راہول

افغانستان میں انتخابات کا پہلا مرحلہ 28 ستمبرکو مکمل ہوچکا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر پانچ ہزار 373 پولنگ سینٹرز بنائے گئے تھے جن میں سے پولنگ کے دن سکیورٹی خدشات کے باعث تقریباً 445 پولنگ سینٹرز بند رہے۔ 72 ہزار سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی اور اربوں روپے کے اخراجات کرنے کے باوجود بھی پولنگ کے دن طالبان کی جانب سے متعدد حملوں میں کئی افراد جا ں بحق جبکہ ایک بڑی تعداد میں لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ انتخابات کے دن کابل اور قندھار سمیت مختلف شہروں میں 400 سے زائد حملے ہوئے جس کے باعث ووٹنگ کا عمل شدید متاثر ہوا اور ٹرن آؤٹ 2001ء میں امریکی فوج کی یہاں مداخلت کے بعد ہونے والے تمام انتخابات سے کم ریکارڈ کیا گیا جو کہ تقریباً 20 فیصد کے لگ بھگ رہا۔ یہ ٹرن آؤٹ 96 لاکھ رجسٹرڈ ووٹوں کے تناسب سے انتہائی کم ہے اور ووٹنگ کے وقت میں دو گھنٹے توسیع کے باوجود بھی اس شرح میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔

ان انتخابات میں مجموعی طور پر اٹھارہ امیدواروں نے حصہ لیا مگر بیشتر نے عین موقعے پرخود کو اس دوڑ سے الگ کرلیا اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق محض دو اہم امیدواروں میں ہی’کڑا‘ مقابلہ متوقع ہے جن میں گزشتہ دور کے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر عبداللہ عبداللہ شامل ہیں۔

الیکشن کے دوسرے روز ہی یہ دونوں امیدوار ’کامیابی‘ کے دعویدار بن گئے اور پریس کانفرنس کے ذریعے اپنی فتح کا اعلان بھی کردیا۔ اپنے مختلف بیانات میں اُن کا کہنا تھا کہ”چونکہ انہیں ووٹوں کی بھاری تعداد حاصل ہوچکی ہے لہٰذا انتخابات کے دوسرے مرحلے کی کوئی ضرورت نہیں۔“ ان بیانات کے بعد الیکشن کمیشن کے سینئر اہلکار حبیب اللہ نے اس قسم کی باتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ”ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا اور عبوری نتائج 19 اکتوبر سے قبل ممکن نہیں جبکہ اصل فیصلہ حتمی نتائج کے دن 7 نومبر کو ہی ہوسکے گا۔“

دونوں امیدواروں کی جانب سے انتخابات میں اپنی ’فتح‘ کا اعلان کوئی پہلی مرتبہ نہیں کیا گیا بلکہ 2014ء میں بھی کم و بیش یہی صورتحال تھی جس نے ان انتخابات میں بالواسطہ امریکی مداخلت کے لئے راہیں ہموار کیں اور اُس وقت کے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی جانب سے دونوں امیدواروں کے مابین ایک ’پاور شیئرنگ ڈیل‘کروائی گئی اور ایک ’قومی اتحادی حکومت‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس میں اشرف غنی جوکہ مغربی تعلیم یافتہ ٹیکنوکریٹ اور سابقہ ورلڈ بینک کے ملازم ہیں کو ملک کا صدر جبکہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو چیف ایگزیکٹو مقرر کیا گیا۔ حالیہ الیکشن میں بھی عین ممکن ہے کہ کوئی اسی قسم کی ’پاور شیئرنگ ڈیل‘ کروائی جائے کیونکہ نام نہاد ’جمہوریت‘ اور امن کے نام کا چاہے جتنا بھی واویلا کیا جائے مگر حتمی فیصلہ امریکی سامراج کی مرضی ہی سے ہو گا اور سامراج اپنی دلالی کے لئے ایک بار پھر ایسے نمائندگان ہی کا انتخاب کرے گا جوآئندہ افغانستان میں امریکی فوجوں کی موجودگی یا غیر موجودگی میں ان کے مفادات و سامراجی عزائم کا تحفظ کرسکیں۔

