ٹیڈ گرانٹ

ٹیڈ گرانٹ کی کتاب ”روس: انقلاب سے رد انقلاب تک“ سے اقتباس

ٹراٹسکی لکھتا ہے ”نہ صرف مغربی بلکہ مشرقی سرحدوں پر بھی روس میں قومی جبر ہمسایہ ریاستوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید تھا۔ حقوق سے محروم قومیتوں کی بہت بڑی تعداد اور ان کی محرومیوں کی شدت نے زار شاہی روس میں قومیتوں کے سوال کو ایک زبردست دھماکہ خیز قوت بنا دیا تھا۔“

زار شاہی روس قومیتوں کاقید خانہ تھا۔ بالشویک انقلاب کی کامیابی کی کلیدی وجوہات میں سے ایک اس کا قومی سوال کے بارے میں نقطہ نظر تھا۔ لینن کو احساس تھا کہ ایک نئی سوشلسٹ فیڈریشن کی تعمیر کا واحد طریقہ یہ تھا کہ اس کی بنیاد روس میں موجود قومی اقلیتوں کی مکمل برابری پر رکھی جائے۔ ایک قوم پر دوسری قوم کا جبر نہیں ہوناچاہیے تھا۔ ایک سوشلسٹ ریپبلک صرف ایک رضا کارانہ بنیاد پر قائم ہو سکتی تھی، یعنی قومیتوں کے رضاکارانہ اتحادکے طور پراس کے نتیجے میں پارٹی اور نوخیز سوویت ریپبلک قوموں کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کرتی تھی جس میں علیحدگی کا حق بھی شامل تھا۔

لینن سابق زار شاہی سلطنت میں شامل اقوام کے اتحاد کے حق میں تھا مگر اس کا ایک رضاکارانہ اتحاد ہونا ضروری تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے شروع ہی سے حق خودارادیت پر اصرار کیا۔ اس تصور کی عام طور پر غلط تشریح کی جاتی ہے یعنی یہ کہ اس کا مطلب علیحدگی کا مطالبہ ہے۔ بالشویک علیحدگی کی وکالت نہیں کرتے تھے لیکن قومی حقِ خود ارادیت کی ہر ممکنہ وسعت کا دفاع کرتے تھے جس میں علیحدگی کا حق بھی شامل تھا۔ کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی قوم کو ایک ریاست کی حدود میں رہنے پر مجبور کرے جبکہ اکثریت ایسا نہ چاہتی ہو۔ لیکن حق خود ارادیت کا مطلب علیحدگی کا مطالبہ نہیں ہے جیسے طلاق کے حق کا مطلب یہ نہیں کہ تمام جوڑے طلاق حاصل کر لیں یا جیسے اسقاط حمل کے حق کا مطلب یہ نہیں کہ تمام حمل لازمی طور پر گرادئیے جائیں۔ جیسا کہ ٹراٹسکی ”انقلابِ روس کی تاریخ“ میں وضاحت کرتا ہے:

”اس میں بالشویک پارٹی نے کسی طور بھی علیحدگی کی تبلیغ نہیں کی۔ اس نے محض قومی جبر کی ہر شکل کے خلاف، جس میں کسی بھی قومیت کو ریاست کی حدود کے اندر جبراً محبوس رکھنا بھی شامل ہے، شدید جدوجہد کے اصول کو اپنایا۔ صرف اسی طریقے سے روسی پرولتاریہ بتدریج جبر کی شکار قومیتوں کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے۔“

اس کے برعکس بالشویک بورژوا قوم پرستی کے سخت ترین مخالف تھے جو مزدورطبقے کو تقسیم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ بالشویک ایک تنظیم میں تمام مزدوروں کے اتحاد کے حامی تھے چاہے ان کی قومیت، نسل یا مذہب کچھ بھی ہو۔ ”ایک انقلابی تنظیم مستقبل کی ریاست کا اولین ڈھانچہ نہیں بلکہ محض اس کی تخلیق کا آلہ ہوتی ہے۔ آلہ اس قسم کا ہونا چاہیے کہ مطلوبہ چیز تیار کر سکے، اس میں بذات خود وہ چیز شامل نہیں ہونی چاہیے۔“

