راہول

نصف صدی سے زائد عرصہ محنت کشوں کے لئے مسلسل جدوجہد میں سرگرم رہے کامریڈ ’دیوا‘ اب ہم میں نہیں رہے۔ وہ اپنے انقلابی جذبوں اور حوصلوں کے ساتھ انتھک جدوجہد کرتے ہوئے 10 ستمبر کو صبح گیارہ بجے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ وفات کے وقت اُن کی عمر تقریباً 82 برس تھی۔ اُن کی آخری رسومات اسی دن شام کو حیدرآباد میں ادا کی گئیں اور محنت کشوں کے انقلابی ترانے کے ساتھ اُن کا اگنی سنسکار کیا گیا۔ اُن کی وفات کا سبب انہیں اچانک پڑنے والا دل کا دورہ تھا جسے اس بار شکست دینے میں وہ ناکام رہے۔ اس سے قبل کامریڈ دیوا کو دل کے دو دورے پڑ چکے تھے مگر انقلاب کرنے کا جذبہ اور مضبوط قوت ِ ارادی کی بدولت وہ بڑی آسانی سے عمر کے اس حصے میں بھی اپنی بیماری کو شکست دینے میں کامیاب رہے مگر اس بار فطرت کے ہاتھوں اُن کا بوڑھا جسم شاید مجبور ہوکر دم توڑ گیا۔

کامریڈ دیوا کا جنم حیدرآباد کے ایک غریب خاندان میں ہوا جہاں اپنے تلخ معاشی حالات ہونے کے سبب وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے سے قاصر رہے اور بہت چھوٹی عمر میں ہی وہ اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لئے محنت مشقت کرنے لگے۔ اسی دوران انہوں نے ’SRTC‘ میں ملازمت اختیار کی اور وہاں محنت کشوں کے حقوق کے لئے جدوجہد میں سرگرم ہو گئے۔ یہ وہی دور تھا جب سندھ میں حیدر بخش جتوئی، کامریڈ جام ساقی اور دیگر انقلابی‘ محنت کشوں اور کسانوں کے لئے جدوجہد کر رہے تھے۔ وہ کم و بیش اُن سبھی کے ساتھ ہر احتجاج اور سرگرمی میں جایا کرتے اور نہ صرف اپنی سیاسی تربیت کرتے بلکہ حقوق کے لئے لڑی جانے والی ہر جدوجہد میں پیش پیش ہوتے۔ انہوں نے اپنا زیادہ تر عرصہ معروف ٹریڈ یونین اسٹ ’شمیم واسطی‘ کے ساتھ گزارا جنہیں وہ اپنا پہلا استاد بھی کہتے تھے۔ کامریڈ دیوا نے نہ صرف ’SRTC‘ کے محنت کشوں کے لئے آواز بلند کی بلکہ اس بیچ وہ بلدیہ سمیت کئی اداروں میں یونین سازی کے لئے سرگرم رہے۔ اپنے بے دھڑک لہجے اور انقلابی سچائی کی بدولت وہ ہمیشہ یونین قیادتوں کے مصالحتی اور موقع پرست رجحانات کی کھل کر مخالفت کرتے اور محنت کشوں کے حقوق پر کسی قسم کا کوئی کمپرومائز نہیں ہونے دیتے۔ یہی سبب تھا کہ وہ موقع پرست ٹریڈ یونین قیادت کے لئے زیادہ تر ناقابل قبول رہتے۔ مگر وہ ہر محاذ پر اپنی آواز کو بلند کرنا اپنا انقلابی فریضہ سمجھتے تھے۔

گزشتہ دو دہائیوں سے کامریڈ دیوا طبقاتی جدوجہد سے منسلک رہے جہاں مجھ سمیت بے شمار کامریڈوں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ اس عرصے میں انہوں نے کئی نوجوان کیڈرز تیار کئے اور ان کی سیاسی تربیت میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ اس بیچ ہماری کم و بیش روز ہی ملاقات ہوتی۔ وہ روزانہ باقاعدگی سے یا تو دفتر آتے یا کامریڈ نتھو کی رہائیش گاہ پر جایا کرتے جہاں تنظیم اور کامریڈز کی خیریت معلوم کرتے۔ جب کبھی کسی سرگرمی میں تاخیر ہو جایا کرتی وہ ہم پر غصہ بھی ہوتے اور ہمیں ڈانٹ بھی دیتے مگر ان کا شفقت بھرا ہاتھ ہمیشہ تمام نوجوان کامریڈوں کے سر پر ہوتا۔ اپنی علیل صحت کے باوجود بھی وہ تنظیم کی کسی سرگرمی کو نہیں چھوڑتے اور بعض اوقات گھر والوں سے لڑ کر بھی سالانہ کانگریس یا مارکسی اسکول میں شرکت کے لئے دور دراز علاقوں تک سفر کرتے مگر پل بھر کے لئے بھی انہیں تھکن کا احساس نہیں ہوتا۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ اس تنظیم نے انہیں ایک نئی زندگی بخشی ہے اور وہ خود کو نوجوان محسوس کرتے ہیں۔

