لیون ٹراٹسکی

1931ء میں شائع ہونے والی لیون ٹراٹسکی کی کتاب ’’انقلاب مسلسل‘‘ کے آخری باب سے اقتباس۔

میں امید کرتا ہوں کہ قاری کو اعتراض نہیں ہو گا اگر کچھ باتوں کو دہرا کر میں بنیادی نتائج اخذ کرتے ہوئے اس کتاب کا اختتام کروں۔

1۔ نظریہ انقلاب مسلسل اب ہر مارکسسٹ کی انتہائی توجہ کا متقاضی ہو چکا ہے۔ طبقے اور نظریاتی جدوجہد کی جہت نے اسے عالمی انقلاب کی حکمت عملی کا سوال بنا دیا ہے۔

2۔ ایسے ممالک جو سرمایہ دارانہ طرز ارتقا میں پیچھے رہ گئے ہیں، بالخصوص نوآبادیاتی اور نیم نو آبادیاتی ممالک، وہاں جمہوریت اور قومی نجات کے فرائض صرف پرولتاریہ کی آمریت (Dictatorship of Proletariat) کے ذریعے ہی ادا کئے جاسکتے ہیں۔ ایسے میں پرولتاریہ محکوم قو م اور سب سے بڑھ کر کسان عوام کے قائد کا کردار ادا کرے گا۔

3۔ پسماندہ ممالک میں آبادی کا بڑا حصہ کسانوں پر مشتمل ہے۔ یہاں زرعی سوال اور قومی سوال کے پیش نظر جمہوری انقلاب میں کسانوں (Peasantry) کا اہم کردار ہے۔ پرولتاریہ کے ساتھ کسانوں کے اتحاد کے بغیر جمہوری انقلاب کے فرائض ادا نہیں ہو سکتے۔ لیکن ان دو طبقات کا اتحاد قومی لبرل بورژوازی کے خلاف ناقابل مصالحت جدوجہد کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔

4۔ پرولتاریہ اور کسانوں کا انقلابی اتحاد کمیونسٹ پارٹی میں منظم پرولتاریہ کی ہراول پرتوں کی سیاسی قیادت میں ہی قائم ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جمہوری انقلاب کی کامیابی پرولتاریہ کی آمریت کے ذریعے ہی ممکن ہے جس میں پرولتاریہ کسانوں کے ساتھ اتحاد بنائے اور سب سے پہلے جمہوری انقلاب کے فرائض ادا کرے۔

5۔ تاریخی طور پر پرکھا جائے تو بالشویزم کا پرانا نعرہ ’’پرولتاریہ اور کسانوں کی جمہوری آمریت‘‘ اوپر بیان کئے گئے پرولتاریہ اور کسانوں کے تعلق کو ہی بیان کرتا ہے۔ یہ اکتوبر انقلاب سے ثابت ہو چکا ہے۔ لیکن لینن کے اس فارمولے نے انقلابی اتحاد میں موجود پرولتاریہ اور کسانوں کے باہمی تعلق کا سوال پیشگی حل نہیں کیا تھا۔ تاہم بعد ازاں واضح ہوا کہ کسانوں کا کردار کتنا ہی انقلابی کیوں نہ ہو وہ پرولتاریہ سے آزادانہ نہیں ہو سکتا اور قائدانہ تو بالکل نہیں ہو سکتا۔ کسان یا تو پرولتاریہ یا پھر بورژوازی کی پیروی کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ’’پرولتاریہ اور کسانوں کی جمہوری آمریت‘‘ تبھی ممکن ہے جب وہ پرولتاریہ کی آمریت ہو جو کسان عوام کی قیادت کرے۔

