نائیجیریا:محنت کشوں اور نوجوانوں کی انقلابی اٹھان

تحریر:اولا کازیم:-
(ترجمہ:اسدپتافی)

(نائیجیریا کی ٹریڈیونین نے اپنی غیر معینہ ہڑتال کو موخر کر دیاہے جو کہ دوسرے ہفتے میں داخل ہورہی تھی۔ حکومت کوپٹرول کی قیمتوں میںآخرکار کمی کرنے کا اعلان کرناپڑاہے۔ اگرچہ یہ قیمت بھی زیادہ ہے اور یہ کامیابی بھی اتنی غیر معمولی نہیں ہے تاہم ایک بات بالکل واضح ہوئی ہے کہ محنت کش طبقے میں انتہائی اہم تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور یہ بھی کہ نائیجیریا میں انقلابی ابھار کی ابتداہو چکی ہے ۔اس مضمون میں اولا کازیم ہمیں ان مراحل سے روشناس کروارہے ہیں کہ نائیجیریا میں لوگ کس طرح جدوجہد کررہے اور ریڈیکلائز ہورہے ہیں۔ صدرکے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہاہے)۔
ہم نے اپنے ایک پچھلے مضمون(مصراورتیونس کے انقلابات اور نائیجیریا کے ورکروں کیلئے اسباق) میں لکھاتھا کہ ’’اگر مصر اور تیونس میں انقلاب ایک ’’ضرورت‘‘بن چکاہے تو نائیجیریا بھی اس ضرورت سے کتنا دور رہ سکتاہے کہ جہاں 70 فیصد سے زیادہ آبادی روزانہ ایک ڈالر سے بھی کم آمدنی پر گزر بسر کررہی ہے ۔جبکہ91فیصد سے زائد دوڈالر سے کم پر زندہ رہ رہے ہیں۔جہاں ہر سال ایک سے پانچ سال تک کے پانچ ہزار بچے کم غذائیت کی وجہ سے مرجاتے ہیں ۔جہاں اوسط عمر 45سال ہے اور بمشکل 3فیصد لوگ ہی 63سال کی عمر تک پہنچ پاتے ہیں۔جہاں کا حکمران طبقہ3000میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا نہیں کرسکتا جبکہ یہاں کی ضرورت 172000میگاواٹ ہے ‘‘۔
’’آنے والے دنوں میں ہم دیکھیں گے کہ یہاں نائیجیریا میں بھی مصر اور تیونس جیسے واقعات سامنے آئیں گے اور شاید ان سے بھی بڑے پیمانے پر ۔عرب ملکوں میں جس آخری تنکے نے اونٹ کی کمرتوڑ دی ہے ،یہاں شاید اس طریقے سے نہ ہو ۔لیکن یہاں نائیجیریا کو اپنے ’’بوعزیزی ‘‘کی ضرورت ہے جو کہ آخری تنکا ثابت ہو گا‘‘۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور وہ بھی تیل پر ملنے والی سبسڈی کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ،بلاشبہ وہ تنکا بنا ہے جس نے اونٹ کی کمر کو توڑدیاہے ۔جس بات نے لوگوں کو سخت حیران کرڈالاتھا وہ حکومت کی نام نہاد چالاکی تھی جو اس نے اس پالیسی کو نافذ کرتے وقت دکھائی اور جب کہاگیا کہ یہ31مارچ کو نافذ العمل ہوگی لیکن پھر یکم جنوری کو ہی قیمتوں میں اضافہ کردیاگیا جبکہ سبھی لوگ چھٹی سے لطف اندوزہورہے تھے ۔ اس سے وہ پرانی کہاوت سچ ثابت ہوگئی ہے کہ دیوتاؤں نے جن کو برباد کرناہوتا ہے،پہلے انہیں پاگل کردیتاہوتاہے۔
