ذکا اللہ راؤ

عام حالات میں جب آپ لوگوں سے نظریات، سیاست، معیشت اور سائنس پر بحث ومباحثہ کرتے ہیں تو اکثریت ان مسائل پر بحث کو لایعنی اور وقت کا زیاں قرار دیتی ہے اور ایسا کرنے والوں کی اکثریت خواندہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کامیاب افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔ لیکن غیر معمولی حالات میں سیاسی، معاشی اور سائنسی نظریات ہی انسانوں کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔

2016ء میں امریکی صدارتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے امیدواروں میں سے کوئی ایک امیدوار بھی نظریہ ارتقا پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ یو ں ایک نظام جس کی ساری ترقی ہی سائنس اور ٹیکنالوجی کے مرہون منت ہے‘ اس کی اشرافیہ خود سائنسی سوچ کی نفی کر رہی ہے۔ کورونا وائرس کے ایک عالمی وبا بننے کے پیچھے اس سوچ کا بڑا کردار ہے اور اس عمل کا آغاز اسی وقت شروع ہوگیا تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد وائٹ ہاؤس میں اپنا آفس سنبھالا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی آفس سنبھالتے ہی ’سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول‘ (سی ڈی سی) جو کہ وبائی اور دیگر بیماریوں کی روک تھام کے حوالے سے ایک عالمی سطح کا ادارہ ہے کے فنڈز میں کٹوتی کا عمل شروع کردیا۔ اس ادارے کی فنڈنگ میں 2019ء تک 80 فیصد کمی واقع ہو چکی تھی۔ اس کے علاوہ امریکی قومی سلامتی کونسل میں قائم گلوبل ہیلتھ سکیورٹی یونٹ کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔ امریکی ماہرین صحت نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ان اقدامات کو امریکی سلامتی کے لئے شدید خطرہ قرار دیا تھا۔ سی ڈی سی کے سابق سربراہ ٹوم فرئیڈن نے دوسال پہلے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کے ”ہم نے جرثوموں کے لئے میدان خالی چھوڑ دیا ہے۔“

جنوری کے اختتام تک امریکی ایڈمنسٹریشن کا بیانیہ یہ تھا کہ کورونا وائرس چین کا مسئلہ ہے جو امریکہ کے لئے خوش آئند عمل ہے۔ فروری کے اختتام پر ٹرمپ نے کورونا سے دنیا بھر میں متاثر ہونے والے افراد اور اموات کے اعداد و شمار پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے اپنے خلاف ایک سیاسی سازش اور لاک ڈاؤن کی مخالفت کرتے ہوئے کورونا کو عام نزلہ و بخار قرار دیا۔ 13 مارچ کو جس وقت امریکہ کی 42 ریاستوں میں دوہزار سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوچکے تھے ٹرمپ نے قومی ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس میں امریکہ میں کورونا وائرس کے تدارک کے حوالے سے ایک ٹاسک فورس قائم کی جس کا سربراہ امریکی نائب صدر مائیک پنس کو مقرر کیا گیا۔ مائیک پنس کا بھی ٹرمپ کی طرح صحت اور سائنس کے ساتھ ایک مضحکہ خیز تعلق ہے۔ اپنے سیاسی کیریئر کے آغاز میں پنس اس بات پر پورا یقین رکھتے تھے کہ سگریٹ لوگوں کی موت کا باعث نہیں بنتی۔ ریاست انڈیانا کے گورنر کی حیثیت سے انہوں نے ایڈز کی روک تھام کے لئے جاری ایک پروگرام پر پابندی عائد کر دی تھی جس کے باعث انڈیانا میں ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔ یاد رہے کہ ٹائم میگزین کے مطابق تمام سرکاری سائنس دانوں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ یا تدارک کے حوالے سے کوئی بھی بیان جاری کرنے سے پہلے اسی مائیک پنس سے مشاورت کرنا ہوتی ہے۔

25 مارچ کو ڈبلیو ایچ او نے امریکہ کو کورونا وائرس کا نیا عالمی مرکز قرار دے دیا تھا۔ اس کے باوجود مارچ کے آخر تک لاک ڈاؤن کا معاملہ کنفیوژن کا شکار رہا۔ نیویارک، جو امریکہ میں کورونا وائرس کا سب سے بڑا مرکز ہے، کے گورنر اینڈریو کومو نے ٹرمپ ایڈمنسٹریشن پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بحران سے نمٹنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس نیویارک میں پہلے ہی ہسپتالوں اور دیگر حفاظتی سامان کی کمی ہے‘ ہم نے وفاقی ایمرجنسی کے ادارے سے تیس ہزار وینٹی لیٹروں کا تقاضا کیا تھا لیکن انہوں نے ہمیں صرف چار ہزار مہیا کیے ہیں جس میں سے بھی کچھ ناقابل استعمال ہیں‘ یوں ہم نے 26000 ہزار لوگوں کو مرنے کے لئے چھوڑدیا ہے۔ کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسن کا کہنا ہے کہ ہمیں پچاس ہزار بستروں کی کمی کا سامنا ہے اور کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے والے ہیلتھ ورکروں کو بھی حفاظتی سامان کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

