو گیس سے لقعہ نور بنے ہوئے ہوتے تھے سخت تاریک ہوگئے۔ اس کے دو دن بعد ریل گاڑیوں کی آمدورفت بھی یک لخت بند ہوگئی۔ جس سے شہر میں سخت ہیجان برپا ہوگیا اور لوگ اپنے عزیز و اقربا کے خطوط کا بے چینی سے انتظار کرنے لگے۔
سرگ کا ابا کبھی کا گھر آگیا ہوتا۔ مگر گاڑیوں کے بند ہو جانے کی وجہ سے گھر نہ پہنچ سکا۔ اس واقعہ نے گھر بھر کو سخت بیجان کردیا تھا۔سرگ کو صحن میں کھیلنے کی اجازت نہ تھی۔ اس لئے وہ سارا دن کھڑکی میں بیٹھا بازار کے واقعات کو غور سے دیکھتا رہتا۔
’’کیا ابا گھر نہیں آئیں گے امی؟‘‘
’’ وہ مجبور ہیں سرگ۔۔۔ گاڑیوں کی آمدورفت ہی بند ہے‘‘
’’امی! کیا یہ مزدور لوگ جو چاہیں کرسکتے ہیں؟‘‘
’’کیا؟‘‘
’’میرا مطلب ہے کہ آیا یہ لوگ گاڑیاں کی آمدورفت بھی بند کرسکتے ہیں‘‘
’’معلوم تو یہی ہوتا ہے۔۔۔ مگر اب تم مجھے ستاؤ مت!‘‘ اتنا کہتے ہوئے سرگ کی ماں کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
یہ دیکھ کر سرگ خاموش ہوگیا اور پھر کھڑکی سے بازار کو حیران و پریشان نگاہوں سے دیکھنے لگ گیا۔
’’اگر میرے بس میں ہوتو میں ان مزدوروں کو ایک ایک کرکے ہلاک کر ڈالوں‘‘ اس نے اپنے دل میں کہا۔
شہر کی حالت لحظہ بہ لحظہ بد سے بدتر ہورہی تھی۔ حالات پہلے کی نسبت زیادہ بدل رہے تھے۔ اب بازاروں میں وہ پہلی سی رونق نہ تھی۔ بہت سی دکانوں پر تالے پڑے ہوئے تھے۔ رات کے وقت مسلح پولیس گشت لگاتی تاکہ شہر میں کوئی شورش برپا نہ ہونے پائے۔
ایک روز نصف شب کے قریب بازار میں اس قدر شور ہوا کہ سرگ اپنے بستر سے برہنہ پا بھاگ کر کھڑکی کے پاس دوڑا ہوا گیا تاکہ معلوم کرے وہ شور کیسا ہے۔ کیا دیکھتا ہے کہ بازار میں آگ کا الاؤ جل رہا ہے جس کے اردگرد لوگ وحشیوں کی طرح چل پھر رہے ہیں۔
سرگ نے سوچا کہ یہ چیزیں کسی خوفناک واقعہ کی پیش خیمہ ہیں۔ اس خیال نے اس کی رگوں میں خون منجمد کر دیا۔ یہ خیال کرکے کہ وہ جن بھوتوں کی طرح اسے آگ پر بھون کر کھا جائیں گے وہ اس قدر خوفزدہ ہوا کہ چلاّ اٹھا’’امی! امی! مجھے سخت ڈر لگ رہا ہے‘‘یہ کہہ وہ بھاگا ہوا اپنی ماں کے پاس گیا۔
’’تم سوتے کیوں نہیں! جاؤ اپنے بستر پر جا لیٹو‘‘ ماں نے نیند سے بیدار ہوتے کہا۔
’’امی! وہ دیکھو بازار میں آگ جل رہی ہے۔ مجھے اس بات سے ڈر لگتا ہے‘‘
’’جاؤ سرگ اپنے بستر پر جا لیٹو۔۔۔ یہ آگ واگ کچھ بھی نہیں۔۔۔ کاش! تمہارے ابا یہاں موجود ہوتے‘‘
امی۔۔۔‘‘
’’ ہاں میرے بچے‘‘
’’ میں آپ کے پاس آجاؤں؟۔۔۔ مجھے ڈرلگ رہا ہے‘‘
’’ کس سے میرے جگر کے ٹکڑے؟‘‘
’’جادوگر سے امی‘‘
’’ کونسا جادوگر؟‘‘
’’بہت سے جادوگر ہیں امی۔۔۔ مختلف قسم کے جادوگر‘‘
’’ تو پھر میرے پاس آجاؤ‘‘
’’ سرگ خوشی خوشی اپنی ماں کے پاس جالیٹا اور اپنے آپ کو لحاف میں چھپا کر کہنے لگا’’ امی یہ لوگ سب کچھ کرسکتے ہیں!‘‘