6۔ اوپر بیان کی گئی پرولتاریہ کی آمریت کی طبقاتی ساخت کے علاوہ پرولتاریہ اور کسانوں کی جمہوری آمریت شاید صرف اسی صورت میں قائم کی جا سکتی ہے جب ایک ’آزادانہ‘ انقلابی پارٹی قائم کی جائے جو کسانوں کے مفادات اور عمومی طور پر پیٹی بورژوا جمہوریت کی نمائندگی کرے اور یہ پارٹی پرولتاریہ کی کسی نہ کسی حد تک حمایت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنے اور اپنا انقلابی پروگرام متعین کرنے کے قابل ہو۔ جیسا کہ تمام جدید تاریخ اور بالخصوص روس کے گزشتہ پچیس سال کے تجربے سے ثابت ہوتا ہے کہ کسانوں کی اپنی پارٹی کے قیام کے راستے میں ناقابل عبور رکاوٹ پیٹی بورژوازی کے آزادانہ معاشی اور سیاسی کردار کا نہ ہونا اور اس کی گہری داخلی تقسیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ اور انقلاب جیسے فیصلہ کن لمحات میں کسانوں کے بالائی حصے بڑی بورژوازی کے ساتھ چلے جاتے ہیں؛ نچلے حصے پرولتاریہ کے ساتھ جاتے ہیں؛ درمیانے حصے کو ان دو انتہاؤں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ کوئی درمیانہ مرحلہ ہے نہ ہی ہو سکتا ہے۔

7۔  کامنٹرن مشرقی ممالک پر پرولتاریہ اور کسانوں کی جمہوری آمریت کا نعرہ مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کی گنجائش تاریخ میں بہت پہلے ختم ہو چکی ہے اور صرف رد انقلابی نتائج ہی برآمد ہو سکتے ہیں۔ جب یہ نعرہ پرولتاریہ کی آمریت کے نعرے کے مقابلے میں لگایا جاتا ہے تو اس سے سیاسی طور پر پرولتاریہ کو پیٹی بورژوا عوام میں تحلیل کرنے میں مدد ملتی ہے اور اس طرح قومی بورژوازی کے غلبے کے لئے موافق حالات میسر آتے ہیں۔ اس نعرے کو کامنٹرن کے پروگرام میں شامل کیا جانا مارکسزم اور بالشویزم کی انقلابی روایات سے کھلی غداری ہے۔

8۔ جمہوری انقلاب کی قیادت کرتے ہوئے اقتدار میں آنے والے پرولتاریہ کی آمریت کا سامنا فوراً ایسے فرائض سے ہوتا ہے جن کی ادائیگی سرمایہ دارانہ ملکیت کے رشتوں کو ختم کئے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔ جمہوری انقلاب آگے بڑھ کر براہ راست سوشلسٹ انقلاب میں بدل جاتا ہے اور اس طرح مسلسل انقلاب بن جاتا ہے۔

9۔ اقتدار پر پرولتاریہ کے قبضے سے انقلاب مکمل نہیں ہوتا بلکہ صرف شروع ہوتا ہے۔ سوشلسٹ تعمیر صرف طبقاتی جدوجہد کی بنیاد پر قومی اور عالمی سطح پر کی جاسکتی ہے۔ عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ رشتوں کے شدید تسلط کی کیفیات میں یہ جدوجہد ناگزیر طور پر دھماکوں یعنی داخلی طور پر خانہ جنگیوں اور خارجی طور پر انقلابی جنگوں کو جنم دیتی ہے۔ اسی میں سوشلسٹ انقلاب کا مسلسل کردار پوشیدہ ہے، چاہے یہ کوئی پسماندہ ملک ہو جس نے ابھی کل ہی اپنا جمہوری انقلاب پورا کیا ہو یا پھر کوئی پرانا سرمایہ دارانہ ملک ہو جس کے پیچھے جمہوریت اور پارلیمانیت کی طویل تاریخ ہو۔

10۔ قومی حدود میں سوشلسٹ انقلاب کی تکمیل کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ بورژوا سماج کے بحران کی ایک بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ اس کی اپنی تخلیق کردہ پیداواری قوتیں اب قومی ریاست کی حدود سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں۔ سوشلسٹ انقلاب قومی میدان میں شروع ہوتا ہے، بین الاقوامی میدان میں کھلتا چلا جاتا ہے اور عالمی میدان میں کامیاب ہوتا ہے۔ اس طرح سوشلسٹ انقلاب ایک مسلسل انقلاب بن جاتا ہے ۔ یہ پورے کرہ ارض پر ایک نئے سماج کی حتمی کامیابی کے ساتھ ہی مکمل ہوتا ہے۔

