قمرالزماں خاں

سارا دن بورژوا میڈیا کمال ڈھٹائی سے چپ سادھے تھا مگر 14 اکتوبر 2020ء کو ملک کے طول و عرض سے ہزاروں مزدور’لاکھوں مزدوروں کے نمائندگان کے طور پر‘ ملک کے دارالحکومت میں جمع تھے۔ وہ حکمرانوں کے ایوانوں کا گھیراؤ کرنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ مزدوروں کے جمع ہونے کا عمل پچھلے دن سے جاری تھا۔ اس دوران قومی بورژوا میڈیا کی آنکھیں بند ہی رہیں۔ ان کے کیمرے شرمندگی کے مارے منہ موڑے ساکت تھے۔ کوئی ٹکر نہیں چلا، کوئی بریکنگ نیوز نہیں جاری کی گئی۔ مزدوروں کے فلک شگاف نعرے گونجتے رہے، مگر میڈیا ہاؤسز میں سارا دن خاموشی ہی رہی۔ کارپوریٹ میڈیا کے تربیتی نصاب کے مطابق شائد حکمران طبقے کے مسخروں کی لا یعنی جگتیں ہی اصل خبر ہوتی ہیں۔

پاکستان بھر کے مزدور چھانٹیوں، نجکاری، کالے قوانین، مزدور انجمنوں کی راہ میں قدغنوں، مہنگائی میں مسلسل اضافے، نیو لبرل معیشت کے حملوں، اجرتوں میں مہنگائی کے تناسب سے عدم اضافے، اسکیلوں و پروموشن قوانین پر عدم عمل درآمد، پاکستان اسٹیل سمیت بہت سے پبلک سیکٹرز اداروں کی مجوزہ بندش اور مزدوروں کی جبری برطرفیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ یہ احتجاج ارب پتی اور مزدور دشمن میڈیا مالکان کیلئے بھی اتنا تکلیف دہ ہے جتنا حکمرانوں اور دیگر سرمایہ داروں کیلئے۔

مگر نکلے سورج کو آخر کتنی دیر تک نظر انداز کیا جا سکتا تھا۔ آخر حامد میر کو سوشل میڈیا پر اعترافی جملہ لکھنا پڑا کہ ”پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے باہر آج لیڈی ہیلتھ ورکرز اور ینگ ڈاکٹرز سے لیکر کلر کوں اور مزدوروں تک ہزاروں مرد و خواتین نے دھرنا دیا اور سارا دن حکومت کے خلاف نعرے بازی کی جسے دیکھ کر ایسا لگا کہ عوام آگے نکل گئے اور اپوزیشن پیچھے رہ گئی۔ یہ کافی حد تک مزدوروں کے اس عزم، جرآت اور حوصلے کا اعتراف ہے جس کا ملک کی سیاسی پارٹیوں اور قیادت میں فقدان ہے“۔

ہزاروں مزدوروں کا یہ اجتماع انہی مسائل کے حل کے لئے ہے ’جن مسائل کا ادراک انہیں ہر لمحے رہتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ انہوں نے اب کڑھنے اور بے بسی پر مبنی بیان بازی کی بجائے جدوجہد کے میدان میں عملی پیش رفت کر کے دکھائی ہے۔ یہ بالکل آغاز ہے اور یہ تحریک کئی مراحل سے گزرے گی۔ مانگوں، احتجاج، مذاکرات، ناکامی اور کامیابیوں کے عمل میں بہت تجربات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سکھ اور فتح کے حصول کی کشمکش میں قربانیاں بھی دینا ہونگی اور دھوکوں، فریب، غداریوں اور پیٹھ پیچھے وار کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ حملے باہر سے بھی ہونگے مگر اندر سے بھی ہو سکتے ہیں، ان کو آنکھیں کھول کر رکھنا ہونگی۔ جدوجہد کے دوران غلطیاں بھی ہونگی اور جدوجہد سے باہر تماش بینوں کی تنقید اور ہدایت کاری کے اوچھے وار بھی سہنے ہونگے۔

ریاستی حملوں میں شدت بھی آ سکتی ہے مگر ہر حملہ مزدوروں اور انکی قیادتوں کو ”سونے سے کندن“ بنانے کا باعث بنے گا۔ کسی تحریک کے نکتہ آغاز میں ہی حتمی نتائج کی آرزو رکھنا ’رومانیت سے لبریز‘ خیال پرستانہ خواہش تو ہو سکتی ہے مگر حقائق کو منجمد معروض کی تہوں میں جانچنا ضروری ہے۔ مزدور کئی دھائیوں سے بڑی تحریکوں سے کٹ کر حالات سے سمجھوتوں کا عادی ہو چکا تھا۔ برف کی پہلی تہیں پگھلی ہیں۔ تحریک کی حدت اور حصوں کو بھی ملانے کا باعث بنے گی۔ ابھی تو کھیل شروع ہوا ہے۔ قیادتوں کو نیچے سے دباؤ کا سامنا ہے، مذاکراتی عمل کی بھی حدیں ہوتی ہیں۔ اب جھوٹے وعدوں سے مزدور بہلنے والے نہیں۔