معیشت کا زوال اور بدعنوانی کا عروج
اس سطح کی بے چینی اور اضطراب کی وجہ واضح ہے ۔ 2012ء کے بجٹ کیلئے1.3ٹریلین نیرا(مقامی کرنسی) (8بلین ڈالر)بڑے منصوبوں کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔یہ کل بجٹ کا 2 8فیصد بنتاہے ۔2011ء میں 1.4ٹریلین نیرا تیل کی سبسڈی کیلئے رکھے گئے تھے اور اسی ایک وجہ سے ہی یہ سبسڈی ختم کردی گئی کہ بڑے منصوبوں کے کام میں لائی جا سکے۔پہلے یوں تھا کہ نائیجیریا کے حکمران طبقات کو آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی جانب سے قرضے میسر آجایاکرتے تھے لیکن اب یوں ہوچکاہے کہ ان عالمی ساہوکاروں کی اپنی کمر ٹوٹ چکی ہے اور وہ ترقی پذیر ملکوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ ان عالمی ساہوکاروں کو بیل آؤٹ کریں۔اس سے کئی اہم سوال سامنے آئے ہیں کہ اس وقت جبکہ تیل کی قیمت ایک سوڈالر فی بیرل کو پہنچی ہوئی ہے ،ایسے میں کیونکر ہماری حکومت ایک مشکوک قسم کی سبسڈی پراس قدربڑی رقم خرچ کررہی ہے ۔ نائیجیریا، دنیا میں سب سے مہنگے ترین ڈھانچوں پر مبنی ملکوں میں سے ایک ہے کیونکہ اس کے کارپردازوں اور حواریوں کی تعداد اور مقدار کہیں زیادہ ہے ۔صدر کا ایک مشیر ہے ،اس مشیر کا پھرایک مشیر ہے اور اس کا آگے سے اپنا نائب ہے اور یوں یہ سلسلہ چلاہی جاتاہے۔ اس مشیریاتی سلسلے کی وجہ سے وسائل پر بوجھ بہت زیادہ بڑھ جاتاہے ۔اس سے بھی بڑھ کر حکومتی عہدیدار اقربا پروری کے سرپرستانہ طورطریقوں سے اپنا کا م چلانے کا وطیرہ اپنائے ہوئے ہیں ۔اور بدعنوانی تو جیسے یہاں کے حکمرانوں کے خون میں رچی بسی ہوئی ہے کہ جس کے بغیر شاید یہ لوگ ایک سانس بھی نہ لینے پائیں۔زیادہ سے زیادہ دولت کے حصول کیلئے لازمی ہے کہ اقتدار واختیار آپ کی رسائی اور دسترس میں ہوں۔
پچھلے الیکشن نے ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کا ستیا ناس کر کے رکھ دیاجسے انتہائی بیدردی سے اس سرگرمی میں خرچ کردیاگیا کہ جس کا کوئی نتیجہ اور فائدہ نہیں تھا۔جب خزانہ خالی ہونے کو پہنچ گیا تو حکومت کے اوسان خطا ہونے شروع ہوگئے اور یہ اب ایک اپاہج بچے کی طرح سے ادھر ادھر ٹٹول رہی ہے ۔ہمیشہ کی طرح سے یہ سوال پھر سامنے آتاہے کہ یہ سب کس قیمت پر ہوتا ہے!
