لال خان

کسی زمانے میں ایک پی ٹی وی ہوا کرتا تھا۔ اب درجنوں ہیں۔ پرنٹ میڈیا میں کبھی کالم اور صفحات خالی بھی چھپ جایا کرتے تھے‘ اب تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ خبروں اور الیکٹرانک میڈیا کی اس یلغار کے یہ معنی قطعاً نہیں ہیں کہ آج کے دور کی صحافت زیادہ شفاف اور اطلاعات زیادہ درست ہوگئی ہیں۔ لیکن حالیہ کچھ عدالتی فیصلوں اور نئی طرز کی تفتیشی ٹیموں کی رپورٹوں کے بعد کچھ ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ 72 سال بعد اب پہلی مرتبہ پاکستان سے ’کرپشن کا خاتمہ‘ ہونے کو ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ٹیکنالوجی اور جدید طریقوں کی تفتیش کے ذریعے انسانی ذہانت، صلاحیت، امانت اور دیانت کے معیار بھی بلند ہوئے ہوں۔ مالیاتی سرمائے کی معاشرے میں گردش اور مختلف پیشوں میں کام کرنے والوں کی زندگیوں میں اسکی مداخلت سے ہوس اور لالچ میں بھی شدید اضافہ ہوا ہے۔ اس لئے عدل، انصاف، اطلاعات و نشریات، تجزیہ نگاری اور سیاسی پرکھ میں حق اور سچ کی اٹھان کی بجائے تنزلی کے آثار زیادہ نظر آتے ہیں۔ لیکن پھر اس جنگلی نظام کے بنیادی اصول ’’Survival of the Fittest‘‘ کی تگ و دو میں ہر کوئی اپنی بقا، آسودگی اور ترقی کے لئے اسی پلڑے میں گررہا ہے جہاں طاقت اور دولت کا جھکاؤ ہے۔ یہی اس نظام میں ’’Fittest‘‘ کی تعریف ہے۔ اس لئے جو ایک’’سچ‘‘مینوفیکچر کرلیا گیا ہے اسی کا بول بالا ہے۔ محروم اور محکوم عوام کو یہ سندیسہ دے دیا گیا ہے کہ اب بدعنوانی کا خاتمہ ہمارے سامنے ہے اور عنقریب انکی تمام ذلتوں اور بربادیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔

ایک نظام کے جرائم اور اسکی موضوعی بیماری کو چند افراد تک محدود کرکے پورے نظام کے کالی کرتوتوں اور بدعنوانی کے عادی اسکے جسم کو پاک اور شفاف بنا کر پھر سے نئے حکمرانوں کی سرپرستی میں زیادہ جبر سے مسلط کرنے کا عمل جاری ہے۔ اس ملک کے نظام کے بنیادی سماجی او ر اقتصادی ڈھانچے، اسکی ساکھ اور کردار سرمایہ داری پر مبنی ہیں۔ اس دولت کی اکثریتی ملکیت ایک مخصوص اقلیتی طبقے کے پاس ہے۔ اس طبقے میں سرمایہ دار، جاگیردار، کالے دھن کے ان داتا، ریاست کے بھگوان اور سامراجیوں کے گماشتے شامل ہیں۔ محنت کش اور غریب طبقے پر مبنی نیچے ایک وسیع اکثریت ہے۔ درمیان میں ایک تین کروڑ سے کچھ زیادہ کے درمیانے طبقے کی مختلف پرتیں ہیں۔ اس نظام زر میں تمام عوامل، لین دین اور کاروبارِ زندگانی کے لئے سرمایہ درکار بھی ہے اور فیصلہ کن کردار بھی ادا کرتا ہے۔ اس کے بغیر زندگی گزارنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن یہاں کا حکمران طبقہ جو تاریخ کے میدان میں ریاست پر تاخیر سے وارد ہوا اور جو سامراجیوں کا پیوند کردہ تھا، ا پنے جنم سے ہی شرح منافع کی قلت اور کمینگی کا شکار تھا۔ وہ اپنی کمزور مالیاتی بنیاد اور منافع خوری کی ہولناک ہوس میں کسی صحت مند اور نسبتاً کم بدعنوانی پر مبنی سرمایہ داری کو جنم نہیں دے سکتا تھا۔ وہی ہوا ہے۔ جب کوئی نظام بدعنوان ہو جاتا ہے تو اس میں پنپنے والا پورا معاشرہ اسکی لپیٹ میں آجاتا ہے۔ اس کا کوئی حصہ بچ نہیں سکتا۔ اس نظام کو چلانے کے لئے جو سیاست، ریاست، سماج اور دوسرے تمام شعبوں کے ادارے تشکیل پاتے ہیں وہ بھی اس بدعنوانی سے بچ نہیں سکتے۔ جلد یا بدیر سبھی اپنے اصولوں کو کاغذی صفحات تک محدود کرکے کرپشن کی اس کھائی میں کود پڑتے ہیں۔ دوڑ میں اندھے ہوجاتے ہیں۔ اس ہوس میں اپنا ضمیر، اپنا ایمان اور اپنا یقین غرق کردیتے ہیں۔ اس طرح ایک بدعنوان معاشرے میں نئی اخلاقی اور سماجی اقدار جنم لیتی ہیں جہاں جھوٹ سچ بن جاتا ہے، فریب ایک فن ہوجا تا ہے اور دھوکہ دہی زندگی گزارنے کا بہترین ذریعہ قرار پاتی ہے۔ یہی کامیابی و کامرانی، عظمت و شہرت اور نیک نامی کے معیار بن جاتے ہیں۔ لیکن اس کرپشن اور لوٹ مار کی جنگ میں پھر حکمران طبقات کے مختلف دھڑوں میں باہمی تصادم ناگزیر ہوجاتے ہیں۔ سطحی طور پر یہ کبھی داخلی وخارجی‘ مالیاتی و اقتصادی یا سیاسی وآئینی پالیسیوں کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں۔ لیکن جب پیچھے ساری سیاست اور ریاست کا پہلا اور آخری مقصد ہی دولت اور طاقت کا حصول ہو تو پھر جلد ہی اصلیت سامنے آجاتی ہے۔ ایسے میں حکمرانوں کے لئے معاشرے میں پھیلائی ہوئی بدعنوانی پھر انکے بھرپور کام آتی ہے۔ ابھرے ہوئے نئے دھڑے زوال پذیر دھڑوں کو بدعنوانی کے مقدمات کے جال میں پھانسنے کی کوشش کرتے ہیں اور سار ی سیاست اسی ’’کرپشن‘‘ اور ’’احتساب‘‘ کے گرد ہونے لگتی ہے۔ لو گ مہنگائی سے جانیں ہی کیوں نہ گنوادیں، لاعلاجی سے موت کی وادی میں غرق ہی کیوں نہ ہوتے رہیں، ناخواندگی کے اندھیرمیں ہی کیوں نہ برباد ہو رہے ہوں، بھوک اور افلاس سے نیم مردار حالت میں بکھرے ہی کیوں نہ رہیں ‘لیکن سیاست ان ایشوز پر نہیں کرپشن پر ہی ہوتی رہے گی۔ آخریہ بھی اسی نظام کا تقاضا ہے۔

کسی بھی معاشرے میں بدعنوانی کی شرح معلوم کرنے کے لئے اس میں بالعموم پھیلی ہوئی ذلت و محرومی پر ایک سر سری نظر ڈالناہی کافی ہوتا ہے۔ وسیع تر ذلت اور قلت میں نچلی سے نچلی سطح پر کسی نہ کسی طرح کی کرپشن کرنا عام انسانوں کے زندہ رہنے کی مجبوری بن جاتا ہے۔ پھر یہ اوپر بڑھتے بڑھتے ہجم میں بڑی ہوتی چلی جاتی ہے اور بیمارسرمایہ داری میں وسیع تر منافع خوری کا ایک لازمی جزو بن جاتی ہے۔ اسکو روکنے اور معاشرے کو چلانے والے ادارے جتنے سخت اور جابر ہوتے ہیں ان میں کرپشن کے ریٹ بھی اتنے ہی بھاری ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جبر کی انتہا ؤں سے بھی کرپشن ختم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی ہے۔ پھر چاہے وہ ہٹلر کی فسطائیت ہو یا مودی کی سرکار‘ یا کسی دوسرے مذہبی و لسانی عقیدے کی فرقہ وارانہ جارحیت کی حاکمیت ہو۔ یہاں سبھی اداروں میں کرپشن کے خلاف خصوصی شعبے موجود ہیں۔ مختلف اداروں کے ترجمان ہمیں بار بار بتاتے رہتے ہیں کہ وہ اپنے اداروں میں کرپشن کے سدباب کے کتنے اقدامات کر رہے ہیں۔ ایسے محکموں اور شعبوں کا قیام ہی سب سے بڑا ثبوت ہے کہ کسی بھی سرمایہ دارا نہ معاشرے میں کوئی ادارہ ایسا نہیں ہوسکتا جس میں کرپشن نہ ہو۔ آخر یہ اس نظام کا ناگزیر حصہ جو ٹھہری۔ اب نواز شریف اور زرداری کو کرپشن میں سزائیں دینے کا بھرپور عمل جاری ہے۔ جس طبقے سے یہ تعلق رکھتے ہیں اس کے کردار، تاریخ اور کارکردگی میں اس بدعنوانی کا ہونا کوئی ایسی اچھنبے کی بات نہیں ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان زوال پذیر سیاسی دھڑوں‘ ریاست سے ٹکراؤ میں پسپائی اختیار کرنے والی شخصیات اور امرا کی بدعنوانی کو ’’ختم‘‘ کرکے معاشرے کی رگوں، شریانوں اور خلیوں میں سرائیت کردہ کرپشن کم ہو جائے گی ؟یا پھر کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ غربت، مہنگائی، بیروزگاری اور محرومی میں تیز ترین ا ضافے کی بے چینی کو کرپشن کے واویلے سے زائل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے؟

لیکن کرپشن کی اس سیاست میں گالم گلوچ اور غنڈہ گرد رحجانات کی زبان کا استعمال موجودہ حکمران طبقات کے کردار اور صلاحیتوں کے معیارکو منظر عام پر آشکار کر رہا ہے۔ اگر ہر طرف سب اچھے کی آواز ہے، ہر طرف سے مثبت خبروں کی بھرمار ہے ‘تو پھر ہر مسئلہ ہی حل ہے۔ کرپشن کے اختتام کا جشن شاید شروع ہوچکا ہے۔ لیکن یہ جشن نہیں بلکہ اس ملک کے کروڑوں محنت کرنے والے امانت دار انسانوں کی محرومی اور بے بسی کا تماشا کیا جا رہا ہے۔ عام انسان نسلوں انتظار کے بعد بھی انصاف، تعلیم، علاج اور دوسری بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ زندگی ایک جبر مسلسل ہے۔ جمہوری حکومتیں ہوں یا فوجی آمرتیں، نیم فوجی حاکمیتیں ہوں یا لبر ل مذہبی پارٹیوں کے اقتدار‘ یہاں کے حکمران طبقات نے ذلت اور محرومی سمیت کرپشن کو یہاں کے عوام کا مقدر بنا کر رکھ دیا ہے۔ جب کوئی نظام ہی کرپٹ ہو جائے تو اسی کے گلے سڑے ادارے بھلا کرپشن کیسے ختم کرسکتے ہیں۔ حکمرانوں کے یہی ٹولے‘ پارٹیاں اور وفاداریاں بدلتے رہتے ہیں۔ انکی لڑائیاں جھوٹی ہیں۔ کرپشن کے خاتمے کے لئے پورے نظام کا خاتمہ درکار ہے۔ صرف نوجوانوں اور محنت کشوں کی تحریک ہی اسے ختم کر سکتی ہے۔ انقلاب کا انصاف حکمرانوں کے ایوانوں میں نہیں بلکہ کھیتوں، کھلیانوں، فیکٹریوں، کارخانوں، گلیوں اور بازاروں میں ہوا کرتا ہے۔