ٹراٹسکی نے اپنی کتاب ”سٹالن“ میں وضاحت کی کہ ”انسانیت کو مختلف قومیتوں پر مبنی ٹکڑوں میں تقسیم کرنا کبھی بھی ہمارا مقصد نہیں رہا۔ درست ہے کہ جبر کے خلاف حتمی اور موثر ترین ضمانت کے طور پربالشوازم اس بات پر اصرار کرتا تھا کہ ہر قوم کو علیحدگی کا حق حاصل ہونا چاہیے جو حق ہو نہ کہ فرض۔ لیکن انفرادی قومی خصوصیات کو مصنوعی طور پر محفوظ کرنے کا خیال بالشوازم کے لیے بالکل اجنبی تھا۔ یہاں تک کہ کسی ڈھکے چھپے، نفیس ترین اور غیر محسوس طور پرکیے جانے والے قومی جبر یا ذلت کو بھی لازمی طور پر مختلف قومیتوں کے مزدوروں کے انقلابی اتحاد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے نہ کہ انہیں تقسیم کرنے کے لیے۔ جہاں قومی مراعات اور زخم موجود ہیں قوموں کے پاس ایک دوسرے سے علیحدہ ہونے کا امکان موجود ہونا ضروری ہے تاکہ اس طرح قوموں کی قریبی مفاہمت کے نام پر مزدوروں کے آزادانہ اتحاد میں آسانی پیدا ہو سکے اور مستقبل بعید میں سبھی کے باہم ضم ہونے کا امکان پیدا ہو سکے۔ یہ بالشوازم کا بنیادی رجحان تھا جس نے پوری قوت کے ساتھ اکتوبر انقلاب میں اپنا اظہار کیا۔“ یہ ایک جدلیاتی تصور تھا جو قومی سوال کے حل کی بنیاد فراہم کر سکتا تھا۔

قومیتوں کے مسائل بورژوا جمہوری انقلاب کی باقیات تھے۔ سرمایہ داری نے اپنے زوال کے دوران ان مسائل کو مزید بگاڑ دیا۔ صرف سوشلسٹ انقلا ب ہی انہیں حل کر کے قوموں کی حقیقی مساوات مہیا کر سکتا تھا۔ جب بالشویک اقتدار میں آئے تو پرانی زارشاہی سلطنت تیز رفتار ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے گزر رہی تھی۔ لینن کے الفاظ میں سوویت ریپبلک طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ رضاکارانہ مفاہمت کے ذریعے ہی قوموں کے اتحاد کی تعمیر نو کر سکتی تھی۔ اس کا مطلب ماضی کی عظیم روسی قوم پرستی سے مکمل طور پر ناطہ توڑنا تھا۔ قومی حقِ خودارادیت کے بالشویک نظرئیے کا اطلاق پہلی بار جنگ کے ٹھوس حالات میں کیا گیا جب سوویتوں نے ”غاصبانہ قبضوں کے بغیر“ امن کے قیام کی اپیل کی۔ سماجی آزادی اور حق خود ارادیت بنیادی اہمیت اختیار کر گئے۔

حق خود ارادیت لینن کے پروگرام کا ایک اہم جزو تھا۔ یہ پولینڈ، جارجیا، لٹویااور یوکرائن کے مزدوروں اور بالخصوص کسانوں پر واضح طور پر ثابت کرتا تھاکہ روسی مزدوروں کو ان پر جبر کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں اور وہ ان کے اس حق کا سختی سے دفاع کریں گے کہ وہ اپنی قسمتوں کے فیصلے خود کریں۔ لیکن یہ قومی سوال پر لینن کے پروگرام کا محض نصف جزو تھا۔ دوسرا حصہ بھی اتنا ہی اہم تھا یعنی پرولتاریہ کے اتحاد کو تمام قومی، لسانی یا مذہبی امتیازات سے بالاتر رکھنا۔ جہاں تک بالشویک پارٹی کا تعلق تھا لینن نے ہمیشہ ایسے رجحانات کی مخالفت کی جو پارٹی (اور مزدور تحریک) کو قومی خطوط پر تقسیم کرتے ہیں۔

