اداریہ جدوجہد

آج بورژوا دانشوروں کا ہر نظریہ ان کے تاریخی طور پر متروک نظام کوچلانے میں ناکام ہو رہاہے۔ عمران خان اورپی ٹی آئی کا اقتدار میں آنا کسی عوامی تحریک نہیں بلکہ حکمران طبقات اور ریاستی اشرافیہ کے درمیان ایک تضاد اور تصادم کا نتیجہ تھا۔ نواز شریف سنجیدگی سے سمجھنے لگا تھا کہ بطور وزیر اعظم اختیارات و اقتدار مکمل طور پر اس کے قبضے میں ہیں اور ان میں کسی قسم کی رخنہ اندازی نہیں ہونی چاہئے۔ پاکستان کے تاخیر زدہ اور روزِ اول سے بحران زدہ سرمایہ دارانہ نظام میں اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ ملک اور معاشرے کو عمومی ترقی دے سکے۔ پھر نواز شریف حکومت کے مصنوعی ترقیاتی اقدامات کی وجہ سے یہ نظام اندر سے اور بھی کھوکھلا ہوچکا تھا۔ اس سے پہلے پیپلز پارٹی نے 1970ء کی دہائی کے آغاز میں اس نظام زر کو تسلیم کرکے اس کے آگے گھٹنے ٹیک کر ہی اقتدار حاصل کیا تھا۔ دوسرے الفاظ میں محنت کشوں کی طاقت سے ابھرنے والی پارٹی نے بھی اقتدار کے لئے سرمایہ داری اور سامراج کے آگے سر تسلیم خم کیا تھا۔ نوا ز شریف تو پیدوار ہی ضیا آمریت کی تھا۔ اس لئے اسے جمہوریت پسند ہونے میں بھی تین دہائیاں لگ گئیں۔ لیکن جب اسے اس نظام میں طاقتور ریاستی اداروں کی معاشی اور سیاسی مداخلت روکنے کی سوجھی تو اس وقت تک یہ نظام ہی اتنا کمزور ہوچکا تھا کہ اپنے لئے جدوجہد کرنے والوں کی بھی کوئی مدد نہ کر سکا۔ یہاں کے حکمران طبقات میں تاریخی طور پر کبھی اتنی اہلیت ہی نہیں تھی کہ وہ کوئی جرات مندانہ اقدامات اٹھا سکیں یا سیاسی طور پر بھی کسی ریڈیکل نظرئیے پر یکجا ہوں۔ اب مولوی فضل الرحمان مذہب کے نام پر جو بھی کر رہا ہے وہ محض اقتدار میں مطلوبہ حصہ داری کے لئے ہے۔ عمران خان، جو تیسری قوت کے زور پر برسراقتدار آیا تھا، نے جہاں ایک طرف معیشت اور ریاست کو اپنے آقاؤں کے تابع کرنے کی کوشش کی ہے وہیں دوسری طرف یہاں کی سرمایہ داری کا بحران اتنابڑھا دیا ہے کہ حکمرانوں کے مختلف دھڑوں کے درمیان تنازعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کالے دھن پہ چلنے والی سرمایہ داری کو ٹھیک کرنے کے چکر میں معاملات اور خراب ہو گئے ہیں۔ عمران خان کے پاس نہ کوئی تجربہ کار سیاستدان ہیں جنہیں اس نظام کے بحران کی شدت کا اندازہ ہو‘ اور خود تو وہ اپنے آغاز سے ہی اسٹیبلشمنٹ کا سیاسی قیدی ہے۔ اس لئے عہدے تو بظاہر اس حکومت کے پاس ہیں لیکن طاقت اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے۔

فضل الرحمان اور نواز شریف وغیرہ جیسوں کو اقتدار سے باہر رہنے کی وجہ سے معاشی اور سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔ پیپلزپارٹی صرف سندھ کے اقتدار کے لئے بار بار شرمناک مصالحت کیے جا رہی ہے۔ لیکن جس طرح بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیروزگاری اورذلت و رسوائی سے عوام تنگ ہیں ان میں ایک طرف بغاوت اور غم و غصے کے سخت جذبات پائے جاتے ہیں تو دوسری جانب بنیادی ضروریات زندگی کی سلگتی ہوئی خواہش موجود ہے۔ پیپلز پارٹی، مولانا فضل الرحمان، نوا ز شریف کی ن لیگ اور اسمبلی میں موجود دوسری اپوزیشن پارٹیاں اور رجحانات حکومت مخالف تحریک کو محض اقتدار کی تبدیلی تک محدود رکھنے کے خواہشمند ہیں۔ عوام ان کی حقیقت کو جانتے ہیں اسی لئے ان کے لئے وسیع تر عوام میں کوئی بڑی حمایت یا جوش و جذبہ نہیں ہے۔

محنت کش طبقہ تنگ بھی بہت ہے۔ اس کے اندر بغاوت کرنے کی تڑپ بھی کافی ہے لیکن حکمرانوں کے ایک حصے کی ”بغاوت“ پر ان کو اعتماد اور اعتبا ر نہیں ہے۔ ایسے میں محنت کشوں کی اپنی پارٹیاں مصنوعی طور پر نہیں بن سکتیں بلکہ ان کی تعمیر براہِ راست تحریک کے ابھار کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اس مشکل صورتحال اور حالات میں محنت کش طبقات میں شدید بے چینی موجود ہے۔ یہ بھڑک کر اگر بغاوت کا شعلہ بنی تو اس نظام کے ڈھانچوں کے راکھ ہونے میں شاید زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ ضرورت اس وقت انقلابی کیڈر کو تیار کرنے، اس نظام کی خستہ حالی کو سمجھنے اور انقلابی تحریک کی قیادت کی تیاری کرنے کی ہے۔ اس میں نئی نسل فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔ بالشویک پارٹی کا فقدان آج تاریخ کا سب سے بڑا بحران بن چکا ہے۔