چے گویرا کی شہادت کے پچاس سال

تحریر: لال خان

کل چے گویراکی پچاسویں برسی ہے۔ بولیویا کے بائیں بازو کے صدر ایوو مورالس نے اس موقع پر ریاستی سطح پر متعدد تقریبات کے انعقاد اور ’’سامراج مخالف جدوجہد کو دوبارہ منظم‘‘ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 9 اکتوبر 1967ء کو پوری دنیا میں ایک تصویرکی تشہیر کی گئی جس میں ایک بے جان انسانی جسم اسٹریچر پر پڑا ہوا تھا، بال بکھرے ہوئے، بڑھی ہوئی شیو اور آنکھیں کھلی ہوئیں۔ یہ بے جان بدن ارنسٹو چے گویرا کا تھا۔ ارجنٹینا میں پیدا ہونے والا وہ انقلابی جس نے فیڈل کاسترو کے ہمراہ 1959ء کے انقلابِ کیوبا کی قیادت کرتے ہوئے امریکی کٹھ پتلی فوجی ڈکٹیٹر باٹسٹا کے دھڑن تختے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ چے تعلیم کے لحاظ سے ڈاکٹر تھا لیکن مارکسزم کے نظریات نے اُسے ایک انقلابی بنا دیا۔ وہ ایک انقلابی رہنما، گوریلا جنگ کا ماہر، مصنف اور گھاگ سفارتکار تھا۔
چے کی انقلابی جدوجہد کئی براعظموں تک پھیلی ہوئی ہے۔ وہ انگولا جیسے افریقہ کے دور دراز علاقوں میں مقامی انقلابیوں کے ساتھ مل کر لڑتا رہا۔ انقلاب کیوبا کی کامیابی کے بعد اسے حکومت میں اعلیٰ ترین عہدے ملے لیکن وہ ’اقتدار کے پھل‘ سے نفرت کرتا تھا۔ اس نے اپنی پوری زندگی سرمایہ داری اور سامراجیت کے خلاف سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد میں گزاری۔ نومبر 1966ء میں وہ خفیہ طور پر کیوبا سے بولیویا چلا گیا اور اپنے 47 ساتھیوں کے ساتھ بولیویا کے انقلابیوں سے جڑ گیا، جو امریکی کٹھ پتلی ’رینے بیرنتوز‘ کی حکومت کے خلاف لڑ رہے تھے۔ سی آئی اے اُس کے تعاقب میں تھی۔ بولیویا کی فوج نے 8 اکتوبر کو آخر کار چے گویرا اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا۔ چے کو اگلے ہی دن 9 اکتوبر 1967ء کو بولیویا کے گاؤں لا ہیگورا میں بغیر کسی مقدمے کے قتل کر دیا گیا اور عوامی رد عمل کے خوف سے لاش کو خفیہ مقام پر دفنا دیا گیا۔ لیکن 1997ء میں اس کی لاش کو دریافت کیا گیا اور کیوبا بھیجا گیا جہاں اسے دوبارہ دفنایا گیا۔
چے گویرا کوکارپوریٹ میڈیا کی طرح صرف ایک ’گوریلا جنگجو‘ کے طور پر پیش کرنا بددیانتی اور جھوٹ ہے۔ درحقیقت اُس کی زندگی اور موت بذات خود انقلاب کے لئے ’گوریلا جنگ‘اور زمان، مکان اور معروضی حالات سے ماورا مسلح جدوجہد کے طریقہ کار کی محدودیت اور مضمرات کو واضح کرتی ہے۔ لیکن وہ سماجی سائنس، معاشیات اور تاریخ پر عبور رکھتا تھا۔ اپنی جدوجہد کے دوران اُس نے کئی گہرے اور وسیع نتائج اخذ کئے۔ اُس کی انقلابی طریقہ کار اور حکمت عملی کی پرکھ ارتقا پذیر ہوئی۔ 1959ء سے 1967ء تک چے کے خیالات میں کافی تبدیلیاں آئیں۔ وہ اس بات پر پورا یقین رکھتا تھا کہ اگر سوشلسٹ انقلاب ایک ایسی تہذیب، سماجی اقدار اور سماجی ماڈل پیش نہیں کرتا جو انفرایت، انا پرستی اور مقابلہ بازی کے بالکل برخلاف ہو تو کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اُسے اقتدار کی ہوس اور افسر شاہی سے شدید نفرت تھی۔
