اداریہ جدوجہد

تحریک لبیک کے ’’دھرنے‘‘ کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے نے ریاست کی شرانگیز داخلی کیفیت کو پھر سے بے نقاب کیا ہے۔ ریاست کے سب سے مقدم ادارے کے ہاتھوں اسی ریاست کی حرکات کا ’مجرمانہ‘ قرار دیا جانا پاکستان کے سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے سب سے طاقتور اوزاروں کی خستہ حالی کو عیاں کرتا ہے۔ ویسے تو پاکستان میں عدل و انصاف کے کئی نظام بیک وقت چل رہے ہیں۔ ان میں انگریزوں کے مسلط کردہ جو ڈیشل سسٹم سے لے کے شریعت کورٹ تک شامل ہیں۔ لیکن ابھی تک انگریزوں کے قانون کا پلڑا ہی بھاری ہے۔ اسکی بنیادی وجہ یہی ہے کہ باقیوں کی نسبت یہ زیادہ جدید ہے۔ حالانکہ اس کی جدت بھی کئی سو سال پرانی ہو چکی ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ جیسے نسبتاً سنجیدہ جج نے یہ انتہائی ریڈیکل فیصلہ اس نظام کے خلاف نہیں بلکہ اسے ٹھیک کرنے کے لئے دیا ہے۔ یہ فیصلہ شاید اس لئے بھی آیا ہے کہ پچھلے عرصے میں عدلیہ کی ساکھ بری طرح مجروح ہوئی ہے ۔ اسے بحال کرنا اور اس کے مقتدر اداروں کے ہاتھوں اوزار بن جانے کے تاثر کو زائل کرنا مقصود ہے۔ تاہم اس سعی ناکام میں جج صاحب کچھ اتنے آگے چلے گئے کہ انہوں نے ’’حساس اداروں‘‘ کے ایسے کارناموں کو سرعام فاش کر دیا جنہیں جانتی تو ساری خلق ہے لیکن کہنے کی جرات بہت کم لوگوں میں ہے۔ کچھ ہفتے قبل ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنی عدالتی طاقت کو ’ نظام ثقہ‘ کی حکمرانی کی طرز پر استعمال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہر شعبے کا نوٹس لے کے اس ملک کے سبھی ایشوز کو اجاگر تو کر دیا لیکن کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہیں کرسکا۔ تاہم قاضی فائز عیسیٰ ان لبرل اور ’روشن خیال‘ ججوں میں شامل ہوتے ہیں جو اس نظام میں اصلاحات چاہتے ہیں ۔ لیکن جب سارا نظام اور اس کے ڈھانچے اس قدر گل سڑ چکے ہوں کہ درست کرنے کے عمل میں ہی ٹوٹنے لگیں تو کونسی اصلاحات اور کس قسم کی بہتری ممکن ہے؟ اس فیصلے میں طاقتور ترین اداروں پر یہ’الزام‘ عائد کیا گیا ہے کہ وہ ہر ایسا کام کرتے ہیں جس کا نہ تو انہیں ادھیکارہے اور نہ ہی وہ ان کے کرنے کاکام ہے۔ اس میں سیاست اور میڈیا سے لے کے صنعتی و اقتصادی امور میں مداخلت اور نان سٹیٹ ایکٹرز کا استعمال تک شامل ہے۔