انقلاب کے بعد لینن کو امید تھی کہ ایک سوویت فیڈریشن کی شکل میں سابقہ زار شاہی سلطنت کی اقوام کا رضاکارانہ اور برادرانہ اتحاد قائم ہو سکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے اس نے مطالبہ کیاکہ قومیتوں کے ساتھ انتہائی حساس رویہ اختیار کیا جائے۔ عظیم روسی قوم پرستی کی ہر شکل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ انقلاب ِاکتوبر کے کچھ عرصہ بعد تک سرکاری دستاویزات سے لفظ ”روس“ بالکل غائب ہو گیا تھا۔ اکتوبر انقلاب کی سرزمین کا سرکاری نام صرف ”مزدور ریاست“ تھا۔ خانہ جنگی کی فوجی حکمتِ عملی کی ضروریات سے قطع نظر بالشویکوں نے حق خودارادیت کا بلا امتیازاطلاق کیا۔ 1918ء میں انہوں نے فن لینڈ اور پولینڈ کی علیحدگی کو تسلیم کیا۔ 1918ء میں ہی اسٹونیا، لٹویا اور لیتھونیاکی آزاد سوویت ریپبلکوں کو تسلیم کیا گیامگر برطانیہ کی مددسے ان کا تختہ الٹے جانے کے بعد 1920ء میں انہیں خودمختار بورژوا جمہوریاوں کے طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ جارجیا کو  1920ء میں ایک بورژوا جمہوریہ اور 1921ء میں ایک سوویت جمہوریہ کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اس اصول کی خلاف ورزی صرف اس وقت کی گئی جب سوویت نظام کی اپنی بقا خطرے میں پڑ گئی۔ جیسا کہ ٹراٹسکی نے وضاحت کی ہے کہ ”برسٹ لٹووسک کے معاہدوں میں سوویت حکومت نے مزدور ریاست کو بچانے کی غرض سے یوکرائن کی قومی آزادی کو قربان کر دیا۔ کوئی بھی شخص یوکرائن کے ساتھ غداری کی بات نہیں کر سکتا تھا کیونکہ طبقاتی شعوررکھنے والے تمام مزدور اس قربانی کی مجبوری کو سمجھتے تھے۔“ 1919ء اور پھر 1920ء میںیوکرائن کے اندر سوویت مداخلت‘ ایک ایسی حکومت کے خلاف خود حفاظتی کا اقدام تھا جو بیرونی مداخلت کا باعث بنی تھی۔ زیریں والگا، وسطی ایشیا اور جارجیا کے سلسلے میں بھی یہ بات درست تھی۔

سفید افواج کی شکست اور اس کے بعد برطانوی، جاپانی اور فرانسیسی افواج کے اخراج کے بعد آر ایس ایف ایس آر کے اندر بہت سی خود مختار جمہوریائیں اور علاقے قائم ہوئے۔ آزادی یا خود مختاری کے اصول کو تمام سابقہ روسی سلطنت تک وسعت دے دی گئی تھی۔ آر ایس ایف ایس آر ایک ڈھیلے ڈھالے اتحاد پر مشتمل تھی۔ فیڈریشن یوکرائن، بیلا روس، جارجیا، آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان باہمی معاہدوں کی بنیاد پر قائم تھی۔ 1922ء میں قومیتوں کے کمیسار کی حیثیت سے سٹالن جمہوریاوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کا ذمہ دار تھا۔ بالآخر 30 دسمبر 1922ء کو یہ فیڈریشن ارتقا پا کر سوویت یونین بن گئی جس کے شرکا کی حیثیت مساوی تھی۔ خارجہ تعلقات، دفاع، بیرونی تجارت، مواصلات اور ڈاک وتار سوویت یونین کی مرکزی حکومت کی ذمہ داری تھے۔ اعلان کے مطابق، بالآخر سوویت اقتدار کے ڈھانچے نے جو اپنی نوعیت کے حو الے سے بین الاقوامی ہے سوویت جمہوریاوں کے محنت کش عوام کو واحد سوشلسٹ خاندان کے اتحاد کی راہ پر ڈال دیا۔

”ان تمام حالات کا تقاضا ہے کہ سوویت جمہوریاوں کے اتحاد سے ایک متحدہ ریاست بنائی جائے جو بیرونی تحفظ، داخلی معاشی ترقی اور قوموں کے لئے قومی ترقی کی آزادی کی ضمانت فراہم کرنے کی اہل ہو۔“