کروڑوں مزدوروں تک پیغام پہنچانے اور لاکھوں کے تحرک کو ممکن بنانا ایک مسلسل عمل سے ہی حاصل ہو گا۔ عمومی اور محدود احتجاج کا چھوٹا موٹا عمل اپنے اس آغاز میں ہی جتنا مقداری اور معیاری بلندی پر پہنچ گیا ہے، آنے والے عرصے میں بغیر بڑی تاخیر سے محنت کش طبقے کی پچھلی اور سست رو پرتوں کو متوجہ کر کے شامل کرنے کا باعث بنے گا۔ مگر دھائیوں کے بعد متحرک ہونے والی پرتیں اب اور زیادہ لمبا وقت نہیں لیں گی، اب حالات کا چابک اور سامراجی اقدامات کی ضربیں انہیں سونے نہیں دیں گی۔ مگر پھر بھی فیصلہ کن کردار معروض کا ہی ہو گا۔ دوسری طرف لفظی گولہ باری کی بجائے ہر اس گروہ، فرقے یا افراد کو عمل کے میدان میں آ کر وہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس کو وہ طولانی خطابوں میں ناگزیر قرار دیتے آئے ہیں یعنی محنت کش طبقے کے پاؤں کے پنجے سے اپنی ایڑی ملا کر چلا جائے۔ عام ہڑتال ایک مسلسل عمل کے حتمی نتیجے کا نام ہے۔ جس کے لئے کارخانوں، اداروں اور محنت کشوں کی تمام پرتوں کو سیاسی طور پر تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ عجلت پسند عام ہڑتال کے نعرے کو اسکے مکمل عمل کے بغیر ہی نافذ کرانا چاہتے ہیں، گویا جیسے پورے ملک میں چھوٹی بڑی ہڑتالوں کے سلسلے ایک عرصے سے جاری ہوں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ مزدوروں کے نظریاتی دشمنوں نے انکو عملی جدوجہد کی بجائے عدالتی کاروائیوں میں مصروف کر کے کند کر دیا تھا۔ صنعتی مزدور ایک لمبے عرصے سے جدوجہد کے میدان سے باہر ہے۔ محنت کش طبقے کے جمود کے باعث بلدیہ ٹاون جیسا منظم قتل عام ممکن ہو سکا۔ اکا دکا اور ایک دوسرے سے لاتعلق احتجاج اور دھرنے ’محنت کش طبقے‘ کی باقی پرتوں سے وہ رشتہ قائم نہیں کر پاتے جس کی عام ہڑتال سے قبل ضرورت ہوتی ہے۔

اسلام آباد دھرنے نے مختلف محکموں، اداروں، ٹریڈز اور فیکٹریوں کے ایسے ہزاروں مزدوروں کو باہم آشنا کرایا ہے جو مختلف صوبوں، زبانوں، خطوں، قوموں، فرقوں اور نسلوں سے تھے۔ بہت عرصے کے بعد ان مزدوروں نے باہم مل کر نعرے لگائے اور ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر لڑنے کا عزم کیا۔ وہ ایک آواز میں گیت گا رہے تھے۔ وہ اس پرولتاری سوشلائیزیشن سے متعارف ہو رہے ہیں، جس سے ایک مزدور ’خود کو ایک فرد کی بجائے طبقہ سمجھنا شروع ہو جاتا ہے‘۔ مزدوروں کی بیشتر مانگیں انکے روزمرّہ کے معاملات سے شروع ہو رہی ہیں، البتہ بڑی مانگیں بھی ہیں۔ ابھی بہت سے حملوں ’بطور خاص‘ سامراجی ہدایات پر مزدوروں پر حملوں اور انکے تدارک پر مبنی مطالبات کی ماہیت سے آگہی کا عمل بھی چلنا ہے۔ مزدور مقامی نعروں سے آگے بڑھ چکے ہیں، وہ اب عالمی سامراجی ادارے آئی ایم ایف کے ملکی معیشت پر حملوں اور مزدور دشمن حملوں پر مبنی مطالبات کے سامنے سینہ تان چکے ہیں۔ اگلے مراحل میں تحریک میں شامل قیادتوں کو بنظر غائیر اوجھل نظریاتی حملوں کو سمجھنا پڑے گا۔ اس سمجھنے کے عمل میں اختلافات بھی جنم لے سکتے ہیں اور اتفاق رائے کیلئے مباحثے بھی ہونگے۔ اس دوران احتجاجی تحریک مختلف طریقوں سے جاری رہے گی۔ ریاست اتنی سادہ بھی نہیں ہے اور نہ ہی اتنی فیاض کہ وہ مزدوروں کے مطالبات کو مان لے۔ انکا نظام اس قابل بھی نہیں ہے کہ وہ سامراجی جکڑبندیوں اور معاشی مشکلات کی اس کیفیت میں آسانی سے ہتھیار ڈال دے۔ ان مطالبات اور مذاکرات کے ساتھ ساتھ جدوجہد کو وسیع پرتوں تک پھیلانے کی تیاری کو تیز کرنا ہو گا۔ ہر میدان میں لڑنا پڑے گا تو پھر وہ مراحل بالکل سامنے ہونگے کہ عام ہڑتال کا سوچا جائے۔ پھر اسکے بعد کیا ہو گا اور کیا کرنا ہے! یہ اہم پہلو کسی ”عام ہڑتال“ کی کال کے شوق میں محو نہیں کیا جا سکتا، اس کے لئے بھی تیار ہونے کی ضرورت ہے۔ ابھی سمجھنے والی یہی بات ہے کہ ایک لمبے عرصے کے بعد مزدوروں نے ایک عاجزانہ مگر پورے استقلال اور جرآت سے پیش رفت کا آغاز کیا ہے۔ یہ شروعات ہے۔ جدوجہد شروع ہوئی ہے، بات ختم نہیں ہوئی۔