ہم اپنے ایک پچھلے مضمون میں یہ واضح کر چکے ہیں کہ کس طرح سے ایندھن پر دی جانے والی سبسڈی دراصل امیراور خوشحال لوگوں کیلئے ہی ہوتی ہے ۔جوکہ کئی حیلوں بہانوں سے اپنے ایندھن کیلئے مقررہ سے زیادہ قیمت وصول کرتے ہیں اور جو پیداواری لاگت کو ظاہر نہیں کرتی ہے ۔کیا اس بات کا کوئی جوازہے کہ ایک اقلیتی مافیا کو نوازنے کیلئے تیل کی سبسڈی کے نام پر کھربوں نیرا خرچ کردیے جاتے رہیں!حکومت اور اس کے دلال نائیجیریا کے عوام کو اب تک بلیک میل کرتے چلے آرہے ہیں کہ تیل سبسڈی کے خاتمے کی مخالفت کرنے کا مطلب اقلیتی امیروں کی سپورٹ کرناہے۔اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔نائیجیریا کے لوگ کسی طور بھی نہیں چاہتے کہ ان کی اجتماعی دولت کا بھاری حصہ سبسڈی کے نام پرغیرذمہ داری اور بھونڈے طریقے سے ان مافیاؤں کی ترقی وخوشحالی کیلئے بروئے کارلایا جائے بلکہ عوام تو اس کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
لالچی اور چور مزاج لوگوں کو کیونکر اس بات کی اجازت دی جائے کہ وہ نائیجیریا کیلئے تیل درآمد کریں!حکومت کیوں اس سارے کاروبار کو اپنی تحویل میں لے کر ان مافیاؤں سے نجات حاصل نہیں کرتی!ایسا ہو تو حکومت کو تیل کیلئے سبسڈی بھی نہیں دینی پڑ ے گی اور یہ وہ کام ہے جو کہ حکومت کرنا ہی نہیں چاہتی ۔اس وجہ سے نائیجیریا کی حکومت نے نائیجیریا کے عام لوگوں کے مستقبل ان مافیاؤں کے پاس گروی رکھ دیے ہیں۔مسئلہ حکومت میں نہیں بلکہ ان لوگوں میں ہے جو حکومت کا تانابانا ہیں اور جن کا سارا چال چلن اس ایک بات پر مبنی ہے کہ انہوں نے کن طبقات کے مفادات کی نگرانی و نگہبانی کرنی ہے۔ چنانچہ حکومت منافعوں اور نجی ملکیت کی ترقی وخوشحالی کیلئے کام کرتی ہے اور یہ سب اسی وقت ممکن ہوتاہے کہ محنت کش طبقے اور سماج کی دوسری غریب پرتوں کے مفادات کو قربان کیا جاتارہے ۔
کیا وہ ریاست نہیں تھی کہ جس نے ا یلوپیجو جو کا صنعتی علاقہ تعمیر کیاتھا؟ کیا وہ ریاست نہیں تھی جس نے ابادان میں بلند تر عمارت کوکواہاؤس بنائی تھی؟ اسی ریاست نے ہی افریقہ کی سب سے بڑی اورخوبصورت اوبافیمی یونیورسٹی قائم کی تھی ۔جو کہ ابھی تک کم آمدنی والوں کیلئے مفت تعلیم فراہم کرتی اور اپنے دائرہ کار کو بڑھاتی آرہی ہے ،سڑکیں بھی تعمیر کی جارہی ہیں جبکہ اپنے ملازمین کو مناسب اجرتیں بھی فراہم کر رہی ہے۔یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے یہ سب کوکوا سے حاصل آمدنی سے کیا تھا لیکن اس وقت کی نااہل حکومت جو کہ اس وقت تیل کی وجہ سے روزانہ اربوں نیرا کمارہی ہے لیکن یہ اپنے ورکروں کو کم از کم اجرت کے طورپر 18000نیرا بھی نہیں دے سکتی ۔
