بشریٰ

سرمایہ داری کے عالمی بحران میں آج پوری دنیاکا محنت کش طبقہ غرق ہو رہا ہے۔ ٹیکنالوجی، انٹر نیٹ، روبوٹس اور جدید مشینری میں ترقی نے غربت، جہالت، بیماری، بیروزگاری اورمحرومی کا خاتمہ ممکن بنا دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود نجی ملکیت پر قائم یہ نظام محنت کش طبقے کا ایک بھی مسئلہ حل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ مارکس نے واضح کیا تھا کہ سرمایہ داری عالمی نظام کے طور پر ترقی کرے گی لیکن ایک وقت میں یہی نظام ترقی کے پاؤں کی بیڑیاں بن جائے گا اور سماج کو آگے لے جانے کی بجائے پیچھے دھکیلنے کی وجہ بنے گا۔ غلام داری اور جاگیر داری کی نسبت آج سرمایہ داری میں سائنس اور تکنیک کے اندر حیران کن حد تک ترقی کے باوجودمٹھی بھر حکمران طبقے کے علاوہ پوری انسانیت کے لیے جسم و جان کا رشتہ قائم رکھنا نا ممکن ہوتا جا رہا ہے۔ طبقاتی استحصال ہر جگہ یکساں دکھائی دیتا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں ابھرنے والی تحریکوں نے ثابت کیا ہے کہ کس طرح جمہوریت و شخصی آزادی کے شورمیں حکمران طبقے نے محنت کشوں کا جینا اجیرن کر رکھا ہے۔

جہاں سرمایہ داری کے اس بحران نے سارے محنت کش طبقے کو متاثر کیا ہے وہاں اس سماج کے سب سے متاثرہ حصے عورت کی حالت پہلے سے زیادہ بد تر ہوئی ہے۔ اس کے دوہرے تہرے استحصال میں کہیں زیادہ شدت آگئی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کہ جہاں سرمایہ داری کبھی اپنا تاریخی فرائض ادا ہی نہیں کر سکی، میں مسلط کردہ سرمایہ داری نے باقی تمام غلاظتوں کے ساتھ جہالت پر مبنی فرسودہ روایات، استحصال اورطبقاتی تضاد کو کہیں زیادہ کربناک بنا دیاہے۔ ایک جانب کم عمری میں شادی، غیرت کے نام پر قتل، خاندانی جبر ،مذہب کی آڑ میں عورت کو گھر کی چار دیواری میں مقید رکھ کر غلام اور محکوم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے تو دوسری جانب سرمایہ داری کا معاشی جبر اس کو مجبور کر رہا کہ وہ اپنے معاشی مسائل کے حل اور بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے انہی حدود کو توڑ کر فیکٹریوں ، کارخانوں اور کھیتوں میں اپنی قوت محنت کو فروخت کرے۔ پھر عورت کو انتہائی ناموافق حالات کے اندر کام کرنے کے ساتھ ساتھ مردوں کے مقابلے میں کم اجرت دی جاتی ہے۔ آئے روز ہراساں کیے جانے سے لے کے تشدد اور بلیک میلنگ تک بہت سے ایسے وقعات شامل ہیں جن کے خلاف نہ کوئی کاروائی کی جاتی نہ ہی کہیں شنوائی ہوتی ہے۔ اگر کوئی عورت اس ذلت کے خلاف بات کرتی بھی ہے تو اسے سماج کے اندر پہلے سے زیادہ رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان حالات کا سامنا کرنے کے ساتھ کم تنخوا پر کام کرنے کی وجہ پھر روزگار کا عدم تحفظ اور معاشی جبر ہے۔ یہ استحصال نہ صرف پسماندہ ممالک بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ یو بی ایس کی رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں بھی 25 برس کی عورت کو اپنے مرد ساتھی سے 10 فیصد کم اجرت دی جاتی ہے جس میں عمر بڑھنے کے ساتھ مزید کمی ہوتی رہتی ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں خواتین مردوں کے مقابلے میں کم تنخواہ وصول کرنے پر مجبور ہیں اور اس فرق کو ختم کرنے کے لیے 170 برس کا عرصہ درکار ہے۔

پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں صورتحال اس سے بھی زیادہ بھیانک شکل اختیار کر چکی ہے۔ عورت کو کمترسمجھنے کے ساتھ ساتھ اسے ایک با زبان جانور تصور کیا جاتا ہے جس کی اپنی کوئی سوچ، فکر، جذبات، خیالات نہیں ہیں۔ بچپن ہی سے خوف پر مبنی ایسی تربیت دی جاتی ہے کہ عورت ہونے کی وجہ سے اس کے اندر بات کوسمجھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے اور وہ مرد کے مقابلے میں کمزور اور کم عقل ہے اس لیے اس نے سب سے پہلے اپنے باپ، بھائی اور بعد میں خاوند کے حکم کی تعمیل کرنی ہے۔ اس نے پردہ کرنے کے ساتھ ساتھ گھر کی چار دیواری میں رہ کر بچوں کی پرورش کرنی ہے۔ یہی اس کی زندگی ہے۔ اسی محدود دائرے میں رہ کرعورت ایک ایسے مزدور کی طرح محنت کرتے ہوئے زندگی گزارتی ہے جسکی نہ کوئی اجرت ہے اور نہ ہی کوئی انت۔

دوسری جانب نام نہاد لبرل و روشن خیال فکر ہے جس کے نزدیک عورت کے مسائل کا حل صرف گھر کی چار دیواری کو عبور کرنا ، مغربی لباس زیب تن کرنا اور اپنے جسم کی نمائش کرناہے۔ ان کے نزدیک یہی عورت کی آزادی ہے۔ لیکن مغربی عورت کو ایک ماڈل کے طور پر پیش کرنے والے لوگ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ وہاں پر بھی عورت کی حیثیت ایک مشین یا ایک کموڈیٹی سے زیادہ نہیں ہے۔ صرف امریکہ میں ہی دیکھا جائے تو نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک امریکی لڑکی جنسی زیادتی یا ہراسانی کا شکار ہوتی ہے۔ ایک تہائی خواتین تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ ہر سال 13 لاکھ امریکی خواتین جنسی زیادتی کا شکار ہوتی ہیں۔ 2012ء تک افغانستان میں 6488 امریکی فوجی مارے گئے جبکہ اسی دوران 11766 امریکی خواتین کو ان کے موجودہ یا سابقہ پارٹنرز کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ لاکھوں 8 خواتین اپنے شریک حیات کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنی ہیں۔ پاکستان میں جہاں محنت کش طبقے کے لیے زندہ رہنا ہی کسی کارنامے سے کم نہیں وہاں محنت کش طبقے کی عورت کے لیے دیگر مسائل کے ساتھ تعلیم، صحت و صفائی کی سہولیات عدم دستیابی ایک معمول کی بات ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق پرائمری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والی بچیوں کی تعداد ایک تہائی سے بھی کم ہے۔ 59 فیصد لڑکیاں چھٹی جماعت سے پہلے سکول چھوڑ جاتی ہیں۔ لڑکیوں میں تعلیم کی کمی کی وجوہات میں صنفی عدم مساوات ، عورتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات، جنسی زیادتی، غیرت کے نام پر قتل اور کم عمری میں جبری شادی شامل ہیں۔

