بھان سید آباد (شاہ محمد پنہور) یونیورسٹیوں کے طرف سے آن لائن کلاسوں اور لاک ڈاؤن میں فیس لینے کے خلاف اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اور انقلابی طلبہ محاذ (آر ایس ایف) کے طرف سے آج 29 جون کو پریس کلب بھان سیدآباد کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں شرکت کرنے والے طلبہ نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن میں آن لائن کلاسیں نہ چلانے اور یونیورسٹی فیسیں نہ لینے کے مطالبات لکھے ہوئے تھے۔ احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے طلبہ رہنماؤں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کے طرف سے آن لائن کلاسیں لینے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے وہ سراسر غلط ہے کیونکہ سرکاری یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلبہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں، اس لئے وہ انتہائی غربت کے شکار ہیں اور آن لائن کلاسوں کی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کے ساتھ ملک کے اندر بجلی اور نیٹ ورک کی عدم موجودگی کی وجہ سے طلبہ درست طور پر تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران بہت سے غریب خاندان یونیورسٹیوں کی فیس ادا کرنے کے قابل نہیں رہے ہیں کیونکہ کورونا وبا کی وجہ سے بیروزگاری میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ لہٰذا تمام فیس ختم کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اصل میں مفت تعلیم حاصل کرنا ہمارا بنیادی حق ہے کیونکہ اس وقت ملک کے تمام معاشی معاملات ہمارے ٹیکسوں کے پیسے سے چل رہیں ہیں۔ اس سال بھی عوام نے 3900 ارب روپے کا ٹیکس ادا کیا ہے جس کو حکمران طبقہ اپنی عیاشیوں پر خرچ کر رہا ہے۔ اس رقم سے ہی مفت تعلیم و علاج سمیت عوام کی ساری ضرورتیں پوری کی جائیں۔ آخر میں کوئٹہ میں طلبہ کے اوپر کیے گئے تشدد اور گرفتاریوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔ مظاہرہ سے سجاد شاہانی، طارق پنہور، پریل چنہ، شہزاد مینگل اور میر مرتضیٰ لغاری نے خطاب کیا۔