کورونا وائرس نے بے گھر افراد کو زیادہ بری طرح متاثر کیا ہے۔ بے گھر افراد کی اکثریت کے پاس ٹوائلٹ اور ہاتھ دھونے کے لئے صابن جیسی بنیادی ضرورت کی سہولیات تک موجود نہیں۔اور محدود جگہ میں زیادہ لوگوں کی موجودگی کے باعث وائرس زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت صرف نیویارک میں ایک لاکھ سے زائد کمرے ہوٹلوں میں خالی پڑے ہیں اور اس سے کئی گنا زیادہ تعداد میں ذاتی جائیدادیں ایسی ہیں جو خالی پڑی ہیں اور انہیں قرنطینہ بنایا جاسکتا ہے۔ لیکن ایسا ہوگا نہیں۔ کیوں کہ یہ عمارتیں امیروں کے منافعوں اور عیاشیوں کے لئے بنائی گئی ہیں‘ انسانوں کی ضرورت کے لئے نہیں۔ آنے والے دنوں میں کورونا وائرس کے کیسوں میں پورے امریکہ میں بہت تیزی سے اضافہ ہوگا۔ ٹرمپ نے امریکہ میں کورونا وائرس سے 2 لاکھ سے زائد اموات کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ لیکن یہ بہت زیادہ مبالغہ آرائی پر مبنی اعدادو شمار محسوس ہوتے ہیں اور نومبر میں ہونے والے الیکشن کی مہم کا حصہ لگتے ہیں۔ عین ممکن ہے کے کورونا سے ہونے والی اموات 5 ہندسوں سے زیادہ نہ بڑھیں۔ یوں اگر آپ 6 ہندسوں کے اعداد و شمار دے کر اسے 5 ہندسوں میں قابو کر لیں تو یہ ایک بہت بڑی کامیابی تصور کی جائے گی اور بہت ساری نااہلیوں پر پردہ ڈال دے گی۔

جنوری کے آخری ہفتے میں ریپبلکن سینیٹر رچرڈ بر (سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ) اور سینیٹر کیلی لوفلر جو نیویارک اسٹاک ایکسچینج کے سی ای او جیفری اسپریچر کی بیوی اور انٹیلی جنس کمیٹی کا حصہ ہیں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور امریکی معیشت پر اس کے اثرات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ رچرڈ بر کے بارے میں اطلاعات ہیں کے اس بریفنگ کے بعد انہوں نے 1.7 ملین ڈالر کے شیئر اسٹاک مارکیٹ میں فروخت کر دئیے۔ امریکی کانگریس اور سینیٹ کے ممبران کی اکثریت اسٹاک منڈی میں کاروبار کرتی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق کارپوریٹ مالکان نے حالیہ دنوں میں تقریباً 9 بلین ڈالر کے شیئر فروخت کیے ہیں۔ ایمزون کے مالک جیف بیزون نے تقریباً 4 بلین ڈالر کے شیئر فروخت کیے۔ یہ ساری فروخت فروری کے پہلے تین ہفتوں میں کی گئی جس کے بعد فروری کے آخری ہفتے میں اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی۔ سرمایہ دارانہ نفسیات اپنے منافعوں سے آگے دیکھنے کی صلاحیت سے ہی محروم ہوچکی ہے۔

ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کی منافع و کاروبار پہلے کی پالیسی اور لاک ڈاؤن کی مسلسل مخالفت نے کورونا کے بحران کو مزید گہرا کیا ہے۔ بالآخر مارچ کے آخر میں کورونا سے معیشت کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لئے دو ٹریلین ڈالر کے سٹیمولس پیکیج کا اعلان کیا گیا جو آئندہ آنے والے دنوں میں 6 ٹریلین ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ یہ سارا پیسہ بھی سرمایہ داروں کی جیبوں میں ہی جائے گا۔ بنیادی طور پر یہ سٹیمولس2008ء میں دئیے جانے والے بیل آؤٹ پیکیج کی ہی دوسری شکل ہے جب کارپوریٹ سیکٹر اور انڈسٹری کو 780 بلین ڈالر کا بیل آؤٹ دیا گیا تھا۔ 2008ء کے بعد سے عالمی معیشت مسلسل سست رفتاری کا شکار تھی۔ کورونا کے باعث دنیا بھر میں سپلائی چین کی بندش اور ڈیمانڈ میں کمی نے عالمی معیشت کو بحران در بحران میں دھکیل دیا ہے اور دنیا بھر میں ریاستیں اسی کینشین پالیسی کو اپنا رہی ہیں جس میں حکومتی اخراجات کے ذریعے معیشت کو سہارا دیا جائے گا۔ لیکن ان مصنوعی طریقے سے نظام کو کب تک گھسیٹا جا سکتا ہے؟ یوں نئی دہائی بحرانات کے ایک نئے معمول کی دہائی ہوگی۔

2020ء کے آخر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کا نتیجہ ممکنہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ کامیابی کی صورت نکل سکتا ہے۔ یہ یقینی طور پر امریکہ میں ترقی پسند رجحانات کے لئے ایک بڑا دھچکے ہوگا۔ موجودہ حالات میں حاوی سیاست میں ٹرمپ کو شکست دینے کی واحد صلاحیت برنی سینڈرز کے پاس تھی۔ لیکن سینڈرز کی سوچ اور شخصیت خود کو بڑی تحریک کی قیادت کے لئے تیار نہیں کر سکی۔ 2016ء کے بعد 2020ء میں بھی اس کی شخصیت کے کمزور سیاسی پہلو نے امریکہ میں حقیقی تبدیلی کے خواہاں نوجوانوں اور ترقی پسند سوچ کے حامل لوگوں کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ لیکن اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود سماج میں جاری ایک عمل کی نمائندگی کرتے ہوئے سینڈرز کی تحریک نے سوشلزم کو مستقبل کی امریکی سیاست کے ایجنڈے کا لازمہ بنا دیا ہے۔ امریکی محنت کش طبقہ اور نوجوان زیادہ دیر صدمے کی کیفیت سے دوچار نہیں رہیں گے۔آنے والے دنوں میں ”آکوپائی وال سٹریٹ“ جیسی سرمایہ داری مخالف تحریکیں اور سیاسی رجحانات زیادہ بلوغت کیساتھ اور بلند تر پیمانے پر ابھر سکتے ہیں۔