لال خان

آج ملک میں جبر اور مہنگائی کا جو کہرام مچا ہوا ہے اس پہ حکمرانوں اور میڈیا کا جتنا پرفریب شور ہے‘زیادہ تر عوام میں بظاہر اتنی ہی خاموشی ہے۔ اسد عمر کے بقول عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں (اور نکلیں گی)۔ لیکن یہ چیخیں طاقت کے ایوانوں میں سنائی نہیں دیا کرتیں۔


اس نظام کی فکر و دانش کے نزدیک عوام کا کام جبر و استحصال سہنا اور اس ذلت و بربادی کو نسل در نسل برداشت کرتے رہنا ہے۔ چاہے چیخ و پکار کر لیں یا خاموشی سے سہہ لیں۔ ملک میں جس شدت سے طبقاتی، صنفی اور قومی جبر بڑھ رہا ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ عوام پر اِس استحصالی معیشت اور بارود دونوں کی یلغار جاری ہے۔ لیکن حالت یہ ہوچکی ہے کہ غریبوں کا لہو مسلسل چوس کر اور ان کی محنت کو دردناک مشقت بنا کر بھی مطلوبہ مال حاصل نہیں ہو پا رہا۔

ہر آنے والے دن میں ظلم کے نئے ضابطے جاری ہو رہے ہیں۔ جس بے دردی سے عوام پر وار کیے جارہے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان کی حکومت ان سے کوئی پرانا انتقام لے رہی ہے۔ یا پھر اِس حکومت کی آڑ میں انتقام لیا جا رہا ہے؟

بنیادی انفراسٹرکچر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ جو تھوڑا بہت بنا تھا ا س کو بھی ٹوٹنے پھوٹنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ دھوکہ اور فریب آج کے معاشرے کی حاوی اقدار بن چکے ہیں۔ جھوٹ اور بدمعاشی ترقی کے زینوں کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی نظام سماج کو ترقی دینے کی بجائے تنزلی کا باعث بننے لگے تو اس پرصرف وہی حکمران مسلط ہو سکتے ہیں جن کو جھوٹ اور فریب میں مہارت حاصل ہو۔ ایسے بحرانی ادوار میں ہر قسم کی اخلاقی قدروں سے عاری ہونا اقتدار کا بنیادی تقاضا بن جاتا ہے۔ احساس ان صاحب اقتدار لوگوں کے ذہن وضمیر سے غائب ہو جاتا تھا۔ بڑھک بازی اور تضحیک کا شور مچا کے عوام کی آوازوں کو دبانا سب سے بڑی فنکاری بن جاتی ہے۔

میر انیس نے کہا تھا کہ ”ظرف جو خالی ہے صد ا دیتا ہے۔“ اُس دور کے معیاروں سے دیکھا جائے تو کم ظرفی بڑی گالی ہو ا کرتی تھی۔ آج یہ حکمرانوں کے افکار،کردار اور فطرت کی اساس ہے۔

جب بھی حکمرانوں کا اپنے نظام پر اختیار کمزور ہونے لگے‘ وہ زیادہ وحشی ہو جاتے ہیں۔ جنگوں کی طرح ایسے سماجی بحرانوں کا پہلا شکار بھی سچ ہی ہوتا ہے۔ ایسے ادوار میں پھر سچ کو دبانا، چھپانا یا کچلنا ہی اقتدار کا ضامن ہوتا ہے۔

آج کے ٹاک شو بنیادی طور پہ وزارتوں کے آڈیشن بن گئے ہیں۔ میڈیا اس قدر مطیع ہو چکا ہے کہ پروگراموں کی گویا پوری ریہرسل ہوتی ہے۔ ان پروگراموں میں ہلڑ مچا کے، الزامات لگا کے، جھوٹ اور بدزبانی کو نئے روپ دے کے یہ لوگ اپنی ’سی ویز‘ تیار کرتے ہیں۔ جن کے بلبوتے پر ان کو میڈیا میں ترقیاں اور حکومتوں میں اعلیٰ عہدے ملتے ہیں۔ ان بحثوں کا حقائق، معلومات، نقطہ نظر، ذہانت یا منطق سے دور دور کا واسطہ نہیں ہوتا۔

لیکن پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مصنوعی رعونت اور تکبر سے بھرے لوگ جتنے سفاک ہوتے ہیں اس سے زیادہ بزدل بھی ہوتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق درمیانے طبقے کی بالائی پرتوں سے ہے اس لئے زیادہ لالچی اور طاقت کے پجاری ہیں۔ لیون ٹراٹسکی کے بقول یہ ”طبقہ صرف ایک خدا کو مانتا ہے‘ وہ ہے طاقت۔“

