علی تراب

29 نومبر  2019ء کو پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام علاقوں کے پچاس سے زائد شہروں میں ”طلبہ ایکشن کمیٹی“ جو کہ 17 سے زائدترقی پسند طلبہ تنظیموں کا اکٹھ ہے، کے تحت ”طلبہ یکجہتی مارچ“ کا انعقاد کیا گیا۔ اس مارچ کامقصد طلبہ حقوق کی جدوجہد کو منظم کرنا تھا تاکہ طلبہ کے مسائل جن میں فیسوں میں آئے دن اضافہ، تعلیم کے بجٹ میں کٹوتیاں، تعلیمی اداروں میں طالبات کے ساتھ ہراسگی، اداروں میں سکیورٹی فورسز کی بے جا مداخلت، گارڈز کا نامناسب رویہ، فارغ التحصیل طلبہ کے لئے روزگار کے مواقعوں کی عدم موجودگی اور سب سے اہم طلبہ یونینز پر پابندی جس کی وجہ سے کیمپس میں طلبہ کی کوئی نمائندگی موجود نہیں، کے حل کی جانب اقدام اٹھائے جاسکیں۔

اس مارچ نے جہاں طلبہ حقوق کیلئے آواز بلند کی وہیں اس مارچ میں مزدوروں، کسانوں اور بائیں بازو کی پارٹیوں کی شرکت اور مارچ میں بلند ہونے والے ”جب لال لال لہرائے گا، تب ہوش ٹھکانے آئے گا“، ”ایشیاسرخ ہے“ اور ”انقلاب زندآباد“کے نعروں نے اقتدار کے ایوانوں میں ایک بھونچال بپا کرتے ہوئے لمبے عرصے بعد پاکستان میں بائیں بازو کی واپسی کا اعلان کیا اور دنیا بھر میں نیو لبرل سرمایہ داری کے خلاف جاری تحریکوں کے تسلسل میں 1968-69ء کے انقلاب کی یاد تازہ کرتے ہوئے ایک سوشلسٹ متبادل کی آواز بلند کی۔

ایک طرف تو وزیر اعظم، حکومتی وزرااور اپوزیشن کی جانب سے مارچ کا خیر مقدم کیا گیا اور طلبہ یونین بحالی کے حق میں بیانات دیے گئے تو دوسری جانب مارچ کے منتظمین پر بغاوت کی ایف آئی آر کاٹی گئی، جو ظاہر کرتا ہے کہ جو بظاہر حکمران نظر آتے ہیں انکا اقتدار سے دوردور تک کوئی تعلق نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مارچ پر اور خاص طور پر طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے پر خاصی تنقید بھی ہوئی۔ اس تنقید میں کچھ نکات بالکل بھی اس لائق نہیں کہ انہیں زیرِ بحث لایا جائے، مثلاًطلبہ پر ایلیٹ ہونے کاالزام وغیرہ۔ اس کے علاوہ کچھ اہم نکات بھی ہیں مثلاً طلبہ کو سیاسی شعور نہیں، جمہوری اقدار کا علم نہیں، طلبہ یونین ہونگی تو لڑائی جھگڑے ہونگے اور سب سے اعلیٰ کہ طلبہ کا کام پڑھائی کرنا ہے تنظیمیں بنانا اور سیاست کرنا نہیں۔

ایک ملک جس کی عمر بہتر سال ہو، جن میں چالیس سال آمریت کا راج رہا ہو اور باقی تیس سال بھی صرف ایک نام نہاد غیر مستحکم جمہوریت رہی ہو، جس میں منتخب نمائندے سکیورٹی رسک قرار دیکے راستے سے ہٹا دیے جاتے ہوں اور جرنیل دس دس سال تک ایکسٹینشن لیتے رہیں اور اْس جمہوریت کی اوقات بھی موجودہ تبدیلی حکومت کی بدولت سب کے سامنے کھل کے عیاں ہوگئی ہو۔ جہاں ایک شعوری منصوبے کے تحت انتہا پسندی پروان چڑھائی گئی ہو، جہاں آزادیِ اظہارِ رائے پر اس قدر قدغنیں ہوں کہ لوگ بولنے سے بھی ڈریں کہ کہیں کوئی فتویٰ صادر نہ ہوجائے، غداری کا الزام نہ لگ جائے، جہاں جمہوریت کی نرسریاں طلبہ یونینزپر ایک وحشی آمر ضیاالحق نے پابندی لگائی ہو اور بعد میں آنے والی تمام نام نہاد جمہوری حکومتوں نے اْس پابندی کو ہٹانے کی حماقت نہ کی ہو، وہاں اس ملک کے لوگوں سے یہ توقع کرنا کہ انہیں جمہوری اقدار کا علم ہو اور وہ سیاسی طور پر تربیت یافتہ بھی ہوں ایک حماقت سے زیادہ کچھ نہیں۔