لیکن ان مسائل کا سامنا بالعموم ہر عورت کو نہیں ہے۔ جہاں سماج کے ہر ادارے‘ ہر شعبے میں ایک واضح طبقاتی تضاد موجود ہے وہا ں خواتین میں بھی طبقاتی تفریق پائی جاتی ہے۔ ان کے مسائل کی نوعیت اور شدت کا تعلق بھی ان کے طبقے سے ہے۔ امیر گھرانوں سے تعلق رکھنے والی خوتین کی کم عمری میں شادی کی شرح 24 فیصد ہے جبکہ غریب گھرانوں میں یہ شرح 63 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ اسی طرح 70 فیصد خوتین کو صحت کے مسائل کا سامنا ہے جو کم و بیش سب کی سب محنت کش طبقات سے تعلق رکھتی ہیں اور وسائل سے محروم ہیں۔ ان اعداد و شمار سے یہ اندازہ لگا نا مشکل نہیں کہ اس طبقاتی نظام میں تمام خواتین کو ایک جیسے مسائل کا سامنا نہیں۔ بڑے بڑے محلات ،عالی شان عمارتوں اور بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومنے والی بیگمات اور بھٹوں، فیکٹریوں، کارخانوں اور کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کے مسائل کسی بھی طرح ایک جیسے نہیں ہو سکتے۔ بلکہ خواتین کی برتری یا کمتری کا تعلق ان کے طبقے سے ہے۔ امیر گھرانوں کی خواتین زیادہ بھیانک انداز میں نہ صرف محنت کش طبقے کی عورت بلکہ مرد کا بھی استحصال اور تضحیک کرتی ہیں۔ وہ کسی بھی صورت اپنے طبقے اور اس کے نظام کے خلاف بغاوت نہیں کرتیں کیونکہ ان کے مفادات اور مراعات اس سے وابستہ ہیں۔ لیکن تاریخ میں جب بھی محنت کش طبقے نے اس نظام کو للکارہ ہے تو اسی بے بس اور پسے ہوئے طبقات کی عورتوں نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔ 1917ء کا عظیم انقلاب جس میں پہلی مرتبہ محنت کش طبقے نے سماج کے تمام وسائل پر اشتراکی کنٹرول حاصل کیا تھا ، کا آغاز ہی خواتین کے عالمی دن پر ٹیکسٹائل کی خواتین کی تحریک سے ہوا تھا۔ انقلاب سے پہلے روس کی خواتین کی حالت آج کی پاکستانی عورت سے زیادہ بدتر تھی۔ وہ زار شاہی کے جبر کے ساتھ ساتھ فرسودہ قسم کی قدامت پسند روایات، مذہبی جبر ، پردے کاتسلط اور گھریلو پابندیوں میں جکڑی ہوئی تھیں۔ لیکن انہی محنت کش عورتوں نے انقلاب کا آغاز کیا اور سپاہیوں کو اس تحریک میں شامل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ سوشلسٹ انقلاب نے ہمیشہ عورت کی آزادی کو ایجنڈے پر رکھا۔ کامریڈ ٹراٹسکی نے کہا کہ جس طرح کسانوں کو غلامی کے شکنجے سے آزاد کروائے بغیر سوویت ریاست تک سفر ممکن نہیں اسی طرح محنت کش خواتین کو رجعتی بندھنوں سے آزاد کروائے بغیر سوشلزم تک سفر ممکن نہیں۔ معاشی وسائل کم ہونے کے باوجود انقلاب کے بعد خواتین کے مسائل کے حل کے لیے بیشتر اقدامات کیے گئے۔ عورت کو قدامت پرستانہ جکڑ بندیوں سے آزاد کروانے کے لئے فرسودہ روایات کا خاتمہ کیا گیا۔ اجتماعی ریستوران اور بچوں کی نگہداشت کے لئے نرسریاں قائم کی گئیں۔ عورت کو مرد کے برابر سماجی و معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی آزادی دی گئی اور اس سلسلے میں قوانین بنائے گئے۔ مرضی کی شادی و طلاق اور اسقاطِ حمل کے حق کو قانونی قرار دیا گیا۔ 70ء کی ہائی میں 98 فیصد نرسیں، 75 فیصد اساتذہ، 95 فیصدلائبریرین اور 75 فیصد پی ایچ ڈی سکالرز عورتوں پر مشتمل تھے۔ انقلاب روس نے یہ ثابت کیا تھا کہ سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی خواتین سمیت تمام محنت کش طبقے کے مسائل کا حل ممکن ہے۔ تاریخ طورپر عورت کی غلامی کا آغاز طبقا تی سماج سے ہوا تھا۔ عورت کی آزادی بھی طبقاتی جدوجہد اور طبقات کے خاتمے سے جڑی ہے۔ سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی محنت کش طبقہ تمام تر فرسودہ روایات، قوانین ،جبر واستحصال اور غلامی و محرومی کا خاتمہ کر کے طبقات سے پاک سماج کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