نوروز خان

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چوہترویں اجلاس میں شرکت کے لیے عمران خان سے نریندر مودی اور مصر کے السیسی سے لیکر اردگان اورحسن روحانی تک دنیا بھر کے کئی حکمران شریک ہوئے۔ اقوام متحدہ دوسری عالمی جنگ کے بعد ”عالمی امن کے قیام“ کی خاطر بنائی گئی تھی اوراس کے پیش رو ادارے لیگ آف نیشنز کو لینن نے’’چوروں کا باورچی خانہ“ قرار دیا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد مسلسل جاری جنگوں اور بربادیوں سے اس ادارے کی حقیقت بے نقاب ہے۔ سرد جنگ کے دنوں میں یہ کسی حد تک دو سپر پاورز کے مابین ثانوی نوعیت کے مسائل پر بحث کا موقع فراہم کرتا تھا لیکن اب تو اس کی اوقات سامراج کی کاسہ لیسی سے زیادہ نہیں۔

اس میں بھی سلامتی کونسل کسی حد تک با اختیار ادارہ تصور ہوتا ہے لیکن عالمی طاقتیں حسب ضرورت سلامتی کونسل کو استعمال کرتی ہیں اور اکثر اسے روندتے ہوئے جنگ و جدل کا بازار گرم کرتی ہیں۔ ایسے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی حیثیت محض ایک سٹیج اور اس کے اجلاس کی حیثیت ’تقریری مقابلے‘ کی رہ جاتی ہے۔ دنیا بھر کے حکمران یہ بخوبی جانتے ہیں اور اسے پروپیگنڈے کے اوزار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ جیسا کہ مایہ ناز جرنیل کلازوٹز نے کہا تھا کہ ”جنگ در حقیقت دیگر پر تشدد ذرائع سے اندرونی سیاست کا تسلسل ہوتی ہے‘ اسی طرح خارجہ پالیسی بھی کسی ریاست کے داخلی حالات پر منحصر ہوتی ہے اور حکمران اسے اپنے ملک کے اندر اقتدار کو دوام دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔“

اس اقوام متحدہ کی کیا حیثیت اور ساکھ ہے جس کے انسانی حقوق کے ادارے کی سربراہی 2015ء میں سعودی عرب کے پاس تھی۔ حالیہ اجلاس کے دوران ٹرمپ اور نائب صدر پینس مذہبی آزادیوں پر ہونے والے اجلاس میں شریک تھے۔ منافقت کی انتہاہے کہ ٹرمپ جو کھلم کھلا دوسرے مذاہب سے نفرت کرتا ہے اور پینس ایک انتہا پسند و کٹر عیسائی ہے اس اجلاس کا حصہ بنے۔

دنیا کے انتہائی غریب خطے جنوبی ایشیا کے حکمرانوں نے بھی دورہ امریکہ کو اپنی داخلی سیاست کے لیے بھرپور استعمال کرنے کی کوشش کی۔ بھارتی وزیر اعظم نے ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں پچاس ہزار کا جلسہ کیا جس میں امریکی صدر ٹرمپ بھی مدعو تھاجس میں تارکین وطن ہندوستانیوں کے قومی شاونزم کو بھرپور طریقے سے ابھارا گیا۔ اس سرکس کی روشنیوں میں ہندوستان کی معیشت کی گراوٹ، بے انتہا غربت اور جنم لیتے بحران کے اندھیروں کو چھپانے کی کوشش کی گئی۔ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور بے مودی انتہائی ڈھٹائی اور بے شرمی سے مختلف زبانوں میں نعرہ لگا رہا تھا کہ ”سب ٹھیک ہے!“