تاہم نوکر شاہانہ مرکزیت پر مبنی نظام، سٹالن ازم، اقلیتی قومیتوں کی خواہشات سے متصادم ہو گیا۔ 1922ء میں ہی اقلیتی قوموں کے ساتھ سٹالن کے آمرانہ طرز عمل کے باعث اس کا لینن کے ساتھ ٹکراو ہو گیا تھا۔ فیڈریشن کے منصوبوں کے سلسلے میں جارجیا کے بالشویکوں کی مخالفت کو سٹالن کچلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ستمبر 1922ء میں لینن نے پولٹ بیوروکو سٹالن کے رویے کے بارے تحریرکیا جو آر ایس ایف ایس آرکے ساتھ اس جمہوریہ کے تعلقات کے لئے ذمہ دار تھاکہ ”میرے خیال میں یہ سوال انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سٹالن بہت جلدی میں دکھائی دیتاہے۔“ ایک ہفتے بعد لینن نے کامینیف کو لکھا کہ ”میں عظیم روسی شاونزم کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہوں جو مرتے دم تک جاری رہے گی۔“ اگلے ماہ اس نے لکھا ”میں سمجھتا ہوں کہ سٹالن کی جلد بازی اور خالصتاً انتظامی رجحان نے بدنام زمانہ قومیتی سوشلزم کے لئے اس کی کینہ پروری کے ساتھ مل کر اس سلسلے میں ایک تباہ کن کردار ادا کیا ہے۔ کینہ پروری عام طور پر سیاست میں گھٹیا ترین کردار ادا کرتی ہے۔“

سٹالن کے خلاف ایک اور شدید حملہ کرتے ہوئے لینن نے انتباہ کیا ”حقیقی روسی آدمی، عظیم روسی شاونسٹ، بدمعاش اور غاصب، جیسا کہ ایک روسی بیوروکریٹ ہوتا ہے۔“ اس نے مزید کہا ”اس میں کوئی شک نہیں کہ سوویت مزدوروں کی چھوٹی سی تعداد عظیم روسی شاونزم کی غلاظت کی لہر میں یوں ڈوب جائے گی جیسے دودھ میں ”مکھی“ اس کے بعد وہ آخر میں لکھتا ہے ”اور بے شک اس عظیم روسی قوم پرستی کی مہم کی سیاسی ذمہ داری یقیناً ”سٹالن اور ڈزرزنسکی پر عائد ہوتی ہے۔“ لینن کو دل کے دو دورے پڑچکے تھے اور اسے احساس تھا کہ وہ کسی بھی لمحے مر سکتا ہے۔ اپنی بیماری کے دوران اس نے اصرار کر کے ٹراٹسکی کے لئے کرپسکایا (لینن کی بیوی) سے خط لکھوایا جس میں اسے سنٹرل کمیٹی میں خارجہ تجارت کی اجارہ داری پر ہونے والی بحث میں ”ایک بھی گھونسا چلائے بغیر“ کامیابی حاصل کرنے پر مبارکباد دی گئی تھی۔ سٹالن کو اس کی بھنک پڑ گئی اور اس نے ٹیلی فون پر (کرپسکایا) کو گالیاں دیں جو ایک ایسا رویہ ہے جسے کسی بالشویک لیڈر سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔

اگلے روز یعنی 23 دسمبر 1922ء کو کرپسکایانے پریشانی کے عالم میں کامینیف کو لکھا ”کل سٹالن نے مجھے بدترین گالیوں کا نشانہ بنایا جس کی وجہ وہ مختصر سا نوٹ تھا جو لینن نے مجھے سے ڈاکٹروں کی اجازت سے لکھوایا تھا۔ میں نے پارٹی میں کل ہی شرکت نہیں کی ہے۔ پچھلے تیس سالوں کے تمام تر عرصے میں، میں نے کبھی بھی کسی کامریڈ کے منہ سے بدتمیزی کا ایک لفظ نہیں سنا۔ پارٹی اور ایلچ (لینن) کے مفادات مجھے سٹالن سے کم عزیز نہیں ہیں۔ اس وقت مجھے خود پر قابو پانے کے لئے بڑی ہمت کی ضرورت ہے۔“

کرپسکایا کہتی ہے کہ اسے ”نجی زندگی میں بے جامداخلت، گالی گلوچ اور دھمکیوں سے بچایا جائے۔“ 30 دسمبر 1922ء کو لینن لکھتا ہے ”اگر معاملات یہاں تک پہنچ چکے ہیں تو ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم کس قدر مشکل میں گھر چکے ہیں۔“ اس نے ٹراٹسکی کے ساتھ خطوط کا تبادلہ کیا اور اپنے مشترکہ مقصد کے دفاع کی ذمہ داری اس کے کاندھوں پر ڈالی۔ 5 مارچ کو اس نے ٹراٹسکی کو لکھا کہ وہ سٹالن کے خلاف جارجیا والوں کے کیس کے دفاع کی ذمہ داری قبول کرے۔ اپنی وصیت میں اس نے سٹالن کو سیکرٹری جنرل کے عہدے سے ہٹائے جانے کے لئے کہا۔ وصیت لکھوانے کے لئے اسے ہر روز زبردست کوشش اور مشقت کرنا پڑتی تھی۔ یہ لینن کا آخری سیاسی فعل تھا۔

