البرٹ آئن سٹائن

ترجمہ: حسن جان

آئن سٹائن کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ ان کا یہ مضمون مئی 1949ء میں بائیں بازو کے امریکی جریدے ’منتھلی ریویو‘ کے پہلے شمارے میں شائع ہوا۔

کیا یہ مناسب ہے کہ معاشی اور سماجی موضوعات سے نابلد شخص سوشلزم کے موضوع پر اپنی رائے کا اظہار کرے؟ میرے خیال میں اُسے اظہارِ خیال کرنا چاہئے۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں۔

سب سے پہلے اس سوال کو سائنسی علم کے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ بظاہر ایسا لگے گا کہ علم فلکیات اور معاشیات کے درمیان طریقہ کار کا کوئی بنیادی فرق نہیں ہے: دونوں شعبوں کے سائنسدان یہ کوشش کرتے ہیں کہ مخصوص مظاہر کے لیے عمومی قبولیت کے حامل ایسے قوانین دریافت کریں جو ان مظاہر کے مابین رابطوں کو زیادہ سے زیادہ قابل فہم بنا سکیں۔ لیکن درحقیقت طریقہ کار کے فرق وجود رکھتے ہیں۔

معاشیات کے شعبے میں عمومی قوانین کی دریافت اس اَمر کی وجہ سے مشکل میں پڑ جاتی ہے کہ زیر مشاہدہ معاشی مظہر پر بہت سے ایسے عوامل اثرانداز ہوتے ہیں جن کی فرداً فرداً جانچ کرنا مشکل ہے۔ اس کے علاوہ انسانی تاریخ میں تہذیب کے آغاز کے بعد کے مجتمع شدہ تجربات خالصتاً معاشی وجوہات کی بنا پر وجود میں نہیں آئے تھے۔

مثلاً تاریخ کی اکثر بڑی ریاستیں فتوحات کے نتیجے میں معرض وجود میں آئیں۔ فاتح لوگوں نے قانونی اور معاشی طور پر اپنے آپ کو مفتوح علاقے کا مراعات یافتہ طبقہ بنایا۔ انہوں نے زمین کی ملکیت کی اجارہ داری حاصل کی اور اپنے ہی لوگوں کو مذہبی پیشوا مقرر کیا۔ مذہبی پیشواﺅں، جن کے ہاتھوں میں نظام تعلیم تھا، نے سماج کی طبقاتی تقسیم کو ایک مستقل ادارے میں تبدیل کردیا اور اقدار کا ایک ایسا نظام متعارف کروایا کہ اس کے بعد لوگ اپنے سماجی رویوں میں (زیادہ تر لاشعوری طورپر) اس پر عمل پیرا ہوتے گئے۔

لیکن تاریخی روایات گزرے ہوئے کل سے متعلقہ ہیں۔ ہم درحقیقت انسانی ارتقا کے اس مرحلے کو ابھی تک عبور ہی نہیں کرسکے جسے تھورسٹائن وبلن نے ”غارت گری کا مرحلہ“ کہا تھا۔ چونکہ سوشلزم کا حقیقی مقصد انسانی ارتقا کے اس غارت گری کے مرحلے کو پار کرکے ترقی کی جانب بڑھنا ہے لہٰذا معاشیات کی سائنس اپنی موجودہ کیفیت میں مستقبل کے سوشلسٹ سماج پر کم ہی روشنی ڈال سکتی ہے۔

دوئم یہ کہ سوشلزم کی سمت ایک سماجی اخلاقی مقصد کی طرف ہے۔ تاہم سائنس مقاصد تخلیق نہیں کرسکتی۔ سائنس زیادہ سے زیادہ وہ ذرائع فراہم کرتی ہے جن سے ان مقاصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ان مقاصد کا تصور اور تعین نہایت بلند نظریات رکھنے والی شخصیات کرتی ہیں۔ پھر بے شمار انسان انہیں آگے لے کے چلتے ہیں اور نیم شعوری طور پہ سماج کے سست رفتار ارتقا کا تعین کرتے ہیں۔

انہی وجوہات کی بنا پر ہمیں محتاط رہنا ہوگا تاکہ انسانی سماج کے مسائل کے حوالے سے سائنس اور سائنسی طریقہ کار کے کردار کو مبالغہ آرائی سے پیش نہ کریں۔ ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ سماجی تنظیم کے سوالات پر اظہار رائے کا حق صرف ماہرین ہی کو حاصل ہے۔