ہندستان کی شرح نمو گزشتہ برس کی 8 فیصد سے گر کر اب 5 فیصد رہ گئی ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق یہ صفر فیصد سے زیادہ نہیں ہے اور اعداد و شمار کے ہیر پھیر سے کام لیا جا رہا ہے۔ نجی شعبے کی سرمایہ کاری پندرہ برس میں کم ترین سطح پر ہے۔ بی بی سی کے مطابق ”دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ نجی شعبے کی جانب سے نئے پراجیکٹس میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔“ ایسی صورتحال میں ٹرمپ امریکہ میں درآمد کی جانے والی بھارتی مصنوعات پرمحصولات کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے جس سے بھارتی معیشت مزید گراوٹ کا شکار ہو گی۔ بھارتی کارپوریٹ میڈیا جہاں مودی ٹرمپ جلسے ”ہاؤڈی مودی“ کے گن گاتے نہیں تھک رہا وہیں اس تمام تر چاپلوسی کے باوجود محصولات کے سوال پر ٹرمپ نے مودی کو کوئی رعایت دینے کا اعلان نہیں کیا۔ اسی طرح ہنر مند افراد کے لیے ورک ویزا میں بھی کوئی توسیع یا نرمی نہیں کی گئی جس سے مستفید ہونے والوں کی وسیع اکثریت ہندوستانیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ نے اپنے مسلمان مخالف تعصب (جو کہ یقینا عام اور غریب مسلمانوں تک ہی محدود ہے کیونکہ خلیجی شیخ تو ٹرمپ کے یار ہیں) کو استعمال کرتے ہوئے امریکہ میں بسنے والے بھارتیوں کی حمایت لینے کی کوشش کی ہے جو روایتی طور پر ڈیموکریٹس کے حامی خیال کیے جاتے ہیں۔ لیکن ٹرمپ نہ صرف مسلم مخالف جذبات کو ابھارتا ہے بلکہ وہ تمام تارکین وطن اور اقلیتوں سے نفرت کی سیاست کرتا ہے۔ لیکن اپنی گرتی ہوئی ساکھ اور 2020ء کے انتخابات کے لیے بھارتی امریکی ووٹر اس کیلئے اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ ویسے بھی ٹرمپ پر مواخذے (Impeachment) کا ایک نیا خطرہ منڈلانے لگا ہے جس میں وہ فارغ بھی ہو سکتا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے اپنے عہدے کو استعمال کرتے ہوئے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف غیر ممالک سے مدد مانگی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کا میڈیا اور سرکاری دانشور اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر کا ڈھول پیٹ رہے ہیں اور اسے ایک اور ”عظیم کامیابی“ قرار دے رہے ہیں۔ کسی فاتح کی طرح ایئر پورٹ پر آدھی رات کو اس کے درباری آنکھیں ملتے اس کا استقبال کرنے قطار بنا کر کھڑے کیے گئے۔ اسے عالم اسلام کے عظیم قائد سے لے کر کشمیریوں کے سفیر کے اعزاز و اکرام سے نوازا جا رہا ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں معیشت، سماج اور ریاست کا بحران خطرناک اور انتہائی غیر مستحکم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس شور کی آڑ میں بجلی اور ادویات سمیت کئی اشیا کی قیمت میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔ شعبہ صحت پر نجکاری کی تلوار چلائی جا رہی ہے جس کے خلاف ڈاکٹروں، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف سمیت اس شعبے کے ملازمین بھرپور مزاحمت بھی کر رہے ہیں۔ معیشت کا بحران اس قدر سنگین ہو چکا ہے کہ آرمی چیف کو بڑے سرمایہ داروں سے ملاقات کرنی پڑی ہے جس میں موصوف کے سامنے شکوے شکایتوں کے انبار لگ گئے۔ اس موقع پر جنرل باجوہ نے شکایات کے ازالے کے روایتی وعدوں سے کام چلانے کی کوشش کی۔ لیکن اِس ایک واقعے سے پتا چلتا ہے کہ کس طرح اس لولے لنگڑے جمہوری سیٹ اپ کو گھسیٹنے کی کوشش میں بورژوا سیاست اور ریاست کے روایتی تکلفات کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ ہم اپنے پچھلے شمارے میں معیشت کی گراوٹ کا تفصیلاً جائزہ لے چکے ہیں جس میں شرح نمو انتہائی کم ہے جبکہ مہنگائی اور بیروزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے نسخے درد سے نجات کے لئے مریض کو قتل کرنے کے مترادف ہیں۔ لیکن یہ کیفیت زیادہ لمبے عرصے جاری نہیں رہ سکتی۔ پورا نظام لڑکھڑا رہا ہے اور تلخ زمینی حقائق کو زیادہ عرصہ مسئلہ کشمیر اور عمران خان کی تقریروں کے پیچھے نہیں چھپایا جا سکتا۔