جولائی 1963ء میں جین ڈینیل نامی صحافی کو انٹرویو دیتے وقت چے کھل کر اُس وقت سوویت یونین میں جڑیں پکڑ چکی افسر شاہی اور سٹالنسٹ ماڈل کو رد کر رہا تھا۔ اس نے جین سے کہا، ’’کمیونسٹ اقدار کے بغیر روکھا معاشی سوشلزم مجھے پسند نہیں۔ ہم غربت کے خلاف لڑ رہے ہیں لیکن اسی اثنا میں بیگانگی کے خلاف بھی لڑ رہے ہیں۔ اگر کمیونزم شعور سے کٹ جائے تو تقسیم کا ایک طریقہ کار تو ہوسکتا ہے لیکن وہ کوئی انقلابی اخلاقیات مرتب نہیں کر سکتا۔‘‘ چی گویرا کے لیے سوشلزم کا مطلب ’’برابری، یکجہتی، اجتماعیت، انقلابی بھائی چارہ، آزادانہ بحث اور عوامی شمولیت پر مبنی تاریخی منصوبہ بندی‘‘ تھا۔
الجزائر، جہاں عوام نے فرانسیسی نو آبادکاروں کو ایک انقلابی جنگ کے ذریعے شکست دے کر آزادی حاصل کی تھی، کے دارالحکومت میں چے نے فروری 1965ء میں اپنی مشہور تقریر کی۔ اس نے کہا، ’’اپنے آپ کو سوشلسٹ کہنے والے ممالک مغرب کے استحصالی ممالک کے ساتھ اپنے یارانے ختم کریں۔ سوشلزم اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک انسانیت کی طرف برادرانہ رویے کی شعوری تبدیلی نہیں آتی۔ نہ صرف اپنے سماجوں میں بلکہ پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ اور سامراجی جبر کے شکار عوام کی طرف بھی یہی رویہ ہونا چاہیے۔ ‘‘ یوں اُس کا موقف ’امن برائے بقائے باہمی‘ اور ’ایک ملک میں سوشلزم‘ کے بیہودہ سٹالنسٹ نظریات کے بالکل برعکس تھا۔ وہ مرتے دم تک ایک مارکسی بین الاقوامیت پسند رہا۔
چے گویرا نے بار بار سوشلسٹ منصوبہ بند معیشت کو کامیابی سے چلانے کے لیے محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول پر زور دیا۔ اپنی ایک لکھت، جس میں سوویت بیوروکریسی پر تنقید کی گئی تھی اور جو 2006ء میں شائع ہوئی، میں اس نے لکھا، ’’منصوبہ بندی کے ایک ایسے نظرئیے جس میں عوام، جو عوامی مفادات سے واقف ہوتے ہیں، معاشی فیصلے کرتے ہیں، کے برعکس ہمیں ایسی ترکیب دی جاتی ہے جس میں صرف معاشی عوامل ہی اجتماعی مفادات کا تعین کرتے ہیں۔ یہ میکانکی اور غیر مارکسی طریقہ ہے۔ عوام کو اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنا چاہیے کہ پیداوار کا کتنا حصہ اجتماع اور کونسا حصہ صارف کے لیے ہونا چاہیے۔ معاشی تکنیک کو ان معلومات کی حدود میں ہونا چاہیے اور عوامی شعور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔‘‘