کچھ عرصے سے لا تعداد لوگ اس بات پہ زور دے رہے ہیں کہ انسانی سماج بحران سے گزر رہا ہے اور اس کا توازن تتر بتر ہو چکا ہے۔ یہ ایسے حالات کی خاصیت ہوتی ہے کہ افراد جس بڑے یا چھوٹے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اس کی طرف بے حسی، لاتعلقی یا مخاصمت تک کے جذبات کے حامل ہو جاتے ہیں۔ اس بات کی وضاحت کے لیے میں اپنا ایک ذاتی تجربہ بیان کرتا ہوں۔ حال ہی میں ‘ میں نے ایک ذہین اور خوش اخلاق شخص سے ایک اور جنگ کے خطرات کے بارے میں بات کی کہ کس طرح یہ انسانیت کے وجود کو ہی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ میں نے یہ تبصرہ کیا کہ سماج کی ایک بین الاقوامی تنظیم نو ہی ہمیں اس خطرے سے بچا سکتی ہے۔ اس بات پر موصوف نے نہایت اطمینان سے کہا، ”آپ نسل انسان کے خاتمے کے اتنے خلاف کیوں ہیں؟“

مجھے یقین ہے کہ کم از کم نصف صدی پہلے کوئی اتنی آسانی سے یہ بات نہیں کہہ سکتا تھا۔ یہ ایک ایسے شخص کا بیان ہے جس نے بہتری کی ساری امیدیں چھوڑ دی ہیں۔ یہ کربناک احساس تنہائی کا ایک اظہار ہے جس سے بے شمار لوگ آج کل گزر رہے ہیں۔

اس کی کیا وجوہات ہیں؟ کیا کوئی راہ حل ہے؟

اس طرح کے سوالات کرنا آسان ہے لیکن یقین کے ساتھ ان کے جواب دینا مشکل ہوتا ہے۔ میں یہ جواب تلاش کرنے کی بھرپور کوشش ہی کر سکتا ہوں۔ اگرچہ مجھے اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ ہمارے احساسات اور کاوشیں اکثر متضاد اور مبہم ہوتی ہیں اور انہیں آسان اور سادہ کلیوں سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔

انسان بیک وقت ایک انفرادی اور سماجی ہستی ہے۔ بطور انفرادی ہستی وہ اپنے اور اپنے عزیز و اقارب کی حفاظت کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل اور اپنی فطری صلاحیتوں کو نکھارنے کی کوشش کرتا ہے۔ بطور سماجی ہستی وہ اپنے ساتھی انسانوں کی داد اور محبت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کی خوشیوں میں شریک ہونے، ان کے غموں کو بانٹنے اور ان کے حالات زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی متنوع رجحانات، جو اکثر اوقات متضاد نوعیت کے حامل ہوتے ہیں، انسان کی مخصوص شخصیت کو تشکیل دیتے ہیں اور ان کا مخصوص امتزاج ہی اس بات کا تعین کرتا ہے کہ ایک فرد داخلی توازن حاصل کرکے سماج کی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے یا نہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ مجموعی طور پہ ان دو رجحانات کی ایک دوسرے کے مقابلے میں قوت کا تعین وراثت کرے۔ لیکن شخصیت کی تشکیل کا تعین بالآخر ماحول، سماجی نظام اور اس کی روایات کرتی ہیں۔ ایک فرد بذات خود سوچنے، محسوس کرنے، کوشش کرنے اور کام کرنے کے قابل تو ہوتا ہے لیکن اپنے طبعی، عقلی اور جذباتی وجود کے لیے وہ سماج پر منحصر ہوتا ہے۔ سماجی ڈھانچے سے باہر اس کا تجزیہ کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ سماج ہی اسے روٹی، کپڑا، مکان، اوزار محنت، زبان، خیالات کی شکلیں اور مواد فراہم کرتا ہے۔ اس کی زندگی ماضی اور حال کے ان کروڑوں انسانوں کی محنت اور ہنر کا نتیجہ ہوتی ہے جو لفظ ”سماج“ کے پیچھے چھپے ہوتے ہیں۔