اس کی ماں تو تھوڑی دیر کے بعد ہی سو گئی۔ مگر سرگ لحاف سے منہ نکال کر سوچنے لگا کہ آیا وہ شخص برے ہیں یا اچھے۔ مگر کوئی قابل اطمینان نتیجہ نہ نکال سکا۔
دوسرے روز صبح کو جب سرگ کو ناشتہ ملا تو اس کی حیرانی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ جب گرم گرم بسکٹوں کی بجائے اس نے میز پر سخت اور ٹھنڈی روٹی کے ٹکڑے دیکھے۔
’’مجھے بسکٹ لا کردو! میں ایسی فضول چیز نہیں کھانے کا۔۔۔ تم بسکٹ کیوں نہیں لاتے؟‘‘ سرگ نے خشک روٹی کے ٹکڑوں کو میز سے ہٹاتے ہوئے کہا۔
’’ننھے آقا! آپ کو خدا کا شکر کرنا چاہئے کہ ہمارے ہاں یہ خشک روٹی بھی موجود ہے‘‘ نوکر نے سرگ کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
’’ کیا کہا؟ جاؤ جاؤ یہ اٹھالو۔۔۔ امی! امی! مجھے بسکٹ لاکردو‘‘
’’سرگ پیارے! میں تمہیں بسکٹ کہاں سے لا کردوں۔۔۔ ۔ بسکٹ بنانے والے کارخانے ہی بند ہیں‘‘
’’وہ کیوں؟؟؟‘‘
’’کارخانے کے مزدوروں نے ہڑتال کردی ہے‘‘
پھر وہی مزدور! سرگ ان مزدوروں کی حرکتوں سے تنگ آگیا تھا۔ تنگ آکر بولا’’ مگر بسکٹوں کے بغیرصبح کا ناشتہ کیسے ہوگا؟‘‘
’’ ہم تمہارے بسکٹوں کیلئے کوشش کریں گے‘‘
’’ کیا گورنر انہیں مجبور نہیں کرسکتا کہ و ہ بسکٹ تیار کریں‘‘
’’ سرگ پیارے! گورنر بیچارہ کیا کرے۔ وہ تو کسی کا حکم نہیں مانتے‘‘
’’گورنر کا بھی نہیں؟؟؟‘‘
’’گورنر کیا کسی کا بھی حکم نہیں مانتے‘‘
’’ تو پھر وہ گورنر سے بھی بڑے ہوئے نا!!!‘‘
’’سرگ ان باتوں کو چھوڑو اور خدا کا شکر کرکے یہی روٹی کھالو‘‘
’’میں تو ایسی بھدی روٹی نہیں کھانے کا‘‘
’’ مگر تمہیں مجبوراً کھانی پڑے گی‘‘
’’وہ کیوں؟‘‘
سرگ کی حیرانی لحظہ بہ لحظہ او رروز بروز بڑھتی چلی گئی۔ وہ سخت حیران تھا کہ وہ لوگ جو کارخانوں کو چشم زدن میں بند کرسکتے ہیں، جو گورنر تک کا حکم نہیں مانتے وہ پولیس سے اس طرح کیونکر بھاگتے پھرتے ہیں۔
اس نے خیال کیا کہ یہ لوگ ویسے ہی جادوگر ہیں جن کا حال میں عموماً کہانیوں میں پڑھا کرتا ہوں۔ اور یہ کہ ان کے پاس بھی ان جادوگروں کی طرح ایسی ٹوپیاں ہونگی جن کے پہننے سے وہ غائب ہو جاتے ہونگے۔
جب گورنر ان کو کام سے کہتا ہوگا تووہ جھٹ ٹوپی پہن گورنر کی آنکھوں سے غائب ہوجاتے ہونگے۔
بے چینی کی لہر آہستہ آہستہ بازاروں سے ہوتی ہوئی ان سربفلک محلات میں بھی دا خل ہوگئی جن کے ساکنوں نے آج تک مصیبت اور تکلیف کا نام نہ سنا تھا۔
اب ان محلوں میں وہ پہلی سی شان و شوکت نہ رہی۔ خوشی کے نغمے اور قہقہے جن سے ان کی دیواریں ہمیشہ گونجا کرتی تھیں۔۔۔ آہستہ آہستہ غائب ہوگئے۔ اب ان کی جگہ ایک نامعلوم خوف نے لے لی۔ وہ جن کے کان خوف سے بالکل ناآشنا تھے۔ اب ہر وقت کسی نامعلوم خوف سے ہراساں رہنے لگے۔ وہ شخص جو نازو نعمت کے عادی تھے۔ اب مجبوراً روکھی سوکھی روٹی پر گزارہ کرنے لگے۔ ایسے افراد میں سرگ کی والدہ کا بھی شمار تھا۔
