انقلابِ روس کے سو سال

تحریر: لال خان

سو سال پہلے روس میں بالشویک انقلاب برپا ہوا۔ انسانی سماج کے طبقات میں تقسیم ہونے کے بعد سے یہ محنت کشوں کی سب سے فیصلہ کن فتح تھی۔ اس سرکشی کے ذریعے بالشویکوں نے ایک اقلیتی طبقے کے اقتدار کے خلاف اکثریت کی قیادت کی اور سماج کی اکثریت کی حاکمیت کی بنیادیں استوار کیں۔ 1917ء کا انقلابِ روس انسانیت کی عظیم تاریخی جست تھی جس نے تاریخ کا دھارا ہمیشہ کے لئے موڑ دیا۔ اس کے اثرات اتنے گہرے تھے کہ پورے کرہ ارض پر حکمران طبقات کے تخت لرزنے لگے۔ امریکہ کا انقلابی صحافی جان ریڈ، جس نے انقلاب کے واقعات کا براہِ راست مشاہدہ کیا، اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’دنیا کو ہلا دینے والے دس دن‘ میں لکھتا ہے، ’’کوئی بالشویزم کے بارے میں کچھ بھی سوچے، یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ انقلابِ روس انسانیت کی تاریخ کے عظیم ترین واقعات میں سے ایک ہے اور بالشویکوں کا اقتدار عالمگیر اہمیت کا حامل ہے۔‘‘
اُس وقت زارشاہی روس میں نافذ پرانے کیلنڈر کے مطابق انقلابی سرکشی کا آغاز 25 اکتوبر (نئے کیلنڈر کے مطابق 7 نومبر) کی شام کو ہوا اور بالشویکوں کا اقتدار پر قبضہ 25 اور 26 اکتوبر کی درمیانی رات کو ہوا۔ اس انقلاب نے اقتدار کو ایک اقلیتی حاکم طبقے سے چھین کر اکثریتی محنت کش طبقے کے حوالے کیا۔بالشویک پارٹی کے اقتدار پر قبضے کے عمل میں محنت کش طبقے کی اکثریت کی گہری شعوری مداخلت موجود تھی۔ یہ آج تک کا واحد انقلاب ہے جو کلاسیکی مارکسی سطور پر استوار ہوا۔
لینن نے اس حقیقی تبدیلی کی وضاحت کی جو انقلاب کو پیدا کرنا تھی۔ اُس نے دسمبر 1917ء میں لکھا، ’’آج کے اہم ترین فرائض میں یہ شامل ہے کہ محنت کشوں کی آزادانہ پیش قدمی کو پروان چڑھایا جائے۔ اسے ہر ممکن حد تک وسیع کر کے تخلیقی تنظیمی کام میں تبدیل کیا جائے۔ ہمیں ہر قیمت پر اس پرانے، فضول، وحشی اور قابل نفرت عقیدے کو پاش پاش کرنا ہوگا کہ صرف نام نہاد اعلیٰ طبقات، امرا اور امرا کی تعلیم و تربیت پانے والے ہی ریاست کا نظام چلا سکتے ہیں اور سوشلسٹ سماج کو منظم کر سکتے ہیں۔‘‘
بالشویک پارٹی کی سب سے ممتاز خاصیت یہ تھی کہ انہوں نے محنت کش عوام کے مفادات کی حفاظت کے موضوعی مقصد کو انقلاب کی حرکیات سے جوڑا۔ پارٹی کی حکمت عملی کی بنیاد اُن قوانین کی سائنسی دریافت تھی جن کے تحت عوامی تحریکیں اور سماجی شورشیں اتار چڑھاؤ سے گزر کر آگے بڑھتی ہیں۔ جدوجہد میں محکوم اور استحصال زدہ عوام صرف اپنے مطالبات، امنگوں اور ضروریات سے ہی نہیں بلکہ اپنی زندگیوں کے تجربات سے بھی رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ عوام کے تجربے کی طرف بالشویکوں کا رویہ کبھی بھی تضحیک آمیز یا گھمنڈی نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ وہ اس تجربے کو اپنا نقطہ آغاز بنا کر آگے بڑھتے تھے۔ اصلاح پسند اور جعلی انقلابی مصائب اور رکاوٹوں کارونا روتے تھے، جبکہ بالشویک مردانہ وار ان کا مقابلہ کرتے تھے۔ ٹراٹسکی اپنی تاریخ ساز تصنیف ’انقلابِ روس کی تاریخ‘ میں لکھتا ہے: ’’بالشویک صرف قول میں نہیں بلکہ فعل میں بھی، صرف ظاہریت میں نہیں بلکہ حقیقت میں بھی انقلابی تھے… بالشویزم نے ایک ایسا مستند انقلابی فرد تخلیق کیا جو اپنے ذاتی وجود، خیالات اور اخلاقی فیصلوں کو ایسے تاریخی مقاصد کے تابع کرتا ہے جو مروجہ سماج سے ناقابل مصالحت ہوتے ہیں۔ پارٹی میں بورژوا نظریات سے ضروری فاصلہ ایک چوکس عدم مصالحت کے ذریعے برقرار رکھا گیا تھا، جس کا روح رواں لینن تھا۔ لینن ایک نشتر کی طرح اُن تمام بندھوں کو مسلسل کاٹتا رہتا تھا جو پیٹی بورژوا ماحول میں پارٹی اور سرکاری رائے عامہ کے درمیان استوار ہوتے تھے۔ عین اسی وقت لینن نے پارٹی کو ابھرتے ہوئے طبقے کے خیالات اور جذبات کی بنیاد پر اپنی رائے عامہ استوار کرنا بھی سکھایا ۔ یوں انتخاب، تربیت اور مسلسل جدوجہد کے عمل سے بالشویک پارٹی نے نہ صرف اپنا سیاسی بلکہ اخلاقی ماحول بھی تخلیق کیا، جو بورژوا رائے عامہ سے آزاد اور بالکل برخلاف تھا۔ صرف اِسی چیز نے بالشویکوں کو اپنی صفوں میں تذبذب پر قابو پانے اور عمل میں وہ عزم دکھانے کے قابل بنایا جس کے بغیر اکتوبر کی فتح ناممکن تھی۔‘‘ فتح مند سرکشی کے بعد لینن نے ’سوویتوں کی کُل روس کانگریس‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’تاریخ کے کچرے کو صاف کرنے بعد اب ہم اس خالی جگہ پر سوشلسٹ سماج کی ہوادار اور عالیشان عمارت تعمیر کریں گے۔‘‘
انقلاب نے سماجی و معاشی تبدیلی کے ایک نئے عہد کا آغاز کیا۔ وسیع و عریض جاگیروں،بھاری صنعت، کارپوریٹ اجارہ داریوں اور معیشت کے کلیدی شعبوں کو نومولود مزدور ریاست نے ضبط کر لیا۔ مالیاتی سرمائے کی آمریت کو توڑا گیا، تمام بیرونی تجارت پر ریاست نے اپنی اجارہ داری قائم کی۔ وزیروں اور عہدیداروں کی مراعات کا خاتمہ کیا گیا اور انقلاب کے رہنما بھی انتہائی سادہ زندگی گزارتے تھے۔ وکٹر سرج اپنی ’ایک انقلابی کی یادداشتوں‘ میں لکھتا ہے: ’’کریملن میں لینن نوکروں کے لئے تعمیر کئے گئے چھوٹے سے گھر میں رہتا تھا۔ موسم سرما کے دوران باقی سب کی طرح اُس کے پاس بھی گھر کو گرم رکھنے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ جب وہ نائی کے پاس جاتا تو اپنی باری کا انتظار کرتا اور کسی دوسرے کے پیچھے ہٹنے کو نامناسب خیال کرتا۔‘‘