لہٰذا یہ بات واضح ہے کہ فرد کا سماج پر انحصار ایک فطری حقیقت ہے۔ چیونٹیوں اور شہد کی مکھیوں کے معاملے میں بھی یہ بات درست ہے۔ تاہم جہاں چیونٹیوں اور شہد کی مکھیوں کی زندگی کے تمام عوامل کا تعین موروثی جبلتیں کرتی ہیں وہاں انسانوں کی سماجی ساخت اور باہمی رشتے بہت تغیر پذیر ہوتے ہیں۔ یادداشت، نئے امتزاج تخلیق کرنے کی صلاحیت اور زبان کی نعمت نے انسانوں میں ایسی پیش رفتوں کو ممکن بنایا ہے جس کا تعین حیاتیاتی ضروریات نہیں کرتیں۔ یہ پیشرفتیں اپنا اظہار روایات، اداروں، تنظیموں، ادب، سائنسی ایجادات اور آرٹ میں کرتی ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسان اپنے عمل سے اپنی زندگی پر اثرانداز ہوتا ہے اور اس عمل میں شعوری سوچ بچار اور خواہشات اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

پیدائش کے وقت انسان موروثی طور پہ ایک ایسی حیاتیاتی ساخت حاصل کرتا ہے جسے ہمیں مستقل اور ناقابل تغیر سمجھنا چاہیے۔ اس کے علاوہ اپنی زندگی میں وہ ایک ثقافتی ساخت ´بھی حاصل کرتا ہے جسے وہ سماجی رابطوں اور متعدد دیگر اثرات کے ذریعے اپناتا ہے۔ یہ ثقافتی ساخت ہی ہے جو وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی ہے اور جو بڑی حد فرد اور سماج کے درمیان تعلق کا تعین کرتی ہے۔ قدیم تہذیبوں کے تقابلی تجزیے کے ذریعے جدید علم بشریات (Anthropology) ہمیں سکھاتا ہے کہ انسانوں کے مختلف سماجی رویوں کا انحصار رائج الوقت ثقافتی طور طریقوں اور سماجی تنظیم کی نوعیت پر ہوتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس سے انسانوں کی فلاح کی جدوجہد کرنے والوں کو اپنی امیدیں وابستہ کرنی چاہئے کہ لازم نہیں ہے کہ انسان اپنی حیاتیاتی ساخت کی وجہ سے ایک دوسرے کو تباہ و برباد کریں یا کسی بے رحم مقدر کے رحم و کرم پر رہیں۔

اگر ہم سوال کریں کہ سماجی ڈھانچے اور ثقافتی رویوں کو کس طرح تبدیل کیا جائے کہ انسانی زندگی زیادہ سے زیادہ خوشحال ہو تو ہمیں یہ بات ذہن نشین کر نا ہوگی کہ کچھ مخصوص حالات کو ہم تبدیل نہیں کرسکتے۔ جیساکہ انسان کی حیاتیاتی فطرت‘جس کا ذکر پہلے کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پچھلی چند صدیوں کی تکنیکی ترقی اور آبادیوں میں آنے والی تبدیلیوں نے ایسے حالات پیدا کیے ہیں جو اسی طرح قائم رہیں گی۔ نسبتاً گنجان آباد سماجوں میں انتہائی تقسیم محنت اور مرکزیت پر مبنی پیداواری ڈھانچے ناگزیر ہیں۔

پرانا وقت، جب پر امن دیہی ماحول ہوا کرتا تھا، اب ہمیشہ کے لیے گزر چکا ہے۔ جب افراد یا نسبتاً چھوٹے گروہ مکمل طور پر خود کفیل ہوتے تھے۔ یہ کہنا بہت تھوڑی مبالغہ آرائی ہوگی کہ نسل انسان پیداوار اور کھپت کے ایک سیاروی (Planetary) گروہ میں تبدیل ہوچکی ہے۔

اب میں اس نکتے پر پہنچ چکا ہوں جہاں مختصراً آج کے عہد کے بحران کی اساس پہ بات کروں گا۔ یہ فرد کے سماج سے رشتے سے متعلقہ ہے۔ فرد سماج پر اپنے انحصار کے بارے میں پہلے سے زیادہ باشعور ہوچکا ہے۔ لیکن وہ اس انحصار کو ایک مثبت اثاثے، ایک نامیاتی رشتے اور ایک محافظ قوت کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ اپنے فطری حقوق اور یہاں تک کہ معاشی وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی خود پسندی کے رجحانات میں مسلسل اضافہ جبکہ سماجی رجحانات (جو فطرتاً کمزور ہیں) میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ تمام انسان، چاہے سماج میں ان کا جو بھی مقام ہو، تنزلی کے اس عمل سے گزر رہے ہیں۔ نہ جانتے ہوئے وہ اپنی انا کے قیدی ہیں۔ وہ عدم تحفظ اور تنہائی کا شکار ہیں اور زندگی کی سادہ خوشیوں سے محروم ہیں۔ انسان اپنی مختصر اور پرخطر زندگی کو سماج کے لیے وقف کرکے ہی اس میں کوئی معنی پیدا کرسکتا ہے۔