اسی طرح مصر کے صدر السیسی، جسے ٹرمپ نے اپنا پسندیدہ ڈکٹیٹر قرار دیا ہے، کی آمد پر نیو یارک میں چند مصریوں کو جمع کر کے استقبال کی بیہودہ کوشش کی گئی جبکہ قاہرہ میں تحریر سکوائر ایک مرتبہ پھر ایک ابھرتی ہوئی عوامی تحریک سے آباد ہو رہا ہے۔ مصر بھی پچھلے تین سالوں سے آئی ایم ایف کے شکنجے میں ہے اور اس دوران وہاں غربت دو گنا ہو چکی ہے۔ السیسی کا اقتدار لڑکھڑا رہا ہے۔

تاریخ میں ہمیشہ انتہائی دائیں بازو کی جابر حکومتیں بھرپور پراپیگنڈے اور شخصیت کی بے پناہ پرستش کا سہارا لیتی ہیں لیکن عوام کی وسیع اکثریت کے بنیادی معاشی اور سماجی مسائل ان شعبدہ بازیوں سے حل نہیں ہو سکتے۔ نہ ہی بیرون ملک لگائے جانے والے تماشے داخلی تضادات کو حل کر سکتے ہیں۔

پاکستان، بھارت اور دنیا بھر کا کارپوریٹ میڈیا اپنے اپنے حکمرانوں کی شخصیت کو خارجہ پالیسی میں کامیابی کی وجہ قرار دیتاہے۔ اگرچہ سفارت کاری میں ذاتی خصوصیات کردار ادا کرتی ہیں لیکن ریاستوں کی قوت، داخلی حالات اور مفادات ہی خارجہ پالیسی میں فیصلہ کن ہوتے ہیں اور اسی طرح افراد کا کردار ثانوی ہو جاتا ہے۔

بر صغیر کے حکمرانوں کی وطن واپسی پر بحرانات ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہیں۔ ہندوستان میں مودی کبھی کشمیر اور کبھی آسام میں جبر کے حربوں کے ذریعے بیروزگاری، غربت اور بگڑی معیشت سے توجہ ہٹانے کی کوشش میں ہے۔ کانگریس کی تاریخی کمزوری اور کمیونسٹ پارٹیوں کا زوال اسے مزید بے باک بنا رہا ہے اور بی جے پی اب سارے سماج کو جکڑنے کے منصوبے بنا رہی ہے۔ البتہ کروڑوں کے محنت کش طبقے کی موجودگی میں یہ اتنا آسان نہیں ہو گا اور قدم قدم پر مزاحمت ہو گی جو پھٹ کے بغاوت بھی بن سکتی ہے۔

پاکستان میں عمران خان کے ساتھ یہ پہلے کافی حد تک ہو چکا ہے۔ اس صورتحال میں مزید جبر ان حکومتوں کی مجبوری بن جائے گا۔ لیکن ایک فرسودہ معاشی، سماجی اور ریاستی ڈھانچے میں یہ جبر‘ کرنے والوں کے لیے خطرے اور مزید عدم استحکام کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ جنگی جنون سے چھیڑ خانی کا حربہ بھی استعمال کیا جا رہا ہے اور آگے مزید کیا جا سکتا ہے لیکن اس میں بھی ریاستوں کی کمزوری عیاں ہوجانے کا امکان بہت زیادہ ہے۔ عوام کی وسیع اکثریت کو دینے کے لیے ان حکمرانوں کے پاس کچھ نہیں ہے۔ دنیا میں غربت کے سب سے بڑے خطے کی نجات کا واحد راستہ ایک سوشلسٹ انقلاب اور جنوبی ایشیا کی رضاراکارانہ فیڈریشن ہے۔ یہ نہ صرف تیسری دنیا کے غریب ممالک کے محنت کشوں کے لیے مشعل راہ ہو گا بلکہ ترقی یافتہ صنعتی ممالک کے پرولتاریہ کی جدوجہد کوبھی ایک نئی امنگ دے گا۔