ایک روز شام کے قریب سرگ کے گھر میں بجلی کی رَو بند ہوگئی۔ سرگ نے اپنی والدہ سے کہا۔’’ امی! معلوم ہوتا ہے بجلی گھر کا انجن خراب ہوگیا ہے‘‘
’’ملاقات کے کمرے کا لیمپ تو جلا کر دیکھو‘‘
’’امی! اس کمرے کا کیا۔ کوئی لیمپ بھی نہیں جلتا‘‘
’’ کیا بجلی گھر میں بھی تو ہڑتال نہیں ہوگئی؟‘‘
خادم آگنیش نے کہا ’’ جی ہاں! میں نے سنا ہے کہ بجلی گھروالوں نے بھی کام کرنے سے انکار کردیا ہے‘‘
‘‘آگنیش! دیکھو گھر میں موم بتیاں ہیں؟‘‘
’’ جی ہاں! مگربہت تھوڑی‘‘
اب اس گھر میں جو بجلی کی روشنی سے بْقعہ نور بنا ہوا تھا تاریکی۔۔۔ قیامت کی تاریکی مسلط تھی۔ ہال میں بجلی کے قمقموں کے بجائے موم بتی کی زرد روشنی ٹمٹما رہی تھی۔ اس روشنی کے گرد سرگ اور اس کی ماں دونوں بیٹھے دن کے واقعات پر غور کررہے تھے کہ باورچی خانہ سے خدام تازہ خبر لائے کہ تھوڑے دنوں کے بعد نلوں میں پانی آنا اور گوشت بکنا بھی بند ہو جائیگا۔
سرگ ان ہوشربا خبروں کو حیرت و استعجاب کی تصویر بنا ہوا سْن رہا تھا۔ اب اس کے ننھے دماغ میں یہ خیال پوری طرح مسلط ہوگیا کہ مزدور لوگ ضرور جادوگر ہیں۔۔۔ بہت بڑے جادوگر جو صرف الٰہ دین کے چراغ ہی سے مطیع ہو سکتے ہیں!
اگر یہ جادوگر چاہیں تو ایک اشارے سے ریل گاڑیاں چلنی شروع ہو سکتی ہیں۔ اس کا باپ فوراً گھر آسکتا ہے۔ ان کے حکم سے بجلی کی رو پھر واپس آسکتی ہے۔ اور کمرے پہلے کی طرح پھر جگمگا سکتے ہیں۔ اور اگر وہ چاہیں تو اسے ہر روز صبح ناشتے کیساتھ گرم اور تازہ توش مل سکتے ہیں۔
سرگ اس بات کا متوقع بھی نہ تھا جب پندرہ دن کے بعد ایک دن یک لخت معجزے رونما ہوئے۔ یعنی ٹریم کاریں چلنی شروع ہوگئیں۔ بجلی کی رو آگئی۔ اخباروں کی اشاعت از سر نو جاری ہوگئی۔ صبح ناشتہ کے ساتھ توش ملنے لگ گئے اور اس کا باپ گھر آگیا۔۔۔ غرضیکہ اتنی اچھی باتیں بیک وقت ہوگئیں۔
ایک روز جب وہ اپنے ابا کے ساتھ بازاروں میں گھومنے کیلئے گیا تو اس نے خلاف توقع بہت سے ’’جادوگروں‘‘ کو آزادانہ چلتے پھرتے دیکھا۔ جو ہاتھ میں جھنڈے پکڑے مختلف قسم کے راگ گاتے ہوئے بازاروں میں چکرلگا رہے تھے۔ وہ اب کسی سے خوفزدہ نہ تھے اور نہ اب پولیس ہی انہیں ایسا کرنے سے روک رہی تھی۔ جب سرگ گھر واپس آیا تو اس نے چاہا کہ اب کی دفعہ اکیلا بازار میں جا کر ان ’’جادوگروں‘‘ کا تماشہ دیکھے۔
’’امی۔۔۔ میری پیاری امی! بازار میں جادوگر گزر رہے ہیں کیا میں انہیں دیکھنے جاؤں؟‘‘
’’ہرگز نہیں؟‘‘
’’ امی! اب تو وہ بہت بْرے نہیں‘‘
اسی طرح کئی ماہ گزر گئے۔۔۔ اب پہلے کی طرح امن تھا۔ کسی قسم کی شورش یا ہڑتال رونما نہ ہوئی۔ گھروں میں پھر خوشی کے نغمے اور قہقہے گونجنے لگے اور وہ نامعلوم خوف جو لوگوں کے دلوں پر مسلط ہوگیا تھا، رفتہ رفتہ بالکل غائب ہوگیا۔