چے ہمیشہ مزید علم اور انقلابی نظریے اور حکمت عملی کی گہر ی سمجھ بوجھ حاصل کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ اس کے ایک قریبی ساتھی فرینک جی، جو بولیویا کے جنگلوں میں آخری سانس تک اس کے ساتھ تھا، نے کیوبا کے ایک صحافی کو بتا یا کہ گوریلا تحریک میں سب سے اہم اصول یہ ہے کہ آدمی پیٹھ پر کم سے کم بوجھ رکھے، کیونکہ اونچے پہاڑوں اور دشوار گزار راستوں پر چلنا ہوتا ہے۔ لیکن چے جب شدید زخمی تھا اور بولیویا کی فوج نے اسے پکڑ لیا تھا تو اس کے پاس سے لیون ٹراٹسکی کی ’انقلابِ روس کی تاریخ‘ کی ضخیم کتاب برآمد ہوئی (یہ کتاب اب اردو میں ترجمہ ہوچکی ہے جو شاید کسی مشرقی زبان میں اس عہد ساز کتاب کا پہلا ترجمہ ہے)۔ یہ حقیقت سب سے بڑھ کر اس کی سیکھنے کی تڑپ اور اپنے نظریات کوپختہ کرنے کی جستجو کو ظاہر کرتی ہے۔
چے گویرا سرمایہ دارانہ استحصال اور استحصالیوں کے خلاف مردانہ وار لڑتے ہوئے موت کی آغوش میں چلا گیا۔ اس کی شہادت کے پچاس سال بعد بھی اس کی جدوجہد نئی نسل کے لئے مشعل راہ ہے اور کئی اسباق سمیٹے ہوئے ہے۔ اس کی یادیں آج بھی محروم اور محکوم طبقات کی امیدوں اور ارمانوں کو جلا بخشتی ہیں۔ مایوسی اور قنوطیت کے اس تاریک دور میں اس کی میراث آج بھی روشن ہے۔ چے نہ صرف ایک نڈر جنگجو تھا بلکہ ایک انقلابی مفکر بھی تھا۔ سرمایہ دارانہ جبر و استحصال کے خلاف اپنے انقلابی نظریات کے لیے وہ پوری زندگی لڑا اور جان دی۔ لیکن موت نے اس کے نظریاتی ارتقا کو منقطع کر دیا۔ ہوانا سے چھپنے والے اس کے مجموعہ تصانیف کی تیسری جلد کے ایک مضمون میں درج ہے، ’’ایک سچا کمیونسٹ، ایک سچا انقلابی وہ ہے جو انسانیت کے تمام تر مسائل اور مشکلات کو اپنی ذاتی مشکلات سمجھے… اور دنیا کے کسی بھی حصے میں اگر آزادی کا کوئی پرچم بلند ہو تو شادمانی محسوس کرے۔‘‘
چے گویرا کا مارکسزم پر گہرا سائنسی یقین تھا۔ ’1960ء کی یادداشتیں‘ میں اس نے لکھا، ’’مارکس کی خوبی یہ ہے کہ اس نے سماجی خیالات کی تاریخ میں معیاری تبدیلی کو جنم دیا۔ وہ تاریخ کی تشریح کرتا ہے، اس کی حرکیات کو سمجھتا ہے، مستقبل کی پیش گوئی کرتا ہے لیکن پیش گوئی کے ساتھ ساتھ وہ ایک انقلابی نظریہ بھی پیش کرتا ہے کہ دنیا کو صرف تشریح کی نہیں بلکہ تبدیلی کی بھی ضرورت ہے۔ یوں انسان اپنے ماحول کا غلام بننا چھوڑ دیتا ہے اور اپنی ہی تقدیر کا معمار بن جاتا ہے۔‘‘ چے کی جدوجہد، نظریات، زندگی اور موت آج بھی ان بے شمار انسانوں، بالخصوص نوجوانوں کے لیے ہمت، حوصلے اور جرات کا ماخذ ہیں جو اِس تعفن زدہ سرمایہ دارانہ سماج کی انقلابی تبدیلی کے راستے کی تلاش میں ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*