موجودہ سیٹ اَپ میں سیاست‘ عدلیہ‘ صحافت‘ کامرس‘ ثقافت اور مذہبیت کو ریاست کے اندر کی ریاست (Deep State) نے بظاہر بالکل قابو کرلیا ہے۔ عمران خان سے بہتر گماشتہ انہیں مل نہیں سکتا تھا۔ بدعنوان اپوزیشن سیاسی پیادوں کی طرح ان کی گرفت میں ہے اور کالے دھن کے ان داتاؤں کا میڈیا ان کی مٹھی میں ہے۔ اس درپردہ تاریک اورزہریلی آمریت میں ہر آواز کو دبا یا ‘ ہر ظلم کو چھپایا اور ہر عوامی مسئلے کو منظر عام سے غائب کیا جا رہا ہے۔ لیکن پھر ایسا کیوں ہے کہ اتنے بھاری، وسیع اور کامل جبر کے باوجود نہ صرف نیچے سے بغاوتوں کے سلسلے کہیں نہ کہیں ابھر رہے ہیں بلکہ اسی ریاست کے سب سے مقدس ادارے کے فیصلے نے انہیں سرعام رسوا کر رہے ہیں؟ تاریخی طور پر پاکستان کے حکمران طبقات کی کمزوری، تاخیرزدگی اور بدعنوانی نے ریاست کے ناخداؤں کو سیاست اورمعیشت میں مداخلت کے مواقع دئیے۔ لیکن یہی ناخدا پھر اسی بدعنوان معیشت اور بالخصوص افغان جہاد کے بعد کالے دھن میں ڈوبتے چلے گئے اور خود ہر طرح کی کرپشن اور جرائم کے گاڈ فادر بن گئے۔ یہ عمل پچھلے 40 سالوں سے اتنی شدت اور گہرائی اختیار کرتا گیا ہے کہ اب نظام کے اداروں سے نظام کے ٹھیک ہونے کاوقت گزر چکا ہے۔ نہ تو کوئی دوررس اور مستحکم معاشی و سماجی ترقی ممکن ہے‘ نہ کوئی حقیقی پارلیمانی جمہوریت یہاں پنپ سکتی ہے اور نہ ہی مروجہ دانش کی ایسی کوئی لہر ابھر سکتی ہے جس سے کم از کم یہ ایک صحت مند بورژوا جمہوری سماج ہی کہلا سکے۔

قاضی فائز عیسیٰ نے غیر جانبداری کے ذریعے اداروں کی درستی کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ غیر جانبداری ایک غیر مساوی اور طبقاتی معاشرے میں دھوکہ اور فریب ہی ہو سکتی ہے۔ لبرل اور سیکولر حلقے قاضی فائز عیسیٰ کو اس لئے ہیرو بنا کر پیش کر رہے ہیں کہ بورژوا جمہوری انقلاب اور ’مرحلہ واریت‘ کی سوچ میں جکڑے ہوئے ہے۔ جن کے خلاف فیصلہ آیا ہے وہ تلملائے تو خوب ہوں گے لیکن پچھلے عرصے میں اتنے ڈھیٹ ہوچکے ہیں کہ ان کے نزدیک کاروبار ہی مقدم ہے۔ جب منافع خوری اور پیسہ جوڑنے کی لت لگ جائے تو غیرت، شجاعت اور وطن پرستی جیسے جذبے، جن پر ماضی میں عسکریت کو فعال اور لڑاکا قوت بنایا جاتا تھا، دم توڑ جاتے ہیں۔ داخلی او رخارجی پالیسیاں مالی مفادات کی تابع ہو جاتی ہیں۔ لیکن اگر یہ عدالتی فیصلہ نہ آتا تو بھی ان میں سے کوئی بھی انکشاف عوام کے لئے حیران کن نہیں تھا۔ اب سوال اس نظام کی درستی اور اصلاح کا نہیں اسے بدلنے کا ہے۔ ’تبدیلی‘ تو پہلے ہی بہت بدنام ہو چکی ہے۔ اب براہِ راست سوشلسٹ انقلاب کا پیام ہی عوام تک پہنچانے کا وقت ہے۔ نوجوان اور محنت کش ان حالات سے سخت بیزار ہیں ۔ بیزاری پسپائی اور تھکاوٹ کو بھی جنم دیتی ہے۔ لیکن زندہ رہنے کے لئے اسے جھٹکنا پڑتا ہے۔ ظاہری طور پر آج یہ لڑائی جتنی مشکل محسوس ہوتی ہے اس کی طوالت اور مدت شاید اتنی ہی مختصر بھی ہوچکی ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ناکامی اور نامرادی کا اعتراف ہے۔ اور جب کسی نظام کے سب سے مقدم ادارے خود اپنی متروکیت تسلیم کرنے لگیں تو اس کے وجود کا ہر جواز مٹ جاتا ہے۔