11۔ اوپر بیان کیا گیا عالمی انقلاب کی بڑھوتری کا خاکہ سوشلزم کے لئے ’’بالغ‘‘ یا ’’نابالغ‘‘ ممالک کا سوال ہی ختم کر دیتا ہے۔ سرمایہ داری نے عالمی منڈی، عالمی تقسیم محنت اور عالمی پیداواری قوتیں تخلیق کر کے عالمی معیشت کو مجموعی طور پر سوشلسٹ تبدیلی کے لئے تیار کر دیا ہے۔

مختلف ممالک اس عمل میں سے مختلف رفتار سے گزریں گے۔ کچھ مخصوص حالات میں پسماندہ ممالک، ترقی یافتہ ممالک سے پہلے پرولتاریہ کی آمریت تک پہنچ سکتے ہیں لیکن وہ ترقی یافتہ ممالک کی نسبت دیر سے سوشلزم تک پہنچیں گے۔

ایک پسماندہ ملک جس کا پرولتاریہ کسانوں کو ساتھ ملا کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار نہیں ہے وہاں جمہوری انقلاب اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس کے برعکس ایک ایسا ملک جہاں اقتدار پرولتاریہ کے ہاتھ میں ہے وہاں پرولتاریہ کی آمریت اور سوشلزم کی تقدیر کا انحصار نہ صرف قومی پیداواری قوتوں پر ہے بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر اس کا فیصلہ بین الاقوامی سوشلسٹ انقلاب کی بڑھوتری کرے گی۔

12۔ ایک ملک میں سوشلزم کا نظریہ، جو اکتوبر انقلاب کے خلاف رد انقلاب کے خمیر میں سے برآمد ہوا ہے، وہ واحد نظریہ ہے جو متواتر اور آخری حد تک نظریہ انقلاب مسلسل کی مخالفت کرتا ہے۔

ایک ملک میں سوشلزم کے نظرئیے کو مخصوص خصوصیات (وسیع رقبہ اور قدرتی وسائل) کے پیش نظر صرف روس سے منسوب کردینے سے بھی معاملہ بہتر نہیں ہوتا بلکہ زیادہ خراب ہو جاتا ہے۔ عالمی سطح پر تقسیم محنت، سوویت صنعت کا بیرونی ٹیکنالوجی پر انحصار، یورپ کے ترقی یافتہ ممالک کی پیداواری قوتوں کا ایشیائی خام مال پر انحصار وغیرہ وغیرہ، یہ سب عوامل کسی بھی ایک ملک میں آزادانہ سوشلسٹ سماج کی تعمیر کو ناممکن بنا دیتے ہیں۔

13۔ انقلابِ روس کے تمام تر تجربے سے متضاد سٹالن اور بخارن کا نظریہ نہ صرف جمہوری انقلاب کو میکانکی طور پر سوشلسٹ انقلاب سے متضاد دیکھتا ہے بلکہ قومی انقلاب اور بین الاقوامی انقلاب کو بھی الگ الگ کر دیتا ہے۔یہ نظریہ اقتدارپر پرولتاریہ کے قبضے کو ہی انقلاب کی تکمیل سمجھتا ہے۔

14۔ بخارن کی جانب سے ترتیب دئیے گئے کامنٹرن کے پروگرام میں ایک ملک میں سوشلزم کے نظرئیے کی مصالحت مارکسی انٹرنیشنل ازم کے ساتھ کروانے کی مایوس کن کوشش کی گئی ہے، جبکہ مارکسی انٹرنیشنل ازم کو عالمی انقلاب کے مسلسل کردار سے الگ نہیں کیاجا سکتا۔