طبقاتی جدوجہد ایک انقلابی رجحان کے طور پر گزشتہ 38 سال سے مندرجہ ذیل پروگرام کے لئے ایک ناقابل مصالحت جدوجہد کا علم بلند کیے ہوئے ہے اور سوشلسٹ انقلاب کی لڑائی آگے بڑھ رہی ہے۔

انقلابی آئین ساز اسمبلی کا قیام

محنت کشوں کے حقیقی نمائندوں پر مشتمل آئین ساز اسمبلی کا قیام جو منتخب عوامی پنچایتوں کے جمہوری کنٹرول پر مبنی ایسے معاشرے کو تشکیل دے جس سے تمام عوام کو انسانی بنیادی حقوق کی فراہمی یقینی ہو سکے۔

محنت کش عوام

افراط زر سے منسلک تمام محنت کشوں کی تنخواہ کم از کم ایک تولہ سونے کے برابر کی جائے۔  تمام بنیادی سہولتوں کی عوام کو مفت فراہمی۔ ہفتہ وار کام کے اوقات کار کو پنتیس گھنٹے کرکے ہر مزدور کو ہفتہ وار دو چھٹیاں دی جائیں۔ چائلڈ لیبر کا مکمل خاتمہ۔

صنعت و معیشت

نجکاری اور ڈاﺅن سائرنگ کا مکمل خاتمہ۔ تمام قومی اور سامراجی اثاثوں کو ضبط کرکے مزدوروں کے جمہوری کنٹرول اور انتظام میں دینا ۔ تمام سامراجی قرضوں کی واپسی سے انکار۔ سامراجی جبر کے خلاف جدوجہد کو ناقابل مصالحت طبقاتی بنیادوں پر منظم کر نا۔

غریب کسان

تمام جاگیروں کی مزارعوں میں تقسیم۔ اجتماعی کاشتکاری کا فروغ اور جدید تکنیکی بنیادوں پر زرعی انقلاب۔

 نوجوان

روزگار کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ بے روزگاری کی صورت میں کم از کم دس ہزار روپے بے روزگاری الائونس۔ طبقاتی نظام تعلیم کا مکمل خاتمہ اور تمام سطحوں پر مفت تعلیم کی فراہمی۔ طلبہ کی یونین سازی پر عائد تمام پابندیوں کا فی الفور خاتمہ۔ سولہ سال کی عمر میں ووٹ کا حق۔

خواتین

تمام رجعتی اور کالے قوانین کا مکمل خاتمہ۔ محنت کش خواتین کو تمام شعبوں میں مساوی حقوق اور نمائندگی۔ زچگی کے دوران مکمل تنخواہ سمیت چھ ماہ کی رخصت۔ گھریلو اور صنعتی محنت میں تفریق کا خاتمہ۔

مذہبی اقلیتیں

مذہبی اقلیتوں کو برابری کے حقوق۔ سماجی و ثقافتی تعصب اور جداگانہ طریق انتخاب کا خاتمہ۔ ریاست کو مذہب سے الگ کرنا۔

قومی مسئلہ

مظلوم قوموں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنا اور قومی آزادی کی تحریکوں کو طبقاتی جدوجہد سے منسلک کرتے ہوئے برصغیر کی رضا کارانہ سوشلسٹ فیڈریشن کا قیام۔ جو تمام قومی و ثقافتی حقوق کی ضامن ہو۔

فوج

فوج میں کمیشن سسٹم کا خاتمہ۔ افسران اور سپاہیوں کی تنخواہیں اور مراعات مساوی ہوں۔ تمام افسران کا سپاہیوں کی کمیٹیوں کے ذریعے انتخاب۔ ایٹمی اور روایتی ہتھیاروں کا خاتمہ۔

خارجہ پالیسی

خارجہ پالیسی کی طبقاتی بنیادوں پر استواری۔ افغانستان سمیت دنیا کے دوسرے ممالک میں مداخلت اور رجعتی ملاؤں کی حمایت کا خاتمہ۔ سامراجی گماشتگی اور قومی شاونسٹ طرز کی خارجہ پالیسی کو مسترد کرنا۔ محنت کشوں کو بین الاقومی تحریک سے منسلک کرتے ہوئے عالمی سوشلزم کی جدوجہد کو تیز کرنا۔