یہ سبھی تضادات آپس میں مل کر اس دھماکہ خیزی کا باعث بنے ہیں جو اس وقت سامنے ہے ۔ساری کیفیت کو اگر مختصر الفاظ میں سمویا جائے تو وہ یہ ہے کہ یہ عالمی سرمایہ داری کے بحران کا نتیجہ ہے ۔حکمران طبقات ماضی کی طرح مراعات نہیں دے سکتے جبکہ نیچے عوام اب اپنے معیارزندگی پر مزید حملے برداشت کرنے سے انکار کررہے ہیں۔
معاشی ابتری کا سیاسی اظہار
سیاسی سطح پر صورتحال انتہائی دھماکہ خیز ہوچکی ہے اور عوام کا شعور تیزی سے اسباق حاصل کرتا اور سیکھتا جارہاہے۔ 2جنوری کو جوائنٹ ایکشن فرنٹ کی اپیل کی گئی جس پر نائیجریا کے عوام نے جو کچھ کردکھایااس نے کئی الٹرالیفٹسٹوں کو بدحواس کر ڈالا جوکہ محنت کش طبقے اور عوام سے مکمل مایوس ہوچکے تھے۔ اس دن احتجاج کی کال پر سارے ملک میں جس طرح سے شاندار ردعمل سامنے آیا ،اس نے اس تصوف پرستانہ واہمے کی دھجیاں اڑا کے رکھ دیں کہ نائیجیریا کے لوگ کسی طرح مصراور تیونس کے لوگوں جیسے نہیں ہیں۔اس لئے ان سے کسی قسم کی تبدیلی یا تحریک کی توقع ہی فضول ہے ۔اس 3 جنوری کی تحریک کے دباؤ نے ہی ٹریڈ یونینوں کی قیادتوں پر دباؤ ڈالا کہ وہ آگے بڑھیں چنانچہ انہوں نے سوموار9جنوری کو عام ہڑتال کا اعلان کردیا ۔اس کیلئے عمومی تیاری نہ ہونے کے باوجود اس اپیل کا انتہائی شاندار نتیجہ سامنے آیا ۔اس ہڑتال کی حمایت میں بڑے بڑے عوامی مظاہرے ہوئے ،صرف دارالحکومت لاگوس میں دولاکھ سے زائد افراد نے ریلی نکالی ۔جبکہ کانو میں ایک لاکھ افراد نے مظاہرہ کیا ۔ اس تحریک کی قیادت Lasco(لیبر اینڈ سول سوسائٹی کولیشن) کر رہی تھی ۔خود قیادت کو عوام کی اس درجہ شمولیت نے ششدر کر دیا۔
نائیجیریا کی کل36ریاستوں میں سبھی ریاستوں کے اندر اس ہڑتال پر انتہائی شاندار رد عمل سامنے آیا ہے ۔یعنی یہ 100فیصد کامیاب رہی،البتہ صرف ایک ریاست جہاں ہڑتال اتنی موثر نہیں رہی وہ بائسہ ہے جو کہ موجودہ صدر کی ریاست ہے ۔لیکن یہاں بھی سکول اور سبھی سرکاری دفاتر سو فیصد بند رہے ۔یہاں جن لوگوں نے سڑکوں پر آنے کی کوشش کی ان پر شدید ریاستی جبر وتشددکیاگیا ۔حکومت نے اس موقع پر اپنے حق میں ریلی نکالی جو کہ زیادہ تر فوج اور پولیس ملازمین پر مبنی تھی ۔نائیجیریا کی سیاست کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں کا ہر سیاستدان اپنی سیاست کی بنیاد اپنے قبیلے پر رکھتا یا رکھتی آرہی ہے ۔یوں سیاستدانوں نے دانستہ طورپر نائجیریا کو نسلی بنیادوں پر تقسیم کیا ہواہے اور اسی بنیادپر ہی یہ حکمران اپنا اقتدار قائم رکھے ہوئے ہیں۔
نائیجیرین مصریوں سے سیکھتے ہیں