قومی سوال بہت حساسیت کا متقاضی ہوتا ہے۔ نوکر شاہانہ دھونس کا ایسے طرز عمل سے کوئی واسطہ نہیں۔ ٹراٹسکی وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے:

”قوموں کے جن ثقافتی مطالبات کو انقلاب نے ابھارا ہے ان کے لئے ہر ممکنہ خود مختاری درکار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صنعت صرف اس وقت ترقی کر سکتی ہے جب یونین کے تمام حصوں پر ایک مرکزی منصوبہ لاگو کیا جائے۔ لیکن معیشت اور ثقافت کے درمیان ناقابل عبور دیواریں موجود نہیں ہیں۔ فطری بات ہے کہ وقتاً فوقتاً ثقافتی خود مختاری کے رجحانات اور معاشی مرکزیت میں تصادم بھی ہوتا ہے۔ تاہم ان کا تضاد ناقابل مصالحت ہر گز نہیں ہے۔“

”اگرچہ مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ کارگر ثابت ہونے والا کوئی بنا بنایا فارمولا نہیں ہو سکتا لیکن بذات خود دلچسپی رکھنے والے عوام کی مضبوط قوت ارادی ضرور موجود ہوتی ہے۔ صرف ہر نئے مرحلے پر اپنے مقدر کے فیصلے میں حقیقی شرکت کے ذریعے ہی معاشی مرکزیت کے جائز تقاضوں اور قومی ثقافت کی زندہ کشش کے درمیان ضروری خط ِتقسیم کھینچا جا سکتا ہے۔ تاہم مشکل یہ ہے کہ سوویت یونین کی قسم قسم کی قومیتوں میں منقسم روسی عوام کی مرضی کی جگہ اب ایک ایسی بیوروکریسی کی مرضی نے لے لی ہے جو معیشت اور ثقافت دونوں کو انتظامی سہولت اور حکمران پرت کے مخصوص مفادات کے نقطہ نظر سے دیکھتی ہے۔“

انقلاب نے قومی تفاخر بیدار کرنے کے سلسلے میں انتہائی ترقی پسندانہ کردار ادا کیا۔ زار شاہی کے خاتمے کے بعد جس نے سلطنت کی قومیتوں کو غلام بنا رکھا تھا قومی آزادی کے فروغ اور ثقافت کی تقویت کے لئے راہ ہموار ہو گئی۔ سوویت یونین میں بولی جانے والی اکثرزبانوں کے حروف ابجد تبدیل کردیئے گئے یا ایجاد کیے گئے جب کہ پہلے ان زبانوں کے لئے یا تو کوئی رسم الخط موجود ہی نہیں تھا یاطبقہ امرا کے لیے مخصوص ایشیائی رسم الخط مستعمل تھا۔ 48 زبانیں پہلی بار تحریری شکل میں سامنے آئیں۔ ان میں وسط ایشیا کی ازبک، ترکمان، کرغیز اور کراکالپک زبانیں شامل تھیں۔ ان کے علاوہ مالدوویا، چیچنیا اور انگوشیا کے سلسلے میں بھی صورت حال یہی تھی۔

بشکیریا کو تاتار زبان سے اخذ کر کے سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا۔ انقلاب کے بعد وسطی ایشیا کو ترکستان کے نام سے یاد کیا جاتا تھا اگرچہ اس علاقے میں اپنی مخصوص زبانیں رکھنے والی الگ الگ قوموں کی تشکیل ہوئی تھی۔ اس کی وجہ سے قومی شعور میں تیز رفتاری سے اضافہ ہوا اور قوموں کے درمیان پہلی بار تحریری رابطہ قائم ہوا۔