بالشویکوں کا جمہوری طرز عمل مسلمہ تھا۔ ابتدا میں نئی انقلابی حکومت کو بالشویکوں کے ساتھ ساتھ بائیں بازو کے سوشل انقلابیوں اور منشویک انٹرنیشنلسٹوں کی حمایت بھی حاصل تھی۔ یوں یہ ایک مخلوط حکومت تھی۔ انقلاب کے بعد صرف فسطائی ’بلیک ہنڈرڈ‘ پر پابندی عائد کی گئی۔ حتیٰ کہ بورژوا لبرل پارٹی (کیڈٹوں) کو بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت تھی۔ نئے انقلابی اقتدار کی بنیاد تاریخ کا سب سے جمہوری نظام، یعنی مزدوروں، کسانوں اور سپاہیوں کی سوویتیں تھیں۔ اِن سوویتوں کو معیشت، زراعت، صنعت، فوج اور سماج کا انتظام جمہوری طریقے سے چلانے کے لئے نیچے سے اوپر تک منظم کیا گیا تھا۔ لینن نے سوویت نظام کے رہنما اصول غیر مبہم طور پر وضع کئے تھے:
* سوویت ریاست کے تمام عہدوں کے لئے جمہوری انتخابات
*  تمام حکام کو کسی بھی وقت واپس بلانے کا اختیار
* کسی بھی اہلکار کی اجرات کا ہنر مند مزدور سے زیادہ نہ ہونا
* سماج اور ریاست کو چلانے کے تمام فرائض کی باری باری سب کی طرف سے ادائیگی
یہ انقلاب محکوم اور استحصال زدہ محنت کش طبقات کے لئے کیا معانی رکھتا تھا، اس کی تصویر کشی بڑے پرتاثیر انداز سے جان ریڈ نے کی ہے: ’’کسی بنجر زمین پر موتیوں کی طرح سارے افق پر دارالحکومت کی روشنیاں پھیلی ہوئی تھیں، جو رات کے وقت دن سے کہیں زیادہ شاندار لگ رہی تھیں۔ بوڑھا خاکروب، جو ایک ہاتھ سے ریڑھی چلا رہا تھا اور دوسرے سے راہ گزر پر جھاڑو دے رہا تھا، دور سے دمکتے دارالحکومت کو دیکھ کر بے ساختہ چلّا اٹھا، ’ میرا! سارا پیٹروگراڈ اب میرا ہے!‘‘‘انقلاب سماجی، ثقافتی اور نفسیاتی طور پر محنت کش طبقے کو بے نظیر بلندیوں پر لے گیا تھا!
اگر انقلابی فتح کی وضاحت سائنسی تجزئیے سے کی جا سکتی ہے تو مارکسسٹوں پر یہ تاریخی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ بعد ازاں انقلاب کی زوال پذیری اور سوویت یونین کے انہدام کی سائنسی وضاحت کریں۔ درحقیقت انقلاب کے رہنما ولادیمیر لینن نے ایک ملک میں سوشلزم کی تعمیر کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ بین الاقوامیت لینن کے لئے کوئی جذباتی لفاظی نہیں تھی۔ وہ انقلاب کو معاشی و تکنیکی طور پر زیادہ ترقی یافتہ ممالک تک پھیلانے کی ناگزیر ضرورت سے بخوبی واقف تھا۔ یوں مارکسسٹوں نے سوویت یونین کے انہدام کی مشروط پیش گوئی عرصہ قبل کر دی تھی۔ 7 مارچ 1918ء کو صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے لینن نے واضح کیا: ’’اگر ہم تنہا رہ جاتے ہیں، اگر دوسرے ممالک میں انقلابی فتوحات حاصل نہیں ہوتیں تو حتمی فتح کی کوئی امید باقی نہیں رہے گی… ایک کُل یورپی انقلاب ہی اِن مصائب سے ہمیں نجات دلا سکتا ہے… اگر جرمن انقلاب برپا نہیں ہوتا تو ہم برباد ہو جائیں گے۔‘‘
