کراچی (حاتم خان) گزشتہ کچھ مہینوں سے ڈاؤ میڈیکل کالج کے طلبہ اپنے بنیادی حق ہاسٹل کے لئے سراپا احتجاج تھے اور کسی بھی متعلقہ ادارے نے اور نہ ہی سندھ حکومت نے ان کے مسئلے کو سنجیدہ لیا۔ جس کی وجہ سے 13 ستمبر بروز اتوار کو طلبہ کی جانب سے سندھ حکومت، ڈاؤ انتظامیہ اور ’IPMR‘ کیخلاف کراچی پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا گیا۔ ’IPMR‘ ڈاؤ کالج کا ذیلی ادارہ تھا اور اسی ادارے کو ڈاؤ بوائز ہاسٹل جو کہ تین بلڈنگز پہ مشتمل تھے حوالے کیے گئے تھے اور تینوں بلڈنگز میں صرف تین فلورز طلبہ کو ہاسٹل کی صورت میں دیے گئے تھے۔ جس میں ہر کمرے میں آٹھ آٹھ طلبہ کو رکھا گیا۔ حالیہ وبا کے دوران سندھ حکومت کی جانب سے ’IPMR‘ کو آزاد ادارہ بنا دیا گیا اور ڈاؤ کالج کی تمام پراپرٹیز بشمول بوائز ہاسٹل کو ’IPMR‘ کو دینے کا بل پاس ہونے کے بعد طلبہ کو ہاسٹل سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جس کے بعد ڈاؤ میڈیکل کالج بوائز ہاسٹل کے طلبہ کی جانب سے بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جس میں تمام طلبہ تنظیمیں جیسا کہ جے ایس ایس ایف، ایس ایس سی، ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ اور دیگر طلبہ تنظیموں کے ساتھ ساتھ مختلف ٹریڈ یونینز نے طلبہ کا ساتھ دیتے ہوئے یقین دلوایہ کہ وہ ڈاؤ بوائز ہاسٹل نہ ملنے تک ڈاؤ بوائز ہاسٹل کے طلبہ کی اس جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں۔

بھوک ہڑتالی کیمپ میں گزرتے دنوں ساتھ طلبہ ہسپتال میں داخل ہوتے رہے اور کیمپ کے چوتھے دن چھ طلبہ کے ہسپتال میں داخل ہونے کے بعد سعید غنی ایجوکیشن منسٹر سندھ، سیکرٹری ہیلتھ اور سیکرٹری ایجوکیشن تشریف لائے اور طلبہ کو ایچ ای سی اور ڈی ایم سی کے ہاسٹل کے قانون کے مطابق ہاسٹل دینے کا یقین دلایا اور 15 روز تک کا وقت لیا۔ جس کے بعد ڈاؤ بوائز ہاسٹل کے طلبہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 15 روز کے لئے موخر کرنے کا اعلان کیا گیا۔