ایک روز سرگ بڑا اداس ہوگیا۔۔۔ اس کی ماں اور باپ دونوں تھیٹر گئے ہوئے تھے۔ گھر کی خادمہ کسی کام میں مشغول تھی اور اس کی بہن اپنی گڑیوں سے کھیل رہی تھی۔ سرگ حیران و پریشان ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جارہا تھا کہ وقت کاٹنے کیلئے کیا کرے۔
’’ دادی اماں! بتائیے میں کیا کروں‘‘
’’ آؤمیرے پاؤں دباؤ‘‘
’’میں نہیں دباتا۔۔۔ پاؤں دبانے میں کوئی دلچسپی نہیں‘‘
یہ کہہ کروہ اسی خیال میں مستغرق دوسرے کمرے میں گیا۔ اور اپنی بہن کی نئی گڑیا توڑ ڈالی۔ اس حرکت پر ماما سخت خفا ہوئی۔ اس نے اسے کمرے سے باہر نکال دیا اور باورچی خانے جانے سے بھی منع کر دیا۔
سرگ نے تنگ آکر کہا’’ مگر میں کیا کروں۔۔۔ میں اکیلا ہوں‘‘
’’خادمہ نے سرگ سے پوچھا ’’ کیا تمہارے لئے کوئی اور دلچسپی باقی نہیں رہی؟‘‘
’’ یہ کون باتیں کررہا ہے؟‘‘
’’باورچن کا خاوند آیا ہوا ہے۔ وہی باتیں کرتا ہوگا۔‘‘
’’یہ دلچسپ چیز نہیں تو اور کیا ہے؟‘‘
’’وہ دلچسپ کس طرح ہوا۔۔۔ وہ معمولی سا آدمی ہے۔ ایک غریب مزدور۔‘‘
’’باورچن کا خاوند ایک مزدور!‘‘
’’کیوں‘‘
’’ایک جادوگر!!! اب تو میں ضرور اندر جاؤنگا‘‘
’’سرگ! اگر تم نے ایسا کیا تو میں تمہاری اماں سے کہہ دونگی کہ تم نے ان کی نافرمانی کی ہے‘‘
’’تم چغل خور بھی ہو؟؟؟ چغل خور! کہہ کر تو دیکھو۔ میں نے بھی انہیں بتا نہ دیاہو کہ تم نے صبح دودھ پر سے بالائی اتار کر کھالی تھی‘‘
’’ یہ بالکل غلط ہے۔۔۔ میں نے تو دودھ میں سے مکھی نکالی تھی‘‘
سرگ بہت عرصے تک خادمہ سے جھگڑتا رہا۔ مگر اس نے اسے باورچی خانے میں جانے کی اجازت نہ دی۔
جب خادمہ کمرے سے چلی گئی تو سرگ نے اطمینان کا سانس لیا اور باورچی خانے کے دروازے کے قریب جا کر اسے آہستہ آہستہ کھولنا شروع کیا۔ سرگ میں اتنی ہمت نہ تھی کہ دروازہ ایک دم کھول دے۔ اس لئے وہ کچھ عرصہ سانس بند کئے دروازے کیساتھ لگا رہا۔ تھوڑی دیر کے بعد ہمت کرکے اس نے کمرے کے اندر جھانکا۔۔۔ ایک بھدا سا آدمی میز پر بیٹھا کچھ کھا رہا تھا۔ اس کی حرکت سے معلوم ہوتا تھا گویا وہ ڈر رہا ہے کہ کوئی شخص اس کا کھانا نہ چھین لے۔ اسی لئے وہ دوسرے ہاتھ سے پلیٹ کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھا۔
سرگ حیران تھا کہ وہ’’جادوگر‘‘ کہاں ہے؟۔۔۔ ایسا بھدا مزدور اتنا طاقتور جادوگر نہ ہوسکتا تھا۔
اس نے باورچی خانے کے ہر گوشے میں نگاہیں دوڑائیں۔ مگر اس شخص اور باورچن کے سوا کسی اور کو موجود نہ پایا۔ تو پھر اس کے یہ معنی تھے کہ وہ بدنما شخص ہی جادوگر ہے۔ سرگ اس راز کو معلوم کرنے کیلئے باورچی خانے میں داخل ہوگیا۔ جس پر’’جادوگر‘‘ اس قدر چونکا کہ اس کے ہاتھ سے پلیٹ گرتے گرتے بچی۔
