لاہور (انقلابی طلبہ محاذ) مورخہ 26، 27 اور 28 جولائی کو انقلابی طلبہ محاذ (RSF) اور جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (JKNSF) کے زیر اہتمام موسمِ گرما 2019ء کے نیشنل مارکسی سکول کا اہتمام پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں راولاکوٹ کے پرفضا مقام پر کیا گیا۔ جس میں انتہائی نامساعد معاشی، سماجی اور سیاسی حالات کے باوجود 50 خواتین سمیت 350 سے زائد نوجوانوں نے پورے ملک سے شرکت کی۔ سکول کے شرکا کے قافلے ملک کے مختلف حصوں سے 25 جولائی کی شام کو مقررہ مقام پر پہنچنا شروع ہو چکے تھے۔

سکول، جو مجموعی طور پہ پانچ سیشنز پر مبنی تھا، کا باقاعدہ آغاز 26 جولائی کی صبح 10 بجے میزبان ریجن سے جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق چیئرمین راشد شیخ نے تمام شرکا کو خوش آمدید کر کے کیا۔

باسط باغی نے پہلے سیشن ’دنیا کدھر؟‘ کو چیئر کیا جبکہ حنیف مصرانی نے دنیا کی موجودہ صورتحال کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے بحث کا آغاز کیا۔ انہوں نے عالمی سرمایہ دارانہ معیشت کی موجودہ صورتحال، ایک نئے عالمگیر بحران کے ممکنات، چین امریکہ تضادات، ٹرمپ کے زیر اثر امریکی سرمایہ داری کی بحران زدہ کیفیت اور سامراجی عزائم، یورپی یونین میں پنپتے تضادات، ییلو ویسٹ موومنٹ، بریگزٹ بحران اور برطانیہ میں نئے وزیر اعظم کے انتخاب، سوڈان اور الجزائر میں انقلابی تحریکوں کے ابھار اور پسپائی، ہندوستان میں نریندرا مودی کی انتخابی جیت کے پس منظر اور مضمرات، دنیا کے مختلف حصوں میں مذہبی یا نسل پرستانہ فسطائی رجحانات کے مظہر، ماحولیاتی تبدیلیوں، گلوبل وارمنگ اور آنے والے دنوں میں انقلابی کردار کی حامل تحریکوں کے تناظر پر تفصیل سے بات رکھی۔ لیڈ آف کے بعد شرکا کی جانب سے سوالات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جس کے بعد محبہ احمد، ریحانہ اختر، اکرم مصرانی، التمش تصدق، اویس قرنی، عمر رشید اور عمران کامیانہ نے بحث کو آگے بڑھایا اور عالمی صورتحال اور پیش منظر کے مختلف نکات پر روشنی ڈالی۔ سوالات کی روشنی میں سیشن کا سم اپ حنیف مصرانی نے کیا۔

کھانے کے وقفے کے بعد دوسرے سیشن ’پاکستانی سرمایہ داری کا بحران‘کا آغاز ہوا جس کو چیئر عمر رشید نے کیا۔ اس سیشن میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے عمار یاسر نے تاریخی حوالے سے پاکستانی سرمایہ داری کے بحران کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیوں یہاں کے حکمران طبقات مغربی طرز کی جدید سرمایہ دارانہ ریاست تشکیل دینے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی سرمایہ داری کی تکنیکی، اقتصادی، ثقافتی اور سماجی پسماندگی کی مادی وجوہات اور یہاں سامراجی طاقتوں کی مداخلت کے مضمرات بھی بیان کیے۔ اس کے علاوہ ریاست اور حکمران طبقات کے مختلف حصوں کے آپسی تضادات، تحریک انصاف کی سماجی بنیادوں اور طبقاتی کردار، آئی ایم ایف کے پروگرام کے ملکی معیشت اور عوام پر اثرات، مزدور تحریک اور طلبہ سیاست کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا اور آنے والے دنوں میں حالات و واقعات کی سمت کے مختلف امکانات پیش کیے۔ لیڈ آف کے بعد شرکا کی جانب سے بڑی تعداد میں سوالات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جس کے بعد مسعود افضل، ظفراللہ، بابر پطرس، عبدالرحمن، فیاض چانڈیو، مروت راٹھور، سنگین باچا اور عمران کاسی نے پاکستان کی صورتحال اور تناظر کی بحث کو مختلف پہلوؤں سے آگے بڑھایا۔ سوالات کی روشنی میں اویس قرنی نے تمام تر بحث کو سمیٹ کر سیشن کا اختتام کیا۔