یہی وجہ ہے کہ حکمران طبقات اور سرکاری اشرافیہ کے یہ سیاسی و میڈیائی نمائندے تابعداری اور کاسہ لیسی کی حد کر دیتے ہیں۔ ویسے تو طاقت والوں کے نمائندوں کا یہ کردار دنیا کے ہر سرمایہ دارانہ ملک میں پایا جاتا ہے لیکن اِس خطے میں زیادہ بھونڈا اور سفاک ہے۔

یہاں ”ہارس ٹریڈنگ“ کی بہت باتیں ہوتی رہی ہیں۔ لیکن اگر غور کریں تو ہارس ریسنگ زیادہ حاوی ہے۔ سامراجی قوتوں اور مقامی سرمایہ داروں کے ساتھ ساتھ سرکاری طاقت کے سر چشموں کے کارندے بھی ایسے گھوڑوں پر داؤ لگاتے ہیں جو ان کے مفادات کے لیے ہر ذلت آمیز حرکت کر جانے میں باقی سب کو پیچھے چھوڑ جانے کی صلاحیت رکھتا ہو! کرائے کے ان سیاسی و میڈیائی گوریلوں کا نہ کوئی نظریہ ہوتا ہے نہ ضمیر۔ جہاں بہتر دام ملے‘ بک جاتے ہیں۔ ویسے بھی جب دولت، جس کی اکثریت کالے دھن پر مبنی ہو، سیاست اور معاشرت میں اتنی گہری اور بھاری سرایت کر جائے تو نظریات اور اصولوں سے انحراف زیادہ معنی نہیں رکھتا۔

یہ کوئی حادثہ نہیں ہے کہ موجودہ حکومت کے وزرا زیادہ تر ان پارٹیوں سے آئے ہیں جو آج اپوزیشن میں ہیں۔ اصل وزراتیں سامراجیوں اور یہاں کی مقتدر قوتوں نے اپنے پرانے اور آزمودہ ایجنٹوں (”ٹیکنوکریٹس“) کی سلیکشن سے پر کی ہوئی ہیں۔ ایسے سیٹ اپ میں عوام کے مسائل کی آواز اٹھانا تو کجا بنیادی انسانی احساس سے بھی یہ بھاڑے کے کارندے عاری ہیں۔

پہلے تو اس ملک میں دولت کے بغیر انتخابات لڑنا ہی ناممکن ہے۔ جیتنا تو دور کی بات ہے۔ یہ سودا اتنا مہنگا ہوگیا ہے کہ اتنی بھاری رقم کسی جائز طریقے سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس لئے سرکاری طاقت اور دولت والوں کے زور پر منتخب ہو کر ”عوامی نمائندے“ بننے والوں کی کمی نہیں ہے۔ وہ اپنے آقاؤں کے مفادات سے ہٹ کے کچھ سوچ بھی نہیں سکتے۔ ایسے میں ”ووٹ کو عزت دو“ یا ”سویلین سپرمیسی“ کے نعرے محض یوٹوپیائی خواب بن کے رہ جاتے ہیں۔

اگر غلطی سے عوام کا کوئی حقیقی نمائندہ ان ایوانوں میں پہنچ بھی جائے تو پہلے اس کو خریدنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر وہ بکنے سے انکار کردے تو اس پر معاشی و سماجی دباؤ ڈلوایا جاتا ہے۔ پھر بھی ڈٹا رہے تو اسے نشان عبرت بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کام کے لئے چند ٹکوں کے عوض غداری اور ملک دشمنی کے فتوے لگانے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔

یہ سیاست ایک مخصوص معاشی نظام پر قائم ہے۔ اس کے اندر سے اس نظام کے خلاف انقلاب نہیں لایا جاسکتا۔ لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اطاعت سے انکار کرنے والے عوام کی طاقت کے بلبوتے پر انکار کے فرمان بلند کر کے اس ساری پرفریب اور بدعنوان سیاست کو چیر تے ہوئے ابھر آتے ہیں۔

لیکن اس ملک کے کروڑوں محنت کش عوام نے ذلت اور بربادی کے نظام سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہے تو انہیں اپنی سیاست بیدار کرنا ہو گی۔ اپنی تحریکیں برپا کرنا ہوں گی۔ اپنی پارٹی تعمیر کرنا ہو گی جو اِس نظام کی ہر قدر‘ ہر معیار کو مسترد کرتی ہو۔

عوام کی خاموشی خود ایک تنبیہ ہوتی ہے۔ حکمران طبقات کے لئے بھی اور انقلابیوں کے لئے بھی۔ کہ ایسا وقت آنے والا ہے جب یہ عام لوگ خود نہیں چیخیں گے بلکہ حکمرانوں کی چیخیں نکلوا دیں گے۔