راہول

جواہر لال نہرو یونیورسٹی (JNU) کے طلباو طالبات کی آواز آج بھارت سمیت پوری دنیا میں گونج رہی ہے۔ فیسوں میں اضافے سمیت دیگر مطالبات پر جاری یہ تحریک ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ یونیورسٹی کیمپس سے شروع ہوئے مظاہرے آج دہلی کی اہم شاہراہیں عبور کرتے ہوئے دھرنوں میں تبدیل ہورہے ہیں۔ ہزار وں طلبہ گزشتہ ایک ماہ سے بدترین ریاستی تشدد کے باوجود بھی اپنے مطالبات پر ڈٹے ہیں اورکسی طور پر بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

طلبہ کے مطالبات ٹوئٹر سمیت کئی سماجی روابط کی ویب سائیٹس پر ٹرینڈ کررہے ہیں اور ملک بھر سے طلبا و طالبات ان کے مطالبات کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کے شانہ با شانہ کھڑے ہیں۔ میڈیا تمام تر پابندیوں اور دوغلے پن کے باوجود بھی نوجوان طلبہ سے جڑی اسٹوریز کو کوریج دینے پر مجبور ہے۔ تا وقت تحریر جے این یو اسٹوڈنٹ یونین نے اس سال کے سیشن کے آغاز پر یونیورسٹی سے دہلی کی شاہراہوں پر مارچ کا بھی ارادہ ظاہر کیا ہے جس میں ملک بھر کے طلبہ کو شرکت کی دعوت دی جارہی ہے۔

دو دسمبر کے دن جے این یو ٹیچرز ایسوسی ایشن (JNUTA) بھی طلبہ کے شانہ با شانہ ہاسٹل فیسوں میں اضافے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی۔ اساتذہ کی جانب سے شاستری بھاون پر موجود منسٹری آف ہیومن رسورس ڈولپمنٹ کے دفتر کے باہر طلبہ کے حق میں دھرنا دیا گیااور حکومت مخالف نعرے لگائے گئے۔ شاستری بھاون پر طلبہ کے ہمراہ موجود یہ اساتذہ مطالبہ کر رہے تھے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ سے مذاکرات کے لئے تشکیل دی گئی ’کمیٹی‘ کی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے۔ دوسری جانب حکومت و انتظامیہ کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ وہ فیسوں میں اس اضافے کو ناجائزسمجھتے ہی نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ محض ’شرپسندوں‘ کا واویلا ہے! انتظامیہ ہمیشہ کی طرح ’خسارے‘ کا جواز مہیا کرکے اپنی جان چھڑاتی نظر آرہی ہے۔

جے این یو میں فیسوں میں اضافے کے خلاف طلبہ کی یہ تحریک گزشہ ایک ماہ سے جاری تھی مگر اس نے شدت اس وقت اختیار کی جب گیارہ نومبر کو طلبہ کے ایک پرامن مظاہرے پر بدترین ریاستی تشدد کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر شائع ہوئی تصاویر اور وڈیوز طلبہ پر پولیس کی جانب سے کئے گئے تشدد کو واضح کرتی ہیں۔ طالبات پر پولیس کا بہیمانہ تشدد ریاست کے اُس جابر کردار کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے جس کی انتہائیں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں دیکھی جا رہی ہیں۔ بھارتی میڈیابھی بڑی بے دردی سے کشمیر سمیت ہر اُس جگہ بھارتی ریاست کے بدترین کردار کو بڑی دھٹائی سے نہ صرف چھپاتا نظرآ رہا ہے بلکہ اس تشدد اور جبر کا دفاع بھی کررہا ہے۔ حالیہ دنوں جے این یو کی طلبہ تحریک پر بھی میڈیا صرف ریاستی بیانیے ہی کی حمایت کررہا ہے اور اس تحریک کوچند ’شرپسند طلبہ‘ کی شرارت کہا جا رہا ہے جبکہ پاکستان کی طرح وہاں بھی مقتدر قوتیں اسے ایک ’غیر ملکی‘ ایجنڈا ہی قرار دے رہی ہیں۔