نصف صدی سے زائد عرصے سے نائجیریا کا حکمران طبقہ شمال میں مسلمان اکثریت اور جنوب میں عیسائی اکثریت کو اپنے مذموم مفادات اور مقاصد کیلئے استعمال کرتا آرہا ہے۔ نسلی اور مذہبی منافرت کا فروغ اور اس کی بنیادوں پر لوگوں کو تقسیم رکھنا حکمران طبقے کی بنیادی پالیسی چلی آرہی ہے ۔لیکن اس تحریک کے دوران بہت ہی عجیب وغریب مناظر سامنے آئے ہیں کہ جب مسلمانوں کا دفاع عیسائی اور عیسائیوں کا دفاع مسلمان کر تے نظر آئے ۔جب مسلمان نماز پڑھنے کیلئے جمع ہوتے تو عیسائی دائرہ بناکران کا دفاع کرتے رہے ۔شمالی نائیجیریا کے ہمارے ایک کامریڈ نے بتایا کہ یہ سبق عوام نے مصریوں سے سیکھا ۔ایسے مناظر نائیجیریا کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔جہاں حکمران طبقات ہمیشہ یہ کہتے اور اس کا اہتمام کرتے چلے آرہے تھے کہ نائیجیریا کے لوگ فطری طورپر نسلی و مذہبی شدت پسند ہیں۔یہ عمل صرف ایک جگہ نہیں ہوا بلکہ کئی شہروں اور جگہوں پر ہوا۔منا میں کہ جہاں ’’بوکوحرم‘‘ نامی ایک شدت پسند دہشت گرد گروہ نے کرسمس کے موقع پر بم دھماکہ کیا ،اس کے بعدمسلمان نوجوانوں نے اگلے اتوار سبھی گرجا گھروں کاکنٹرول سنبھال کر ان کی حفاظت کی اور ’’بوکوحرم‘‘ کو چیلنج کیا کہ اب آکر دھماکے کر کے دکھاؤ۔
یہاں تحریک کے دوران اس قسم کے بے شمار حیران کن واقعات رونماہورہے ہیں جن کی وجہ سے طبقاتی ایکتااور یکجہتی دن بدن مضبوط ومستحکم ہوتی جارہی ہے ۔ ان واقعات نے حکمران طبقات کی نیندیں حرام کر دی ہیں اور وہ سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں کہ لوگوں کو تقسیم کرنے اور رکھنے کے ممکنہ اقدامات کئے جائیں۔اس مقصد کیلئے ٹھگوں اور سیکرٹ پولیس کو بروئے کار لانے کی کوشش کی جارہی ہے جن کے ذریعے پر امن مظاہرین پرحملے کروائے جارہے ہیں ۔
اس تحریک کی ایک نمایاں خصوصیت اسکوائرز پر اجتماع کرناہے ۔نائیجیریا کے لوگ سبھی ریاستوں میں اپنے اپنے التحریر سکوائرقائم کرتے جارہے ہیں۔لوگ پارکوں اور چوکوں میں جمع ہوتے جاتے اور ان کا نام آزادی رکھتے جارہے ہیں۔
تحریک کی قیادت
عام لوگوں کی کئی عمومی تحریکوں کی طرح سے یہ تحریک بھی ایک بنیادی اور مرکزی مطالبے کے گرد شروع ہوئی ’’ تیل کی قیمت کو واپس65نیرا پر لاؤ‘‘۔اس بظاہر عام سے مطالبے کے باعث جنم لینے والی یہ تحریک در حقیقت کئی سالوں سے نیچے سماج میں موجود نائیجیریا کے حکمران طبقات کی نااہلی ،بدعنوانی اور استحصال کے خلاف عوام میں موجود غم وغصے کو بھڑکانے کا وسیلہ بن گئی ۔یہی وہ پوشیدہ غصہ تھا کہ جس کا اظہار لاگو س میں 3جنوری کودولاکھ سے زائد افراد کے احتجاج کی شکل میں سامنے آیا ۔ایسے ہی بڑے مظاہرے ملک کے دوسرے پانچ بڑے شہروں میں بھی کئے گئے اور یہ ٹریڈ یونینوں کی طرف سے عام ہڑتال کی کال سے بھی پہلے ہوا اور اس وسیع عوامی اضطراب نے ٹریڈ یونین قیادت پر بالکل واضح کر دیا کہ اب پہلے کی طرح سے معاملات نہیں چلائے جا سکتے ۔اس تحریک نے لیبر قیادت اور حکمرانوں کے مابین باہمی تال میل کی سازشی تعلق بازی کو یکسر چیر کے رکھ دیا۔