باورچن نے اپنے خاوند کو تسلی دیتے ہوئے کہا ’’تم کھانا کھائے چلو۔۔۔ ننھے آقا تمہیں کچھ نہیں کہیں گے‘‘
’’سرگ نے حیران ہوکر پوچھا ’’ہیں؟‘‘
’’اپنی امی سے مت کہیے گا کہ یہ شخص شوربا پی رہا تھا۔۔۔ یہ کھانے سے بچا ہوا تھا۔ ننھے آقا! یہ شخص بہت بھوکا ہے۔ ننھے آقا! آپ کو اس پر رحم کرنا چاہئے‘‘
’’کون؟‘‘
’’یہ شخص۔۔۔ میرا خاوند‘‘
’’تمہارا خاوند؟‘‘
سرگ نے اپنے آپ کو یقین دلانے کی خاطر اس شخص کو غور سے دیکھا اور اپنے دل میں کہا۔ اس جادوگر نے ضرور اپنی شکل تبدیل کر رکھی ہے۔
اور پھر کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا ’’تم جادوگر ہو۔۔۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے۔ تم جادوگر ہو!‘‘
مزدور نے ڈرتے ہوئے پوچھا ’’ک ک کون؟‘‘
’’تم اور کون!‘‘
’’ میں ایک غریب مزدور ہوں میرے آقا!‘‘
’’لیکن تم جادوگر ہو۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ تم جادوگر ہو۔ تم سب کچھ کرسکتے ہو۔ یہ سب حرکتیں تمہاری تھیں۔ لیکن دیکھو! اب ایسی حرکت نہ کرنا۔۔۔ بغیر بجلی کے گھر میں سخت اندھیرا ہو جاتا ہے اور کارخانے بند کرنے سے مجھے بسکٹ نہیں ملتے‘‘
’’جناب! میں نے تو ایسی حرکت کبھی نہیں کی۔۔۔ میں ابھی جاتا ہوں۔۔۔‘‘
’’ تم مجھے دھوکہ دے رہے ہو۔ تم تو کسی سے خوفزدہ ہی نہیں ہوتے۔ میرا خیال تھا کہ تم مکان جتنے بڑے ہوگے۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ تم نے شکل تبدیل کر رکھی ہے‘‘
’’آپ میرا مذاق اڑا رہے ہیں۔ صرف اس لئے کہ میرے پاس کھانے کو کچھ نہیں۔ اس طرح مذاق اڑانا گناہ ہے میرے آقا!‘‘
’’میں نے خیال کیاتھا کہ تم بہت سنجیدہ ہوگے۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ تم مسخرے بھی ہو۔ شوربا پیتے وقت تمہارے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس لئے میں تم سے ذرہ بھر خوفزدہ نہیں‘‘
اتنا کہہ کر سرگ باورچی خانہ سے باہر نکل کر دروازہ میں کھڑا ہوگیا تاکہ اگر جادوگر اس کا تعاقب کرے تو وہ جلدی سے گھرمیں بھاگ جائے۔ مگر خلاف توقع جادوگر نے اس کا تعاقب نہ کیا۔ سرگ نے مڑ کر دیکھا۔ تو جادوگر۔۔۔ ہاں! وہی جادوگر۔ ایک کونے میں کھڑا رو رہا تھا۔ اور اپنے آنسوؤں کو اپنی غلیظ آستین سے صاف کررہا تھا۔
’’ایک جادوگر ہو کر تم رو رہے ہو۔ اچھا ہوا تمہیں ایسی ہی سزا ملنی چاہئے۔ تم نے میرے ابا کو گھر میں کیوں نہ آنے دیا تھا؟؟؟ تم نے بجلی کی رو کیوں بند کردی تھی؟ تم نے میرے بسکٹ بنانے کیوں بند کردیئے تھے؟‘‘ اب تمہیں خدا نے خوب سزا دی ہے۔روتے رہو۔۔۔ اور خوب روتے رہو۔۔۔‘‘
یہ کہہ کر سرگ خوشی کے نعرے مارتا ہوا گھر میں چلا گیا اور خادمہ کے پاس جا کر کہنے لگا ’’اب میں اس جادوگر سے نہیں ڈرتا۔۔۔ ذرہ بھر نہیں ڈرتا!‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*