دوسری طرف بی جے پی کے ایک ایم پی اے سبرامانیم سوامی کی طرف سے حکومت کو اس مسئلے سے نپٹنے کے لئے یہ ’تجویز‘دی گئی ہے کہ وہ آنے والے دو سالوں کے لئے ’یونیورسٹی‘کوہی بند کر دیں تاکہ یہاں سے ’شرپسندوں‘ کا پوری طرح خاتمہ کیا جاسکے۔ موصوف کی جانب سے یہ تجویز بھی دی گئی کہ دو سال بعد یونیورسٹی کا دوبارہ ایک نئے نام سے آغاز کیا جائے جس میں اس کا پرانا نام ’جواہر لال نہرو یونیورسٹی‘ سے تبدیل کرکے ’سبھاش چندر بوس‘ کے نام پر رکھا جائے۔ اس قسم کے بیانات نہ صرف نوجوانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں بلکہ یہ طلبہ کے سنگین مسائل پر حکومت کی ’سنجیدگی‘کو بھی بے نقاب کرتے ہیں۔

ہاسٹل فیسوں میں اضافے کے خلاف طلبہ کی یہ اٹھان درحقیقت سطح کے نیچے پلنے والے اس غصے کا شدید اظہار ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے پل رہا ہے۔ سرکاری اداروں کی فیسوں میں اضافہ کرکے نجی شعبے کو فروغ دیاگیا ہے جس سے محنت کش طبقات کے بچوں کا تعلیم حاصل کرنا ناپید ہوتا جارہا ہے۔ جے این یو بھارت کی ان یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے جہاں نچلے درمیانے طبقے کے بچوں کی ایک بڑی تعداد زیر تعلیم ہے اور اگر انتظامیہ اپنے فیصلے واپس نہیں لیتی ہے توہزاروں طلبہ اپنی تعلیم کو ادھورا چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ صرف جے این یو ہی نہیں بلکہ تمام تر سرکاری یونیورسٹیوں میں فیسوں میں اضافہ ایک معمول بن چکا ہے اور آئے روز سبسڈیوں کا خاتمہ کیا جارہا ہے تاکہ نجی شعبے کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جاسکے۔ مودی سرکار کی یہ تمام تر پالیسیاں سرمایہ دارانہ نظام اور اس کی نیو لبرل اکانومی کاہی اظہار ہیں جس کا خمیازہ نوجوانوں کی آج پوری ایک نسل کو ادا کرنا پڑ رہا ہے۔

لیکن جہاں اس تحریک کو میڈیا اور حاوی سیاست نے دبانے کی کوشش کی ہے وہاں معاشرے میں ایک نئی شورش پیدا ہوئی ہے۔ اس کے کمیونسٹ پارٹیوں اور ترقی پسند سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور بائیں بازو کے بہت سے مخلص کارکنان کو اس قسم کی تحریکوں سے حوصلہ ملا ہے۔ درحقیقت نوجوان طلبہ کی اس غیر معمولی تحریک کی مسلسل بڑھتی ہوئی حدت نے چند دنوں میں مودی سرکار کی آمرانہ جمہوری حکومت کے چھکے چھڑا دیئے ہیں۔

حالیہ تحریک اس بات کو واضح کررہی ہے کہ بحران زدہ سماج کی کوکھ میں ایک عرصے سے پلنے والے سماجی و معاشی تضادات ایک خاص مقام پر پہنچ کر اچانک ایک دھماکے کو کسی بھی وقت جنم دے سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب گزشتہ لمبے عرصے سے بھارت کی معاشی ترقی کا بڑا چرچا ہے۔ لیکن جیسا کہ اس نظام میں ”ترقی“ سے ہوتا ہے کہ سرمایہ دار خوب منافع بنا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف عوام کے وسیع حصے کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی جا رہی ہے۔

طلبہ کی یہ تحریک گزشتہ تین سالوں سے اتار چڑھاؤ کیساتھ جاری رہی ہے لیکن واضح پروگرام اور قیادت نہ ہونے کی وجہ سے کوئی خاطر خواہ اہداف حاصل نہیں کیے جاسکے۔ مگر یہ حالیہ تحریک نوجوانوں میں پلنے والے اس لاوے کا ایک اظہار ہے جو کسی بھی وقت بھارتی سماج کو پھاڑ سکتا ہے۔ اس سے بھارت کی سیاست‘ ثقافت اور سماجی اقدار میں ریڈیکل اور انقلابی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ برصغیر سمیت پوری دنیا کے نوجوانوں میں آج ایک نیا تحرک پیدا ہو رہا ہے۔ بھارت میں جو ایک نیا درمیانہ طبقہ استوار کیا گیا تھا وہ رجعت کی سب سے بڑی سماجی بنیاد تھی‘ لیکن سرمایہ داری کے بحران کی اذیت میں اس کے پاس بھی اب محنت کش طبقے اور نوجوانوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ گیا ہے۔

