ولادیمیر لینن 

ترجمہ: حسن جان

لبرل‘ رجعت پرستوں سے اس حوالے سے مختلف ہیں کہ وہ کم از کم ابتدائی سکولوں میں مادری زبانوں میں تعلیم حاصل کرنے کے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن وہ اس نکتے پر رجعت پرستوں کے بالکل ساتھ کھڑے ہیں کہ جبری سرکاری زبان لازمی ہے۔

جبری (لازمی) سرکاری زبان کا مطلب کیا ہے؟ عملاً اس کا مطلب خالص روسیوں، جو روس کی آبادی کی اقلیت ہیں، کی زبان کو روس کی دیگر آبادیوں پر مسلط کرنا ہے۔ یعنی ہر سکول میں سرکاری زبان کو پڑھانا لازمی ہو۔ تمام تر سرکاری خط و کتابت سرکاری زبان میں ہو، نہ کہ مقامی آبادی کی زبان میں۔

لازمی سرکاری زبان کی وکالت کرنے والی پارٹیاں کن بنیادوں پر اس کی ضرورت کا جواز پیش کرتی ہیں؟

بلیک ہنڈرڈ والوں کے دلائل تو یقینا روکھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ”تمام غیر روسیوں پر آہنی ہاتھوں کے ساتھ حکمرانی کی جانی چاہیے تاکہ وہ ہاتھ سے نہ نکل جائیں۔“ روس کو یکجا رہنا ہوگا اور سب کو خالص روسیوں کی حکمرانی کے آگے سر تسلیم خم کرنا چاہیے کیونکہ یہ خالص روسی ہی تھے جنہوں نے سرزمین ِروس کو قائم اور متحد کیا۔ اس لیے حکمران طبقے کی زبان کو لازمی سرکاری زبان ہونا چاہیے۔ پورشکیوچ کے ماننے والے تو تمام ”مقامی زبانوں“ پر پابندی لگا نا چاہیں گے اگرچہ روس کی 60 فیصد آبادی یہ زبانیں بولتی ہے۔

لبرلوں کا رویہ قدرے ”تہذیب یافتہ“ اور ”شائستہ“ ہے۔ وہ مخصوص حدوں تک مقامی زبانوں کے استعمال کی حمایت کرتے ہیں (مثلاً ابتدائی سکولوں میں)۔ اسی کے ساتھ ساتھ وہ ایک لازمی سرکاری زبان کی وکالت کرتے ہیں جو ان کے مطابق ایک ’یکجا‘ اور ’متحد‘ روس اور ’ثقافت‘ وغیرہ وغیرہ کے لیے لازمی ہے۔

”اقتدار کی یکجہتی ریاست کی موجودگی کی بنیاد ہے۔ سرکاری زبان اس یکجہتی کا ایک جزو ہے۔ ریاست کے ہونے کی تمام تر دوسری شکلوں کی مانند سرکاری زبان اسی لازمی اور آفاقی جبری طاقت کی حامل ہے… اگر روس کو متحد اور یکجا رہنا ہے تو ہمیں روسی ادبی زبان کی سیاسی ضرورت پر سختی سے زور دینا ہو گا۔“

سرکاری زبان کی ضرورت کے حوالے سے یہ ایک لبرل کا مثالی فلسفہ ہے۔

مذکورہ بالا عبارت پتراشکن کے ایک مضمون سے لی گئی ہے جو لبرل اخبار’دائن‘ میں چھپا ہے۔ قابل فہم وجوہات کی بنا پر بلیک ہنڈرڈ اخبار’نووئے وریمیا‘ نے ان خیالات کے مصنف کو زور دار بوسہ دیا ہے۔ مینشیکوف کے اخبار میں لکھا ہے کہ پتراشکن نے ”نہایت دانشمندانہ خیالات“ کا اظہار کیا ہے۔ ایک اور اخبار جس کے انہی ”دانشمندانہ“ خیالات کی وجہ سے بلیک ہنڈرڈ اس کی مسلسل تعریفیں کرتے ہیں قومی لبرل اخبار’روسکایا مسل‘ ہے۔ اور وہ کیوں اس کی تعریفیں نہ کریں جب لبرل اپنی ”تہذیب یافتہ“ دلیلوں کی مدد سے ایسی چیزوں کی وکالت کر رہے ہیں جو بلیک ہنڈرڈ والوں کو خوش کرتی ہیں؟