ایک ملک جس کے حکمران خود تسلیم کریں کہ وہ سعودی عرب اور امریکہ کے کہنے پہ ڈالر لیکر انکے لئے کرائے کے انتہا پسند، بنیاد پرست اور دہشت گرد تنظیمیں تیار کرتے رہے ہیں، جہاں سرعام لوگوں کو کوڑے مارے جاتے رہے ہوں، جہاں انتہاپسند طلبہ تنظیمیں ریاستی سرپرستی میں پرورش پاتی رہی ہوں، جہاں ریاست خود طلبہ کے ہاتھوں میں ہتھیار تھماتی رہی ہو، جہاں ترقی پسندوں کو چن چن کر مارنے، تشدد اور ٹارچر کا نشانہ بنانے کی تاریخ ہو۔ جہاں تعلیم کی نجکاری کرکے تعلیم کو سب سے منافع بخش دھندہ بنایا گیا ہو، جہاں شرع خواندگی صرف 30-35 فیصد ہو اور 30 فیصد طلبہ میٹرک کے بعد اخراجات برداشت نہ کرسکنے کی وجہ سے تعلیم کا سفر چھوڑ دیں، جہاں طلبہ کو گریڈز، نمبروں اور سی جی پی اے کی دوڑ میں لگادیا گیا ہو، جہاں بنیاد پرستی اور رٹے بازی کو فروغ دیا گیا ہو اور تنقید و تحقیق اور سوال کا گلا گھونٹنے کی شعوری سازش کی گئی ہو۔ اور ابھی حال ہی میں ایک خاتون اسسٹنٹ کمشنر جنت حسین جو کہ انسانی حقوق کے حوالے سے منعقد کیے گئے سیمینار میں اقلیتوں کے حقوق کا احترام اور فرقہ واریت سے پرہیز کی بات کررہی تھیں اسی دوران انہوں نے احمدی برادری کا بھی نام لیا جس پر انہیں انکوائری اورتذلیل کا سامنا کرنا پڑا اور کچھ طلبہ کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کرنی پڑی کہ احمدیوں کو کافر ہی گردانتی ہیں۔ ایسی عدم برداشت کی کیفیت میں، جہاں لوگوں میں بھوک، مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے بھی غم و غصہ پایا جاتا ہے، ان سے توقع کرنا کہ پرامن ہوں اور بات چیت سے معاملات طے کریں، جو انہوں نے کبھی سیکھا ہی نہیں، تو یہ ایک حماقت ہی کہلاسکتی ہے۔