تین جنوری کی تحریک کی قیادت جے اے ایف کررہاتھا جو کہ ایک لیفٹسٹ ٹریڈیونین فرنٹ ہے ۔تحریک کی کامیابی نے اسے بہت مقبولیت فراہم کردی ہے ۔دیکھتے ہی دیکھتے سارے نائیجیریا میں اس کے تنظیمی ڈھانچے قائم ہو چکے ہیں ۔کئی علاقوں میں اس کی قیادت لاسکو پر مبنی ہے جو کہ جے اے ایف اور دو ٹریڈیونینوں این ایل سی اور ٹی یو سی کے اشتراک پر مبنی ہے ۔جس طرح سے تیونس‘ مصراورپھر لیبیا میں ہوا ،یہاں نائیجیریا میں بھی ہوا۔حکمران دھڑے کی وہ پرتیں جو اقتدار کے مزے نہیں لوٹ رہی ہوتیں ،اس قسم کی مقبول تحریکوں میں یکدم سامنے آنا شروع کردیتی ہیں ،لیکن درحقیقت ان کا ساراکھلواڑ اپنے ہی مفادات کا حصول ہوتا ہے ۔یہ عناصر اچانک ہی عوام کے ہمدرد اور خیرخواہ بن کر سامنے آنے لگتے ہیں اور حکمران طبقے کے ساتھ اپنے سابقہ تعلق کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔لیبر قیادت جو کہ پہلے ہی اس تحریک کیلئے تیار نہیں تھی ، آسانی سے تحریک کی قیادت اپنے ان دوست نمادشمنوں کو سونپتی اور خود پیچھے ہٹتی جارہی ہے ۔یہ لوگ اس وقت عوام کے انتہائی سرگرم لیکن خام شعور کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔مصر میں بھی لوگوں کو یہ سمجھنے میں کئی مہینے لگ گئے کہ فوجی جنتا بھی اتنی ہی بدعنوان اور گھناؤنی ہے جتنا کہ حسنی مبارک تھا ۔جبکہ اس دوران نیچے کے فوجی انقلاب کے ساتھ وابستہ اور منسلک ہوتے رہے تھے۔یہاں بھی نائیجیریا کے لوگ اپنے تجربے سے جان پائیں گے کہ معاملہ صرف جوناتھن حکومت کا نہیں تھا اور نہ ہے ۔بے شک وہ اس معاملے کا حصہ ضرور ہے۔ اصل معاملہ اس معاشی وسیاسی نظام کا ہے کہ جس کا دفاع اس جیسی حکومتیں کررہی اور کرتی چلی آرہی ہیں۔موجودہ کیفیت میں ہر وہ حکومت جو کہ اقلیت کے مفادات کو اکثریت کے مفادات پر ترجیح دیتی آئے گی اسے اب اس قسم کی تحریکوں سے پالا پڑے گا۔ نائیجیریا کے لوگ جلد ہی یہ جان لیں گے کہ یہ لوگ جو اس وقت ایک دھڑے کے خلاف شعلہ بیانیاں کررہے ہیں ،یہ بھی ان سے کچھ مختلف نہیں ہیں۔آخرکار تیل کی قیمتوں اور لاگوس ریاست میں یونیورسٹی فیسوں میں اضافے میں کیا فرق ہے؟ جس پر اے سی این کی حکومت ہے ۔یا پھر لیکی ریاست میں چونگی کی شرح میں اضافہ!عوام زندگی کے زندہ تجربوں سے سیکھاکرتے ہیں نہ کہ کتابوں سے ۔اور اپنی کھلی آنکھوں سے جو کچھ وہ دیکھ اور پڑھ رہے ہیں وہ بہت اہم ہے ۔