لینن کے ہمراہ انقلاب کی قیادت کرنے والے لیون ٹراٹسکی نے 1936ء میں شائع ہونے والی اپنی عمیق تصنیف ’انقلاب سے غداری‘ میں سٹالن کے تحت انقلاب کی زوال پذیری کا تجزیہ پیش کیا۔ 1980ء کی دہائی میں ہونے والے دیوہیکل واقعات کی پیش گوئی ٹراٹسکی نے پانچ دہائیاں قبل کی۔ اُس نے واضح کیا تھا کہ اگر ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں انقلاب نہیں ہوتا اور سوویت یونین میں ایک سیاسی انقلاب مزدور جمہوریت کو بحال نہیں کرتا تو سرمایہ داری کی بحالی ناگزیر ہے۔ ٹیڈ گرانٹ نے 1943ء میں شائع ہونے والی اپنی تصنیف ’ریاست کا مارکسی نظریہ‘ میں اِس عمل کے تجزئیے کو مزید آگے بڑھایا۔ اُس کا تناظر منفی طور پر درست ثابت ہوا۔
1917ء کا انقلابِ روس کوئی الگ تھلگ قومی واقعہ نہیں تھابلکہ اس کے دور رس بین الاقوامی اثرات مرتب ہوئے۔ اس نے روس میں نہ صرف سرمایہ داری اور جاگیر داری کو اکھاڑا بلکہ سامراج کی بیڑیاں بھی توڑ ڈالیں۔ یہ سوویت یونین کی سرحدوں سے بہت دور (بالخصوص یورپ میں) انقلابی ابھاروں کا محرک بنا۔ سامراجی آقا اِن عوامی بغاوتوں سے لرز گئے جو سرمایہ داروں کے قلعوں میں ابھرنے لگی تھیں۔ برطانوی وزیر اعظم لائڈ جارج نے اپنے فرانسیسی ہم منصب کلیمنسو کو 1919ء کے ورسائی کے امن اجلاس کے دوران ایک خفیہ مراسلے میں لکھا: ’’پورا یورپ انقلابی جذبات سے لبریز ہے۔ موجودہ حالات کے خلاف محنت کشوں میں نہ صرف عدم اطمینان بلکہ غصے اور بغاوت کا گہرا احساس موجود ہے۔ یورپ کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سارے سیاسی، سماجی اور معاشی نظام پر عوام سوال اٹھا رہے ہیں۔‘‘
انقلاب کے مرکز کو کچلنے کے لئے اِن سرمایہ دارانہ ’جمہوریتوں‘ نے نومولود سوویت ریاست پر دیو ہیکل حملہ کیا۔ اکیس سامراجی ممالک کی افواج روس پر چڑھ دوڑیں۔ خود انقلاب نسبتاً پرامن معاملہ تھا۔ اکتوبر کی سرکشی کے دوران صرف نو لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ لیکن یہ سامراجی عسکری جارحیت تھی جس نے پہلے سے عالمی جنگ میں تباہ حال پسماندہ ملک کو خونریزی اور قحط میں غرق کر دیا۔ عوام کی انتہائی محرومی اور بدحالی، جسے خانہ جنگی اور معاشی ناکہ بندی نے شدید تر کر دیا، کی وجہ سے ’’ذاتی بقا کی جدوجہد‘‘ ختم یا کم نہیں ہوئی بلکہ وحشی کردار اختیار کر گئی۔ جرمنی( 1918ء اور پھر 1923ء)، چین (1924-25ء) اور برطانیہ (1926ء) میں انقلابات کی شکست سے بالشویک انقلاب کو شدید دھچکا لگا۔ اِن شکستوں نے انقلابِ روس کی تنہائی اور قومی زوال پذیری کو شدید تر کر دیا۔
سرخ فوج کی دلیرانہ مزاحمت اور حملہ آور ریاستوں کے مزدوروں اور سپاہیوں کی حمایت نے سامراجی جارحیت کو شکست دی۔ ٹراٹسکی نے زار کی بچی کھچی چند لاکھ کی تباہ حال فوج کو پچاس لاکھ کی مضبوط اور منظم سرخ فوج میں تبدیل کر دیا۔ لیکن بالشویک پارٹی کے ہراول کارکنان اور باشعور مزدور اِس خانہ جنگی میں بڑی تعداد میں مارے گئے۔ اِس سے قیادت کا خلا پیدا ہوا جسے پارٹی اور سوویت حکومت میں گھسنے والے موقع پرستوں نے بھرا۔ ضروریات زندگی کی شدید قلت، صنعت و زراعت کے انہدام اور ثقافتی پسماندگی نے انقلاب کی افسر شاہانہ زوال پذیری میں اہم کردار ادا کیا۔ لینن 1924ء میں اپنی موت تک اِس زوال پذیری کے خلاف جدوجہد کرتا رہا۔ سٹالن نے اُس کی وصیت کو کریملن کی آہنی الماریوں میں چھپا دیا۔ اِس وصیت میں لینن نے سٹالن کو پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے ہٹانے اور افسر شاہی کے خلاف جدوجہد کی کال دی تھی۔ یہ دستاویز سٹالن کی موت کے بعد 1956ء میں پارٹی کی بیسویں کانگریس میں کہیں جا کر سامنے آئی۔ یوں تلخ معروضی حالات اور جنگ و انقلاب سے پرولتاریہ ہراول دستے کی تھکاوٹ نے وہ صورتحال پیدا کی جس میں سٹالن کے تحت ریاستی اقتدار کے گرد ایک افسر شاہانہ پرت ابھرنے لگی۔ ٹراٹسکی نے ’لیفٹ اپوزیشن‘قائم کی اور اِس زوال پذیری کے خلاف مردانہ وار مزاحمت کی۔ لیکن اِسے انتہائی جبر سے کچل دیا گیا۔ یہ عمل وسیع مراعات رکھنے والے افسر شاہانہ ڈھانچے کے استحکام پر منتج ہوا۔ اجرتوں میں زیادہ سے زیادہ فرق، جو لینن کے دور میں 1:4 طے کیا گیا تھا، ختم کر دیا گیا۔ اکتوبر انقلاب کے خلاف یہ سیاسی ردِ انقلاب اتنا جابر تھا کہ 1940ء تک 1917ء میں انقلاب کی قیادت کرنے والی بالشویک مرکزی کمیٹی میں سے صرف ایک انسان باقی بچا تھا۔ یہ سٹالن خود تھا۔ باقی تمام قیادت کو جعلی مقدمات اور شو ٹرائلز کے بعد سزائے موت دے دی گئی، قتل یا ’غائب‘ کروا دیا گیا یا پھر انہوں نے خود کشی کر لی۔ بہت کم تھے جو طبعی موت مرے۔
تاہم سٹالنسٹ زوال پذیری کے باوجود معیشت ریاست کی ملکیت اور منصوبہ بندی میں رہی۔ یہ افسر شاہی کوئی طبقہ نہیں تھی، کیونکہ یہ ذرائع پیداوار کی مالک نہیں تھی، بلکہ یہ ایک طفیلی پرت تھی جو سوویت محنت کش طبقے کی پیدا کردہ قدر زائد کا ایک بڑا حصہ ہڑپ کر جاتی تھی۔ تاہم معیشت پر اِس بھاری بوجھ اور افسر شاہانہ بد انتظامی کے باوجود سوویت منصوبہ بند معیشت نے انسانی تاریخ کی تیز ترین ترقی کی۔ چند دہائیوں میں سوویت یونین ایک پسماندہ زرعی ملک سے ترقی یافتہ صنعتی ملک بن گیا۔ سرمایہ داری کی پوری تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔
ٹیڈ گرانٹ نے اپنی پرمغز کتاب ’روس، انقلاب سے ردِ انقلاب تک‘ میں لکھا: ’’1913ء (قبل از جنگ پیداوار کا عروج) کے بعد کے پچاس سالوں میں دو عالمی جنگوں، بیرونی جارحیت، خانہ جنگی اور دوسری بربادیوں کے باوجود کُل صنعتی پیداوار میں 52 گنا اضافہ ہوا۔ اِس دوران امریکہ میں یہ اضافہ چھ گنا جبکہ برطانیہ میں دو گنا سے بھی کم تھا۔ دوسرے الفاظ میں سوویت یونین ایک پسماندہ زرعی ملک سے دنیا کی دوسری سب سے طاقتور قوم بن گیا، جس کے پاس ایک دیوہیکل صنعتی بنیاد، اعلیٰ ثقافتی معیار اور امریکہ، یورپ اور جاپان میں سائنسدانوں کی کُل تعداد سے زیادہ سائنسدان تھے۔ اوسط عمر میں دوگنا سے زیادہ اضافہ ہوا اور بچوں میں شرح اموات میں نو گنا کمی واقع ہوئی۔ اتنی مختصر مدت میں اتنی تیز معاشی پیش رفت کی دوسری کوئی مثال نہیں ملتی۔‘‘