مقامی زبانوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے نتیجے میں لاطینی رسم الخط کو فروغ حاصل ہوا۔ اس سے بالخصوص وہ 16 مسلم قومیتں متاثر ہوئیں جو عرب رسم الخط استعمال کرتی تھیں۔ ان میں آزری، ازبک، قازق اور تا تار شامل تھے۔ بریات اور کالمک کے لئے بھی لاطینی رسم الخط استعمال کیا جانے لگا جب کہ اس سے پہلے منگول رسم الخط مستعمل تھا۔ 1933ء تک سوویت اخبارات کی کل تعداد کا 37.5 فیصد غیر روسی زبانوں میں شائع ہوتا تھا۔ 1917ء میں کوکرائنی یا بیلاروسی زبانیں سکھانے کے لئے ایک بھی سکول موجود نہیں تھا لیکن 1927ء تک ان قومیتوں کی نوے فیصد تعداد کو انکی مادری زبانوں میں تعلیم دی جانے لگی۔ دوسری جمہوریاوں کے سلسلے میں بھی یہ بات درست تھی۔ 1935ء تک آر ایس ایف ایس آر میں 80 زبانوں میں ابتدائی تعلیم دی جانے لگی۔ یہ ایک زبردست پیش رفت تھی۔ لیکن ابھی قومی سوال حل نہیں ہوا تھا۔ ماسکو کی نوکر شاہانہ آمریت پر مبنی حکومت آزادی کا معمولی سا اظہار بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ لینن کے ہر اصول کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے پرانے زار شاہی ہتھکنڈے پہلے سے بھی زیادہ شدومد کے ساتھ استعمال ہونے لگے۔

سٹالن ازم کے جرائم

سٹالن انتہائی معمولی ”قوم پرستانہ“ انحراف کو بھی جبراً دبا دیتا تھا۔ جب دوسری جنگِ عظیم اختتام پذیر ہونے کو تھی تو سٹالن نے نازیوں کے ساتھ تعاون کو بہانہ بنا کر پوری پوری قومیتوں کو جلا وطن کر دیا۔ اجتماعی جرم معمول کی بات تھی۔ اہلِ چیچنیا، انگوشیوں اور کریمیا کے تاتاروں کے ساتھ یہی ہوا۔ جیسا کہ خروشیف نے 1956ء میں انکشاف کیا:

”سب سے زیادہ خوفناک حرکات وہ ہیں جن کا آغاز سٹالن نے کیا تھا اور جو سوویت ریاست کی قومیتوں کے بارے میں پالیسی کے بنیادی لینن اسٹ اصولوں کی زبردست خلاف ورزی ہے۔ ہم یہاں بڑے پیمانے پر پوری پوری قومیتوں کی اپنے آبائی علاقوں سے جلاوطنی کا حوالہ دے رہے ہیں جن میں تمام کمیونسٹ اور کامسو مول کے اراکین بھی شامل تھے۔ اس طرح 1943ء کے اواخر میں ہی تمام کراچائیوں کو ان علاقوں سے جلا وطن کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد کر دیا گیا۔

اسی عرصے کے دوران یعنی دسمبر 1943ء میں خود مختار جمہوریہ کا لمک کی تمام آبادی پر بھی یہی مصیبت نازل ہوئی۔ مارچ1944ء میں تمام چیچن اورانگوش لوگوں کو جلاوطن کرنے کے بعد ان کی خودمختار جمہوریہ کو ختم کر دیا گیا۔ اپریل1944ء میں تمام بلکاریوں کو ان کے علاقے کبارڈینو‘بلکار کی خود مختار جمہوریہ سے جلا وطن کر کے دور دراز علاقوں میں منتقل کر دیا گیا اور اس کا نام تبدیل کر کے خود مختار کبارڈین ریپبلک رکھ دیا گیا۔ یوکرائنی محض اس وجہ سے بچ گئے کہ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی اور انہیں جلا وطن کرنے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ بصورت دیگر سٹالن انہیں بھی جلاوطن کر دیتا۔“

جمہوریاوں کے خلاف ان جرائم اور ایسے ہی دیگر اقدامات کی وجہ سے ماسکو حکومت کے خلاف زبردست ناراضگی اور مخالفت کے جذبات پائے جاتے تھے۔ عظیم روسی شاونسٹ عناصر، جن کے خلاف لینن تمام عمر نبردآزما رہا تھا، سٹالن کے دور حکومت میں بے لگام ہو چکے تھے اوران کی حوصلہ افزائی ”باس“ بذات خود کر رہا تھا۔ اگرچہ سٹالن بذاتِ خود جارجیا سے تعلق رکھتا تھا اور روسی صحیح لہجے میں نہیں بول سکتا تھا لیکن وہ روسی شاونزم کا پر جوش حامی تھا۔ چھوٹی قومیتوں کے ان افراد کے سلسلے میں یہ بات ایک اصول کا درجہ رکھتی ہے جو غاصب قوم کی حکومت میں مقتدر حلقے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ نپولین کا تعلق کارسیکا سے تھا لیکن وہ اسی طرح فرانسیسی سامراج اور مرکزیت کا پر جوش پیروکار بن گیا تھا۔ جنگ کے فوراًبعد سٹالن نے مندرجہ ذیل تقریر کی:

”مجھے ایک اور جامِ صحت تجویز کرنے کی اجازت دیجئے۔ میں سوویت عوام کی صحت کا جام پینا چاہتا ہوں اور بالخصوص روسی قوم کی صحت کا جام۔ میں روسی قوم کی صحت کا جام اس لئے پی رہا ہوں کیونکہ سوویت یونین کی تمام اقوام میں یہ ایک نمایاں حصہ ہے۔ میں روسی قوم کا جامِ صحت اس لئے پی رہا ہوں کہ نہ صرف یہ ایک نمایاں قوم ہے بلکہ اس کے عوام انتہائی ذہین، باکردار اور استقامت رکھنے والے ہیں۔“ جب لینن زندہ تھا تو اس قسم کی تقریر کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ عظیم روسی شاونزم کے تمام مظاہرنے زبردست نقصان پہنچایا، اکتوبر انقلاب کے قائم کردہ برادرانہ اتحاد کی روح کو تباہ کیا اور دوسری قومیتوں میں گہری خفگی کو جنم دیا جو خود کو دوسرے درجے کا شہری محسوس کرتی تھیں۔ یہ جذبات اس وقت تک پوشیدہ رہے جب تک سوویت معیشت ترقی کرتی رہی۔ سٹالن ازم کے بحران نے ان دھماکہ خیز احساسات کے سطح پر آنے کی راہ ہموار کی جس کے نتیجے میں سوویت یونین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا۔ قومی سوال پر سٹالن ازم کی پالیسی‘ نظام کے آمرانہ کردار اور ماسکو میں اقتدار کے نوکرشاہانہ ارتکاز کا ناگزیر نتیجہ تھی۔

سٹالن کی موت کے بعد خروشیف نے ماضی کے تمام تر جرائم سٹالن کے سر منڈھنے کی کوشش کی۔ اگرچہ سٹالن ازم کی بدترین خصوصیات کے خاتمے کے لئے اصلاحات نافذ کی گئیں لیکن قومیتوں پر جبر بدستور موجود رہا اگرچہ اس کی شدت قدرے کم تھی۔ اس کا واضح ترین اظہار حکومت کی صیہونیت دشمنی کے نقاب میں چھپی ہوئی سام دشمنی سے ہوتا تھا۔

(سٹالن ازم کے تمام تر جرائم کے باوجود) تجربے نے ثابت کیا ہے کہ سوویت یونین کی ٹوٹ پھوٹ تمام قومیتوں کے لئے تباہی کا پیغام لائی ہے کیونکہ تمام جمہوریاوں کی معیشتیں آپس میں جڑی ہوئی تھیں۔ یہ صورت حال زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکتی۔ جلد یا بدیر ایک نہیں تو دوسرے طریقے سے یہ روس کے ساتھ دوبارہ متحد ہو جائیں گی۔ اگرایسا سرمایہ دارانہ بنیاد پر کیا گیا تو قومی جبر کی شدت میں زبر دست اضافہ ہو جائے گا کیونکہ یہ ایک سامراجی تعلق ہو گا۔ لیکن ”اپنے پیروں پر کھڑے ہونے“کا تجربہ اس قدر تباہ کن ثابت ہوا ہے کہ غالباًیوکرائن کے عوام کی اکثریت بھی بادل ناخواستہ واپس جانے کو ترجیح دے گی۔ صرف مزدور جمہوریت پر مبنی نظام ہی تمام جمہوریاوں کے لیے حقیقی آزادی کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔ ایک آزاد فیڈریشن کی شکل میں، جس کا پیداوار کا ایک مشترکہ منصوبہ ہو اور اس کا کنٹرول مزدور طبقے کے ہاتھ میں ہو، مکمل خود مختاری حاصل ہو اور حق خودارادیت کی ضمانت دی گئی ہو۔