میرے خیال میں سرمایہ دارانہ سماج کی معاشی افراتفری ہی تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ ہمارے سامنے پیداوار کرنے والوں کی ایک ایسی وسیع کمیونٹی ہے جس کے اراکین مسلسل ایک دوسرے کو اجتماعی محنت کے پھل سے محروم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ زور زبردستی سے نہیں بلکہ قانونی طور پہ رائج ضابطوں پہ ایمانداری سے عمل کرکے۔ اس حوالے سے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ذرائع پیداوار یعنی تمام پیداواری صلاحیتیں قانونی طور پہ چند افراد کی نجی ملکیت ہیں۔

بات کو سادہ کرنے کی نیت سے آگے ہونے والی بحث میں ”محنت کشوں“ سے میری مراد وہ لوگ ہوں گے جو ذرائع پیداوار کی ملکیت میں حصہ دار نہیں ہیں۔ ذرائع پیداوار کا مالک یہ استطاعت رکھتا ہے کہ مزدور کی قوت محنت خریدے۔ ذرائع پیداوار پر کام کرکے مزدور نئی اشیا پیدا کرتا ہے جو سرمایہ دار کی ملکیت بن جاتی ہیں۔ اس عمل کی بنیادی خاصیت مزدور کی پیداوار اور اس کی اجرت کے درمیان تعلق ہے۔ چونکہ لیبر کنٹریکٹ ”آزادانہ“ بنیادوں پر ہوا ہے لہٰذا مزدور کو ملنے والی اجرت کا تعین اس کی پیدا کی ہوئی جنس کی حقیقی قدر سے نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ اس کی کم سے کم ضروریات اور قوت محنت کی طلب کے مقابلے میں رسد سے ہوتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تھیوری میں بھی مزدوروں کو ملنے والی اجرت کا تعین اس کی پیداوار کی قدر سے نہیں ہوتا۔

نجی سرمایہ کم سے کم ہاتھوں میں مرتکز ہونے کا رجحان رکھتا ہے۔ ایسا ایک تو سرمایہ داروں میں مقابلہ بازی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دوسرا ٹیکنالوجی کی ترقی اور بڑھتی ہوئی تقسیم محنت کی وجہ سے چھوٹے پیداواری یونٹوں کی جگہ بڑے پیداواری یونٹ لے لیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں چند سرمایہ داروں کی آمریت وجود میں آجاتی ہے جس کی دیوہیکل طاقت کے سامنے جمہوری طور پر منظم سیاسی سماج ٹک نہیں سکتے۔ یہ ایک حقیقت ہے کیونکہ قانون ساز اداروں کے اراکین کو سیاسی پارٹیاں چنتی ہیں، جن کی فنانسنگ زیادہ تر نجی سرمایہ دار کرتے ہیں اور یہ سرمایہ دار اپنے مقاصد کے حصول کے لیے رائے دہندگان کو مقننہ سے الگ کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً عوامی نمائندے سماج کے محروم طبقات کے مفادات کی حفاظت نہیں کرسکتے۔ اس کے علاوہ موجودہ دور میں نجی سرمایہ دار ناگزیر طور پہ معلومات کے ذرائع (ذرائع ابلاغ، ریڈیو، تعلیم) کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ بہت مشکل اور بعض اوقات ناممکن ہوتا ہے کہ کوئی فرد معروضی نتائج اخذ کرکے اپنے سیاسی حقوق کا دانشمندانہ استعمال کرسکے۔

سرمائے کی نجی ملکیت کی بنیاد پر قائم معیشت کے دو اہم اصول ہوتے ہےں: پہلا یہ کہ ذرائع پیداوار کی ملکیت نجی ہوتی ہے اور مالک اپنی مرضی سے اس کا استعمال کرتا ہے۔ دوسرا یہ کہ لیبر کنٹریکٹ آزادانہ ہوتا ہے۔ یہ درست ہے کہ خالص سرمایہ دارانہ سماج نامی کوئی شے وجود نہیں رکھتی۔ بالخصوص یہ بات قابل غور ہے کہ مزدوروں نے سخت اور طویل سیاسی جدوجہد کے بعد مخصوص شعبوں میں ”آزادانہ لیبر کنٹریکٹ“ کی بہتر شکل حاصل کی ہے۔ لیکن بحیثیت مجموعی موجودہ معیشت ”خالص“ سرمایہ داری سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔

پیداوار استعمال کے لیے نہیں بلکہ منافع کے لیے کی جاتی ہے۔ ایسی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ تمام قابل اور کام کی خواہش رکھنے والوں کو ہمیشہ روزگار ملے گا۔ تقریباً ہر وقت ”بیروزگاروں کی فوج“ موجود ہوتی ہے۔ مزدور کو ہمیشہ اپنی نوکری کھونے کا خدشہ رہتا ہے۔ چونکہ بیروزگار اور کم اجرت کے حامل مزدور کوئی منافع بخش منڈی تشکیل نہیں دیتے اس لیے استعمال کی اشیا کی پیداوار کو محدود کیا جاتا ہے جس کا نتیجہ بے شمار مصائب کی صورت میں نکلتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی سے سب کے کام میں آسانی کی بجائے اکثر بیروزگاری بڑھتی ہے۔ منافع کی ہوس اور سرمایہ داروں کے بیچ مقابلہ بازی سرمائے کے اجتماع اور استعمال میں عدم استحکام پیدا کرتی ہے جس سے شدید کساد بازاری جنم لیتی ہے۔ بے لگام مقابلہ بازی محنت کے وسیع زیاں کو جنم دیتی ہے اور افراد کے سماجی شعور، جس کا ذکر میں نے پیچھے کیا ہے، کو مفلوج کر دیتی ہے۔ افراد کے شعور کو اپاہچ کرنا سرمایہ داری کی سب سے بڑی لعنت ہے۔ ہمارا سارا تعلیمی نظام اس لعنت کا شکار ہے۔ طلبہ میں بے تحاشہ مقابلہ بازی کی سوچ ڈالی جاتی ہے اور مستقبل کے کیریئر کی تیاری کے دوران پیسے اور دولت کی پوجا کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔

مجھے اب یقین ہوچکا ہے کہ ان برائیوں کو صرف ایک ہی طریقے یعنی سوشلسٹ معیشت تعمیر کرکے ختم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسا تعلیمی نظام ہو جس کا مقصد سماجی فلاح ہو۔ اس طرح کی معیشت میں ذرائع پیداوار سارے سماج کی ملکیت میں ہوتے ہےں اور انہیں منصوبہ بندی کے تحت استعمال کیا جاتا ہے۔

ایک منصوبہ بند معیشت، جس میں پیداوار کو عوام کی ضروریات سے منسلک کیا جاتا ہے، کام کو کام کرنے کے قابل تمام لوگوں میں تقسیم کرے گی۔ ہر مرد، عورت اور بچے کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کی ضمانت دے گی۔ تعلیمی نظام فرد کی ذاتی قابلیتوں کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ ساتھی انسانوں کا احساس ذمہ داری پیدا کرے گا۔ آج کی طرح چڑھتے سورج کی پوجا نہیں سکھائی جائے گی۔

تاہم یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ صرف منصوبہ بند معیشت سوشلزم نہیں ہے۔ محض منصوبہ بند معیشت میں فرد غلام بن جاتا ہے۔ سوشلزم کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ چند انتہائی مشکل سماجی و سیاسی مسائل کو حل کیا جائے۔ سیاسی اور معاشی طاقت کی مرکزیت، جو بہت اہمیت کی حامل ہے، کے ہوتے ہوئے بیوروکریسی کو تمام طاقت اپنے ہاتھوں میں مرکوز کر لینے سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟ فرد کے حقوق کو کس طرح محفوظ بنایا جاسکتا ہے اور اس کے ساتھ بیوروکریسی کی طاقت کے سامنے کس طرح ایک جمہوری طاقت کھڑی کی جا سکتی ہے؟

ہمارے عبوری عہد میں سوشلزم کے مقاصد اور مسائل کی صراحت (Clarity) انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ چونکہ موجودہ حالات میں ان مسائل پر آزادانہ بحث ایک گناہ کبیرہ بنا دی گئی ہے لہٰذا میں اس جریدے کے قیام کو مفادِ عامہ کا اہم کام سمجھتا ہوں۔