ان انتخابات کے اہم ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ الیکشن ایک ایسے دور میں ہوئے ہیں جب امریکہ اور طالبان کے مابین طویل ’مذاکرات‘اب ایک بدترین ناکامی کی صورت میں اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ ان مذاکرات میں ناکامی کا اعلان خود امریکی صدر کی جانب سے کیا جاچکا ہے۔ اب امریکی سامراج چاہے اس بات کو قبول کرے یا نہ کرے مگر حالیہ صورتحال یہ واضح کرتی ہے کہ امریکہ کو افغانستان میں ایک بدترین شکست کا سامنا ہوا ہے اور وہ ہر طور پر اپنی ناکامی کو چھپانے کی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کوششوں میں جٹاہے۔ حالیہ الیکشن جوکہ اپریل میں ہونے متوقع تھے کو طول بھی اسی وجہ سے دیا گیا تاکہ طالبان اور امریکہ آپس میں آنے والے اقتدار کا چناؤ کرسکیں۔ درحقیقت طالبان گزشتہ دور اقتدار سے لیکر اب تک افغانستان میں انتخابی عمل کی شدید مخالفت کررہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکی انخلا کے بغیر افغانستان میں کوئی مستند الیکشن یا سیٹ اپ ممکن ہی نہیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے طالبان کے دوحہ آفس کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ”2001ء میں امریکہ اور اتحادی افواج نے افغانستان پر حملہ کیا تھا تو الیکشن کے ذریعے ہی غیر ملکی تسلط کو دوام دیا گیا تھا۔ ہم ان انتخابات کو بالکل بھی ٹھیک نہیں سمجھتے۔ جب ملک تسلط سے آزاد ہوگا تب ہی افغان عوام خود فیصلہ کریں گے کہ وہ کس طرز کی حکومت چاہتے ہیں۔“

ان مذاکرات کے آغاز سے ہی کچھ بورژوا دانشور انہیں بہت سنجیدہ لیتے ہوئے خوش فہمی کا شکار تھے اور ہر طرف یہ واویلا تھا کہ جیسے مذاکرات کی کامیابی کے بعد افغانستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہوجائیں گی۔ کچھ حضرات تو انہیں امریکی دریا دلی‘اور ایک ’ترقی پسند‘ قدم قرار دے رہے تھے۔ درحقیقت اپنی فوجوں کو یہاں سے واپس نکالنا امریکی سامراج کا یہاں کوئی ترقی پسندانہ قدم نہیں او ر نہ ہی وہ یہاں امن کی حقیقی بحالی چاہتا ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف اس نام نہاد جنگ میں امریکی سامراج افغانستان اور عراق کی جنگوں میں ہزاروں ارب ڈالر خراچ کرنے کے بعد اب اس قدر کھوکھلا ہوچکا ہے کہ اُس کے لئے یہاں رہنا اب ممکن نہیں۔ جبکہ امریکی فوجیوں میں خودکشیاں اور ذہنی و نفسیاتی مسائل بھی معمول بنتے جارہے ہیں جس سے ایک شدیدداخلی بحران پیدا ہوتا جا رہا ہے۔ سامراج کی بے بسی اور نامرادی کا یہ عالم ہے کہ نہ وہ افغانستان میں رہنا چاہتے ہیں اور نہ اسے اتنی آسانی سے چھوڑ سکتے ہیں۔ حالیہ واقعات درحقیقت اس بات کو عیاں کررہے ہیں کہ امریکی فوجوں کا یہاں سے مکمل انخلا ممکن نہیں۔ دوسری جانب خطے میں چین و ہندوستان سمیت دیگر قوتوں کا اس خونی کھیل میں شریک ہونا اب یہاں وبال ِ جان بنتا جا رہا ہے۔ اگرچہ چینی سامراج عسکری طور پر مداخلت کرنے سے کترا رہا ہے لیکن انہوں نے کاپر، تیل، گیس اور دوسرے شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ بلکہ طالبان کے کئی بااثر گروہ آج چین کے قابو میں ہیں۔ اسی طرح ہندوستان بھی یہاں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری میں حصہ لے رہا ہے اور اس کی بڑھتی مداخلت یہاں کئی نئے تنازعات کو ہوا دے رہی ہے۔ یہی نہیں بلکہ یورپی مداخلت اور ایران و سعودی عرب کے درمیان پراکسی جنگ بھی چل رہی ہے۔