انقلاب نے جنسی برابری اور زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کی شمولیت کو یقینی بنایا۔حکومت سکولوں میں مفت کھانا، بچوں کے لئے دودھ، حاملہ خواتین اور زچہ بچہ کے لئے طبی مراکز، دارلاطفال اور پرورش خانے مہیا کرتی تھی۔ تعلیم و علاج سمیت یہ تمام سہولیات بالکل مفت تھیں۔ رہائش کا مسئلہ حل کرنے کے لئے پانچ کروڑ سے زیادہ فلیٹ تعمیر کئے گئے۔ ریاست روزگار کی ضامن تھی اور بیروزگاری ایک جرم تصور ہوتی تھی۔ یوں منصوبہ بند معیشت نے منڈی کی معیشت پر اپنی فوقیت جدلیات کی زبان میں نہیں بلکہ ٹھوس مادی اور ثقافتی ترقی میں ثابت کی۔
تاہم معیشت جوں جوں پھیلتی گئی، زیادہ پیچیدہ، ثقیف اور ترقی یافتہ ہوتی گئی۔ چند ہزار اشیا پیدا کرنے والی معیشت کی منصوبہ بندی چند سو افسران کر سکتے ہیں۔ لیکن دس لاکھ اشیا بنانے والی معیشت کو افسر شاہانہ طریقوں سے نہیں چلایا جا سکتا۔ ٹراٹسکی نے واضح کیا تھا کہ ’’ایک منصوبہ بند معیشت کے لئے مزدور جمہوریت اتنی ہی ضروری ہے جتنی انسانی جسم کے لئے آکسیجن۔‘‘ 1960ء تک سوویت معیشت ایک دیوہیکل حجم حاصل کر چکی تھی اور یہ امریکہ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی معیشت تھی جو کپڑوں اور جوتوں سے لے کر ہوائی جہاز اور خلائی راکٹ تک پیدا کرتی تھی۔ افسر شاہی کی بد انتظامی، بد عنوانی، عیاشیوں اور ضیاں کے بوجھ تلے اِس معیشت کا دم گھٹ رہا تھا۔ نتیجتاً آخر کار معاشی نمو کی شرح ایک وقت پر صفر ہو گئی۔ دوسری طرف سوویت افسر شاہی کی ہوس اس قدر بڑھ چکی تھی کہ وہ اب اپنی مراعات کو اپنے بچوں تک منتقل کرنا چاہتے تھے۔ دوسرے الفاظ میں وہ ذرائع پیداوار کو اپنی نجی ملکیت میں لے کر ایک بالادست سماجی پرت سے ایک حکمران طبقے میں تبدیل ہونا چاہتے تھے۔ گوربا چیف کے دور میں سٹالنسٹ افسر شاہانہ ڈھانچے میں رہتے ہوئے معیشت کو بحال کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن اِس سے تضادات شدید تر ہی ہوئے۔ انقلاب کی تنہائی، سوشلزم کی مسخ شدہ ’قومی شکل‘ اور مزدور جمہوریت کی عدم موجودگی میں معاشی بدانتظامی آخر کار سوویت یونین کے انہدام پر منتج ہوئی۔ سوویت یونین میں سوشلزم یا کمیونزم نہیں بلکہ اِس کی مسخ شدہ شکل، یعنی سٹالنزم ناکام ہوا۔
آج عالمی سطح پر سرمایہ داری کا بحران انسانیت کی وسیع اکثریت کو غربت، محرومی، جنگوں، دہشت گردی، ماحولیاتی تباہی اور بیماری میں غرق کر رہا ہے۔ یہ تاریخی طور پر متروک نظام ہے اور نسل انسان کی اذیت میں اضافہ ہی کر سکتا ہے۔ آج سرمایہ داری زائد پیداوار، زائد پیداواری صلاحیت اور شرح منافع میں گراوٹ کے اُسی نامیاتی بحران کا شکار ہے جس کی نشاندہی مارکس نے کی تھی۔ حتیٰ کہ سنجیدہ اور دور اندیش بورژوا معیشت دان بھی اِس بحران کی نامیاتی نوعیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔
آج کی تحریکوں اور بغاوتوں کو ایک متبادل نظام اور نظرئیے کی ضرورت ہے۔ بے شمار سابقہ سوشلسٹ اور کمیونسٹ آج انقلابی سوشلزم سے منحرف ہو کر ’تاریخ کے خاتمے‘ پر ایمان لا چکے ہیں۔ لیکن اِس سے بھی بڑا کھلواڑ مارکسزم کو ’جدید‘ بنانے کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ 1917ء میں انقلاب کی خبر دو ہفتوں بعد برصغیر پہنچی تھی۔ لیکن آج انقلابات ٹیلیوژن اور انٹرنیٹ پر براہ راست دیکھے جاتے ہیں۔ لہٰذا آج اگر بالشویک انقلاب جیسا کامیاب سوشلسٹ انقلاب برپا ہوتا ہے تو اسے قومی حدود میں مقید کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو جائے گا۔ سوویت یونین کے انہدام کے باوجود بالشویک انقلاب آج بھی نسل انسان کی نجات کی جدوجہد کے لئے مشعل راہ ہے۔ گزشتہ پچیس سالوں کے دوران حکمران طبقات اور اُن کے پروردہ سیکولر اور مذہبی لیڈروں اور دانشوروں نے مارکسزم کو ’ناکام‘ ثابت کرنے کی سرتوڑ کوشش کی ہے۔ انہیں سوشلزم کی موت کا اعلان بار بار کرنا پڑتا ہے، جو بذات خود ایک ستم ظریفی ہے۔ تاہم سرمایہ داری کے سنجیدہ پالیسی ساز اِس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اُن کے استحصالی نظام کو حقیقی خطرہ آج بھی انقلابی سوشلزم سے ہے۔ ’اکانومسٹ‘ کو انقلابِ روس کے صد سالہ جشن کی اہمیت کو تسلیم کرنا پڑا: ’’انقلاب کی صد سالہ سالگرہ اتنا بڑے واقعہ ہے کہ اِسے مخفی رکھنا ممکن نہیں… مسٹر پیوٹن نے لینن کو نظر انداز اور سٹالن کو بحال کیا ہے۔ اُس کی نظر میں اُن کے درمیان فرق‘ روسی ریاست اور اِس کی شاہی وراثت کی طرف رویے کا تھا… لینن سے اُس کا کلیدی اختلاف یہ ہے کہ لینن نے روس کو حق خود ارادیت رکھنے والی جمہوریاؤں کی یونین کے طور پر منظم کیا… معیشت جمود کا شکار ہے اور مسٹر پیوٹن کا خبط بڑھتا جا رہا ہے۔ بالشویک انقلاب کے بھوت بے چین ہو رہے ہیں۔ لینن اب شاید خود کو مسکرانے کی اجازت دے سکتا ہے!‘‘ ’اکانومسٹ‘ شاید صرف پیوٹن کے سرمایہ دارانہ روس کا حوالہ دے رہا ہے، لیکن یہ کیفیت کم و بیش ہر ملک کے لئے درست ہے۔
لینن اور ٹراٹسکی نے روس سے شروع ہونے والے انقلاب کو پھیلانے اور دنیا بھر کے لوگوں کو یکجا کر کے پورے کرہ ارض کو ’سوویت جمہوریاؤں کی یونین‘ (USSR) بنانے کا عزم کیا تھا۔ آج کے عہد میں کسی ایک ملک میں سوشلسٹ فتح پورے سیارے پر انقلابی طوفان پیدا کر سکتی ہے۔ بالشویک انقلاب کے قائدین کا خواب تبھی پورا ہو گا اور انسان اپنے وجود کے حقیقی مقصد، یعنی کائنات کی تسخیر کی طرف گامزن ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*