تاریخ کا انتقام

تحریر: جان پیٹرسن:-
(ترجمہ:فرہاد کیانی)

’’مارکس درست کہتا تھا!‘‘ مارکسسٹوں کے لیے یہ کوئی حیرت انگیز انکشاف نہیں ۔ ہم تو کب سے جانتے ہیں کہ اس جرمن انقلابی کا سرمایہ دارانہ نظام کے بارے میں تجزیہ اتنا ہی ٹھوس ہے جتنا یہ نظام غیر مستحکم ہے۔ لیکن ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کئی دہائیوں سے ہم ایک قلیل اقلیت تھے اور دھارے کے خلاف مشکلات سے لڑتے آ رہے ہیں۔اس ’’بیاباں‘ ‘ میں ایک طویل عرصہ گزارنے کے بعد اب حالات بدلنا شروع ہو گئے ہیں۔ سرمایہ داری کے زیادہ سنجیدہ ماہرینِ معیشت کا ان نظریات کی سچائی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہونا ،جن کا وہ کبھی تمسخر اڑایا کرتے تھے، عوامی شعور میں تبدیلی کی اہم علامت ہے۔ ( اداریہ سوشلسٹ اپیل امریکہ شمارہ65)
پیو ریسرچ سینٹر (Pew Research Center) کی جانب سے کیے گئے ایک سروے سے یہ ثابت ہے جس کے مطابق 18سے29برس کی عمر کے 49فیصد امریکی سوشلزم کے حق میں ہیں جبکہ43فیصد اس کے حامی نہیں۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ 55فیصد سیاہ فام امریکی سوشلزم کے حق میں ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، وہ لوگ جن کے پاس سرمایہ دارانہ نظام میں کھونے کے لیے کچھ نہیں ایک نئے سماج کے لیے زیادہ کھلی سوچ رکھتے ہیں، ایک ایسا سماج جس میں حقیقی جمہوریت اور سب کے لیے یکساں مواقع ہوں۔
کیونکہ آخری تجزیے میں مارکس کسی تجرید میں یا درسگاہوں کے کمروں میں ’’درست‘‘ ثابت نہیں ہوا، بلکہ کروڑوں امریکی محنت کشوں کی زندگی کے تجربات نے اسے ثابت کیا ہے۔ پانچ نئی تحقیقوں نے وہی ثابت کیا ہے جو ہم ہمیشہ سے جبلی طور پر جانتے آئے ہیں کہ نہ صرف امیر امیر تر ہوتے جا رہے ہیں بلکہ زیادہ امکان ہے کہ وہ امیر ہی رہیں گے اور ہمارے معاشرے کے ’’کم خوش قسمت‘‘ افراد نہ صرف غریب تر ہوتے جا رہے ہیں بلکہ وسیع اکثریت ’’سنہری زینے‘‘ پر چڑھتے ہوئے غربت سے باہر نہیں نکل پا رہی خواہ وہ کتنی ہی محنت اور کفایت شعاری کیوں نہ کر لیں۔ ان تحقیقوں نے ا مریکی ’’ترقی کے سفر ‘ ‘ کے بے ہودہ اور مقبول عام فریب کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔
سرمایہ داری کے اندر رہتے ہوئے کسی طرح کے بھی مستقبل سے محروم تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لاکھوں امریکی سڑکوں پر امڈ آئے ملک کے ایک ساحل سے دوسرے تک سینکڑوں شہروں پر ’’قبضہ‘‘ کر لیا۔ ملک کے زیادہ تر علاقوں میں یہ تحریک عارضی طور پر پیچھے گئی ہے ۔ اس تحریک کی تخلیقی صلاحیتوں، سخت محنت اور قربانیوں کے باوجود امریکہ اور ساری دنیا پر وال سٹریٹ کا غلبہ قائم ہے۔ تاہم گزشتہ چند مہینوں کے تجربات رائیگاں نہیں ۔ ان تحریکوں کے کارکنان اپنے تجربات پرغور کر رہے ہیں ، اور ان میں سے کئی اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ آج ان کو وہی مسائل درپیش ہیں جن کا سامنا160برس قبل محنت کشوں کو تھا، جب مارکس اور اینگلز کمیونسٹ مینی فیسٹو لکھ رہے تھے۔ اس کا اور دیگر کلاسیکی تحریروں کا مطالعہ کر کے ایک نئی نسل اس بات کو بہتر طور پر سمجھ رہی ہے کہ یہ دنیا ایسی کیوں اور کس طرح سے ہے ؟ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ہم اسے کیسے تبدیل کر سکتے ہیں؟ نئے نظریات اور علم کی پیاس بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ حیران کن نہیں کہ گز شتہ برس ایک ریکارڈ تعداد میں مارکسسٹ ڈاٹ کام (www.marxist.com) کو پڑھا گیا۔ حیرت کی بات نہیں کہ سرمائے پر ڈیوڈ ہاروی کے آن لائن ویڈیو لیکچر کو ہزاروں افراد دیکھ رہے ہیں۔ قبضے کی تحریک ایک انگارے کی طرح سلگ رہی ہے ، طبقاتی جدوجہد کا ایک تازہ جھونکا اس کے شعلوں کو ہوا دے گا۔ اگر مزدور تحریک اپنی بے پناہ قوتوں کو قبضے کی تحریک کے سے ساتھ جوڑتی ہے، تو گلیوں اور سیاست میں ایک نا قابل تسخیر تحریک کا جنم ہو گا۔صرف ایک برس قبل شروع ہونے والے عرب انقلاب کے انگارے بھی سلگ رہے ہیں جو کسی وقت بھی پھر سے شعلہ بن سکتے ہیں۔ یورپ کے متعلق بھی یہ درست ہے جہاں بحران کا خاتمہ ابھی بہت دور ہے۔ ساری دنیا آتش گیر مواد سے بھری پڑی ہے۔ بڑی تبدیلیوں کے لیے تیار رہنا ہو گا ۔
یہاں امریکہ میں ایک منافقانہ تماشہ شروع ہو گیا ہے جسے دوسرے لفظوں میں 2012 ء کے انتخابات کا عمل کہا جاتا ہے۔ ایک طرف میٹ رومنی کے خلاف ریپبلیکن اس پر ’’کارپوریٹ‘‘سیاست دان ہونے کا الزام لگا رہے ہیں جیسے وہ خود اس سے مختلف ہوں اور دوسری جانب ڈیموکریٹ یونینوں کو ساتھ ملا کر قبضے کی تحریک میں شامل ہونے کی سخت کوشش کر رہے ہیں۔حتیٰ کہ وہ الفاظ بھی ویسے ہی استعمال کر رہے ہیں اور ڈیمو کریٹوں کے لیے ووٹ کو ’’99فیصد کے لیے کانگریس پر قبضہ‘‘ کا نام دے رہے ہیں۔ تحریک کوبھٹکانے کی اس بے ہودہ کوشش کے جواب میں ہم کہتے ہیں ’’ ایک لیبر پارٹی کے ساتھ کانگریس اور وائٹ ہاؤس پر قبضہ کرو ! سوشلسٹ پالیسیوں کے لیے جدوجہد کرو!‘‘
تو ہاں، مارکس سرمایہ داری کے بحران کے متعلق درست تھا۔ وہ اپنا ’’انتقام‘‘ لے رہا ہے اور آخری فاتحانہ قہقہہ بھی۔ لیکن وہ محض اس سے مطمئن نہیں ہو گا۔ کیونکہ مارکس یہ بھی سمجھتا تھا کہ طبقات کے درمیان جدوجہد بالآخر سماج میں انقلابی تبدیلی کو جنم دے گی جس سے طبقاتی استحصال کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔جب محنت کش طبقے کی اکثریت سیاسی اور معاشی اقتدار حاصل کر لے گی، جب سماج نجی ہوس کی بجائے اجتماعی ضروریات پر چلایا جائے گا تو مواقعو ں کی ایک نئی دنیا کا آغاز ہو گا۔ چناچہ مارکس نے نظریات کو حقیقی طور پر درست ثابت کرنے کے لیے، ہمیں ان قوتوں کی تعمیر جاری رکھنا ہو گی جو اس انقلابی تبدیلی کو یقینی بنا سکیں۔ ورکرز انٹرنیشنل لیگ کے دسویں سال میں داخل ہونے پر ہم آپ کو ایک بہتر دنیا کے لیے جدو جہد میں شمولیت کی دعوت دیتے ہیں۔ مارکس کے نظریات کو حقیقت میں ڈھالنے کا اس سے بہتر وقت نہیں ہو سکتا۔

3 Comments

  1. History is very cruel.

  2. Pingback: جلد نمبر31: 16تا31جنوری2012ء :شمارہ نمبر1

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*