نتائج
جیسا کہ ہر جگہ ہورہاہے یہاں بھی ویسا ہی ہے کہ نائجیریا کے عوام پر ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ بحران کی شدت اور گہرائی کتنی ہے !عوام پہلے یہی سمجھتے اور مانتے ہیں کہ مظاہروں اور نعروں کے ذریعے حکمران طبقات کو ان کی پالیسیاں ختم کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جا سکتا ہے ۔لیکن پھر انہیں پتہ چلتاہے کہ حکومت تو اس سے بھی آگے جارہی ہے ۔اب دو دن کی عام ہڑتال کے بعد نائیجیریا کے عوام یہ سمجھنے لگے تھے کہ حکومت اب قیمتوں کی جانب واپس آئے گی لیکن پانچ دن گزرنے کے بعد بھی ایسا نہیں ہوا۔زندگی کے روزمرہ کے تلخ تجربات عوام کے شعورپر انتہائی گہرے اور دوررس اثرات مرتب کر رہے ہیں۔آگے چل کر وہ یہ ادارک حاصل کریں گے کہ اٹلی‘ یونان اور دوسرے ملکوں کی طرح سے یہاں کے حکمران طبقات کے پاس اور کوئی رستہ نہیں کہ وہ عام لوگوں کے معیارزندگی پر شدید حملے کرتے چلے جائیں ۔یہ بحران کسی ایک حکومت کا نہیں بلکہ ایک پورے نظام کا بحران ہے اورہر جگہ حکمران طبقہ عوام سے کہہ رہاہے کہ وہ ہی اس کی قیمت ادا کریں اور بس۔عوام اس نتیجے پر تو پہنچ چکے کہ ’’جوناتھن جاوے ای جاوے‘‘اور یہ مطالبہ پورا بھی ہونا چاہئے لیکن پھر عوام کو یہ نتیجہ بھی اخذکرناہوگا کہ مسئلہ حکومتوں کے جانے سے نہیں نظام کے جانے سے منسلک اور مشروط ہے۔ یہ نظام صرف انہی کو پالتاپوستاہے جو کہ ان حکومتوں کو چلا رہے ہوتے ہیں۔یہ نظام اکثریت کو محروم رکھتے ہوئے ان کی جگہ اقلیت کے مفادات کی نشوونما اور نگرانی ونگہبانی کرتاہے۔
محنت کش طبقہ اس جدوجہد میں اتر رہاہے اور وہ جلدہی یہ جان لے گا کہ اسے ایک نئی قیادت کی ضرورت ہے ۔طبقہ اپنی تنظیموں اور یونینوں میں سے پراگندہ ہوچکی بدعنوان قیادت و عناصر کے گند کو صاف کرے گا۔عوام اب اس بات کے نزدیک پہنچ چکے ہیں کہ انہیں ٹریڈیونینوں پر مشتمل ایک نئی قیادت کی ضرورت ہے ۔ایک ایسی پارٹی جسے لوگ دل سے اپنی پارٹی سمجھیں اور جو کہ ان کے مفادات کو اقلیتی امیرطبقے کے مفادات کے مقابلے میں ترجیح دے گی ۔لاسکو ہر طرف پھیلتی اور پھولتی جارہی ہے جس کے اندر حقیقی مارکس وادی اور ٹریڈیونینیں موجود ہیں۔عوام کسی ایک کامیابی پر رکے بغیر اپنی تنظیم سازی کرتے اور آگے بڑھتے چلے جائیں گے ۔ نائیجیریا کا انقلاب اپنا نقارہ بجاچکاہے۔

Tags: × ×

One Comment

  1. Pingback: جلد نمبر31: 16تا31جنوری2012ء :شمارہ نمبر1

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*