کامریڈ دیوا کی زندگی اس بات کا بہترین ثبوت تھی کہ انقلابی کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔ وہ جسمانی طور پر بھلے ہی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو جائیں مگر جو خواب اُن کی آنکھوں نے بُنیں ہوتے ہیں ان کی تعبیر کیلئے وہ ہمیشہ اُسی لگن اور جذبے سے اُس انقلابی کام کو جاری رکھتے ہیں جیسے کوئی کم عمر نوجوان رکھ سکتا ہے۔ یہی سبب تھا کہ ہم نے کبھی اپنے درمیان نہ کامریڈ دیوا کو بوڑھا پایا اور نہ ہی انہوں نے کبھی یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ وہ عمر میں ہم سے کئی سال بڑے ہیں۔ جب بھی انہیں کوئی انقلابی ڈیوٹی دی جاتی وہ اس ڈیوٹی کو نوجوان کامریڈز سے زیادہ نہ صرف بہتر انداز میں ادا کرتے بلکہ جس لگن اور جستجو کے ساتھ وہ اپنے فرائض سرانجام دیتے انہیں الفاظ میں بیاں نہیں کیا جاسکتا۔ اُن سے ملنے والا ہر کامریڈ خود کو جواں محسوس کرنے لگتا کیونکہ ان کی گفتگو سے جو لگن، تازگی اور حوصلہ ملتا وہ اس تعفن زدہ سماج میں شاید ہی کسی اور جگہ مل سکتا ہو۔ یہی وجہ تھی کہ وہ نوجوان کامریڈز میں بہت مقبول تھے اور ہر کامریڈ ان کے ساتھ بیٹھتے ہوئے خوشی محسوس کرتا۔ وہ جب کبھی سماج کے کسی بھی فرد سے ملتے اپنے مارکسی انقلابی نظریات کو پھیلانا اپنا اولین فریضہ سمجھتے۔ نرسوں کے احتجاجوں میں انقلابی مداخلت ہو یا پرچے کی تقسیم، کامریڈ دیوا بہت آسانی سے یہ سارے فرائض سرانجام دے دیتے۔ شاید اسی لئے عمر کے اس حصے میں بھی اُن کے بے شمار انقلابی رابطے تھے جنہیں وہ تنظیم کے ساتھ منسلک کرنا چاہتے تھے۔ وہ باقاعدگی سے اپنے روابط کو ’طبقاتی جدوجہد‘ پرچہ پڑھاتے اور بے صبری سے نئے شمارے کا انتظار کرتے۔ اپنی وفات سے ایک روز قبل بھی کامریڈ نتھو مل سے ہوئی ان کی آخری ملاقات میں وہ نئے شمارے کی اشاعت کا ہی پوچھنے آئے تھے۔ جب بھی کسی کامریڈ یا تنظیم پر کوئی برا وقت آتا وہ چٹان کی طرح اس مصیبت کا سامنا کرتے اور ہمیشہ ہمارے لئے حوصلے اور توانائی کا باعث بنتے۔ وہ حقیقی معنوں میں جدوجہد کا استعارہ تھے۔ انہیں پڑنے والے دل کے دوسرے دورے کے بعد جب ہم ان کی رہائش گاہ پر ان کی خیریت معلوم کرنے گئے تو ان کے بھائی کے اسرار پر ہم نے انہیں کچھ دن آرام کرنے اور گھر میں بیٹھنے کی تاکید کی۔ جس پر وہ ہنستے ہوئے ہمیں کہنے لگے ”کامریڈ ہماری زندگی محنت کشوں کی امانت ہے اور اگر ہم یہ ان کے لئے نہیں گزاریں گے تو شاید جلدی مر جائیں گے“۔ کامریڈ دیوا نے اپنی پوری زندگی اسی مقصد کے لئے وقف کر دی۔ وہ اس انقلابی سفر کے ایک ایسے گمنام سپاہی تھے جو کسی تاج پوشی، عہدے اور رتبے کا نہ خواہش مند رہے اور نہ ایسی کوئی لالچ ان کے حوصلوں کو کمزور کر سکی۔ اُن کی زندگی ہم سب کے لئے مشعل راہ ہے اور انہیں حقیقی خراج ان کے ادھورے مقصد کو پورا کرتے ہوئے سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی ادا کیا جاسکتا ہے۔