طالبان افغانستان کے ستر فیصد سے زائد پر قابض ہیں۔ ایسے میں امریکی سامراج بات چیت کو آگے بڑھانے کا گزشتہ پانچ سالوں ہی سے خواہش مند نظر آرہاتھا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہاں طالبان کے کئی دھڑے موجود ہیں جو مختلف علاقائی اور سامراجی قوتوں کے لئے کرائے پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی مذاکراتی عمل کا آگے بڑھنا یا مستقبل میں کوئی ممکنہ ڈیل ہوتی دکھائی نہیں دیتی اور اگر کوئی معاہدہ طے پا بھی جاتا ہے تو وہ نادیر پا ثابت ہوگا۔ یہاں موجود یہ عسکری قوتیں منشیات، اسلحے کی اسمگلنگ، بھتہ خوری اور دوسرے جرائم پر مبنی کالے دھن کی معیشت میں حصہ دار ہیں اور ان قوتوں کا باہمی تضاد دراصل اسی کالے دھن کی زیادہ سے زیادہ حصہ داری کی لڑائی اور تنازعات پر مبنی ہے۔

1978ء میں افغان ثور انقلاب کے خلاف سامراجی قوتوں نے جو’ڈالرجہاد‘شروع کیا تھا وہ آج ان کے اپنے قابو سے باہر ہوچکا ہے۔ ان ’جہادیوں‘ کی بربریت نے افغان اور پاکستانی عوام کی نسلوں کو برباد کردیا ہے۔

حالیہ انتخابات کو مغربی میڈیا میں افغانستان میں جمہوریت کے ’پراسس‘ کو آگے بڑھانے کے لئے ایک بہترین عمل قرار دیا جا رہا ہے مگر کوئی بھی سامراج کے اُن بدترین جرائم پربات کرنے کو تیار نہیں جن کی بدولت افغان عوام کی زندگیوں کو گزشتہ کئی دہائیوں سے تاراج کیا گیا ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ افغانستان میں شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہی نہیں ہے۔ اکثریتی حصے پر طالبان قابض ہیں اور حکومتی رٹ سرے سے ان علاقوں میں موجود ہی نہیں۔ انتخابی نظام کی خستہ حالی، خانہ جنگی اور خونریزی کی اس کیفیت میں یہاں مکمل انتخابات کروائے ہی نہیں جاسکتے۔ ایسے میں اس قسم کے انتخابی کھلواڑ یہاں کی برباد عوام کے لئے محض ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں آج ایک پوری نسل برباد ہوگئی ہے جس کے پاس سوائے جنگ اور جنگی حالات دیکھنے کے اور کچھ بھی نہیں۔ امریکی جارحیت سے پہلے عراق سمیت مشرقی وسطیٰ کے بیشترممالک میں مذہبی دہشت گرد تنظیموں کا وجود نہیں تھا۔ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘شروع ہونے کے اٹھارہ سال بعد آج پورا خطہ مذہبی اور فرقہ وارانہ دہشت کی آگ میں جل رہا ہے۔ امریکی جارحیت نے وہ آگ بھڑکائی ہے جو اس کے اپنے قابو سے بھی باہر ہے۔ امریکی سامراج نے گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران انڈونیشیا سے لیکر پاکستان، افغانستان، شام اور مصر تک اسلامی بنیاد پرستی کو اپنے مفادات کے تحت ابھارا اور استعمال کیا ہے۔ درحقیقت سب سے بڑے دہشت گرد ہی یہ سامراجی خود ہیں۔ سامراجی وحشت گردی ہو یا مذہبی دہشت گردی، اس بربریت کا خاتمہ سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے سے مشروط ہے جو گل سڑ کر انسانی سماج کو تعفن زدہ کرتا چلا جارہا ہے۔ سامراج کی ان جنگو ں اور خانہ جنگیوں سے نجات اس نظام کے خلاف فیصلہ کن طبقاتی جنگ سے ہی ممکن ہے۔ یہ فریضہ مشرقی وسطیٰ سے لیکر جنوبی ایشیاکے محنت کشوں اور نوجوانوں کو ادا کرنا ہے۔