اگر طلبہ کی یہ احتجاجی تحریک سماج کی دوسری محکوم اور استحصال زدہ پرتوں سے الگ تھلگ ہونے کی وجہ سے کچھ دیر کے لئے ماند پڑ بھی جائے لیکن اس کے باوجود بھی یہ بھارت میں آنے والے طوفانی واقعات کی ایک جھلک ضرور دکھاتی ہے۔ بلند معاشی شرح نمو اور غربت میں کمی کے جعلی اعداد و شمار کی بڑھکوں کے باوجودبھارتی سماج میں محنت کش طبقے کی حالت انتہائی نا گفتہ بہ ہے۔ بٹوارے سے لے کر آج تک یہاں عدم مساوات میں تیزی سے اضافہ ہی ہوا ہے۔ جہاں ارب پتیوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے وہیں آبادی کی اکثریت غربت کی اتھاہ گہرائیاں برداشت کرنے پر مجبور ہے۔ بیروزگاری کی سطح انتہائی بلند ہے جبکہ کام کے بد تر حالات ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں جھونپڑ پٹیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ان معاشی بد حالیوں کو شدید ہوتی ہوئی ماحولیاتی تبدیلیوں نے مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ دہلی، ممبئی اور احمدآباد سمیت بھارت کے متعدد شہر آج رہنے کے قابل ہی نہیں رہے ہیں۔

طلبہ پر تشدد اور مختلف پابندیوں سے ان میں پلنے والی بغاوت کو صدا دبا کر نہیں رکھا جا سکتا۔ ان پر مالیاتی و جسمانی تشدد سے ان کی تحریک کے ابھرنے کو روکا نہیں جا سکتا‘ لیکن طلبہ کو جو اپنا تاریخی کردار ادا کرنا ہے‘ اس کے لئے وہ نظریات اور لائحہ عمل درکار ہیں جو اس معاشرے سے طبقاتی نظام تعلیم، محرومی، افلاس، بیماری، دہشت گردی اور ذلت کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر سکیں۔ پچھلے سالوں میں عام ہڑتالوں نے ہندوستان کے پرولتاریہ کی انقلابی صلاحیتوں کو واضح کیا ہے۔ مزدوروں اور نوجوانوں کی یہ باغیانہ روش ایک انقلابی کیفیت میں بدل سکتی ہے۔ اس کی فتح کے لئے ایک انقلابی پارٹی کی ضرورت ہو گی جس کو ایک ایسے پروگرام اور تناظر کے ساتھ آنا ہوگا جو اس بوسیدہ نظام کی حدود کو یکسر مسترد کرتا ہو۔ پاکستان میں بھی طلبہ کی حالیہ اٹھان کوئی اتفاق نہیں بلکہ سرحد کے دونوں اطراف یہ نوجوانوں میں پائی جانی والی شدید بے چینی کا اظہار ہے۔ ان تحریکوں میں لگائے جانے والے انقلاب کے نعرے آج پورے برصغیر کے طلبہ کی آواز بن چکے ہیں۔ سامراجی لکیریں طلبہ میں اس نظام کے خلاف پائی جانے والی نظریاتی ہم آہنگی کو زائل کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ جہاں جالب کی نظمیں آج بھارتی طلبہ میں مقبول ہورہی ہیں وہیں رام پرساد بسمل کی نظم آج پاکستان میں موجود طلبہ تحریک کی آواز بن چکی ہے۔ سماج ایک نئی کروٹ لے رہا ہے اور دہائیوں سے رائج و مسلط کردہ رجعتی اقدار کو طلبہ کی یہ تحریکیں جھٹک کر اپنی انقلابی قیادتیں تراش رہی ہیں جن کے انقلابی نعروں سے آج پورا خطہ گونج اٹھا ہے۔