دوسرے دن کے پہلے جبکہ مجموعی طور پر سکول کے تیسرے سیشن ’جدیدریاست کی اشکال اور کردار‘کا آغاز 27 جولائی کی صبح 10 بجے ہوا۔ اس سیشن کو چیئر خکولا باچا نے کیا۔ موضوع کی تفصیل اور طوالت سے انصاف کرتے ہوئے آصف رشید نے تاریخی طور پر بطور سماجی نظام‘ سرمایہ داری کے ابھار کے بعد سے مختلف حالات میں ریاست کی مختلف صورتوں اور ان کے کردار کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے طبقات کے ساتھ ریاست کے جنم، عہد ِجدید میں بورژوا انقلابات اور سرمایہ دارانہ جمہوریت، بونا پارٹ ازم، آمریت اور فسطائیت کی مختلف شکلوں، سابق نوآبادیاتی ممالک کی ریاستوں اور سامراجیت کیساتھ ساتھ پرولتاری بوناپارٹ ازم اورمزدور ریاست اور مسخ شدہ مزدور ریاستوں کے مظہر پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔ سوالات کے سلسلے کے بعد ولہار خان، التمش تصدق، عمر رشید، عمران کاسی، حاتم خان، حارث قدیر اور ظفر اللہ نے ماضی اور حال میں سرمایہ دارانہ ریاست کی حرکیات اور تضادات پر روشنی ڈالتے ہوئے بحث کو آگے بڑھایا۔ سوالات کی روشنی میں سیشن کا سم اپ آصف رشید نے کیا۔

کھانے کے وقفے بعد دوسرے دن کے دوسرے جبکہ مجموعی طور پر سکول کے چوتھے سیشن ’سوشلزم کے تحت نسل ِانسان کا مستقبل‘ کا آغاز ہوا جس کو چیئر محمدساجد نے کیا۔ موضوع پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے عمران کامیانہ نے سماج کی سوشلسٹ تعمیر ِنو کے سیاسی، سماجی، معاشی، اقتصادی، تکنیکی، ثقافتی اور ریاستی پہلوؤں کا مفصل جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے سوشلزم کی ابتدائی اور ترقی یافتہ شکلوں، ایک ملک میں سوشلزم اور مسخ شدہ مزدور ریاستوں کے مظہر، سوشلسٹ منصوبہ بندی کے طریقہ کار، سوشلزم کے تحت انسانی شخصیت کی تشکیل نو اور سوشلسٹ انقلاب کی ناگزیر ضرورت جیسے موضوعات کا احاطہ بھی کیا۔ اس سیشن میں بشریٰ عزیز، عمر عبداللہ، خلیل بابر، عصمت پروین، الطاف، فوزیہ، حاجی شاہ اور فیاض چانڈیو نے بھی بحث میں حصہ لیا جبکہ بے شمار سوالات کی روشنی میں عمران کامیانہ نے بحث کو سمیٹا۔

تیسرے دن کا واحد اور مجموعی طور پر سکول کے پانچویں اور آخری سیشن ’نوجوانوں میں انقلابی کام کا طریقہ کار اور لائحہ عمل‘کا آغاز 28 جولائی کی صبح کو ہوا۔ جس کو منیش دھارانی نے چیئر کیا جبکہ اویس قرنی نے طلبہ سیاست کی موجودہ صورتحال، انقلابی پارٹی کی تعمیر کی ضرورت، پارٹی کی تعمیر میں نوجوانوں کے کردار اور نوجوانوں میں کام کی ضرورت، اہمیت اور طریقہ کار پر تفصیلی بات رکھی۔ جس کے بعد علاقہ جاتی رپورٹوں اور اہداف کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مقدس، نیہا، بشارت علی، حاتم خان اور رضا خان نے اوپن ڈسکشن میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ واجد خان نے سکول کی فنانس رپورٹ پیش کی۔ سکول کے اختتامی کلمات عمران کامیانہ نے ادا کیے جس میں انہوں نے انقلابی پارٹی کی تعمیر کا عمل تیز تر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ سکول کا باقاعدہ اختتام مزدوروں کا عالمی ترانہ (انٹرنیشنل) گا کر کیا گیا جس کے بعد نوجوانوں نے فلک شگاف انقلابی نعرے لگائے۔

معیاری، مقداری اور مالیاتی حوالے سے یہ آج تک کا کامیاب ترین سکول تھا۔ مختلف سیشنز کے دوران پوچھے جانے والے سینکڑوں سوالات مباحث میں شرکا کی بھرپور شمولیت اور دلچسپی کا پتا دے رہے تھے۔ تمام سیشنز میں شعر و شاعری اور انقلابی ترانے ماحول کو مسلسل گرماتے رہے۔ رات گئے تک جاری رہنے والی نظریاتی بحثوں اور موسیقی اور شاعری کی محفلوں نے جنگل میں منگل کا سماں پیدا کیے رکھا۔ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اس سکول سے ملک میں انقلابی کیڈر سازی کا عمل تیزی سے آگے بڑھے گا۔