لبرل ہمیں بتاتے ہیں کہ روسی ایک عظیم اور طاقتور زبان ہے۔کیا آپ سب روس کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگ اس عظیم اور طاقتور زبان کو سیکھنا نہیں چاہتے؟ کیا آپ یہ نہیں دیکھتے کہ روسی زبان غیر روسیوں کے ادب میں کتنا اضافہ کرے گی۔ ثقافت کے وسیع خزانوں تک انہیں رسائی دے گی وغیرہ وغیرہ۔

لبرلوں کے جواب میں ہم کہتے ہیں: جناب یہ سب باتیں درست ہیں۔ ہم آپ سے بہتر جانتے ہیں کہ ترگینیف، ٹالسٹائی، دوبرولائبوف اور چرنیشیوسکی کی زبان عظیم اور طاقتور ہے۔ آپ سے زیادہ ہماری خواہش ہے کہ روس میں رہنے والی تمام قوموں کے محکوم طبقات میں بغیر کسی تفریق کے‘ ہر ممکن حد تک قریب ترین تعلق اور برادرانہ اتحاد قائم ہو۔ اور ہم یقینا اس بات کے حق میں ہیں کہ روس کے ہر باسی کو یہ موقع حاصل ہو کہ وہ عظیم روسی زبان سیکھ سکے۔

جو چیز ہم نہیں چاہتے وہ جبر ہے۔ ہم ڈنڈے کے زور پر لوگوں کو جنت میں دھکیلنا نہیں چاہتے کیونکہ آپ ”تہذیب“ کے بارے میں جتنی بھی خوشنما فقرہ بازی کرلیں، ایک لازمی سرکاری زبان میں لامحالہ جبر اور ڈنڈے کا زور شامل ہوتا ہے۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ عظیم اور طاقتور روسی زبان کو جبر کے ذریعے کسی کو پڑھانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ روس میں سرمایہ داری کا ارتقا اور عمومی طور پر سماجی زندگی کا پورا عمل تمام قوموں کو قریب لانے کی طرف جا رہا ہے۔ لاکھوں لوگ روس کے ایک کونے سے دوسرے کونے کی طرف جا رہے ہیں۔ مختلف قومی آبادیاں آپس میں گھل مل رہی ہیں۔ تفریق اور قومی قدامت پسندی کو ختم ہونا ہوگا۔ وہ لوگ جن کے حالاتِ زندگی اور حالات کار ان کے لیے روسی زبان کو سیکھنا لازمی بناتے ہیں وہ اسے بغیر کسی جبر کے سیکھ لیں گے۔ لیکن جبر کا صرف ایک نتیجہ نکلے گا: یہ عظیم اور طاقتور روسی زبان کو دوسری قومیتوں میں پھیلنے سے روکے گا اور سب سے بڑھ کر اس سے تضادات تیز ہوں گے‘ عداوتیں ہزاروں نئی شکلوں میں ابھریں گی‘ نفرتیں اور غلط فہمیاں بڑھیں گی وغیرہ وغیرہ۔

کون اس طرح کی صورتِ حال چاہتا ہے؟ نہ روسی عوام، نہ روسی ڈیموکریٹس۔ وہ قومی جبر کو کسی شکل میں بھی تسلیم نہیں کرتے حتیٰ کہ ”روسی ثقافت اور ریاست کے مفاد“ میں بھی نہیں۔

اسی لیے روسی مارکسسٹ کہتے ہیں کہ کوئی لازمی (جبری) سرکاری زبان نہیں ہونی چاہیے۔ لوگوں کو سکول فراہم کیے جانے چاہئیں جہاں تمام مقامی زبانوں میں تعلیم دی جانی چاہیے۔ آئین میں ایک بنیادی قانون متعارف کیا جانا چاہیے جو کسی ایک خاص قوم کو حاصل تمام مراعات اور قومی اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کو غیرقانونی قرار دے۔