اب اس بات کی طرف آتے ہیں کہ طلبہ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ ارسطو نے کہا تھا کہ ”انسان ایک سیاسی و سماجی جانور ہے“ اور ارسطو نے ”بیوقوف“ کا لفظ بھی ان کے لئے استعمال کیا تھا جن کو سیاست کی سمجھ نہیں ہوتی۔ یہ کہنا کہ طلبہ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں یہ کہنے کے مترادف ہے کہ طلبہ اس سماج کا حصہ ہی نہیں۔ اس سماج کا 64 فیصد تیس سال کے نیچے کے نوجوان ہیں جو اس قوم کا مستقبل ہیں۔ لینن نے کہا تھا ”ہوسکتا ہے کہ آپکو سیاست میں دلچسپی نہ ہو لیکن سیاست کو آپ میں بڑی گہری دلچسپی ہے۔“ طلبہ کی اکثریت مزدور طبقے کے گھرانوں سے تعلق رکھتی ہے اور یہی وہ طبقہ ہے جو مہنگائی، بیروزگاری، فیسوں میں اضافے، بلوں میں اضافے، مہنگے پٹرول، جنسی ہراسگی، تعلیم اور صحت کے بجٹ میں کٹوتیوں اور دیگر سماجی و معاشی ناانصافیوں سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ یہ سب چیزیں جن سے طلبہ اور مزدور طبقے کا سیدھا تعلق ہے ان پر ایوانوں میں بیٹھے سیاستدان فیصلہ سازی کرتے ہیں۔ یہ نام نہاد تبدیلی سرکار تو آئی ہی نوجوانوں کے ووٹوں کے دم پر تھی، اگر طلبہ غیر سیاسی ہیں تو پھر تو انسے ووٹ بھی نہیں مانگنے چاہیے۔ نوجوانوں کو مستقبل کہنے والوں سے کوئی پوچھے کہ کیا وہ صرف اپنی اولادوں کی بات کررہے ہوتے ہیں کہ جب خود نااہل ہوں تو اپنے بیٹے، بیٹی کو ٹکٹ لے دیا۔ اس کے باوجودیہ کہنا کہ کوئی تعلق نہیں ایک منطقی جھوٹ ہے جو اس ملک کی نوجوان نسل سے دہائیوں سے بولا جارہا ہے۔

ایک اور بات جو پوچھی جانی چاہئے وہ یہ کہ صرف پڑھا کہ آپ نے کتنے ارسطو، ابنِ سینااور الفارابی پیدا کیے ہیں؟ ابھی حال ہی میں ہم اس سماج کے سب سے پڑھے لکھے اور مہذب سمجھے جانے والے دو شعبے، ڈاکٹر اور وکیل، جنہوں نے لاہور کی سڑکوں اور ہسپتالوں میں پوری دنیا کے سامنے وحشت کا ایسا ننگا ناچ دیکھایا کہ جسے دیکھ کر عہدِ وحشت کے لوگ بھی تھر تھر کانپ اٹھتے۔ اس المیے نے ثابت کیا کہ تہذیب یافتہ بننے کیلئے صرف خواندہ ہونا کافی نہیں بلکہ تربیت اور تنظیم کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے۔

آج ایک تحریک اٹھی ہے جو اِس منظر نامے کو تبدیل کرنا چاہتی ہے، حقیقی جمہوریت کو بحال کرنا چاہتی ہے۔ جس طرح جمہوریت یہ تقاضا کرتی ہے کہ ایک ریاست کو عوام کے منتخب نمائندے چلائیں، اسی طرح جمہوریت یہ بھی تقاضا کرتی کہ ریاستی اداروں کو بھی ان اداروں کے سٹیک ہولڈرز کے منتخب نمائندے چلائیں اور ایک تعلیمی ادارے میں سب سے بڑے سٹیک ہولڈر طلبہ ہی ہوتے ہیں جن کے بغیر کالج اور یونیورسٹیاں خالی کمروں سے زیادہ کچھ نہیں۔

سیاست ایک ایسی چیز ہے جو میدانِ عمل میں اترے بغیر نہیں سیکھی جاسکتی۔ اس سیاسی عمل سے گزرتے ہوئے غلطیاں بھی ہونگی لیکن ان غلطیوں سے سیکھا جائے گا۔ اور اس جمہوری عمل کو جسے ایک انتھک محنت کے بعد طلبہ ایکشن کمیٹی کے ساتھیوں نے ایک عظیم ”طلبہ یکجہتی مارچ“ کے ساتھ شروع کیا ہے صرف طلبہ یونینز کی بحالی تک جاری نہیں رہے گا بلکہ یہ 1968-69ء میں ایوب خان کی آمریت کا تختہ الٹنے والے طلبہ اور مزدوروں کے نامکمل سوشلسٹ انقلاب کو پورا کرنے کی طرف جائے گا اور جنوبی ایشیاکی سوشلسٹ فیڈریشن بناتے ہوئے ایک حقیقی عوامی سوشلسٹ جمہوریہ قائم کرے گا۔